• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پڑھنے کا ذوق اور لکھنے کا شوق نہ رکھنے والوں کے نام۔۔معاذ بن محمود

پڑھنے کا ذوق اور لکھنے کا شوق نہ رکھنے والوں کے نام۔۔معاذ بن محمود

اگر آپ کا تعلق فیس بک سے ہے اور آپ مکالمہ، ہم سب، دلیل وغیرہ کے اکابرین کو فالو کرتے ہیں تو آپ نے ان کی تحاریر کے جوابی کمنٹس میں کئی طنزیہ اصطلاحات اکثر پڑھی ہوں گی۔ ان خود ساختہ اصطلاحات میں دانشور، دانشوڑ، فیس بکی دانشور وغیرہ سے مرکب طنز شامل ہیں۔ چند دن ہوئے کہ قمر نقیب بھائی نے اس موضوع کو لے کر اظہار خیال کیا جس پہ تفصیل سے بات کرنے کا وقت آن پہنچا ہے، تاہم اس موضوع پہ آنے سے پہلے کچھ تمہید پڑھنے والوں کی نظر۔

ریاست کی عوام تاریخ کے مختلف اوقات میں مختلف دلچسپیاں پالتی رہی ہے۔ ایک وقت تھا جب کتاب گھر کی زینت ہوا کرتی تھی۔ لوگ اپنے ذاتی کتب خانے سجانے کو باعث افتخار سمجھتے تھے۔ کتاب نویسی ایک شوق ہوا کرتا تھا۔ اس شوق کی ایک وجہ شاید انٹرنیٹ یا پرائیویٹ ٹی وی چینلز کا عدم میں ہونا ہوتا ہو۔ پھر آہستہ آہستہ پرنٹ میڈیا کی مٹی زرخیز ہوتی چلی گئی اور طرح طرح کے اخبارات، میگزین وغیرہ بازار میں مہیا ہونے لگے۔ وقت کے ساتھ ساتھ کتاب کا نعم البدل ماہانہ میگزین بنتا چلا گیا، اس کے بعد ہفت روزہ پسند کیے جانے لگے اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ روزنامے بوجہ قلت وقت عوام کی دلچسپی کا سامان بن گئے۔ اس کے بعد ٹی وی چینلز اور انٹرنیٹ کی دنیا نے کچھ ایسا ماحول وضع کیا کہ لوگ کتاب تو درکنار اخبارات تک کو بھلا کر اینکرز کے ہاتھوں ریٹنگ کا سامان بن کر رہ گئے۔ بات یہاں تک محدود رہتی تو شاید اتنا مسئلہ نہ ہوتا البتہ قضیہ یوں بنا کہ ٹی وی چینلز نے عوام کو مکمل طور پر عادی بنانے اور قابو کرنے کے بعد اپنے اپنے ایجنڈے بنا ڈالے اور خود مکمل طور پر ایک یا دوسرے قبیل سیاست کا بھونپو بن کر رہ گئے۔

اس تمام قصے میں ایک نسل ایسی تیار ہوئی جس کا مطالعہ تقریباً صفر رہ گیا مگر اپنی بات دنیا تک پہنچانے کا ذریعہ ہاتھ لگ گیا۔ مطالعہ نہ ہونے کا مطلب یہ نسل دینی و دنیاوی دلچسپی کے چیدہ موضوعات کے بنیادی اصولوں سے مکمل ناواقف ہونے کے باوجود سوشل میڈیا سے متصل رہ گئی۔ نتیجتاً یہ بچے احمقانہ حد تک بیکار اور غیر ضروری بات زور و شور کے ساتھ دنیا تک پہنچانے کی اہلیت حاصل کر بیٹھے ہیں۔ ایسے میں وہ لوگ جو اپنی بات کرتے کسی اصول، منطق یا کتاب کا حوالہ دینے لگیں وہ اس نسل کے نزدیک “خود ساختہ دانشور” بن گئے۔

تمام تمہید کا مقصد یہ بات باور کرانا ہے کہ دراصل یہ ایک قسم کا احساس کمتری ہوتا ہے جو چند لوگوں کو فیس بکی دانشور وغیرہ جیسی اصطلاحات استعمال کرنے پہ اکساتا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ یہ بیچارے دوسروں جتنی معلومات یا سوچنے کا وہ زاویہ جو کتاب فراہم کر سکتی ہے، پیش کرنے سے محروم ہوتے ہیں اور خود کو evaluate کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ یوں یہ لوگ پڑھنے کا ذوق اور لکھنے کا شوق رکھنے والوں کے اس قدر رعب میں آجاتے ہیں کہ خود سے متصادم رائے رکھنے والوں کو نیچا دکھانے کے لیے وہی الفاظ استعمال کرتے ہیں جو دماغ کے کسی پوشیدہ حصے میں اپنے لیے رکھتے ہیں۔

کسی بھی قسم کے فکری اختلاف سے قطع نظر حقیقت یہی ہے کہ دم توڑتی اردو کو بہرحال مکالمہ، ہم سب اور دلیل جیسی سائیٹس نے اردو تحریر نویسی کے ذریعے زندہ کیا ہے۔ یہ پراجیکٹس سیاسی ویڈیوز دیکھنے والی عوام کو واپس شعور دینے میں کامیاب ہوئے جس کے تحت پڑھنے کے ساتھ لکھنے والوں کی تعداد میں بے انتہاء اضافہ ہوا۔

میں پیشے کے اعتبار سے انفارمیشن ٹیکنالوجی سے تعلق رکھتا ہوں تاہم فی الوقت میں انسانی تاریخ سے متعلق کتاب ختم کرنے کے قریب ہوں، اس سے پہلے انسانی دماغ پہ کتاب پڑھی اور اس سے پہلے سیاست اور سوشل میڈیا کے تعلق کے متعلق کتاب پڑھی۔ مسلسل مطالعہ مجھے مسلسل لکھنے کی تحریک دیتا ہے۔ ایسے میں میرا لکھا کافی حد تک ٹھیک بھی ہوسکتا ہے اور بہت حد تک غلط بھی۔ آپ اختلاف کی صورت میں لکھ کر جواب دیجیے۔ یہ تہذیب کی نشانی اور اس کے بعد مکالمہ ڈاٹ کام و دیگر سائیٹس کی روح کے عین مطابق ہے۔ مخالفت کی صورت میں دلائل کے ساتھ اختلاف کی بجائے دانشوری یا اس قسم کے طعنے دینے کا مطلب کہیں نہ کہیں آپ کے اندر کسی محرومی کا احساس ہے۔ ایسی صورت میں ہمیں آپ سے غیر اعلانیہ ہمدردی ہے۔ تعزیت قبول ہو۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *