میتھی دانہ خون میں گلوکوز کم کرنےمیں مفید

دنیا کافی ترقی کر چکی ہے لیکن کئی سو سال گزرنے کے باوجود بھی جڑی بوٹیوں کے فوائد میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ۔ حتٰی کہ اب سائنس بھی صحت کے حوالے سے جڑی بوٹیوں کی طاقت کو تسلیم کرتی ہے۔ درد کو کم کرنے ، ٹھنڈ اور فلو سے بچانے اور دیگر سنگین مسائل جیسے دل کے امراض، الزائمر ، ایگزیما یہاں تک کہ کینسر جیسی مہلک بیماری میں بھی ان کا استعمال مفید ثابت ہو رہاہے۔ ایلوویرا صحت ہو یا خوبصورتی دونوں کیلئے ہی بہت مفید ہے۔ مصری اور چائینز اسے زخموں کو بھرنے ، جلنے پر مرہم اور بخار کو کم کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ایلوویرا میں الزائمز ، وٹامنز ، منرلز اور امینو ایسڈ موجود ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ ایک موثر اور قدیم ہربل دوا کے طور پر استعمال کیا جاتاہے۔ پودینہ مختلف کھانوں میں ذائقہ اور خوشبو کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ مغربی ثقافت میں صحت کے حوالے سے اس کا استعمال بہت مقبول ہے۔ یہ پیٹ کے امراض اور نظام انہضام کو درست کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی خوشبو منہ میں موجود گلینڈ اور ہضم کرنے والے انزائمز کو فروغ دیتی ہے۔ یہ خون صاف کرکے جلد کو چمکدار بناتا ہے۔ میتھی دانہ کھانوں میں استعمال کے حوالے سے کافی مقبول ہے۔ یہ نہ صرف اپنے ذائقے بلکہ طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ کی وجہ سے جانی مانی جاتی ہے۔ اسے بھوک کی کمی اور پی ایم ایس کے علاج میں استعمال کیا جاتاہے۔ حالیہ ریسرچ کے مطابق یہ خون میں گلوکوز کی سطح کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ ادرک مختلف فوائد کی حامل ہونے کی وجہ سے ادرک کو ہزاروں سالوں سے دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف مخصوص ذائقہ فراہم کرتی ہے بلکہ پیٹ کے مختلف امراض جیسے ڈائیریا، گیس، متلی اور بھوک کی کمی سے بچاتی ہے۔ تاہم دیگر ادویات کے ساتھ اس کا استعمال نہایت احتیاط اور درست مقدار میں کرنا بے حد ضروری ہے۔ لہسن ادویاتی خصوصیات کا حامل ہے اسی لئے ہزاروں سالوں سے اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ خون کے نظام جیسے ہائی اور لوبلڈ پریشر اور دل کے امراض جیسے کولیسٹرول ، ہارٹ اٹیک ، شریانوں کی سختی اور خون کے بہائو میں کمی جیسے مسائل سے بچاتا ہے۔ کینسر جیسے مرض میں بھی اس کا استعمال مفید رہتا ہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply