ویکسین انجکشن کے بجائے گولیوں کی شکل میں تیار

برطانیہ کے سائنس دان ویکسین کو انجکشن کے بجائے گولیوں کی شکل میں ڈھالنے میں کامیاب ہوگئے ، جس کے بعد ویکسین لگوانے کیلئے انجکشن کی تکلیف دہ سوئی برداشت نہیں کرنا پڑے گی ، بلکہ ویکسین کو گولی کی شکل میں بآسانی اسی طرح نگلا جاسکے گا جیسے ہم درد سر کی عام گولیاں کھاتے ہیں۔ عموماً بیماریوں سے محفوظ رہنے کیلئے ویکسین کے حفاظتی ٹیکے لگوائے جاتے ہیں، جو بچوں کیلئے تکلیف دہ ہوتے ہیں، جبکہ وہ لوگ جو انجکشن لگوانے سے ڈرتے ہیں، ان کیلئے بھی ویکسینیشن ایک خوف زدہ عمل ہوتا ہے، تاہم اب سائنس دانوں نے اس مسئلے کے حل کی جانب ایک اور کامیاب قدم بڑھایا ہے۔ ویکسین کو گولیوں کی شکل میں لانے کی تحقیقی کوششیں کئی برسوں سے جاری ہیں، لیکن اب تک اس ضمن میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوسکی۔ اس ضمن میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر ویکسین کو کسی طرح گولی کی شکل دے بھی دی جائے تو ہاضمہ کرنے والے مادے پیٹ میں پہنچنے والی اس ویکسین کو توڑ پھوڑ کر غیر موثر کر دیتے ہیں یعنی ویکسین کا صرف گولیوں کی شکل میں لانا ہی کافی نہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ معدے سے خون میں جذب ہونے تک اپنی موثر حالت میں برقرار رہے تاکہ مفید بھی ثابت ہو۔ تاہم اب کارڈف یونیورسٹی میں سائنس دانوں نے ویکسین کو گولیوں کا روپ دینے کا ایک کامیاب تجربہ کرلیا۔ ابتدائی طور پر فلو ویکسین کو ٹیبلیٹ کی شکل میں لایا گیا ، جو جلد ترقی یافتہ ممالک میں دستیاب ہوگی۔ اس کی کامیابی کے بعد دیگر امراض سے محفوظ رکھنے والے ٹیکوں کو بھی گولیوں کی شکل میں تیار کرلیا جائے گا۔ کارڈف یونیورسٹی میں مذکورہ ریسرچ ٹیم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ویکسین، جسم کے مدافعتی نظام کو بیماری کا حملہ ہونے سے پہلے ہی اسے ناکام بنانے کیلئے تیار کر دیتی ہے اور جب وہ بیماری حملہ آور ہوتی ہے تو وہ جسم کو نقصان پہنچانے میں ناکام رہتی ہے۔ البتہ یہ مسئلہ بھی ہے کہ ویکسین کو فیکٹری سے لے کر مریض تک پہنچانے تک، خاصے سرد درجہ حرارت میں محفوظ رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے ، جبکہ معدے میں پہنچ کر ویکسین کے غیر موثر ہوجانے والا مسئلہ اپنی جگہ پہلے سے موجود ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *