مومنِ مبتلا،تیل کی دھار۔۔اقبال دیوان/قسط6

شہر کراچی سے ہماری شعوری یادوں کا سفر سن ساٹھ کی دہائی سے شروع ہوتا ہے۔یہ سفر تاحال جاری ہے۔ سوچا ہے کہ کراچی کے بارے میں جو پڑھا،دیکھا اور سنا ان کو یک جا کرکے آپ کی خدمت میں خالصتاً نجی زاویے سے پیش کریں۔اسے کوئی تاریخی دستاویز نہ سمجھیں۔یہ البتہ ضرور ممکن ہے کہ آپ اگر کراچی کی تاریخ کے سنجیدہ طالب علم ہیں تو اس سے آپ کو مزید اور بامعنی تحقیق میں معاونت ہوجائے گی۔کراچی کے بارے میں لکھنے کا خیال ہمیں سنگاپور میں آیا۔۔یہ سب جاننا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ کراچی کے حوالے سے ہمارا بیانیہ تشنہ کام نہ لگے۔خیال رہے کہ کراچی کے کالم اس آخری الاپ نما تعارفی قسط کے بعد یہاں پے در پے شائع ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں :  اپُن کا کراچی،شیخ دیدات سے ملاقات۔۔محمد اقبال دیوان/قسط5

بدھ کی صبح کو مصطفے میاں کی سیکرٹری نمالی نے ہمیں کیپ ٹاؤن کا ہوائی جہاز کا ٹکٹ اور دیگر تفصیلات دکھاکر کمپنی کے ڈرائیور کو سمجھا دیا کہ ہمیں ائیرپورٹ لے کر کب جانا ہے۔اس نے یہ بھی یقین دہانی کرادی کہ ڈومیسٹک لاؤنج پر ہمارے نام کا بڑا سا کارڈ لیے دو صاحبان موجود ہوں گے۔وہ ہمارے تمام انتظامات سنبھال لیں گے۔یو آر کمپنی گیسٹ ان کیپ ٹاؤن۔۔۔ہم نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ صرف کلفٹن بیچ پر دی بنگلوز نامی ریستوراں تک تو شاید ہمیں کار اور ڈرائیور کی ضرورت ہو بعد  میں  کس ڈسکومیں جانا ہے کس ہوٹل میں کھاناہے۔کون سے تیز قدم راستے ہیں،کن سست قدم راہوں پر چلنا ہے یہ سارا بندوبست سوپینگ کا ہوگا۔ہمیں کسی minder (نگران) کی ضرورت نہیں۔اس نے اپنی بڑی  بڑی آنکھوں کو مٹکا کر کہا

Ah you have designs on the  mooi meisie

(ارے آپ کے ارادے تو خطرناک ہیں،موئی میسی جنوبی افریقہ کی زبان افریکان میں حسین لڑکی کو کہتے ہیں)
دوپہر کو ہم جب مصطفے میاں کے ساتھ شہر کا چکر لگا کر آئے اورلنچ کے لیے جارہے تھے کہ نمالی نے بتایا کہ ہمارے لیے اسلام آباد سے کسی ڈاکٹر ظفر الطاف جو خود کو حکومت پاکستان کا سیکرٹری بتاتے ہیں دو دفعہ فون آیا ہے۔ فوراً بات کرنے کا کہہ رہے تھے۔
ڈاکٹر صاحب سے بات ہوئی تو کہنے لگے’مولانا(یہ ان کا اکثر ماتحتوں سے تخاطب کا انداز تھا ) تمہارے پاس کتنے پیسے ہیں۔ہم نے کہا دوسو ڈالر جو ساس صاحبہ نے دیے تھے۔کہنے لگے میمنوں کے لیے تو یہ بہت ہیں۔سنگاپور سے ایک سو چالیس ڈالر کا ملائشیا کا ٹکٹ آئے گا۔وہ اور وزیر اعظم بے نذیر صاحبہ کل ہی کوالالمپور سے لوٹے ہیں۔وہاں کے مقتدر حلقوں میں پاکستان میں آئل پام کی کاشت کی بات ہوئی ہے۔یوسف بیسران ان کے آئل پام کے وزیر ہیں۔

یوسف بیسران

ان سے مذاکرات کرکے ایکسپرٹ لانا ہوں گے۔ویزہ کے لیے ان کے جوہانسبرگ میں واقع سفارت خانے میں ہدایات پہنچ گئی ہیں۔ہم نے شرارتاً انگریزی زبان میں کہا کہ آپ بھی ہکلاتے،مفرور،بے یار و مددگار موسی کو فرعون کے دربار میں بھیج دیتے ہیں۔زور سے ہنسنے لگے اور کہنے لگے مگر سوچو موسی نے اللہ کو یہ تو نہیں کہا تھا کہ گریڈ بائیس تو تونے فرعون کو دیا۔اسلام آباد کے ایوان اقتدار میں وہ رہتا ہے اور میرے پاس تو لے دے کر یہ ایک عصا ہے۔میں اس سے ٹیک بھی لگاتا ہوں،بھیڑوں کے لیے درختوں سے پتے بھی جھاڑ لیتا ہوں اور اس کے علاوہ بھی اس سے کچھ اور کام لیتا ہوں

No further arguments.Talpur sahab has just walked in
ہم گڑگڑائے
کہ ہم نے تو آج تک آئل پام کا پودا بھی نہیں دیکھا تو کہنے لگے کے کدو کریلے کے کسی ڈاکٹر کو بھیجتے تو وہ Agronomy یعنی پانی کی دستیابی اور سالانہ برسات اور نکاس کرنے والی ڈھلواں زمینوں کی بات کرتا۔ آپ نے وزیر یوسف بیسران سے Managerial Options اور کاروباری فوائد پر بات کرنی ہےBe a target killer and hit the road.ہم گریڈ اٹھارہ کے صوبائی ملازم اور پنجہ آزمائی یوسف بیسران سے ،ان کا ملائیشیا کی معیشت میں وہی مقام ہے جو سعودی عرب کے ہاں وزیر پیٹرولیم کا ہوتا ہے۔

نمالی سوپینگ سے ملاقات نہ ہونے کے باعث اداس تھی۔اسے دکھ تھا کہ پنچھی بچھڑگئے ملنے سے پہلے۔ سفر کے لیے روانہ ہوئے تو اس نے بتایا کہ مصطفے میاں نے اسے ہمارا خاص خیال رکھنے کی تلقین کر رکھی ہے۔گجو کنکشن (گجراتی کنکشن) یو نو۔اسی ہدایت کو سامنے رکھ کر اس نے انتظام کیا ہے۔ کوالالمپور کے ہوائی اڈے پر ہمیں لینے اس کے لوگوں میں  سے کوئی آیا ہوگا۔ہم نے سفر میں اس کو ضرور ساتھ رکھنا ہے۔سیر و تفریح اور خریداری میں وہ ہمارے لیے جیمز بانڈ ثانی ثابت ہوگا۔
ہوائی اڈے سے باہر نکلے تو ایک ملائشین ڈرائیور، ایک حسین چینی خاتون کے ہمراہ ہمارے نام کا کارڈ لیے کھڑا تھا۔ابھی تعارف کے مراحل سے گزر ہی رہے تھے کہ ایک تامل نے آہستہ سے ہمارا نام پکارا اور کان کے قریب آن کر کہنے لگا ۔۔دی پم فرام میڈم نمالی ایٹ یور میجسٹی سروس۔جنوبی ہند کے اداکاروں کو دیکھ کر ہم نے مردانہ وجاہت کا کوئی پیکر کبھی ذہن میں نہیں بسایا تھا سو اسے دیکھ کر کوئی مایوسی نہیں ہوئی۔ہم ہر تامل کو سری لنکا کے کرکٹ کھلاڑیوں مرلی دھرن اور لست ملنگا کا ہی ماں جایا سمجھتے ہیں۔

چینی خاتون نے اپنا نا م کیتھی بتایا۔ یہ بھی بتایا کہ اسے کس ملٹی نیشنل نے ہماری خدمت فاخرہ کے لیے بمع مرسڈیز کار ڈرائیور اور ہلٹن ہوٹل کے ایگزیکٹیو سوئیٹ کے آل آن دی ہاؤس کوریج کے لیے  مامور کیا ہے۔ ہم سے کہنے لگی آپ کے لیے ایک اچھی خبر ہے اور ایک بری خبر ہے۔ہم نے کہا تیرے ہوتے ہوئے کون سی خبر بری ہوسکتی ہے۔ ریگن مرگیا بھاڑ میں جائے ،جان میجر برطانوی وزیر اعظم کو ایڈز ہوگئی ،ہمیں کیا تم ساتھ ہو تو جینے کو اور کیا چاہیے۔وہ کہاں رکنے والی تھی، کہنے لگی پہلے بری خبر سن لو ملائشیا دو دن کے لیے بند ہے،اچھی خبر یہ ہے کہ میں کمپنی اکاؤنٹ پر آپ کے ساتھ ہوں۔ ڈاکٹر یوسف بیسران سے جو ملاقات کل طے تھی وہ بھی دو دن کے لیے موخر ہوگئی ہے۔وہ کوالالمپور میں موجود نہیں۔ ان کی سیکرٹری نے بتایا ہے کہ کل رات جکارتا چلے گئے ہیں۔ہم نے دیپم کا نمبر لے کر اسے تو رخصت کیا۔ کیتھی نے جتایا کہ زندگی کے دو حسین دن کوالا لمپور کے ویرانوں میں برباد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔میں نے کمپنی سے اجازت لے لی ہے آپ کو لنگ کاوی کے جزیرے پر لے جاتے ہیں۔لنگ کاوی ایک ساحلی جزیرہ ہے۔ملائشیا کے رچ اینڈ فیمس سب وہاں بسیرا کرتے ہیں۔

لنگ کاوی ساحلی جزیرہ

 

زندگی کے کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جن کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ آپ انہیں زندگی میں جوڑلیں کہ انہیں مائنس کردیں۔سو لنگ کاوی میں ہمارے بھی وہ دن ایسے ہی تھے۔

جاری ہے۔۔

Save

Save

Save

Save

Save

Save

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”مومنِ مبتلا،تیل کی دھار۔۔اقبال دیوان/قسط6

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *