• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مشت زنی کے متعلق فقہاء کی آراء کا اجمالی جائزہ۔۔امجد عباس مفتی

مشت زنی کے متعلق فقہاء کی آراء کا اجمالی جائزہ۔۔امجد عباس مفتی

ڈاکٹر حافظ محمد زُبیر صاحب نے اِس موضوع پر، فقہ جعفری اور زیدی کے علاوہ دیگر فقہی مذاہب کی آراء کو بیان کیا ہے، چناچنہ میں جعفری اور زیدی فقہاء کی آراء پیش کیے دیتا ہوں۔
سورہ نور، آیت 33 میں ارشاد ہے
وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّىٰ يُغْنِيَهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ۔
(اور جو لوگ نکاح کرنے کی قدرت نہیں رکھتے انہیں چاہیے کہ عفت اور ضبط نفس سے کام لیں۔ یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے)۔
اِس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ غیر شادی شدہ مرد کو عفت اور پاک دامنی اختیار کرنی چاہیے۔ سورہ مؤمنون کی ابتدائی آیات کچھ یُوں ہیں
وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ ﴿5﴾ إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ ﴿6﴾ فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَاءَ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ ﴿7﴾
(اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ مگر اپنی بیویوں سے یا جو ان کی مِلک ہوتی ہیں کہ مباشرت کرنے سے انہیں ملامت نہیں۔ البتہ جو اُس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں)۔ جمہور مفسرین نے اِس آیت سے شادی شدہ مرد کو اپنے ہاتھوں سے مشت زنی کرنے کو حرام قرار دیا ہے۔
جمہور شیعہ اثنا عشری فقہاء اور زیدیہ نے مندرجہ بالا آیات اور روایاتِ اہلِ بیتؑ کی روشنی میں اِس عمل کو حرام قرار دیا ہے، اِسے انجام دینے والے کو تعزیر کی جائے گی۔

معاصر شیعی محقق، آیۃ اللہ شیخ آصف محسنی دام ظلہ اپنی معجم میں اِس حوالے سے باب قائم کرتے ہیں ” ھل علیٰ من استمنیٰ حد؟ “، اِس کے تحت ایک روایت نقل کرتے ہیں جسے شیخ محمد بن حسن طوسی نے اپنی کتاب “تھذیب الاحکام” اور “الاستبصار” میں یُوں نقل کیا ہے:
رواه أحمد بن محمد عن البرقي عن ثعلبة بن ميمون وحسين بن زرارة قال: سألت أبا جعفر عليه السلام عن الرجل يعبث بذكره بيده حتى ينزل قال:
لا بأس به ولم يبلغ به ذلك شيئا.
کہ امام محمد باقرؑ سے پوچھا گیا کہ اگر ایک مرد اپنے جنسی آلے سے کھیلے یہاں تک کہ انزال ہو جائے تو امامؑ نے فرمایا: اِس کا حرج نہیں ہے اور نہ ہی اِس پر کچھ (حد و تعزیر) ہے۔
اِس روایت کے ذیل میں شیخ کا کہنا ہے کہ اِس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ یہ عمل (مشت زنی) جائز ہے، اِس عمل پر حد یا تعزیر نہیں ہے۔ اِس عمل پر حد یا تعزیر کو بیان کرنے والے روایات کی سندیں معتبر نہیں ہیں، البتہ شیخ نے اِس روایت کی سند پر بھی چند اعتراضات ذکر کیے ہیں پھر فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک زیادہ ترجیح اِس قول کو ہے کہ استنماء( مشت زنی) حرام ہے، الکافی میں عمار بن موسیٰ کی مؤثق روایت یُوں ہے:
محمد بن يحيى، عن محمد بن أحمد، عن أحمد بن الحسن، عن عمرو بن سعيد، عن مصدق بن صدقة، عن عمار بن موسى، عن أبي عبد الله (عليه السلام) في الرجل ينكح بهيمة أو يدلك فقال: كل ما أنزل به الرجل ماءه في هذا وشبهه فهو زنا.
کہ امام جعفر صادقؑ سے چوپائے سے یا مشت زنی سے منی نکالنے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: ایسے یا اِس طرح کے طریقوں سے منی نکالنا (ایک طرح سے) زنا ہے۔
(معجم الاحادیث المعتبرۃ، جلد 3، صفحہ 317، 318۔ دار النشر الادیان، ط2، قم، ایران)

شافعی فقیہ محمد بن عبداللہ حثیثی (متوفیٰ 792ھ) نے اپنی کتاب میں اِس بابت لکھا ہے:
عِنْدَ الشَّافِعِيِّ وأَكْثَر الْعُلَمَاءِ أن الاستمناء محرم وهو إخراج الماء الدافق بيده. وعند الْإِمَامِيَّة إذا فعل ذلك ضرب بالدرة على يده الضرب الشديد حتى تحمرَّ. وعند كافة العلماء يعزر التعزير المعروف. وعند ابن عَبَّاسٍ نكاح الأمة خير منه وهو خير من الزنا. وعند أَحْمَد وعمرو بن دينار أنه يرخص فيه. وعند أَحْمَد أنه يباح لخوف العنت۔
(المعاني البديعة في معرفة اختلاف أهل الشريعة، جلد2، صفحہ 235۔ دار الکتب العلمیۃ، ط1، بیروت)
کہ امام شافعی اور اکثر علماء کے نزدیک استمناء (مشت زنی) حرام ہے اور وہ اچھلتا ہوا پانی (منی) اپنے ہاتھ سے نکالنا ہے اور شیعہ امامیہ کے نزدیک ایسا کرنے والے کے ہاتھ پر (بطور تعزیر) کوڑا مارا جائے گا کہ اُس کا ہاتھ سرخ ہو جائے۔
سبھی (بڑے) علماء کے نزدیک اِس پر تعزیر ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ فرمایا کہ لونڈی سے نکاح، اِس کام (مشت زنی) سے بہتر ہے اور یہ کام (مشت زنی) زنا سے بہتر ہے۔ امام احمد اور عمرو بن دینار نے اِس فعل کی اجازت دی ہے، امام احمد کے نزدیک گناہ میں پڑنے کے خوف سے (بچنے کے لیے) یہ عمل مباح ہے۔
امام طبری نے اپنی کتاب ” اختلاف الفقہاء” میں اِسے اختلافی مسائل میں لایا ہے۔ (اختلاف الفقہاء، صفحہ 303)
امام ابن حزم اِس عمل کو جائز جانتے ہیں، اُن کے مطابق قرآن میں اِسے حرام نہیں کہا گیا، جبکہ حنفی فقہاء کے نزدیک یہ عمل حرام ہے لیکن اِس کے بغیر، زنا میں پڑنے کا خوف ہو تو یہ واجب ہے۔ حنفی فقیہ ابن عابدین کی رائے ملاحظہ ہو:
(قَوْلُهُ الِاسْتِمْنَاءُ حَرَامٌ) أَيْ بِالْكَفِّ إذَا كَانَ لِاسْتِجْلَابِ الشَّهْوَةِ، أَمَّا إذَا غَلَبَتْهُ الشَّهْوَةُ وَلَيْسَ لَهُ زَوْجَةٌ وَلَا أَمَةٌ فَفَعَلَ ذَلِكَ لِتَسْكِينِهَا فَالرَّجَاءُ أَنَّهُ لَا وَبَالَ عَلَيْهِ كَمَا قَالَهُ أَبُو اللَّيْثِ، وَيَجِبُ لَوْ خَافَ الزِّنَا۔
(رد المحتار على الدر المختار، جلد 4، صفحہ 27۔ دار الفكر، ط2، بيروت)
کہ (اُن کا کہنا کہ مشت زنی حرام ہے) یعنی ہاتھ سے، جب شہوت کا سبب بنے؛ بہر کیف جب شہوت کا غلبہ ہو اور بیوی یا لونڈی بھی نہ ہو، تو تسکینِ شہوت کے لیے یہ عمل انجام دے تو اُمید ہے کہ اُسے کوئی وبال نہ ہوگا (یہ عمل جائز ہوگا تب) جیسا کہ ابولیث نے کہا ہے، ہاں اگر زنا کا خوف ہوتو یہ عمل (استمناء) واجب ہے۔

اِس پر سبھی مسالک کے جمہور علماء کا اتفاق ہے کہ بیوی کے ہاتھ سے مشت زنی کروانا جائز ہے۔

فقہاء نے اِس جیسے جنسی اعمال کو خالص قانونی اور فقہی تناظر میں دیکھا ہے، ایسے مسائل جنسی اخلاقیات کے تحت زیرِ بحث لانا ہوں گے، احکامِ خمسہ تکلیفہ کے بجائے اِن کے لیے مناسب اور غیر مناسب کی تقسیم مفید رہے گی۔ ایسے اعمال کی صحت کا معیار اِن کے فرد اور سماج پر اثرات اور اِن کی مقاصدِ شریعہ سے ہم آہنگی ہے، ایسے افعال کی (کثرت وغیرہ کی) وجہ سے اگر سماجی توازن بگڑتا ہے یا فرد کی سطح پر کوئی بڑا بگاڑ پیدا ہوتا ہے تو اِن سے اجتناب کرنا ہوگا، ورنہ اِن کی حرمت کا اثبات مشکل ہے، ہاں یہ نامناسب شمار کیے جا سکتے ہیں۔

امجد عباس، مفتی
امجد عباس، مفتی
اسلامک ریسرچ سکالر۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *