تیل کی دھار۔۔محمد اقبال دیوان/قسط7

ڈاکٹریوسف بیسران نے ہمیں اگلے دن لینے کے لیے اپنی سیکرٹری ستی روحانہ سالکین کو بھیج دیا۔ان سے ملنے کا مقام وزارت کے دفتر کی بجائے ( PORIM )the Palm Oil Research Institute of Malaysia کا ادارے والا دفتر ٹھہرا۔وہیں ان کے اہم افراد کے دفاتر تھے۔۔1979 میں بننے والا یہ ادارہ آئل پام(تیل کو پام آئل کہتے ہیں) پر صنعتی حوالوں سے ریسرچ کرتا ہے۔ملائشیا کی پام آئل کی بر آمد سے آمدنی بیس بلین ڈالر کے لگ بھگ ہے.

پورم

پاکستان میں ایک تاجر خاندان کو اس تجارت میں جس میں وہ صرف انڈینٹنگ کا کام کرتا رہا ہے اس سے بیس لاکھ ڈالر سالانہ کی آمدنی ہوتی ہے۔انڈینٹنگ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مقرر شدہ مقدار کا پام آئل پاکستان میں صرف ان کی فرم ہی کے ذریعے درآمد ہوسکتا ہے۔یہ ان کا کمیشن ہے۔پاکستانی دنیا بھر میں کھانے کے تیل اور چینی کے استعمال میں دنیا کے سر فہرست کنزیومر ہیں۔کھانے کے تیل کی درآمد کا امپورٹ بل پٹرول کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ خوردنی تیل کی  فصلوں کی کاشت کو یہ لابی جس کے ذریعے تیل درآمد ہوتا ہے کامیاب نہیں ہونے دیتی اس میں وزارت زراعت کے کرپٹ افسران کا بالخصوص آئل سیڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کے قیام سے ہی بڑا عمل دخل رہا ہے یہ اس امپورٹر مافیا کے لیے کام کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :مومنِ مبتلا،تیل کی دھار۔۔اقبال دیوان/قسط6
ڈاکٹرظفر الطاف کی زندگی میں جتنے دکھ اس ذیلی ادارے نے گھولے کسی اور ادارے نے نہیں گھولے۔اس ادارے کے افسران کھل کر رشوتیں لیتے تھے۔ صدرفاروق لغاری اور مل وزیر اعظم ملک معراج خالد کے دوستوں تک کو یہ میلے سازشی افسر جوتے کی نوک پر رکھتے تھے۔ ان کے اس تحقیر آمیز رو یے کی شکایت کبھی صدر مملکت کو تو کبھی وزیر اعظم کو ہوتی تھی۔موخر الذکر کے ایک قریبی عزیز محمد بشیر جن کا اس بور ڈ سے واسطہ پڑا تو اسے بہت نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔یہ شکایت جب وزیر اعظم تک پہنچی تو وہ تلملا اٹھے۔ احتساب بیورو نے ان افسران کے خلاف تحقیقات کا کھاتہ کھول ڈالا۔ ڈاکٹر صاحب کو یہ بدعنوان افسر الٹی پٹی پڑھانے لگے کہ اس کارروائی کے پیچھے وہ طاقتور لابی ہے جو ملک میں خوردنی تیل کی درآمد میں دل چسپی رکھتی ہے اور کاشت کاروں کی مخالف ہے وہ ہی انہیں کام نہیں کرنے دینا چاہتی۔ معاملہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ اس چپقلش کا نتیجہ یہ نکلا کہ ڈاکٹر صاحب کے دو ایسے طاقتور افراد سے تعلقات میں بگاڑ آگیا جن سے ان کے  پرانے خاندانی مراسم تھے ۔ ڈاکٹر صاحب بے حد زیرک اور کھلے ڈلے افسر تھے، اسلام آباد جیسے شہر میں جہاں لوگ گن کر نوالے اٹھاتے ہیں ، ان اللے تللے افسران کو سامنے بٹھا کر بڑی غیر محتاط گفتگو کرتے تھے۔ یہ نیم خواندہ زراعتی افسران نہ ان کی انگریزی سمجھتے تھے نہ بیوروکریسی کی ڈائنا مکس۔چس لینے کے لیے یہ افسران توڑ مروڑ کر اس گفتگو کو آگے بڑھادیتے تھے۔ بلا آخر اس کا نتیجہ وہی نکلا جس کا سب بہی خواہوں کو اندیشہ تھا ۔امکانات تو ہرگز نہ تھے مگر ان کم بختوں کی حرکات کا خمیازہ ڈاکٹر صاحب کو او ایس ڈی بن کر بھگتنا پڑا۔

یوسف بیسران بہت دل چسپ آدمی تھے۔ بڑے قابل ، منکسر المزاج ،معتبر، کھلے دل و ذہن کے مالک، ہم سے پوچھنے لگے کہ بتاؤ ملائیشیا پاکستان میں آئل پام کی کاشت کیوں کرے؟ ہم نے کہا اگر وہ اجازت دیں تو ہم ان سے پوچھ لیں کہ جاپان اپنی ٹویوٹا اور پیناسونک اور سونی کی مصنوعات یہاں آپ کے ملک میں کیوں بناتا ہے؟۔امریکہ نائیکی کے جوتے، رینگلرز کی جین اور کمپیوٹر کے پرزے تھائی لینڈ اور چین میں کیوں بنواتا ہے۔

یوسف بیسران

ہنس دیے کہنے لگے وہ اپنی ورک فورس کو زیادہ اجرت کے کاموں میں منتقل کرنا چاہتا ہے۔ہم نے کہا بالکل اسی وجہ سے ہم بھی یہ چاہتے ہیں کہ آپ اپنی ورک فورس کو ہائی ٹیک انڈسٹری میں لگادیں۔پاکستان کے پاس زمین اور لیبر کی کثرت ہے۔ ہم آپ کے لیے مشرق وسطی اور وسطی ایشیا کے دروازے کھول دیں گے۔ہماری بات سن کر انہوں نے انگریزی میں اسمارٹ ایلک کہا اور انٹر کام اٹھا کر دو افسران کو کہا ڈاکٹر جیلانی سوکیمی، ٖ ڈاکٹر طیب آپ دونوں ان کے ساتھ ہی پاکستان روانہ ہوجائیں۔

اس دورے کے نتیجے میں ہم نے ٹھٹھہ کے پاس زمین بھی لے کر دی،پراجیکٹ بھی بنایا مگر آئل ڈیویلپمنٹ بورڈ کے متعصب افسران اور سندھ حکومت کی غفلت نے اس کو کامیاب نہ ہونے دیا۔
باقی دو دن ہم نے دی پم کے ساتھ تلک انتان میں گزارے۔اس کو یہ تجسس تھا کہ ہم میڈم نمالی کو کیسے جانتے ہیں۔

تلک انتان

ہماری دلچسپی یہ تھی کہ ہم دہشت گردی سے جڑے لوگوں کی بین الاقوامی رسائی دیکھیں۔ کس طرح ان میں گھسا جاسکتا ہے۔ان کے سماجی رویے کیسے ہوتے ہیں۔ہم نے کہا ہم نمالی کو اتنا نہیں جانتے مگر انٹن بالاسنگھم جو تامل ٹائیگرز کا وزیر خارجہ اور فکری باوا تھا اس کی دوسری بیوی آسٹریلیوی نژاد ایڈیل ہمارے ساتھ یونی ورسٹی میں تھی اور ہم نے ہی اسے انٹن سے ملوایا تھا۔

ایڈل،انٹن بالاسنگھم

یہ سراسر جھوٹ تھا ہم نے نہ تو آسٹریلیا دیکھا ہے نہ کبھی ان دونوں میاں بیوی سے ملے۔اس جھوٹ کا البتہ دی پم پر ایسا اثر ہوا۔جس ہوٹل یا تفریحی  مقام پر جاتے وہاں تامل ہمیں ایسے ہی عزت دیتے تھے جو تھلائی ور ( THALAIVAR. تامل بمعنی لیڈر ) اداکار رجنی کانت کو دیتے ہیں۔

رجنی کانت

ہمیں کسی بھی جگہ پر پیسوں کی ادائیگی میں بڑی مشکل ہوتی تھی۔ دی پم کی موجودگی میں کبھی اپنا شاپنگ بیگ اٹھانے یا کار کا دروازہ کھولنے کی زحمت خود نہ اٹھانی پڑی۔کیتھی نے ہم سے دو ایک مرتبہ پوچھا بھی کہ ہم کیا شے ہیں۔ اس بیچارے کو کیوں نفسیاتی طور پر اتنا ہلکان کردیا ہے۔ہم نے کیتھی سے کہا اگر اداکارہ تبو اس بھوتنی والے ناگر جنا کے چکر میں اپنی جوانی برباد نہ کرتی تو ہمارا شمار کراچی میں رہتے ہوئے بھی ساؤتھ انڈیا کے بڑے اداکاروں میں ہوتا۔

ناگر جنا،تبو

اب آپ رجنی کانت اور ہماری تصویر دیکھ کر خود ہی فیصلہ کریں کہ کیا ہم کسی طرح سے اس سےLooks  میں کم ہیں۔
ڈاکٹر جیلانی سوکیمی اور ڈاکٹر طاہر جو ہمارے ساتھ پاکستان لوٹے وہ ہم سے سارا راستہ پوچھتے رہے کہ ہم نے ڈاکٹر یوسف بیسران جیسے نو نانس آدمی کو ہتھیلی میں ایسا کیا چاند دکھادیا کہ وہ اعلی الصبح میٹنگ میں پاکستان میں آئل پام کی کاشت کی مخالفت کی سفارشات کے باوجود ان دونوں کو ہمارے ساتھ بھیجنے پر رضامند ہوگئے تھے۔

جاری ہے۔۔

Save

Save

Save

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”تیل کی دھار۔۔محمد اقبال دیوان/قسط7

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *