بھیانک تصادم۔۔محمد شاہ زیب صدیقی

اِس کہانی کا آغاز سو سال پہلے سے ہوتا ہے جب سائنسدانوں نے مختلف ستاروں سے آنے والی روشنی اور ان کی ویو لینتھ (wavelength) کے متعلق تحقیق کرنا شروع کی، معلوم یہ ہوا کہ جو ستارے اور دیگر اشیاء ہم سے دور جارہی ہیں ان کی روشنی سرخ اور ویولینتھ زیادہ ہوگی، جبکہ وہ کہکشائیں جو ہماری زمین کے نزدیک آرہی ہیں ان کی روشنی نیلی اورویولینتھ کم ہوگی، اسی طرح ہم ستاروں کا فاصلہ اور رفتار بھی معلوم کرسکتے ہیں۔ فلکیات کے میدان میں یہ انکشاف ایسا انقلابی تھا جس نے تہلکہ مچا دیا اور اس طریقہ کار کو اپنا کر کئی تحقیقات انجام دی گئی ۔آج ہم کہکشاؤں اور ستاروں کے متعلق کافی حد تک درست معلومات حاصل کرچکے ہیں ۔ Visto Slipher نےسن 1900ء میں آسمان پر ایک نبیولا کے متعلق حقائق جاننے کی خاطر ٹیلی سکوپ بلندکی اور ڈیٹا اکٹھا کیا، نیبولا (Nebula)کائنات میں موجود دیوہیکل بادلوں کو کہا جاتا ہے،انہی بادلوں میں ستارے بنتے ہوتے ہیں، بہرحال جب وِسٹو نے اُس نیبولا کے متعلق ڈیٹا اکٹھا کیا تو حیرت انگیز حقائق دیکھنے کو ملے جن کو اُس وقت وِسٹو نے ان الفاظ میں تحریر کیا ” ہم مذکورہ تحقیق کے نتیجے میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ اینڈرومیڈا نیبولا ہمارے نظامِ شمسی کی جانب 300 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے بڑھ رہا ہے”، چونکہ اس وقت سائنسدانوں کو کہکشاؤں کے متعلق معلومات نہ تھیں لہٰذا وہ اینڈرومیڈا کہکشاں کو نیبولا سمجھتے تھے، اس انکشاف نے سائنسدانوں کو تشویش میں مبتلا کردیا کیونکہ ہم یہ تو معلوم کرسکتے تھے کہ کوئی ستارہ یا کہکشاں ہماری جانب کس رفتار سے بڑھ رہی ہے مگر اس کا Proper motion معلوم نہیں کرسکتےتھے جس کے باعث یہ تصدیق نہیں ہوپارہی تھی کہ ہم اس تصادم کے نشانے پر ہیں یا نہیں۔Proper motion فلکیات میں کسی بھی چیز کے آسمان پر ہر سال اپنی جگہ تبدیل کرنے کے عمل کو کہا جاتا ہے۔تقریباً 2007ء میں ہارورڈ یونیورسٹی کے فلکیاتی ماہرین نے اینڈرومیڈا کہکشاں کے متعلق دوبارہ تحقیقات کاآغازکیا جس کے بعد تصدیق کی کہ “اینڈرومیڈا ہماری کہکشاں سے کچھ ارب سال بعد ٹکرا جائے گی”۔ اینڈرومیڈا ہماری کہکشاں سے 25 لاکھ نوری سال دور ہےاور ایک کھرب (ایک ہزار ارب )ستارے اپنے ساتھ لیے ہوئے ہے، جبکہ ہماری کہکشاں میں 400 ارب ستارے موجود ہیں،چونکہ ہماری کہکشاں کا نام ملکی وے ہے اور پڑوسی کہکشاں کا نام اینڈرومیڈا ہے، سو اس ٹکراؤ کے بعد جو نئی کہکشاں وجود میں آئے گی اس کا نام “ملکو میڈا” (Milkomeda)تجویز کیا گیا۔ بعدازاں 2012ء میں Space Telescope Science Institute نے Andromeda کی دس سالہ proper motion اور updated data کا مطالعہ کرتےہوئے بتایا کہ 4لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتارسے ہماری جانب بڑھتی کہکشاں اینڈرومیڈا کاٹکراؤ ملکی وےسے تقریباً 4 ارب سال بعد پیش آئے گا۔ 4 ارب سال بہت بڑی مدت ہے ،اس دوران آسمان پر ہمیں دلکش مناظر دیکھنے کو ملیں گے،آئیے سمجھتے ہیں کہ اس دوران آسمان کیسا دِکھائی دے گا؟ (یہ پڑھتے ہویے ساتھ منسلک تصویر کو دیکھتے رہیے گا) آج اینڈرومیڈا آسمان پر ہمیں ایسی ستارے کی طرح دِکھائی دیتی ہے ، چونکہ ہم اپنی کہکشاں کے دوسرے کنارے پر واقع ہیں سو تصویر میں اینڈرومیڈا کے ساتھ موجود بادلوں کا دیوہیکل جھرمٹ ہماری کہکشاں کا مرکز ہے(تصویر نمبر 1)

، تقریباً 2 ارب سال بعد جب ہمارا سورج تھوڑا بڑا ہوجائے گا ، زمین پر سے پانی بخارات بن کر اڑنا شروع ہوجائے گا اور یہ سیارہ انسانوں کے رہنے کے لائق نہ رہے گا، اس دوران آسمان پر اینڈرومیڈا تھوڑی واضح دِکھنا شروع ہوجائے گی (تصویر نمبر 2)،

آج سے تقریباً 3.75 ارب سال بعد اینڈرومیڈا مزید واضح ہوجائے گی تب آسمان پر ایسا نظار ہمیں دیکھنے کو ملے گا(تصویر نمبر 3)،

3.9 ارب سال بعد دونوں کہکشائیں ٹکرانے کے قریب ہونگی اس وقت آسمان ایسا دِکھائی دے گا(تصویر نمبر 4)،

مزید 10 کروڑ سال یعنی آج سے تقریباً 4 ارب سال بعد دونوں کہکشاؤں کا تصادم ہوگا اور آسمان پر ایسا نظارہ دیکھنے کو ملے گا، یاد رہے کہ یہ وہ وقت ہوگا جب سورج تباہ ہونے سے پہلے پھیل کر زمین کو “ہضم” کرچکا ہوگا، اس دوران اگر کوئی مخلوق نظام شمسی میں آباد ہوئی تو وہ یقیناً مریخ ، یوروپا (مشتری کے چاند) یا انسلادس (زحل کے چاند) پر موجودہوگی۔ (تصویر نمبر 5)،

ٹکراؤ کے بعد کروڑوں سال تک آسمان پر رنگ برنگے بادل چھائے رہیں گے(تصویر نمبر 6)،

تقریباً 5.1 ارب سال بعد آسمان دھودھیا رنگ کا ہوجائے گا اور یہ کہکشائیں ایک دوسرے میں ضم ہوجائیں گیں (تصویر نمبر 7)،

آج سے 7 ارب سال بعد جب یہ کہکشائیں مل کر نئی کہکشاں Milkomedaبنالیں گیں تو آسمان پر ایسا نظارہ ہوگا (تصویر نمبر 8)۔

آج ہمیں خالی نظر آنے والا آسمان آنے والے وقت میں کتنا رنگیں ہوسکتا ہے اس کا اندازہ ہمیں سو سال پہلے تک نہیں تھا، اگر آنے والے اربوں سالوں تک کوئی مخلوق ہماری کہکشاں میں کہیں پر موجود ہوئی تو وہ یقیناً اربوں سالوں تک اس کھیل سے محظوظ ہونگے جو آسمانی چادر پر لگنے جارہا ہے ۔ ابھی ہماری کہکشاؤں کا شمار spiral galaxies میں ہوتا ہے لیکن اس ٹکراؤ کے بعد ہماری کہکشاں کا شمار elliptical galaxiesمیں ہوگا۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہر کہکشاں کے مرکز میں بلیک ہول ہوتا ہےسو مذکورہ ٹکراؤ کے بعد Milkywayکا بلیک ہول اور Andromedaکا بلیک ہول ایک دوسرے کو شدید قوت سے کھینچیں گے اور بالآخر یہ بھی ٹکرا کر ایک بلیک ہول بن جائیں گے، ان بلیک ہولز کا ٹکراؤ اتنا شدید ہوگا کہ بےتحاشا انرجی اور کشش ثقل کی لہریں زمان و مکان کی چادر میں طوفان برپا کرتے پھیل جائیں گیں۔ اس ٹکراؤ کے متعلق سب سے اہم سوال یہ ابھرتا ہے کہ ستاروں اور ہمارے سورج کا اس کے بعدکیا مستقبل ہوگا؟ چونکہ ستاروں کے مابین بہت زیادہ فاصلہ ہے سو زیادہ تر ستارے بالکل محفوظ رہیں گے اور ان پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، ستاروں کے مابین فاصلے کا اندازہ ہم زمینی اعتبار سے ایسے لگا سکتے ہیں کہ اگر ہمارا سورج ایک کنچا (بنٹا) ہے تو دوسرا کنچے (یعنی ہمارا قریب ترین ستارہ) اس کنچے سے (جسے ہم سورج کہہ رہے ہیں) تقریباً1100 کلومیٹر دور ہوگا، ایسا ہی فاصلہ اینڈرومیڈا کہکشاں کے ستاروں کے درمیان بھی ہے،اس کے ذریعے ہم اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ہماری کائنات کتنی وسیع ہے۔ ہاں یہ ضرور ہوگاکہ دونوں کہکشاؤں کے کناروں پر موجود کچھ ستارے خلاء میں بکھر جائیں گے اور نئی کہکشاں کا حصہ نہیں بن پائیں گے، ہمارا سورج بھی چونکہ کناروں پر موجود ہے تو سائنسدانوں کے مطابق 12 فیصد چانس موجود ہے کہ ہمارا سورج باہر نکل جائے گا اور نئی کہکشاں کا حصہ نہیں بن پائے گا، جبکہ کچھ سائنسدانوں کے نزدیک 50 فیصد چانس موجود ہے کہ ہمارا سورج اس ٹکراؤ کے نتیجے میں اپنی جگہ چھوڑ دے گا اور اینڈرومیڈا کے بلیک ہول کی جانب بڑھنا شروع ہوجائے گا بالآخر بلیک ہول میں گر کر ختم ہوجائے گا، جبکہ بہت سے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ابھی اینڈرومیڈا بہت دور ہے سو موجودہ calculations کی بنا پر یہی کہا جاسکتا ہےکہ سورج اپنی جگہ سے نہیں ہلے گا، بہرحال آنے والے ایک ارب سال میں صورتحال بالکل واضح ہوجائے گی۔ چونکہ یہ نظارہ اربوں سال بعد دیکھنے کو ملے گا جس کی وجہ سے سائنسدانوں نے ہبل ٹیلی سکوپ کے ذریعے کائنات کے مختلف گوشوں میں جھانکنا شروع کیا تاکہ کہیں ایسا ٹکراؤ ہورہاہے تو اس کو دیکھا جاسکے جس کے بعد کچھ کہکشاؤں کے بیچ ایسے تصادم دیکھنے کو ملے ہیں اور ان کی تصاویر بھی جاری کی گئیں جن سے معلوم ہوا کہ کائنات میں یہ ٹکراؤ معمول کا حصہ ہیں۔ اینڈرومیڈا پہلے بھی ایک کہکشاں سے ٹکرا چکی ہے، ہماری اپنی کہکشاں ملکی وے بھی کئی چھوٹی کہکشاؤں کے ٹکراؤ کا نتیجہ ہے۔ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں ہم اپنی کائنات کے متعلق بہت کچھ جان چکے ہیں۔ اسی خاطر کہا جاتا ہے کہ 2 ہی possibilities ہیں یا تو ہم کائنات میں اکیلے ہیں یا پھر اکیلے نہیں! اور یہ دونوں باتیں خوفزدہ کردینے والی ہیں۔ ہماری کائناتی چادر پر اگلے 7 ارب سالوں تک ملکو میڈا کا میلا سجنے جارہا ہے۔ کبھی زندگی کے جھمیلوں سے نکل کر سوچئے گا کہ ہمارے اوپر موجود آسمان کتنے خوبصورت اور حسین مناظر اپنے اندر سموئےبیٹھا ہے، یہ ایک الگ ہی دنیا ہے، کبھی اس میں کھوکردیکھیے گا ، آپ کو پھر شاید کبھی زمینی دنیا کا مزہ نہ آئے!

Save

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”بھیانک تصادم۔۔محمد شاہ زیب صدیقی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *