عام آدمی کا المیہ(حصہ اول)

باسم اللہ! عام آدمی کا المیہ اس کا خطیب ہے چاہے وہ کسی بھی مسلک کا ہو۔ وہ خطیب کی ہر بات کو ایمان کا درجہ دے بیٹھتا ہے اور اس کی مثال نصاری ٰ کے جیسی ہوجاتی ہے کہ ان پر رہبانیت فرض نہ کی گئی تھی لیکن انہوں نے اپنے اوپر اس کو خود لازم کرلیا بالآخر ان سے اس کا حق ادا نہ ہوا لیکن نقصان یہ ہوا کہ خود پر فرض کی گئی بات اصل فرائض پر حاوی ہوگئی اور پھر ایک دن!!! جی ہاں ایک دن اصل بات تو غائب ہی ہوگئی۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ صرف بنیادی ضروری احکام کو زندگی کا مقصد بناتے۔ وہ اس بحث میں پڑے کہ عیسی ؑ کو سولی چڑھایا گیا یا نہیں، پھر وہ قائل ہوئے کہ سولی چڑھایا گیا۔ خطیب اعظم پطرس کی کرنی کہ اس سارے کام کی منشاء گناہ بخشوانا تھے ساری امت کے۔کیا فرق ہے ہمارے خطیب اور ان کے خطیب میں ؟
تقدس کا وہ معیار جو کسی بھی شخصیت کی بابت فرض درجے کا اصل ماخذ سے مل جائے، میرا ایمان ہے کہ نہ اس سےایک درجے کم نہ ایک درجے زیادہ کرنا ہے لیکن تقدس کا وہ معیار جو خطیب کے زور بیان کا نتیجہ ہے سوائے لڑائی کروانے کے اور کچھ کام نہیں آیا آج تک ۔ تقدس کا ایک معیار عیسائیوں نے بنایا عیسیؑ اور ان کی والدہ کی بابت لیکن ہم تقدس کا ایک نیا معیار بنا چکے اس کو ایمان کے درجے پر بھی لاچکے کہ ہمارے پاس پوجنے کو اللہ کو چھوڑ کر نبیﷺ سمیت ان گنت شخصیات ہیں۔ ہمارے پاس تو ہر طرف نورانی شخصیات ہیں جو سب کی سب اللہ کے ساتھ اس کے ہر کام میں مدد گار ہیں۔ اللہ جو کل یوم ھو فی شان کہہ کر میں اپنی شانِ مصروفیت بتا رہا وہ ان خطیبوں کے پیش کردہ اور بیان کردہ ایمان کی روشنی میں کافی عرصے سے فارغ ہے۔ کیا یہ آسان نہ تھا کہ سب سے صرف یہی کہلوایا جاتا کہ میں مسلمان ہوں ، میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور اپنی ذات و صفات میں یکتا ہے اور اس کی نازل کردہ وحی سب کی سب سچ ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ،نہ ذات، نہ صفات میں اور میں اس کے سب احکام کو ان کی حیثیت کے مطابق قبول کرتا ہوں۔ میں ہر نبی کو نبی مانتا ہوں، میں مر نے کے بعد پھر اٹھائے جانے کو مانتا ہوں، میں روز جزا کو مانتا ہوں اور اس دن کامیابب اور ناکام ہونے کی صورت میں بدلے میں جنت یا جہنم کو مانتا ہوں۔
میرے خطیب سنو ! آج تمہاری بیان بازی کا نتیجہ تو دیکھو کہ امت کا نوجوان ان سب باتوں کو موضوعِ ایمان نہیں بناتا بلکہ وہ کہتا ہے کہ فلاں نے فلاں کے ساتھ کیا کیا، کیوں کیا، فلاں ایسا ہے، فلاں ویسا ہے، پھر وہ کسی دوسری مسجد کو بھی تمہاری ہی کسی تقریر کی روشنی میں اسلام سے خارج قرار دیتا ہے۔ پھر کسی سرپھرے کو ہتھیار بھی اٹھوا دیتا ہے، پھر بغیر سوچے سمجھے اس سے تمہارے بنائے ہوئے دین کی خدمت کروا دیتا ہے ۔
سنو! میں کہتا ہوں کہ اگر عیسیؑ آج ہوتے تو جو کچھ ان کا مکالمہ اللہ سے قیامت کے دن کا ہے وہ آج ہی ہوجاتا ۔ وہ کہتے کہ میں نے ہرگز تم کو یہ نہیں کہا تھا کہ میں اللہ کا بیٹا اور میری ماں اس کی بیوی ہے۔ اچھا اگر آج نبی محمد ﷺ آجائیں تو وہ کیا کہیں گے کہ میں تو صرف وہ ہوں جتنا اللہ نے مجھے بیان کیا، یہ سب کچھ تم لوگوں کو کس نے سکھا دیا۔ ارے میرے خطیب تم سے کس نے کہا ہے کہ فلاں کو گالی دو اور فلاں کو پاس قرار دو؟ ارے تم خود پاس ہو؟ تمہیں تو بادشاہ کے جوتشی کی طرح یہ بھی نہیں پتا ! میرے اللہ نے تو جھوٹے بتوں کو گالی دینے سے بھی منع کیا ، ارے گالی اللہ کا مسلک نہیں، اللہ والے کا مسلک نہیں اورکہاں یہ مزاج کہ جب تک گالی کی زبان نہ استعمال کرو تب تک تقریر کا حق ہی ادا نہیں ہوتا ۔۔لعنت نہ بھیج لو تو مزہ ہی نہیں آتا اور کفر کا فتویٰ نہ لگا لو پیسے ہی پورے نہیں ہوتے!
ارے میرے خطیب ! کیا روز جزا کو ان المیہ زدہ انسانوں کو بچا لوگے ؟ یا بھاگ نکلو گے کہ آج مجھے اپنی پڑی تو اپنی خود نبیڑ ؟ اچھا چلو ! ذرا بتاؤ کہ تمہاری قرا رداد پر لبیک کہنا کس نے فرض قرار دیا ؟ کیا لے دے کر یہ قرار دادیں دین ٹھہری ہیں؟ ایمان کا بیان ذرا ایمان سے بتاؤ کہ ہے کیا ؟ تاریخ کی کتب ؟ سنے ہوئے ایجاد کردہ تقدس کی لشکارے مارتی کسی کی تقریر ؟ کچھ خواب ؟ کچھ مقدس زیارتوں کا بیان؟ کچھ کرامات؟ اللہ نے نصاری کے لئے کہا کہ ان سے کہو کہ اس کلمے پر آئیں جو تمہارے اور ان کے درمیان ایک ہے۔ خطیبوں نے یہ کام کیا جی ہاں سو فیصد کیا! شیعہ، سنی، بریلیوی، دیو بندی ،وہابی سب نے کیا اور دونوں کو ایک صفحے پر لاکھڑا کیا ۔ واقعی کوئی فرق نہ رہا ہم میں اور ان میں۔ کیسا مسلمان اور کہاں کا عیسائی ،کیا شیعہ اور کیا سنی اور کونسا بریلوی اور کہاں کا دیو بندی ؟؟ سب اپنی اپنی نورانی شخصیات کے پجاری ہیں۔ ایسی ہی صورت حال تھی کہ یورپ کے کلیسا کے فتوے غلط اور درست سب ایک دم سے پھینک ڈالے گئے ، جب ان کو اس نقصان کا اندازہ ہوا جو ان کو کلیسا نے صلیبی جنگوں کے نام پر پہنچا یا، انہوں نے کلیسا کو ہمیشہ کے لئے کونے میں کھڑا کردیا۔
اے خطیب ! آج وہ کلیسا صرف علامتی ہے جس کی پکار پر پورا یورپ بچے قربان کردیتا اور مخالف فرقے کے گاؤں کے گاؤں جلا ڈالتا تھا۔ اب وہ صرف علامتی ہے ملامتی ہوجانے کے بعد ! اوراب موقع بموقع امن کی تلقین کرنے کے اس کا اور کوئی کام نہیں ۔ اس میں اور کوئن آف انگلینڈ میں بظاہر کوئی فرق نہیں۔
اے خطیب ! روک سکتے ہو تو روک لو کہ صرف تم ہی روک بھی سکتے ہو۔ آخر شروع بھی تو تم نے ہی کیا تھا۔ ورنہ تم ملامتی درجے پر آنے کے بعد صرف علامتی رہ جانے والے ہو اور وقت بالکل نہیں ہے کہ کوئی کہے کہ ہمیں تو کچھ نہیں ہوگا ہمارے بعد جو ہو سو ہو۔ یہ ہے اصل نیو ورلڈ آرڈر۔۔!
( جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *