رانے دی ہائم

نادرا کے پاس دستیاب مخطوطات کے مطابق آپ کا اسمِ خانوادگی رانا اکبر ہے اور تابش آپ نے بطور تخلص ویلڈ کروایا ہوا ہے۔ یوں کل ملا کے بلا شرکتِ غيرے، نیز بغیر سُود کے، آپ كا اسمِ كامل رانا اکبر تابش بنتا ہے۔ تاہم میں انہیں احتیاطاً ھدایت الله بے ھدیتا کے نام سے لکھتا اور پکارتا ہوں۔ آپ لندن سے صرف چھ ہزار کلومیٹر دور واقع نواحی بستی (ازراهِ كرم بستی کے ب کو زبر کے ساتھ پڑھیں نہ کہ زیر کے ساتھ) ملتان میں پیدا ہوے۔ آپ اس دور میں پیدا ہوئے جب کوئی کوئی پیدا ہوتا تھا۔ مورخ آپ کی سانحۂ عمری فی کلو کے حساب سے صفحۂ قرطاس پر منتقل کرتے ہوئے نوحہ کناں ہے کہ جس ازمنۂ قدیم میں آپ کی پیدائش وقوع پذیر ہوئی اس دور میں افواج چپیڑوں سے لڑائی لڑا کرتی تھیں۔۔ جب لڑائی سے تھک جاتیں تو گالیوں کے مرغولے بنا بنا کر اک دوجے پر پھینکتیں و ھذا علی القیاس۔۔۔ آپ کے متعلق بعض غیر مستند مخالفین نے مشہور کر رکھا تھا کہ اگر آپ راجپُوت نہ ھوتے تو خاں صاحب ھوتے بلکہ بہت ہی خاں صاحب ھوتے۔۔

جس روز آپ نے دبیرستانِ نوع اول، جو کہ دبستانِ گاما کے نام سے موسوم تھا، میں ابتدائی تعلیم کی غرض سے قدم رنجہ فرمایا، اسی روز اس دبستان کے بانی و معلم کبیر، جناب الماس گوڈے گاما آپ کے داخلے کی تاب نہ لاتے ہوئے چل سو چل بسے۔۔ تاہم رانا اکبر کا درایں باب مؤقف ہے کہ استاذِى محترمى و مكرمى اپنے ہی گوڈوں کے درد و الم کے ہاتھوں جاں بحق ہوئے۔ آپ نے اپنے موقف کے دفاع میں طبیبِ شہر کی جانب سے جاری کرده گواہی نامہ اس وقت کے میڈیا کے سامنے یوں لہرایا جس طرح 2007 میں سعودی شہزادے مقرن بن عبدالعزیز آلِ سعُود نے اسلام آباد میں مکرمی نواز شریف و ہمنوا کا معاہده جلاوطنی پاکستانی میڈیا کے سامنے لہرایا۔ ان تمام واقعات كے باوجُود آپ نے ہمت نہ ہاری اور مزید نصف درجن اساتذه کرام کا راه لیتے ہوئے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کی۔۔

تعلیم کے اگلے مدارج طے کرنے کے بعد آپ نے ملک کی ایک مشہوُر جامعہ میں داخلہ لے لیا اور دو سال کی محنتِ و ریاضت کے بعد فرنگیانہ زبان میں ماسٹرز کیا۔ جامعہ کے ماسٹرز نے البتہ ان دنوں آپ سے پردہ کیا۔۔ اسی پرده داری میں دو سال بیت گئے۔ آپ وہاں سے پینشنی ہو کر قانون کے طالبِ علم ہو گئے۔ اپنے ہم جماعت چوھدری امتیاز کے ہمراه امتیازی نمبروں سے ایل ایل بی پاس کیا۔

آپ کو بچپن سے ہی چائے بنانے کا شوق تھا اور اس شوق کو مد نظر رکھتے ہوئے رانا جی نے مزید اعلٰی تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ کیا۔ شب جمعہ کے ایک خطاب میں خواتین کے محبوب تبلیغی مقرر جناب حافظ صفوان چوہان سے سن رکھا تھا (یہ تقریر حافظ صاحب کی مردوں پہ تبلیغ کی واحد کوشش تھی) کہ بھئی اراده کرنے کا بھی ثواب ہوتا ہے، بس اسی مدعے کو لے کر آپ نے چائیالوجی میں داخلے کے لئے درخواست پیش کی جو فوری قبول ہوئی اور یوں ماسٹر ڈگری حاصل کر کے اس فن میں اس درجہ مہارت حاصل کی کہ دیکھتے ہی یکھتے آپ ملک کے صفحۂ اول کے چائیالوجسٹ کا روپ دھار گئے۔۔ غلام علی نے آپ کے متعلق ہی تو لہک لہک کر گایا تھا کہ “میرے شوق دا نئیں اعتبار تینوں”، نیز طاہرہ سید بھی کچھ یوں نغمہ سرا ہوئیں ”یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے” و اشعار ہائے دیگری۔۔

آپ نے وطنِ عزیز کے معرُوضی حالات و واقعات، نيز ارشد خان چائے والا كى شہرت کو مدِنظر رکھتے ہوئے چائے خانہ کا لائسنس منظور کرایا اور چائے کی روزانہ بنیادوں پر پیداوار شروع کر دی۔ چائے بنا کر خود ہی پینا کوئی ان صاحب سے سیکھے۔ بھرے ہوئے کپ میں سے مکھی یوں نکالتے ہیں جیسے فاضل مصنف ریاضی کا سوال کرتے سمے پانچ میں سے دو نکالتا ہے، یا یوں سمجھ لیں اگر کسی کا دونوں ہاتھوں سےگلا دبایا جائےتو وه آگے سے آنکھیں نکالتا ہے۔ اسی موقع کے لئے جنابِ داغ دهلوى فرما گئے:
داغ آنکھیں نکالے ہیں وه
ان کو دے دو نکال کر آنکھیں

آپ ماہرِ قانوُن ہونے کے ساتھ ساتھ انگریزی ادب کے کار شناس بھی ہیں، نیز آپ کی جرمن ادب پر بهى گہری نظر ہے، اس لئے آپ نے اپنے چائے خانے کا نام ”رانے دی ہائم” رکھا ھوا ہے۔ جملۂ معترضہ کے طور پر عرض ہے کہ ہائم کا ترجمہ و پس منظر جاننے کے لئے سابق مزاح نگار عطاء الحق قاسمی صاحب کا بیرونِ ملک کا سفر نامہ زیرِمطالعہ لائیں، انشاءاللہ فائده ھوگا۔۔

رانا اکبر تابش کے ہاں ملکی قوانین کے پیشِ نظر حلال چائے کے چند مشہُور برانڈ دستیاب ہیں۔ مثلاً دفع تیس والی چائے، دفع چتالی والی چائے، شیکسپئر چائے، جان ملٹن چائے، ولیم وڈزورتھ چائے، ارنسٹ ھیمنگوے چائے۔۔۔ چرسی بائسی شیلے چائے۔۔

شائ الأول : دفع تیس والی چائے؛
رانے دی ہائم پر یہ چائے صرف سرکاری ملازمین کے لئے دستیاب ھوتی ھے۔۔ جس ملازم کا جتنا گریڈ ہو گا، دودھ اور پتی و اجزائے دگر اسی حساب سے انڈیلے جاتے ہیں، بسکٹ ہمراہ پیش کئے جاتے ہیں، نیز یکم کی یکم ادھار شدھار بھی چل جاتا ھے۔ ڈی ایم جی گروپ کے لئے ”جو دے اس کا بھی بھلا جو نہ دے اس کا بھی بھلا” کے اصُول کے تحت بل وصول کیا جاتا ھے۔۔

شائ الاثنین: دفع چتالی والی چائے؛
خالصتاً عوامی چائے ہے۔ عام عوام کے لئے انتہائی عوامی اصولوں کے تحت تیار کی جاتی ہے۔ یہ دفع تیس والی چائے کے ماتحت ھوتی ھے۔ جب ہائم پر عام عوام کا رش زیادہ ھو جاتا ہے تو انیس کلو دودھ کے اندر ایک سو بیس کلو پانی ڈال کر انیس بیس کے فرق کے ساتھ چائے کو T.O.R’s کی طرح طوُل دے دیا جاتا ہے، اس چائے کے ساتھ لاٹھی چارج مفت کیا جاتا ہے۔

شائ الثلاثة: شیکسپئر چائے؛
پینٹ کوٹ میں ملبوس منہ کے قائمے زاویے بنا کر انگریزی بولنے والوں کے لئے یہ چائے اکسیر کی حیثیت رکھتی ہے۔ بیکن ھاؤس سکول سسٹمز کے فارغ التحصیل طلبا کی یہ پسندیده چائے ہے۔

شائ الاربعة؛ جان ملٹن چائے؛
یہ چائے نابینا افراد کے لئے بحصُول ثوابِ دارین مفت تقسیم کی جاتی ہے۔

شائ الخمسة: ولیم وڈزورتھ چائے؛
دیسی جڑی بوُٹیوں سے تیار کردہ نیچرل ٹچ کے ساتھ یہ چائے حکیمانہ اصُولوں کے تحت مینوفیکچر کی جاتی ہے۔

شائ الستة: ارنسٹ ہیمنگوے چائے؛
بعض لوگ شدید عجلت میں وارد ھوتے ہیں اور پدھارتے ہی سجے کھبے دیکھے بغیر ببانگِ دُھل چائے کا مطالبۂ کر ڈالتے ہیں، انکار کی صورت میں یہ کہتے ھوئے رخصت ھوجاتے ہیں کہ چاہ نئیں تے تھوڑا جیا زہر ہی دے دے۔۔۔ ان کے لئے باسی چائے رکھی ھوتی ہے جو بھاگتے چور کی لنگوٹی کا کام دیتی ہے۔

شائ السبعة: چرسی بائسی شیلے چائے:
نام سے ہی ظاہر ہے، ہائم کی سب سے گراں قیمت چائے ہے۔ عموما” بلیک میں ملتی ہے اس لئے اس کا قائم مقام نام بلیک ٹی بھی ہے۔ رات گیارہ بجے کے بعد اس کی مانگ میں دو سو گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔

رانے دی ہائم کے ساعاتِ پرمشغلہ (Peak Hours) کے دوران کھوے سے کھوا اچھلنا معمول کی بات ہے۔ نفسا نفسی کے عالم میں ایک عالم چائے کی تلاش میں ایک دوسرے سے ٹکراتا رہتا ہے، اس دوران اکثر گاہکوں کا اخلاق وغیره گر جاتا ہے تو رانا جی اپنے ایسے کسٹمرز کو بروقت مطلع کرتے ہیں اور ان کو ان کا گرا ھوا اخلاق واپس اُٹھانے میں مدد کرتے ہیں- اس طرح کچھ لوگ آپے سے باہر ھو جاتے ہیں، ایسے لوگوں کے لئے ایک جمبو سائز کا “آپا” بنوایا ھوا ھے جس میں آپے سے باہر لوگوں کو واپس آپے میں لایا جاتا ہے۔

دعا ہے کہ رانے دى ہائم بیشترین سرعت سے ترقی کرے۔۔۔۔۔آمین

Avatar
سہیل کوروٹانہ
مردانہ حسن و وجاہت کے پیکر اور ادبی ذوق کے حامل سہیل کے تیار کردہ جہاز فضا میں اونچا اڑتے ہیں، مگر انکے خیالات کی پرواز ان جہازوں سے بھی اونچی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *