نجمہ۔۔قمر سبزواری/افسانہ

نجمہ پلاسٹک کی کرسی اور تپائی صحن میں بچھائے سہ پہر کی جاتی دھوپ میں اپنی کمر سینکتی،شام کی ترکاری کے لئے سبزی کاٹنے میں مصروف تھی۔
یہ راولپنڈی کے ایک مضافاتی علاقے میں واقع چھوٹی سی آبادی کے بیچوں بیچ کا درمیانے درجے کا گھر ہے۔
آبادی کے زیادہ تر گھر ایک منزلہ ہیں، کچھ جگہوں پر تعمیراتیی کام وغیرہ ہو رہے ہیں اِس گھر،جس میں نجمہ رہتی ہے کے سامنے والے مکانوں کی قطار کے پیچھے کچھ جدید طرز کے اور دو منزلہ مکانات ہیں۔
وہ دبے پاؤں گھر کے اندر داخل ہوا ۔ دھیرے دھیرےے قدم اُٹھاتا ہوا وہ بے خبر نجمہ کی کمر کے قریب  پہنچا اور اُس کی آنکھوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر اپنی سانسیں روک کر جسم ساکت کر لیا۔ نجمہ کا جسم ایک لمحے کے لئے لرز کر رہ گیا اُس نے بُری طرح سے خوف اور بوکھلاہٹ کی جھر جھری لی لیکن اگلے ہی لمحے اُس کا جسم ایسے ڈھیلا پڑ گیا جیسے کٹی ہوئی  پتنگ زمین کے قریب پہنچ کر آہستہ سے ٹِک جاتی ہے اور ایک خوف ناک چیخ جو اُس کے سینے سے اچھل کر حلق تک آ چکی تھی ایک خوبصورت سی جھنجھلاہٹ آمیز ہنسی میں تبدیل ہو گئی۔
اُس نے اپنی آنکھوں پر رکھے ہوئے عارف کے دونوں ہا تھوں پر اپنے ہاتھ رکھتے ہوئے دھیرے سے کہا، اپنا چہرہ چھپا سکتے ہیں ، اپنی سانسیں روک سکتے ہیں مگر اپنی خوشبو اور اپنے ہاتھوں کا لمس بھی چھپایا ہوتا ناں بھلا یہ ممکن ہے کہ میں اُن ہاتھوں کو نہ پہچان پاؤں جنہوں نے میرا گھونگھٹ اُٹھایا تھا، اِس لمس نے میرے تن من کو ایک کلی کی طرح کِھل کے پھول بننا سکھایا اور مجھے تحفظ کے احساس سے آشنا کیا ، میرے زخموں اور میرے درد کو مسیحائی سے متعارف کرایا اور یہ خوشبو ۔۔۔یہ خوشبو تو میری روح میں بسی ہے یہ تو میری سانسوں کا حصہ ہے اِس خوشبو نے تو پہلی بار میری نرگسیت۔۔۔۔۔

بس بس بس۔۔۔خدا کی بندی اتنی مشکل مشکل باتیں ۔۔۔توبہ ہے یار۔۔۔کون سمجھے اتنی گہرائی میں جا کر اِن شاعروں اور ادیبوں جیسی باتوں کو سارا مزا کِر کِرا کر دیا میری شرارت کا ۔
میں سمجھا ڈر جاؤ گی اچانک۔۔۔ عارف جھنجلاہٹ دکھاتے ہوئے بولا۔
عارف کو نجمہ پر ایسا اعتماد تھا جیسا خدا جیسی کسی ہستی پر ہوتا  ہے ۔ عارف اکثر سوچا کرتا تھا کہ میری نجمہ کردار کے حوالے سے بالکل میری ماں جیسی ہے۔
اچھا ، بچے کہاں ہیں دونوں نظر نہیں آ رہے۔ عارف نے  کونے میں پڑی کرسی کھینچ کر نجمہ کے سامنے کر کے بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
ہائیں بچے۔۔کیا مطلب؟۔۔۔آپ آج جلدی آ گئے ہیں سٹور سے ۔بچے تو اپنے وقت پر ہی آئیں گے ، ابھی ابھی تو قرآن پڑھنے گئے ہیں۔ساڑھے چار سے ساڑھے پانچ بجے تک وقت ہے ، نجمہ نے تفصیل بتائی۔بیچارے چھوٹے چھوٹے سے تو ہیں بہت تھک جاتے ہیں صبح سکول، پھر ہوم ورک اور پھر شام سیپارے کے لیے، چلو یہ بھی تو ضروری ہے نا۔۔ پڑھیں گے تبھی کچھ بنیں گے  بھی۔ عارف خود ہی اپنی بات کے جواب میں بولا۔
ہاں یہ تو ہے۔ نجمہ نے کٹی ہوئی سبزی کی ٹرے میں چھری  رکھ کر اُسے اٹھایا اور دوسرے ہاتھ میں چھلکوں کا ڈونگا اُٹھا کر کرسی سے اُٹھتی ہوئی بولی میں یہ کچن میں رکھ کر آئی۔۔۔ بلکہ آپ منہ ہاتھ دھو لیں میں چائے بنا کر لاتی ہوں اور آج دونوں صحن میں ہی بیٹھ کر چائے پیتے ہیں اتوار کے علاوہ تو کبھی اِس وقت آپ کے ساتھ صحن میں بیٹھنے یا چائے پینے کا موقع ہی نہیں ملا۔ آج عجیب سا لگ رہا ہے نا۔

ہاں میں بھی ہلکا پھلکا سا محسوس کر رہا ہوں۔
ویسے آج اتنا جلدی کیسے آ گئے ہیں جناب؟ وہ کچن کی طرفف مڑتے ہوئے بولی۔
تم چائے بنا کر لاؤ میں منہ ہاتھ دھو لوں پھر بیٹھ کر بتاتا ہوںں عارف نے باتھ روم کے دروازے پر رُک کر کہا اور اندر داخل ہو گیا۔
نجمہ نے کچن میں جا کر برتنوں کے شیلف سے چائے کےے لئے دیگچی نکالی ، خارجی حالت کی اچانک تبدیلی کی وجہ سے وہ خیالوں میں گم ہو گئی، اُسے آٹھ سال پہلے کا کمیٹی چوک میں واقع اپنی امی کے گھر کا کچن یاد آ گیا وہ بالکل اِسی طرح چائے کی دیگچی برتنوں کے شیلف سے نکال رہی تھی کہ ابو امی کے کمرے سے ابو کی ترش آواز سنائی دی تھی۔

ٹھیک ہے ٹھیک نجمہ کی ماں ، میں مانتا ہوں کہ وہ خود ایک اچھا لڑکا ہے مگر انھیں کیا پتہ کہ ہم نے نجمہ کو کیسے پالا ہے، وہ تو دس سال سے ناراضگی کے فاصلے بچھائے ہم سے اتنی دور تھے جیسے دوسرے شہر میں نہیں دوسرے ملک یا دوسری دنیا میں ہوں، میرا سوتیلا بھائی ہی تھا نا کوئی دشمن تو نہیں تھا رشید ، مگر اُس نے اکرم کی شادی میں بھی ہمیں نہیں بلایا حالانکہ پہلے بچے کی شادی میں تو وہ خوشی ہوتی ہے کہ انسان ساری دنیا کو دعوت دینا چاہتا ہے اور پھر بچے ہی کتنے تھے اُس کے صرف دو اکرم کے بعد عارف کے لئے بھی اُس نے کسی نہ کسی اونچے گھرانے پر نظریں لگا رکھی ہوں گی، اُس کا ذہن ہی ایسا ہے ہر شے کو ہر رشتے کو
جمع تفریق کے چشمے سے دیکھتا ہے اور تم کہہ رہی ہو کہ بچےے ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں
بھئی سچی بات ہے میں تو اِس ڈرامے کا قائل ہی نہیں ہوںں کہ بچے اپنی مرضی کرنا شروع کر دیں ،اِسی لئے میں نجمہ کے کالج جانے کا خلاف تھا۔

اچھا بولیں تو آہستہ وہ کچن میں ہے اور جوان بچیوں کے ذہن پر ایسی سخت باتیں برا اثر ڈالتی ہیں۔ویسے بھی نہ بھائی نہ بہن اکیلی ہے میری بچی، بات کرے بھی تو کِس سے کرے میں تو کہتی ہوں آج کل کے دور میں یہ بھی اُس کی مہربانی ہے کہ اُس نے مجھ سے بات کر دی ہے ورنہ لڑکیاں اکثر اُس وقت بتاتی ہیں جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔

اچھا اچھا ٹھیک ہے مجھے کچھ دِن سوچنے دو دیکھتے ہیں کیا کیا جا سکتا ہے اِس معاملے کا۔۔۔۔۔۔۔
اچانک عارف کی آواز نے نجمہ کو خیالوں کی دنیا سے واپس  اپنے کچن میں لا کھڑا کر دیا، عارف نے آواز دے دی ورنہ وہ خیالوں ہی خیالوں میں شاید چائے کی دیگچی کو بغیر کپڑے کے پکڑ لیتی اور اپنا ہاتھ جلا بیٹھتی۔۔۔

جی آئی نجمہ نے آواز دی اور بھاگ کر کچن سے نکل کر باتھ روم کے دروازے پر پہنچی۔ آپ نے کچھ کہا۔۔

جی کہا تو ہم نے تین بار لیکن شکر ہے آپ نے ایک بار تو سن لیا۔۔۔ میرے کپڑے اور تولیہ دروازے پر ڈال دو، ٹھنڈا ٹھنڈا پانی آ رہا ہے اور میں نہانے لگا ہوں۔کپڑے بدل کر ذرا ایزی ہو جاؤں گا۔

اچھا جی ابھی دیتی ہوں تولیہ اور کپڑے بھی ڈالتی ہوں۔ وہ ہمیشہ عارف کے کپڑے استری کر کے اور موسم اور ضرورت کے مطابق تیار کر کے الماری میں لٹکائے رکھتی تھی، عارف خود بھی کبھی کبھی جب رومانٹک موڈ میں ہوتا تو اِس بات کا اقرار کرتا، نجو اور تو تم میں کوئی خوبی نہیں مگر
یہ ماننا پڑے گا کہ سگھڑ تم بہت ہو۔۔

اچھا جی۔۔۔ویسے سگھڑ اور خوبصورت ہونے کے علاوہ اور بھی کوئی خوبی ہوتی ہے کیا ، سگھڑ آپ نے ہمیں کہہ دیا اور خوبصورت تو ہم ہیں ہی، یہ آپ نہ بھی کہیں تو ہمیں خود معلوم ہے۔ پورا کالج مانتا تھا ۔ وہ یہ کہہ کر شرارت سے بیڈ کی دوسری طرف بھاگ جاتی اور عارف ہمیشہ مصنوعی غصے کا اظہار کر کے اُسے پکڑنے کے لئے اُس کے پیچھے  بھاگتا کبھی کبھی جب وہ سینما سے یا کسی شادی کی تقریب سے رات گئے آتے اور یہ بات ہوتی تو عارف صرف پیچھے نہ بھاگتا بلکہ اُسے پکڑ کر نیچے گرا لیتا اور وہ اپنی قسمت پر نازاں ہو کر خود سپردگی کی حسین و جمیل وادیوں میں اُتر جاتی۔

نجمہ شلوار اور تولیہ باتھ روم کے دروازے پر ڈال کر جلدی جلدی چائے کو دیکھنے واپس کچن میں چلی گئی۔ شکر ہے اگر ایک منٹ بھی لیٹ ہو جاتی تو ساری چائے چولہے پر گِر جاتی، اُس نے کیتلی میں چائے ڈالی اور باہرتپائی پر لا کر  رکھی، اپنی اور عارف کی پیالی کو ترتیب سے رکھ کر وہ عارف کے باتھ روم سے نکلنے کا انتظار کرنے کرسی پر بیٹھ گئی، ایک بار پھر اُسے عارف کا سٹور سے جلدی آ کر سرپرائز دینا، آنکھوں پر ہاتھ رکھنا ، پیار سے ڈانٹنا یاد آ گیا، وہ دِل ہی دِل میں انگڑائیاں لینے لگی، دفعتأ اُس کے وجود نے خوف کی ایک جھرجھری لی، اُسے ماضی کا وہ دِن دوبارہ یاد آ گیا ، جب وہ کالج سے خوشی خوشی واپس آ کر گھر میں داخل ہوئی تو امی ابو میں پھرتلخی چل رہی تھی لیکن اُس دن ابو کے لہجے میں زیادہ سختی اور فیصلہ کُن انکار شامل تھا۔

اُس کے سلام کا جواب دیتے ہوئے ابو نے اُسے اپنے کمرے میں جانے کا کہا اور جب وہ اپنے کمرے میں آ کر پریشان سی ہو کر بیٹھ گئی تو ابو کی آواز سنائی دینے لگی۔ اچھا ہوا یہ بھی موقع پر ہی آگئی ہے تم بس اِس کو بتا دو کہ یہ خیال دِل سے نکال دے اب کوئی صورت نہیں رہ گئی میں رشید سے اپنی مزید بے عزتی نہیں کروا سکتا۔ اب تم لوگ مجھ پرر کوئی گلہ نہیں کر سکتیں۔ کچھ دیر بعد امی کمرے میں آئیں تو ادھر اُدھر کی چند باتیں کرنے کے بعد انھوں نے بڑے پیار سے نجمہ کو پاس بٹھا کر بات شروع کی دیکھو بیٹا تم ہماری ایک ہی ایک اولاد ہو تمھیں تو پتہ ہے تمھارے ابو نے کتنے مشکل حالات میں زندگی گزاری مگر تمھیں پڑھانےے لکھانے میں کوئی کمی نہ چھوڑی، وہ تم سے بہت پیار کرتے ہیں، لیکن آج تمھارے ملک انکل اور آنٹی آئے تھے۔ آئے تو وہ بچوں کو اسلام آباد دکھانے کے لئے تھے مگر لاہور واپسی پر ملنے ملانے ہمارے ہاں بھی آ گئے۔

ملک صاحب تمھارے ابو کو بتا رہے تھے کہ تمھارے رشید تایا نے کہیں باتوں باتوں میں کہا ہے کہ بیٹے کے لیے رشتہ دیکھ رہا ہوں۔ لڑکا تو شریف کے گھر رشتہ کرنا چاہتا ہے مگر اپنے جیتے جی میں ایسا نہیں ہونے دوں گا مجھے شریف سے کوئی مزید رشتہ داری نہیں پالنی ہے۔بیٹا اب ہمارے بس میں کچھ نہیں رہا ہم تو لڑکی والے ہیں پہلے بھی بات نہیں چلا سکتے تھے مگرتم ہی ضد کر رہی تھی کہ عارف اپنے امی ابو کو بھیجے گا اب تو یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ وہ ہرگز نہیں آئیں گے۔

تمھارے ابو کا خیال ہے کہ اب وہ جلد کوئی اچھا گھر دیکھ کر تمھارے ہاتھ پیلے کر دیں گے۔ ابھی وہ کچھ کہہ بھی نہ پائی تھی کہ امی اُس کے ماتھے پر پیار دے کر ابو کے لئے چائے بنانے کا بہانہ کر کے کمرے سے چلی گئیں۔

اگلے چند دِنوں کے تصور سے ہی اُس نے بے چینی سے کرسی پر پہلو بدلا ، اِدھر عارف اُس کے شانے پر ہاتھ رکھے اُسے جھنجھوڑ رہا تھا کیا ہوا بھئی ایک دِن ہم تھوڑا جلدی کیا آگئے جاگتیآنکھوں سے بھی خواب دیکھنے لگی کیا۔

اُس نے عارف کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا کچھ نہیں ، بیٹھیں ناں آپ چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے۔
عارف اپنی کرسی پر بیٹھ کر سر پیچھے ڈھلکا کر ایک بار پھر گیلےے بالوں کو تولیے سے خشک کرنے لگا نجمہ نے ایک بھر پور نگاہ عارف کے کشادہ سینے پر ڈالی ، عارف کے بازوؤں کی  مچلتی ہوئی مچھلیوں اور گردن پر ڈھلکتے ہوئے پانی کے قطروںں نے اُس کے سینے میں ایک آگ سی لگا دی وہ دِل ہی دِل میں اپنی پیار بھر ی پر سکون زندگی پر خدا کا شکر ادا کرنے لگی ۔

اچانک دونوں کی نظریں چار ہو گئیں ، عارف نے مصنوعی بوکھلاہٹ کے ساتھ تولیہ سینے پر ڈالتے شریر نظروں سے نجمہ کی طرف دیکھتے ہوئے سرگوشی میں کہا توبہ ہے زمانہ واقعی بدل گیا ہے اب تو مردوں کو بھی اپنے عزت بچانے کے لئے پردہ کرنا شروع کر دینا چاہیے۔

نجمہ نے شرما کر نظریں جھکا لیں۔۔۔ عارف آپ بھی ناں۔۔۔ وقت دیکھتے ہیں نہ جگہ ۔۔۔۔

اچھا جی اب الزام بھی مجھ پر۔۔۔اچھا خود ہی بتا دو کون سا وقت اور کون سی جگہ دیکھا کروں۔۔۔یہ
کہتے ہوئے عارف تولیہ دروازے پر ڈالنے کے لئے اٹھاا نجمہ کو لگا وہ اُس کی طرف آنے کے لئے اٹھا تھا، وہ کرسی نیچے گرا کر بھاگ کر کمرے میں چلی گئی  عارف بھی اُس کے پیچھے بھاگا۔

عارف جو بچوں کی غیر موجودگی، خلاف معمول جلدی گھر آجانے اور نہا دھو کر فریش ہونے کومشکل سے برداشت کر رہا تھا نے ایک ہی جست میں نجمہ کو جا پکڑا اور بازؤوں پر اٹھا کر بیڈ  پر دے مارا۔

اچانک پیاسی زمین پر موٹی موٹی بوندیں پڑنا شروع ہو جائیں تو مٹی سے بے ساختہ سوندھی سوندھی باس اُٹھے لگتی ہے۔۔۔نجمہ کا تن من بھی خوشبو اُڑانے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امی جی سلام علیکم، امی سلام علیکم اچانک مہ نور اور صفدر کی توتلی اور چہکتی آوازوں نے سارے سحر سار ے طلسم اور ساری بو باس کو کافور کر دیا، بجلی کی سی تیزی سے سب کچھ ٹھیک ٹھاک کیا گیا ۔۔۔۔ارے بابا آپ۔۔۔۔واہ اللہ میاں کتنے اچھے ہیں۔ میں آج ہی دعا کر رہا تھا کہ آج میں گھر پہنچوں تو میرے بابا آ گئے ہوں۔
مہ نور بھاگتی ہوئی  پارے سمیت آ کر اپنے بابا کی ٹانگوں سےے لپٹ گئی، صفدر بڑا ہونے کا ثبوت اکثر صبر کی صور ت میں دیا کرتا تھا وہ مہ نور کے بابا کو چھوڑنے کا انتظار کرنے لگا۔
عارف نے مہ نور کو دھیرے سے ایک ٹانگ کے ساتھ کیاا اور پھر صفدر کو آگے آنے کا اشارہ کرکے دونوں کو سینے سے لگا لیا۔ اُس کے جگر کے ٹکڑے اُس کے ساتھ پیوست تھے اور اُس کینگاہیں نجمہ کے خوشی سے دمکتے چہرے پرمرکوز تھیں۔

بابا آج آپ شام کو ہی گھر آ گئے ہیں کیا ہمیں پارک میں لے جائیں گے ، صفدر نے فرمائش کی، ہاں بیٹا ضرور جائیں گے بس تم لوگ منہ ہاتھ دھو کر کپڑے بدل لو اور تمھاری امی بھی تیار ہو جائیں توچلیں گے۔

بابا آ ج آپ جلدی کیسے آ گئے ہیں روزانہ تو آپ اُس وقت آتے ہیں جب ٹی وی ڈرامہ بھی ختم ہو جاتا ہے اور ہم سونے والے ہوتے ہیں بیٹا آج ہمارے ساتھ والی دوکان کے مالک حاجی صاحب فوت ہو گئے ہیں سب اپنی اپنی دوکانیں بند کر کے اُن کے جنازے میں گئے تھے اور پھر ہم لوگ وہاں سے گھر آ گئے، عارف نے نجمہ کی طرف منہ کر کے بچوں کے ساتھ ساتھ اُسے بھی اپنے جلد آنے کی وجہ بتائی۔

وہ لوگ گھوم پھر کر رات کو کافی دیر سے گھر پہنچے کھانا وغیرہ باہر سے ہی کھا کر آئے تھے، لہٰذا بستر پر گرتے ہی سو گئے۔

اگلے دِن عارف سٹور سے آیا تو نجمہ سے بولا، کل صبح حاجی صاحب کے سوئم کی دعا ہے۔مجھے صبح یاد کرا دینا ذرا دیر سے نکلوں گا اور پہلے اُن کے ہاں سے ہو کر پھر سٹور پر جاؤں گا، نجمہ نے ہر ضروری بات کی طرح اِسے اپنے حافظے میں بٹھاا لیا، صبح عارف نے سفید کاٹن کا جوڑا پہنا، بچے سکول جا چکے تھے، اُسے ساڑھے دس بچے گھر سے نکلنا تھا تا کہ گیارہ بچے حاجی صاحب کے ہاں دعا میں شامل ہو کر سٹور جائے۔ عارف نجمہ کو خدا حافظ کہہ کر دروازے کی طرف بڑھا تو نجمہ نے اُسے پکڑ کر دیوار کی اوٹ میں کر لیا، اپنی آنکھ سے انگلی پر تھوڑا کاجل لگا کر نجمہ نے عارف کی گردن پر لگایا اور پھر اُس کی گردن میں باہیں ڈال کر اُسے زبردستی اپنے ساتھ بھینچ کر اُس کی ٹھوڑی پر دھیرے سے کاٹ دیا۔ یہ کیا ہے بھئی ؟عارف نے نجمہ کو پیار سے پیچھے کرتے ہوئے کہا۔ نشانیاں لگا دوں نا آپ کو ۔ایک بد نظر سے بچنے کے لئے اور دوسری نظر ملانے سے بچانے کے لئے۔
عارف نے نجمہ کی ناک کو دو انگلیوں کے درمیان پکڑ کر زورر سے دبایا اور دروازے سے باہر نکل گیا۔

حاجی صاحب کی دُعا میں خاصے لوگ تھے نعت خواں پارٹی بھی تھی اور چند لوگ تبلیغی دورے سے ہو کر واپس آئے تھے وہ بھی شریک تھے۔ اُن لوگوں نے حاضرینِ محفل کو اپنی دلچسپ سفری روداد سنائی ، لوگ اُن کی باتیں بڑی دلچسپی سے سن رہے تھے اور ساتھ ساتھ وہ گھڑیاں، موبائل فون اور انگوٹھیاں بھی دیکھ رہے تھے جو شاید وہ بیرونن ممالک سے لائے تھے مگر اُن کا ذکر نہیں کر رہے تھے۔
دو صاحبان جن کی داڑھیاں غیر معمولی لمبی تھیں عارف کےے بالکل ساتھ ہی دائیں بائیں بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ عارف سے باتیں کرنے لگے۔ عارف ان کی باتیں سنتا رہا مگر اُس کی نظریں کبھی اُن کی آدھی شلواروں پر جن میں سے اُن کی آدھی ننگی سوکھی سوکھی ٹانگیں بہت واہیات لگ رہی تھیں
اور کبھی اُن کی جیبوں کے ساتھ بنی نالی دار نیفا نما اضافیی جیبوں پر ٹِک جاتیں ، جن میں مسواکیں ٹھونسی ہوئی تھیں، اُن میں سے ایک شخص کی مسواک کے منہ پر دو مکھیاں بہت دیر سے بھنبھنا رہی تھیں جو عارف کو بہت ذہنی کوفت دے رہی تھیں جب کہ دوسرے کی مسواک پر شاید منہ کی  رطوبت لگی ہوئی تھی جس پر گرد کی تہہ بیٹھ رہی تھی۔

دونوں نے عارف کو بہت سی تلقین کی کہ وہ اُن سے رابطے میں رہے اور اپنی دنیا داری میں سے تھوڑا سا وقت راہِ خدا کے لئے لازماً  نکالا کرے۔ عارف اُن سے وعدہ کر کے سٹور پر چلا گیا۔ آ ج سٹور پر اُس کا دِل کچھ مضطرب سا رہا دو تین بار اُس نےے کام چھوڑ کر چند لمحے توقف کر کے کچھ سوچا اور پھر سر جھٹک کر دوبارہ کام میں مشغول ہو گیا، شام کو گھر آ کر اُس نے نجمہ سے ذکر کیا،

آج حاجی صاحب کے سوئم پر کچھ لوگوں سے ملاقات ہوئی وہ لوگ جو کچھ بتاتے ہیں نجمہ۔۔۔اُس کے مطابق تو ہم سب جہنم میں جائیں گے۔قبر کے عذاب ہی ختم نہیں ہونگے ہزاروں سالوں تک اور پھر قیامت کا ہزاروں سال کا دِن اور اُسکے بعد دوزخ ، اور پھر نا محرم پر نظر ڈالنے والے کی تو آنکھوں میں لوہے کی گرم سلاخیں لگائی جائیں گی۔۔۔۔عارف نے ایک جھر جھری لے کر کہا۔

خوف اُس کے چہرے پر سب سے زیادہ نمایاں شے تھی۔
نجمہ ہنس پڑی ، کیا کر رہے ہیں آپ؟ خدا ہم سے ساتت ماؤں جتنا پیار بھی تو کرتا ہے، اور ہم کون سا کوئی گناہ کی زندگی گزار رہے ہیں ۔۔۔

نہیں نجمہ نہیں، اُن آدمیوں میں سے ایک عالم صاحب کہہ رہے تھے کہ یہی سوچ تو جہنم کا دروازہ ہے اور تم نے تو پہلے دِن ہی اُن کی بات سچ کر دکھائی، وہ کہہ رہے تھے سب سے پہلے شیطان تمھارے اپنوں کے روپ میں آ کر تمھیں اِس راہ پر چلنے سے روکے گا۔ اُس نے پھیکی سی ہنسی  ہنستے ہوئے نجمہ کو پیچھے کیا۔
نجمہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہٹی۔ مزاح میں کی گئی بات میںں سنجیدگی کا میل ملتے ہی اُسے شدید احساسِ ذلت ہوا۔
اِس ایک بات نے۔۔۔عارف کے اندر کی اِس بُو نےے اُسے جس احساس سے سب سے پہلے متعارف
کرایا وہ ایک سوکن کے وجود کی بو کا سا احساس تھا۔۔۔بے  نکاحی سوکن۔

دروازے پر دستک ہوئی عارف دیکھنے گیا اور دروازے سے منہ اندر کر کے گلی میں ایک آدمی سے مل آنے کا کہہ کر باہر چلا گیا۔ نجمہ نے چند لمحے عجیب سی بے چینی محسوس کی اور پھر کام میں مصروف ہو گئی۔
چند دِنوں سے عارف کچھ بجھا بجھا سا رہنے لگا تھا اُس کی بےے باکی اور والہانہ پن میں کچھ پھیکا پن سا آ گیا تھا ایک دو بار تو اُس نے بچوں کو باہر لے جانے سے بھی احتراز سا کیا۔ کبھی وہ مُنئ کو ٹی وی کے سامنے بیٹھا دیکھتا تو ایک پریشان سی سوچ میں گم ہو جاتا، کبھی صفدر کو کسی بچے سے کھیلتا دیکھتا تو غصے میں آ جاتا۔

آج عارف جب سٹور سے واپس آیا تو اُس کے ہاتھ میں چند کِتابیں تھیں تجمہ نے سمجھا شاید بچوں کے لئے کچھ کہانیوں کی کتابیں آئی ہیں کیونکہ عارف کو کِتابوں یا مطالعے کا کوئی شوق نہیں تھا۔اگر کبھی نجمہ کی کوئی کِتاب اٹھاتا بھی تو ایک دو صفحے پڑھ کر اُسے کہتا تم پڑھو اور خود آنکھیں بند کر کے پاس لیٹ کر سننے لگتا دو ایک صفحات کے بعد عارف کے خراٹے نجمہ کی کِتاب بند کرا دیتے۔​
نجمہ نے آگے بڑھ کر کِتابیں عارف کے ہاتھ سے لینا چاہیں توو اُس نے کہا ہاتھ بالکل صاف ہیں نا۔۔۔جی جی ابھی کھانا بنا کر فارغ ہوئی ہوں اور ویسے بھی صاف ہوں، عارف نے کِتابیں نجمہ کے ہاتھ میں دے دیں اور خود باتھ روم میں داخل ہو گیا۔ عارف نے گزشتہ ہفتے سے باقاعدگی سے نماز  شروع کر دی تھی اور نجمہ کو معلوم تھا کہ اب وہ وضو کر کےے نمازِ عشاء ادا کر کے ہی بات چیت کرے گا۔ وہ کِتابیں دیکھنا شروع ہو گئی۔​
رات عارف کافی دیر تک ایک دو کِتابوں کے مختلفف صفحات پڑھتا رہا، آج عارف نجمہ کے ساتھ ٹی وی کا کوئی پروگرام بھی نہ دیکھ سکا اور چونکہ نجمہ کافی دیر کروٹیں بدل بدل کر سو گئی اِس لئے وہ اُسے سوتے وقت کا بوسہ بھی نہ دے سکا۔ ​
رات کومطالعہ کرنا اور ٹی وی ڈرامہ چھوڑنا عارف کا معمولل بن گیا نجمہ نے محسوس کیا کہ اب عارف بچوں کو باہر لے جانے سے واضح کترانا شروع ہو گیا ہے اور آج تو جب بچوں نے بہت ضد کی تو وہ تیار تو ہو گیا مگر نجمہ نے جب پوچھا میں کیا پہنوں تو بولا تم رہنے دو میں ابھی انھیں  گھما کر لاتا ہوں نجمہ حیران رہ گئی وہ اُس کے بغیر کبھی تفریحح کے لئے اکیلا نہیں گیا تھا۔
رفتہ رفتہ عارف کی کِتابوں میں اضافہ ہونے لگا، اُس کےے مطالعے کا شوق بھی بڑھنے لگا اور اباکثر ان لوگوں کی محفل میں بھی جایا کرتا تھا جنہوں نے اُسے اِس راہ پر لگایا تھا۔ بچوں کو باہر لے جانا بہت کم ہو گیا اور نجمہ تو پچھلے تیس دِن سے باہر گئی ہی نہیں تھی، عارف نے کہا نہیں اور نجمہ نے کبھی اظہار نہیں کیا۔

دِن کو عارف کے سٹور پر ہونے کی وجہ سے کوئی فرق محسوس نہ ہوتا مگر رات کو گھر کے ماحول کا فرق واضح محسوس ہونے لگاتھا ۔ ایک دِن نجمہ نے عارف کے شانے پر ہاتھ رکھا اور دھیرے سے بولی یہ کِتاب بند کر دیں بہت دیر ہو   چکی ہے اور جناب ایک دو ورق ہمارے بھی کبھی پڑھ لیا کریں، کسی کتاب کو بہت عرصہ بند رکھیں تو اُس کے لفظوں کا دم گھٹنے لگتا ہے۔ عارف نے   دھیرے سے مسکرا کر اُس کی طرف دیکھا
اور اُسے سینے سے لگا لیا کوئی ایک گھنٹے بعد جب عارف نجمہ کو سونے کا کہہ کر باتھ روم کی طرف گیا تو نجمہ دوسری طرف مڑ کر سونے کی کوشش کرنے لگی، مگر آنکھیں جتنی بھی موٹی  اور گہری ہوں اُن میں ایک وقت میں ایک ہی چیز سما سکتی ہے یا خواب یا آنسو۔ آج نجمہ کو کھل کر احساس ہوا کہ سب کچھ بدل چکا ہے۔ بچوں پر پابندی، ٹی وی سے بیزاری کِتابوں کی طرف غیر معمولی جھکاؤ اور عارف کی طبیعت میں پژمردگی کو وہ کبھی تھکاوٹ اور کبھی ذہنی ہیجان کا نام  دے کر اپنے آپ کو تسلی دیتی رہتی تھی مگر آج سارےے جنون، والہانہ پن اور جوالا مکھی کے بدلے ایک میکانکی عمل کی ادائیگی نے ایک طاہر و طیب وجود کے ایک اسفل و گندے وجود سے ملاپ کے احساس نے اُس کو توڑ کر رکھ دیا وہ عارف کے گھر میں آج پہلی بار اِس طرح روئی تھی اور
اِس گھر میں اُس کے دِل میں جدائی کا خوف بھی آج پہلی بارر داخل ہوا تھا۔
گزرتے ہوئے دِنوں نے حالات کی سنگینی کو کم کرنے کیی بجائے بڑھاوا دینا شروع کر دیا۔ بچے ہری شاخیں ہونے کی وجہ سے کچھ دِن چڑ چڑے اور بے زار ہوئے مگر پھر عادی سے ہونے لگے البتہ اُن کی بے ساختہ ہنسی، شرارتیں اور ضدیں معدوم ہونے لگیں۔ عارف نے ایک ایک چیز کو دو دو بار دھونا اور پرکھنا شروع کر دیا ، وہ کھل کر ہنسنا، کھیلنا، مذاق کرنا اور بیوی بچوں کو باہر لے جانا بھول گیا مگر نجمہ کو اِن سب باتوں میں سب سے زیادہ پریشان یہ بات کر رہی تھی کہ اُس کا احساسِ ذلت شدید تر ہوتا جا رہا تھا۔ وہ اکثر اپنے آپ سے نفرت کے احساس سے دوچار ہو جاتی وہ بہت کچھ کہنا اور سننا چاہتی، لڑنا چاہتی تھی، بحث کرنا چاہتی تھی۔۔۔ مگر کس سے۔ کبھی اُسے کھلکھلا کر قہقہہ  لگانے کی عادت تھی اور عارف اکثر اُسے کہا کرتا تھا جس دِن گلی میں کسی نے تمھارے ہنسنے کی آواز سن لی وہ پھر یہاں سے جائے گا نہیں یہیں ڈیرے لگا لے گا ۔ وہ چپ ہو جاتی مگر کچھ دیر بعد پھر بھول جاتی اور قہقہہ  لگا دیتی۔ لیکن اب وہ  اکثر ایسا محسوس کرتی   کہ اُسے زور زور سے رونے کا ایک ارمان سا ہے۔وہ دیکھ رہی تھی کہ عارف اپنی ذات کا اعتماد کھو رہا ہے۔ عارف ہر شے کو اچھائی، برائی، گناہ ثواب، گندی صاف اور چند لوگوں کی بتائی باتوں کے آئینے میں ہی دیکھنے لگا ہے۔ اُس نے کئی بار عارف سے بات کرنی چاہی مگر ایک دو بار کی بے رخی اور بات بات پر حوالوں نے اُس کی انا کوٹھیس پہنچائی سو اب وہ خود سے نہیں کہنا چاہ رہی تھی، وہ اکثر دعا کرتی کہ اُس کا گھر پہلے جیسا ہو جائے مگر پھر دعا کرتے کرتے چپ ہو جاتی اور اپنے خدا سے لڑنا شروع کر دیتی۔

کبھی کبھی نجمہ کا دِل چاہتا کہ وہ ابو سے ملے اور اُن کے گلے لگ کے خوب روئے یا امی کی قبر کو سینے سے لگا کر ساری باتیں اُس سے کرے مگر پھر دوسری ماں کا خیال آتے ہی اُسے گھن سی آنے لگتی۔ وہ یہ برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ وہ اپنی سگی ماں سے بھی اپنے گھر یا اپنے خاوند کے بارے میں کوئی منفی بات کرے چہ جائیکہ دوسری عورت کے سامنے وہ اِس طرح کی بات کرے۔ یہ اُس کے لئے ناممکن تھا۔ ابو کا خیال آتے ہی وہ گزرے دِنوں کی یادوں میں کھو جاتی، اُسے کل کی طرح یاد تھا جب ابو امی اُسے کراچی سے آئے ابو کے ایک دوست کے بیٹے کے رشتے کے لئے  راضی کرنے کی کوشش کرتے تھے کبھی امی اُسے پیارر سے سمجھاتیں اور کبھی ابو اُس کو سنانے کے لئے اپنے کمرے میں امی کو ڈانٹتے، انہی دِنوں اُس کا تعلیمی سال مکمل ہوا تھا اور وہ گھر میں ہونے کی وجہ سے بہت پریشان تھی کیونکہ یونیورسٹی میں تو پھر بھی ہفتے میں ایک آدھ بار عارف کو فون کر لیتی تھی۔ ایک دِن اُس کی ایک سہیلی اُس کے پاس آئی اور بتایا کہ عارف کا فون آیا تھا اور ابھی کچھ دیر بعد اِس موبائل پر فون کر ے گا تم بات کر لو اُس کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔
عارف نے اُسے بتایا کہ میری ضد کی وجہ سے ابو نے مجھےے کاروبار کے لئے میرا حصہ دے کر الگ کر دیا ہے اور اپنے طور پر شادی کی اجازت دیتے ہوئے مجھ سے قطع تعلقی کر لی ہے لہٰذا میں کچھ دِنوں بعد راولپنڈی ہی آ رہا ہوں اور وہیں اپنی رہائش رکھوں گا اور خود تمھارے ابو امی کی منت سماجت کر کے رشتہ مانگ لوں گا۔ شادی ہوگئی تو کچھ عرصے بعد لاہور واپس آ کر اپنے ابو امی کو بھی راضی کر لیں گے۔
عارف کے آنے کے بعد بھی نجمہ کے ابو راضی نہ ہوئے تھے۔ پھر نجمہ کی امی کے یرقان بگڑ جانے اور اُسی وجہ سے فوتگی نے نجمہ کی زندگی کو جیسے ہلا کر رکھ دیا وہ پہلے ہی اکیلی تھی مگر اب تو آنسو پونچھنے والا بھی کوئی نہ بچا تھا سوائے عارف کے۔ امی کی موت کے تیسرے مہینے جب نجمہ کے ابو نے خود عارف کو گھر بلایا تو وہ امی کے غم کو عارف کے سہارے سہنے کا سوچنے لگی اور ابو کی اِس مہربانی پر دِل ہی دِل میں دن رات انھیں دعائیں دیتی رہتی مگر جب نجمہ کی عارف کے ساتھ رخصتی کے پندرہ دِن بعد ہی نجمہ کے ابو نے دوسری شادی کر لی تو جیسے نجمہ نے اپنا جذباتی رشتہ صرف اپنی ماں کی قبر تک محدود کر لیا اور اُسی کو اپنا میکہ سمجھنے لگی، وہ کبھی بھی ابو سے عارف کی شکایت یا اپنی تکلیف بیان نہیں کر سکتی تھی۔

آج صبح عارف مخصوص انداز میں سلوایا ہوا وہ سفید کرتا پہن کر سٹور گیا تھا جو اُسے نئے بننے والے دوستوں نے دیا تھا اُس نے کپڑے پہننے کے بعد بہت تیز اور بہت زیادہ مقدار میں عطر بھی لگایا  ، کُرتے کی جیب کے ساتھ ایک پتلی اور لمبی سی اضافی جیب بھی تھی  جو کہ ابھی خالی تھی نجمہ نے عارف سے پوچھنا چاہا کہ یہ کِس مقصد کے لئے ہے مگر پھر خاموش رہ گئی، وہ رات کی بے رخی ، جسے وہ بے رخی کی بجائے ذلت کا نام دیتی جا رہی تھی کی وجہ سے عارف سے ناراض تھی عارف نے چپل کی بجائے سلیپر پہنے بالوں پرر خاصی مقدار میں تیل لگایا اور اپنے آپ کو آئینے میں دیکھنے لگا نجمہ حیران تھی کہ عارف کے خوش پوشی کے ذوق کو آئینے کے سامنے جا کر کتنا بڑا دھچکا لگے گا مگر عارف آئینے کے سامنے جا کر ایک لمحے کے لئے ذرا سا ٹھٹھکا اور پھر ایک نیا خریدا گیا بڑا سا رومال ہاتھ میں پکڑ کر نجمہ کو خداا حافظ کہتا ہوا دروازے کی طرف چل پڑا۔ نجمہ جانتی تھی کہ آج عارف نے اپنے نئے دوستوں کی کسی تقریب میں جانا ہے اور آج وہ دیر سے گھر لوٹے گا آج سارا دِن گھر کے کام کاج بچوں کی مصروفیت حتیٰ کہ دِن کے آرام
کے وقت میں بھی سونے کی بجائے نجمہ دِل ہی دِل میں  عارف سے لڑتی اور لاشعوری طور پر ایک متوقع مکالمے بلکہ مباحثے کی تیاری کرتی رہی، اُس کے اندر ایک عجیب سی جنگ جاری تھی اپنے ہی خاوند سے جنگ اپنے عارف سے جنگ۔۔

نجمہ صوم و صلوۃ میں سے ایک کی پابند تو تھی مگر نماز میں کوتاہی ہو جاتی تھی، لیکن جب کوئی پریشانی کوئی مصیبت یا کوئی بڑی خواہش سامنے آتی تو وہ بہت خلوص اور تہہ دِل سے خدا کےحضور سجدہ ریز ہو کر اپنی عاجزی اور حاجت پیش کیا کرتی تھی۔ خدا کے حضور گڑ گڑ ا کر اپنے عارف کو واپس مانگنے کی نیت سے نجمہ ظہر کی اذان کی آواز کانوں میں پڑتے ہی وضو کے ارادے سے واش بیسن کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی ۔ وہ پانی ہاتھوں پر ڈالتے ڈالتے ایک بار پھر سوچ میں ڈوب گئی۔ اُسے عارف کی باتیں یاد آنے لگیں۔ چند ہی لمحوں میں اُسے اپنا وجود گندا سا محسوس ہونے لگا وہ بُڑ بُڑائی جس نے مجھ سے میرا عارف چھینا ہے میں اُسی سے کیوں اُس کی
واپسی کی دعا کرنے لگی ہوں۔

اُس نے واش بیسن کا نل بند کیا اور بوجھل سے قدموں سے کمرے کی طرف چل پڑی ایک عجیب سی کشمکش ایک جنگ اُس کے دِل و دماغ میں جاری تھی۔ اُسے عارف کی بجائے خدا پر غصہ آنے لگا، سوچتے سوچتے وہ لرز سی گئی، میں واقعی بُری ہوں میں کیا سوچ رہی ہوں۔۔۔مگر میں نے کوئی گناہ تو نہیں کیا۔۔۔پھر یہ احساسِ گناہ کیسا یہ سب کیا ہے اوہ میرے خدا میں ٹوٹ رہی ہوں، کیا
میں ایک بوجھ ہوں ۔۔۔۔کیا میں واقعی گناہ کا سامان ہوں ۔ اُس نے کرسی پر بیٹھ کر اپنا سر دونوں ہاتھوں میں پکڑ لیا۔ کمرے میں اُس کا دم گھٹنے لگا تو وہ باہر صحن میں آ کر بیٹھ گئی۔ بچوں کو اٹھا کر منہ ہاتھ دھلانا اور  پارہ پڑھنے بھیجنا اُس کے لئے گھر کا سب سے سہل اور تسکین بخش کام تھا مگر آج نجانے کیوں یہ بھی ایک پہاڑ سر کرنے کے ایسا لگ رہا تھا۔ بوجھل قدموں اور بکھرے
ہوئے ذہن کے ساتھ اُس نے مہ نور اور صفدر کو جگایا اور واجبی سا تیار کر کے  پار پڑھنے  کے لئے بھیج دیا۔

بچے گھر میں سو رہے تھے اور جاگ بھی رہے ہوتے تو شرارت اور شور شرابے کے سِوا اُن کا اور کام کیا ہوتا ہے، وہ کون سا مجھے مشورے دیتے ہیں مگر اُن کے جانے سے آج گھر کتنا خالی خالی اور وحشت ناک سا ہو گیا ہے۔ آج امی بھی بہت یاد آ رہی ہیں رات عارف سے پوچھوں گی اور صبح سکول سے آنے پر بچوں کو لے کر امی کی قبر پر ضرور جاؤں گی۔ اُس نے صحن میں بیٹھے
بیٹھے کل کا پروگرام بنایا، امی کی یاد نے اُسے کچھ سکون سا دیا وہ اٹھی اور باتھ روم میں جا کر نہانے لگی شاید طبیعت ہلکی ہو جائے اور کھانے پینے کے لئے بھی کچھ بنا سکوں، نہا کر صحن میں کرسی پر بیٹھی بال خشک کرتے ہوئے نجمہ کچھ تازہ دم محسوس کرنے لگی اُس نے بالوں کو کرسی کے پیچھے گرایا دوپٹہ اور تولیہ اٹھا کر کرسی کے بازو پر لٹکایا اور تپائی پر ٹانگیں لمبی کر  کے آنکھیں بند کر کے سر پیچھے کو ڈھلکا دیا۔ لمبی لمبی سانسیں لے کر وہ اپنے دِل و دماغ کو تمام سوچوں سے خالی کرنا چاہتی تھی۔ گیلے بال، سر پیچھے ڈھلکانے کی وجہ سے صراحی کی طرح جام پر جھکی ہوئی گردن اور دوپٹے سے بے نیاز کھلا گلا جو لمبی سانسوں کی وجہ سے سینے کے نشیب و فراز واضع کر رہا تھا مل کر اُسے نجمہ سے ایک توبہ شکن کافرہ بنا رہے تھے۔

آپ بالکل بے خبری میں ہوں اور کوئی آپ کو چھپ کر دیکھ رہا ہو، حتیٰ کہ کسی روزن سے بھی نظریں آپ کی چوری کریں تو آپ کو یکدم ایک انجانا سا احساس گھیر لیتا ہے یہ احساس عورتوں میں زیادہ واضح ہوتا ہے ، حالانکہ آپ درودیوار کے پردے میں مستور ہوتے ہیں مگر ایک غیر مرئی سا عدم تحفظ کا احساس فوراً  آپ کو غیر محفوظ ہونے کی تنبیہ کرنا شروع کر دیتا ہے، یک دم نجمہ کو بھی ایسا ہی جھٹکا لگا اُسے محسوس ہوا جیسے دو آنکھیں اُس کے جسم کے حصار میں گھس رہی ہیں اور چوری چھپے سارے درودیوار کا جائزہ لے رہی ہیں۔ اُس نے آنکھیں کھولنے سے پہلے کرسی کے بازو پر ہاتھ پھیرا اورتولیے کو سینے پر ڈالتے ہوئے جلدی سے اُٹھ بیٹھی۔ برآمدے میں سے سامنے نظر آنے والے ملک صاحب کے مکان سے پچھلے مکان کے عقبی ٹیرس پر ایک نوجوان اُسے بڑے انہماک سے دیکھے جا رہا تھا، وہ اِسے اپنا وہم سمجھی مگر ادھر اُدھر چیزیں سمیٹنے کے انداز میں توجہ تقسیم کرنے کے بعد جب اُس نے احتیاط سے پھر اُس ٹیرس کی طرف نظر اٹھائی تو وہ مسکرا رہا تھا وہ جلدی سے اٹھی اور کمرے کے اندر چلی گئی۔ وہ کچھ مضطرب
سی ہو گئی تھی ۔

اُسے ایسی حرکات کرنے والوں سے تو شدید نفرت تھی ہی مگر اپنی ذات کسی ایسی حرکت سے یکطرفہ طور پر بھی منسوب ہونے سے وہ اِس قدر خوف  زدہ تھی کہ اکثر ایسے اتفاق سے بچنے کے لئے وہ دعا کیا کرتی تھی۔ ابھی وہ سنبھلنے کی کوشش ہی کر رہی تھی کہ دروازے پر بچوں کی دستک سنائی دی، اُس نے دِل ہی دِل میں خدا کا شکر ادا کیا کہ بچے واپس آگئے ہیں اور جلدی سے دروازہ کھولنے کمرے سے باہر نکلی برآمدے سے نکلتے وقت غیر ارادی طور پر اُ  س کی نظر اوپر اٹھی گئی وہ شخص اُسے دوبارہ اپنی طرف دیکھتے ہی فتح کے انداز میں ہاتھ ہوا میں بلند کر کے پیچھے ہو گیا۔نجمہ سٹپٹا کر رہ گئی۔ بچوں کو اندر لا کر وہ کمرے میں ہی بیٹھ کر اُن سے سبق کے بارے میں باتیں کرنا شروع ہو گئی۔ کچھ دیر بعد کال بیل کی آواز آئی وہ حیرت سے گھڑی کی طرف دیکھ کر دروازے کی طرف جانے لگی۔ ابھی وہ دروازے سے دو چار قدم پیچھے ہی تھی کہ دونوں کواڑوں کے درمیان سے ایک اخبار کا تہہ شدہ صفحہ اندر نمودار ہوا اُس نے حیرت سے اخبار کے ورق کو پکڑتے ہوئے دروازہ کھولا باہر کوئی بھی نہیں تھا کمال ہے ہمارے ہاں تو اخبار نہیں آتا اور پھر یہ کون سا وقت ہے اخبار پھینکنے کا۔ لیکن یہ تو اخبار کا ایک ورق ہے پوا اخبار بھی نہیں ہے۔

نجمہ نے وہ ورق کھول کر دیکھنا چاہا کسی دو دِن پہلے کے اخبار کا ایک حصہ تھا۔ اچانک اُس کی نظر اخبار کی پیشانی کے سادہ حاشیے پر پڑی بال پوائنٹ پین سے دِل بنا ہوا تھا جس میں شکریہ لکھا ہوا تھا اور ساتھ ایک موبائل نمبر موٹے موٹے حروف میں درج تھا۔ نجمہ کا مارے غصے کے بُرا حال ہو گیا اُس نے اخبار ایک طرف پھینک دیا اور پاؤں پٹختی ہوئی  بچوں کے پاس چلی گئی۔

اُس نے محسوس کیا کہ اِس نئی الجھن نے اُس کی تمام تر توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی کچھ دیر کے لئے وہ عارف کی تبدیلی ، اپنی پریشانی اور وہ ذلت کا احساس سب بھول گئی تھی۔ رات کو عارف کے آنے سے کچھ دیر پہلے نجانے کیوں نجمہ کو اُس اخبار کے ورق کا خیال آیا ۔ کچھ دِن پہلے ایسا ہونے کا کوئی امکان نہ تھا مگر اُسے لگا کہ اب اگر عارف نے صحن سے گزرتے ہوئے وہ ورق اٹھا
لیا یا اُس نے خود بھی عارف سے اُس واقع کا ذکر کر دیا تو ایک طوفان آجائے گا عارف کے بے نام الزام اور خوف کو ایک نام مل جائے گا۔ نجمہ صحن میں آئی اور اخبار کا ورق اٹھا کر کچن کی الماری کے پیچھے پھینک دیا۔

اگلی صبح جب نجمہ جاگی تو اُسے ایسا لگ رہا تھا جیسے سینے میں کچھ گھٹن سی ہے، دِن بھر وہ مضمحل طبیعت کو سنبھالتی رہی اُسے لگ رہا تھا جیسے سینے کے بیچوں بیچ ایک دیوار سی کھڑی ہو گئی ہے جس نے سینے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ اُس نے عارف سے ذکر کیا تو وہ بولا اچھا ایک دو دِنوں میں ڈاکٹر کے پاس لے چلوں گا ویسے اگر میری مانو تو اِس سینے میں کچھ خدا کا نور بھی جانے دو کبھی کوئی ذکر اذکار ہی کر لیتا ہے انسان، ساری بیماریاں اِسی دنیا داری سے ہیں اور تمھارے سینے میں تو ہے ہی دنیا داری۔ عارف یہ بات کر کے سٹور چلا گیا اور نجمہ کو جیسے کسی نے کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا ہو اُسے عارف سے اپنی تکلیف کا ذکر کرنے پر افسوس ہو
رہا تھا۔

اگلے بہت سے دن نہ تو نجمہ عارف سے کھل کر کوئی بات کر سکی اور نہ اپنی بے چینی ختم کر سکی۔ وہ دو حصوں میں تقسیم نہیں ہونا چاہتی تھی، عارف سے بات کرنا چاہتی تھی مگر وہ غیریت کی دیوار وہ ذلت کا احساس اور وہ دِل میں مچلتی ہوئی تڑپ کہ عارف خود مجھے سینے سے لگا کر پوچھے نجو کیا بات ہے کچھ دِن سے بڑی اداس ہو؟
امی یاد آ رہی ہیں یا کوئی فرمائش پوری کرانی ہے؟
مگر عارف تو جیسے ہنسنا کھیلنا ، گھومنا گھمانا، مستی شرارت دیوانگی سب بھول چکا تھا۔ عارف علی الصبح نماز کے لئے مسجد جاتا اور ناشتے کے وقت واپس آتا ۔ناشتہ کرتے ہی سٹور کے لئے نکل جاتا اور رات گئے واپس لوٹتا، نجمہ بہت تنہا ہوتی جارہی تھی۔ بچوں کی موجودگی میں پھر طبیعت بہلی رہتی تھی مگر جب وہ بھی نہ ہوں تو پھر تو وحشت ناک سناٹا ہو جاتا ہے وہ آئینے کے سامنے کھڑی بال بنا رہی تھی اور اپنے چہرے پر صرف دو تین ماہ میں پڑنے والے اثرات کو دیکھ کر حیران تھی اچانک اُسے گزشتہ رات کی بات یاد آئی جب عارف نے اُسے اُس کی  ماں کی قبر پر جانے کے بارے میں پوچھنے پر کہا ، یہ سب خرافات ہیں قبروں پر جانا اور سالانوں کے نام پر فضول خرچی کرنا کہاں کی عقلمندی ہے۔ آئینے کے سامنے کھڑے کھڑے بے بسی سے اُس کے آنسو نکل آئے۔ نجمہ گزشتہ ہفتہ بھر سے شام کو تو دور دِن کے تنہا اوقات میں بھی صحن میں نہ نکلتی تھی اُسے گزشتہ ہفتے کی بھونڈی حرکت نے بہت پریشان کیا تھا۔۔۔۔لیکن اِس وقت تو وہ چھت پر نہیں ہو گا ابھی تو دوپہر کا وقت ہے اور اگر ہو بھی تو یہاں تو میرا دم گھٹنے لگا ہے باہر کم سے کم سانس پر تو پابندی نہیں ہوگی۔ وہ آہستہ آہستہ برآمدے میں آئی اور سامنے ٹیرس خالی دیکھ کر سکون کی سانس لیتے ہوئے کرسی پر ڈھیر ہوگئی۔

کیا سے کیا ہو گیا چند دِنوں میں؟۔۔میرے ہنستے بستے گھر کو کِس کی نظر لگ گئی؟ میں کس سے شکوہ کروں کس کا دامن پکڑوں ؟
میرا کیا قصور ہے؟۔عارف کے نئے دوستوں کا سب کیا  دھرا ہے؟مگر اُن کا بھی کیا قصور ، قصور تو میرے اپنے عارف کا ہے؟
نہیں عارف بے قصور ہے، قصور اُس نیلی چھتری والے کا ہے جس کے نام پر سب کچھ ہو رہا ہے!
اور وہ اوپر بیٹھا میرا گھر اجڑتا دیکھ رہا ہے میرا دم گھٹ جائے گا یہ ذلت کا احساس مجھے مار ڈالے گا۔ یہ تنہائی مجھے کھا ہی تو لے گی پہلے ماں گئی پھر باپ نے منہ پھیرا او ہ خدا یا کیا اب میرا عارف بھی گیا۔
کاش عارف کے امی ابو عارف سے راضی ہوتے اور مجھے قبول کیا ہوتا تو میں آج اُن کی مدد لے لیتی، مگر وہ کیا مدد کرتے عارف انھیں بھی دنیا دار اور بے خبر کہہ کر چپ کرا دیتے، مگر عارف کو اُن کی اپنی بے خبری کون بتائے۔
اوہ میرے خدا، سینے میں گھٹن سر درد سے پھٹا جا رہا ہے اور اب تو کمرے میں جانے سے بھی خو ف آنے لگا ہے۔ نجمہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے گھر کے در و دیوار کو دیکھنے لگی، سامنے وہی نوجوان کھڑا ہاتھ ہلا رہا تھا وہ اُس کی طر ف دیکھتی رہی وہ کبھی اخبار پڑھنے کی طرح ہوا میں ہاتھوں سے اشارہ کرتا اور کبھی اپنا موبائل فون سامنے کر کے اُس کی طرف انگلی سے اشارہ کرتا ۔ نجمہ کا دِل چاہا کہ اپنی بے بسی کا مذاق اُڑانے والے کو کسی بہانے صرف ایک بار گھر بلائے اور اُسے کچا چپا جائے، غصے اور کراہت کے احساس نے اُس کی تنہائی، بوریت اور ذلت کے احساس کو یکسر کافور کر دیا وہ زخمی شیرنی کی طرح اپنے شکار کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگی، اُس کے جسم اور احساسات میں ایک ٹھہراؤ ایک وزن سا آ گیا، وہ سیدھی بیٹھ کر اپنے آپ کو درست کرنے لگی۔۔ اُدھر لڑکے کی لا ابالی اور بے ہودہ حرکات میں بھی ایک طمانیت جھلکنے لگی ۔

نجمہ نے دِل ہی دِل میں پکا ارادہ کر لیا کہ وہ اِس نوجوان کو ذلیل کر کے ہی دم لے گی چاہے اِس کے لئے کتنا بڑا رسک ہی کیوں نہ لینا پڑے ۔ لیکن نجمہ کے سینے کے اندر ایک اور نجمہ بیٹھی مسکرا رہی تھی اُسے تو عارف سے انتقام لینا تھا، اِس نئے نوجوان سے نہیں وہ تو اِس انکشاف پر مسرور تھی کہ سہ پہر کے اِن لمحات میں سارے غم بے وزنی کی ساری کیفیت ، ذلت کا سارا احساس
کافورہو جاتا ہے اور اُسے اپنا وجود پُر اثر، با معنی اور اہم لگنے لگتا ہے۔ دروازے پر بچوں نے دستک دی نجمہ فوراٌ بچوں کے لئے دروازہ کھولنے چل پڑی ۔

جوں جوں دِن گزرتے جا رہے تھے نجمہ کی تکلیف میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا اب یہ تکلیف دو دھاری تلوار کی طرح کاٹ رہی تھی ایک طرف عارف تھا جس کی بے رخی اور ذلت افزائی بڑھتی جا رہی تھی اور نجمہ بالکل بے بس تھی اور دوسری طرف وہ اجنبی شخص، نجمہ کے اندر کی عورت اُسے مجبور کر کے گھسیٹ کے صحن میں لے جاتی تھی کیونکہ اِس سے اُس کو ایک عجیب تسکین محسوس ہونے لگی تھی وہ اِس بات سے محظوظ ہوتی کہ کوئی اُس کی فقط ایک جھلک دیکھنے کے لئے گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے۔ کوئی اُس کی آواز سننے کے لئے اُس سے بات کرنے کے لئے  تڑپ رہا ہے۔ نجمہ یہاں بھی بے بس تھی مگر وہ ہار ماننے کو تیار نہ تھی وہ ہمیشہ اپنی انا اور خوداری کو درمیان میں لے آتی اُسے لگتا عارف اُس کے اندر کی عورت سے ملا ہوا ہے اور وہ اُسے گھر سے نکلتے وقت ہاتھ پاؤں باندھ کر اُس عورت کے حوالے کر جاتا ہے۔ رفتہ رفتہ نجمہ اپنے اندر بیٹھی دشمن کی طاقت کی قائل ہونے لگی، مگر اُس کی ساری باتیں سن کر اور اُس کے جواز مان کر آخر میں نجمہ کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے۔

کچھ دِن بعد نجمہ صفدر کے لئے پہلا  پارہ لینے مارکیٹ تک گئی ۔ بچوں کی کِتابوں کھلونوں اور تحائف کی دُکان پر کچھ موبائل سیٹ بھی رکھے ہوئے تھے نجمہ نے ادھر اُدھر دھیان رکھ کر سرسری سی نگاہ ایک دو موبائل سیٹوں پر ڈالی اور اُن کی قیمتیں پوچھ کر واپس آگئی۔ آئندہ ہفتے میں نجمہ کی مصروفیات میں دو ایسی دلچسپیوں کا اضافہ ہوچکا تھا جو اُسے پریشانی سے کچھ دیر کے لئے ہی سہی مگر نجات دلا نے لگیں ایک تو ٹی وی پر موبائل فون کے اشتہاروں میں دلچسپی اور دوسرے سہ پہر کے وقت برآمدے میں بیٹھ کر چائے پینا۔

ایک دِن عارف کافی ساری مزید کِتابیں اور کچھ آڈیو کیسٹیں لے آیا۔ نجمہ نے براہ راست تو نہ پوچھا مگر عارف کے سٹور چلے جانے کے بعد وہ اُن اشیاء کو کسی باہر والی کی طرف سے اپنے خاوند کے نام لکھے جانے والے خطوں اور تحفوں کی طرح ٹٹولتی رہتی۔ ایک رات عارف نے نجمہ سے کہا میں اِن کتابوں سے تیاری کرنا چاہتا ہوں کچھ دِن بعد میرے نئے دوست میرا بھی امتحان دلوائیں
گے اور پھر میں دستار باندھ کر اُن کے ساتھ دوسرے شہروں میں تعلیم دینے جا سکوں گا۔ نجمہ سے رہا نہ گیا ویسے بھی اپنی ایک حرکت سے زندگی میں ہلچل مچا دینے کی طاقت کے احساس نے اُسے دلیر کر دیا تھا۔ عارف ایک بات کہوں اگر بُرا نہ لگے تو، ہاں کہو کیا بات ہے، عارف یہ سب تو کامیاب زندگی گزارنے کے لئے ہوتا ہے اور ہماری زندگی تو ماشاء اللہ پہلے ہی آئیڈیل تھی میرا مطلب ہے آئیڈیل ہے تو پھر یہ سب کس لئے۔۔ عارف نے طنزیہ مسکراہٹ سے نجمہ کی طرف دیکھا، نجمہ یہی تو فرق ہے اچھی اور بُری سوچ میں۔ ہم فقط اپنی زندگی اچھے طریقے سے گزارآ ئیں یا اپنے بچے پال جائیں تو کیا کمال ہوا ،مزا تو جب ہے کہ ہم بہت سے لوگوں کو اِس راہ پہ لگائیں، پوری دنیا کو بدل ڈالیں۔ کاش تم نے پڑھا ہوتا کہ دوسروں کی دنیا بنانے کے لئے اپنی آخرت تباہ نہ کرو، یہ اپنے اہل خانہ اور اعزاء و اقارب کے بارے میں ہی تو ہے۔ مگر عارف کیا اپنی آخرت سنوارنے کے لئے دوسروں کی دنیا تاریک کرنا درست ہے؟ کیا خوشیوں کے خون کے بغیر کوئی شے اِس پودے کی آبیاری نہیں کر سکتی؟۔

افوہ بھئی تمھاری باتیں تو پہلے بھی میری سمجھ میں نہیں آتی تھیں اور اب تو اِن میں شیطان کی دلیلیں بھی شامل ہو گئی ہیں چلو ہٹو میں نے مطالعہ کرنا ہے۔ عارف مطالعے کی گہرائیوں میں اترتا چلا گیا اور نجمہ نے موبائل فون خرید لیا۔ فون خرید کر پہلے دِن تو نجمہ تنہائی کا سارا وقت اُس کے الٹ پُلٹ اور بٹنوں سے مغز ماری کرتی رہی ، یونیورسٹی کے دِنوں میں موبائل فون اتنا شاذ و نادر تھا کہ شاید پورے کالج میں ایک یا دو لڑکیوں کے پاس تھا اور اتنا مہنگا تھا کہ نجمہ اُسے ہیرے کے سیٹ کی طرح فقط دکانوں کے شو کیسوں یا فلموں اور ڈراموں میں زیب دینے والی شے سمجھتی تھی، پھر کچھ سہیلیوں نے خریدا اور نجمہ نے بمشکل دو تین بار عارف سے ہی بات کی وہ بھی سہیلی کے بات کرانے پر پچھلے سال جب عارف نے موبائل فون خریدا تو نجمہ کو فقط اتنا ہی معلوم تھا کہ فون کیسے سنتے ہیں اور کیسے بند کرتے ہیں یا  زیادہ سے  زیادہ یہ کہ نیا نمبر کیسے محفوظ کرتے ہیں اور ایس ایم ایس بھی اُس نے ایک دو بار اِس طرح کیا جیسے سامعین سے بھرے ہال میں اچانک کسی کو سٹیج پر کھڑا کر دیا جائے اور اُسے تقریر کرنی پڑے، مگر اِس بار اُسے ہر فنکشن کو ایسے سمجھنا تھا جیسے اُس کی اپنی بنائی ہوئی شے ہو۔
آواز کہاں سے کم کی جاتی ہے، موبائل فوراً  بند کس بٹن سے ہوتا ہے ، اور فون کر کے اُس میں سے ملائے گئے یا سنے گئے نمبر کا ریکارڈ کیسے ختم ہوتا ہے۔ اگلے دِن عارف اور بچوں کو رخصت کر کے نجمہ جب کچن کے کام سے فارغ ہو کر غسل خانے گھسی تو اُسے یاد آیا کہ تین چار ہفتوں میں وہ بمشکل ایک بار ہی نہائی ہو گی ورنہ فقط سر دھو کر ہی باہر آ جاتی ہے، سر بھی ایک تو صفائی کی غرض سے اور دوسرے اِس لئے کہ شاید عورت اپنا بھرم قائم رکھنے میں زیادہ حساس ہوتی ہے۔

آج وہ خو ب اچھی طرح نہائی۔ دوپہر کو آرام کرنے کی بجائے وہ کافی دیر ٹی وی دیکھتی رہی، پھر ایک میگزین پڑھنے کے لئے اٹھا لیا ، آج اُسے تکلیف کا احساس کم اور پرانے دِنوں کی طرح مصروف رہنے اور بچوں کا انتظار کرنے میں مزہ  آ رہا تھا۔بچوں کو کھانا کھلا کہ نجمہ اُن کے ساتھ ہی لیٹ گئی بچے تو سو گئے مگر وہ کالج کے دِنوں کی یادوں میں کھو گئی، سہیلیوں کے ساتھ ہنسی مذاق، کھانا پینا، نئے نئے پروگرام بنانا نئی آنے والی لڑکیوں کو تنگ کرنا اور مستقبل کے خواب بننا۔۔۔۔ پھر خیالوں کی دھنک دور ماضی کے افق میں گم ہونے لگی اور منظر گڈ مڈ ہونا شروع ہو گیا۔ گھر میں کشیدگی، امی کی فوتگی ،ابو کی دوسری شادی اور پھر عارف کی بے رخی، خیالوں کی زنجیر کے تسلسل سے اچھے دِنوں کی کڑیاں چھوٹی چھوٹی ہو کر گرنے لگیں اور خزاں کے پتے لمبے ہو کر اجاڑ رستے بن کر اُس کے دِل کے دروازے تک آنے لگے، پتہ نہیں کتنی دیر تک وہ چھت کے ساکت پنکھے پر نظریں جمائے سوچوں میں گم رہی۔

نجمہ کے دِل سے کسی کی سرگوشی کی آواز ابھری، نجمہ تُو تَو کسی کا انتظار کر رہی ہے، پھر ہلکی سی ہنسی کی آواز کے بعد دوبارہ سرگوشی ہوئی، نجمہ تو اپنی خوشی کے لئے ایک کے بعد اب کسی دوسرے کی محتاج ہے۔ نجمہ زیر لب بُڑ بُڑائی، انتظار کرتی ہے میری جوتی میں تو فون کر کے کھری کھری سناؤں گی اور ذلیل کروں گی۔ نجمہ مجھ سے کیسا جھوٹ میں تو تیرے اندر بیٹھی ہوں۔ کسی کو ذلیل کرنے کے لئے اتنا تردد، اتنی بے تابی اور انتظار اور دِل میں ایسی امنگ ‘میں نہیں مانتی، سرگوشی ایک بار پھر طنزیہ ہنسی میں بدل گئی۔ نجمہ نے جھنجلاہٹ میں آ کر زیرِ لب کی بجائے اونچی آواز میں اپنی سوچ کا جواب دے دیا، ہو سکتا ہے وہ لچر اور بے ہودہ نہ ہو، ہو سکتا ہے تقدیر نے اُسے میری ذلت ختم کرنے کے لئے بھیجا ہو۔۔۔۔

اِس کا مطلب ہے میں ٹھیک اندازہ لگا رہی ہوں، تجھے اُسے بے عزت کرنے کا انتظار نہیں بلکہ اُس میں سہارے کی تلاش ہے۔ نجمہ نے جھٹکے سے اپنی آنکھیں کھول دیں اور دھیرے سے بچوں کے پاس سے اٹھ کر باہر برآمدے میں آ گئی۔ کچھ دیر ٹہلنے کے بعد نجمہ کچن کے برتنوں کو ترتیب دینے لگی۔ برتن تو سب پہلے ہی سلیقے سے رکھے ہوئے تھے شاید اُسے کسی برتن کی تلاش تھی۔
کچھ وقت بے مصرف وہاں گزارنے کے بعد برتنوں کی الماری کے پیچھے سے اُسے اخبار کے ایک تہہ شدہ ورق کا کونہ نظر آیا اُن کے جھک کر وہ اٹھایا اور اُس پر لکھا فون نمبر اپنے موبائل میں محفوظ کرنے لگی۔

بچوں کوسپارہ پڑھنے بھیجنے کے بعد نجمہ نے منہ ہاتھ دھویا اور برآمدے میں پہلے سے ترتیب سے رکھی ہوئی تپائی اور کر سی پر بیٹھ کر بالوں کوبرش کرنے لگی ، اُس کی نظریں بار بار بڑے بے چین انداز میں سامنے والے ٹیرس کی طرف اُٹھ رہی تھیں، کچھ دیر بعد نجمہ نے کانپتے ہاتھو ں ا ور زور زور سے بجتے ہوئے دِل کے ساتھ فون ملایا اور ایک بار ہیلو کہنے کے بعد چند لمحوں کے توقف اور  کپکپاہٹ کے بعد بات کرنے لگی، وہ بات کرتے کرتے ٹیرس پر آ چکا تھا، دونوں ایک دوسرے کو دیکھ بھی رہے تھے ۔ قریب دس منٹ بعد جب نجمہ نے زبردستی فون بند کیا تو اُس اجنبی لڑکے کے بارے میں اُس کی رائے بدل چکی تھی، وہ ایک خوش اخلاق شخص تھا، ہاں اُس کی باتوں اور لہجے میں ایک مہارت بھی چھپی تھی جس نے نجمہ کو قدرے کبیدہ بھی کیا لیکن نئی کونپلوں
کے گچھے میں ایک کانٹا اتنا بُرا نہیں لگ رہا تھا۔

ہفتہ بھر گزر گیا۔ عارف کا مطالعہ اگلے موڑ پر پہنچ گیا اب اُسے عنقریب باقاعدہ رکنیت ملنی تھی، اُس کے شب و روز میں تبدیلی واضح تر ہو گئی۔ نجمہ نے دلدار سے دِل کی باتیں کہنی اور چھوٹی چھوٹی ضدیں جو فون پر ہی مانی جا سکتی تھیں ماننی شروع کر دیں، دلدار کی طرف سے ملاقات کا اصرار بڑھتا جا رہا تھا، عارف کی طرف سے اپنے ساتھیوں کے ساتھ دوسرے شہر جا کر اپنی کاوشوں کی سند لینے کا اشتیاق اپنے عروج پر تھا۔ عارف نجمہ کو ’’ بھول ‘‘ چکا تھا اور نجمہ بچوں کو اتنا بڑا سمجھنے لگی تھی کہ جیسے اب انھیں سنبھالنے کی ضرورت نہیں رہی۔

اُس دن عارف نے سٹور سے واپس آتے ہی کہا ۔۔۔ نجمہ میں کل سہ پہر کو دو دِن کے لئے اپنے دوستوں کے ساتھ لاہور جاؤں گا۔ ذکر اذکار، مطالعہ ریاضت اور جو کچھ پڑھا ہے اُس کا امتحان ہو گا، اتوار شام کو انشاء اللہ میں گھر واپس آ جاؤں گا۔ مجھے عجیب سا لگ رہا ہے پہلی بار رات بلکہ دو راتیں گھر سے باہر گزارنے جا رہا ہوں مگر جانا بھی اشد ضروری ہے۔ نجمہ فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی کہ اُسے عارف کے اِ س طرح رسمی اطلاع دینے پر ہونے والا افسوس شدید ہے یا دلدار سے ملاقات کا موقع ملنے کی خوشی بڑھ کر ہے ۔

ایک تجسس موجزن تھا، بہت سی باتیں سرگوشیاں، چھیڑ چھاڑ اور اپنی بہت سی تعریفیں سننے کا ابھی سے مزا آ نے لگا تھا۔ آج عارف نے واپس لوٹنا ہے۔ نجمہ نے انتہائی سلیقے سے گھر کو صاف ستھرا کیا اور ہر شے خصوصاٌ ڈرائنگ روم کے صوفے کو تین چار بار چاروں طرف سے انتہائی باریک ینی سے دیکھا پھر اپنے کمرے میں آئی اور اپنی الماری کھول کر رنگین کاغذوں میں لپٹی ہوئی چند چیزیں اور اپنا موبائل فون نکال کر فون بند کرتے ہوئے انھیں کچن کی الماری میں رکھ کر تالا لگایا۔ ایک بار پھر گھر کا جائزہ لینے کے بعد نجمہ نے نہانے کا ارادہ کیا ۔

گزشتہ دو راتوں میں وہ ایک لمحے کے لئے بھی نہ سو سکی تھی آج بچوں کو سکول سے چھٹی ہونے کی وجہ سے اُسے دن کو بچوں کے ساتھ کچھ دیر سونے کا موقع مل گیا تھا مگر ابھی تک نیند کا خمار مکمل طور پر نہیں اترا تھا۔ سارا بدن ٹوٹ رہا تھا مگر انگ انگ میں بسا لمس کا احساس اور تعریف کی تسکین انگڑائیاں لے لے کر باہر آ رہی تھی۔ نہاتے وقت اُس کی نظر اپنے جسم پر پڑی تو ساری رات اُس کی آنکھوں کے سامنے گھوم گئی وہ سر سے پاؤں تک مہکنے لگی ، جسم گیلا ہونے کے باوجود تپنے لگا۔ نجمہ نے جسم کے
ایک دو حصوں پر صابن نسبتاٌ زیادہ دیر ملا مگر نشانات مٹنے کی بجائے زیادہ واضع ہو گئے ، کپڑے پہنتے ہوئے وہ نشانات کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی۔ کمرے میں آ کر اچانک اُس کے ذہن میں کوئی خیال سوجھا اُس نے الماری کھول کر بچوں کے زخموں پر لگانے والے پلاسٹر نکالے اور انھیں اپنے جسم کے نشانات پر چپکا دیا۔ اِس کام سے فارغ ہو کر نجمہ بیڈ پر بیٹھی اور مہ نور اور
صفدر کو جو سو رہے تھے پیار سے دیکھنے لگی، ہائے اللہ صرف دو راتیں اپنے جگر کے ٹکڑوں کو اپنے کلیجے سے لگا کر نہیں سوئی تو معلوم ہوتا ہے سالوں گرز گئے ہیں اِن کو سینے سے لگائے ہوئے حالانکہ میں کون سا کہیں دور چلی گئی تھی یہ ساتھ ڈرائنگ روم میں ہی تو تھی۔ وہ بچوں کو پیار کر کے باہر آ گئی ابھی کچھ کام رہتے تھے۔

مغرب کی اذان سے کچھ دیر پہلے دروازے پر دستک ہوئی ، بچے کچن میں بسکٹ کھا رہے تھے،نجمہ نے دروازہ کھولا، سامنے عارف کھڑا تھا اُس نے اندر داخل ہوتے ہوئے سپاٹ سے لہجے میں کہا، دروازہ پوچھ کر کھولا کرو، کیا معلوم کون ہو۔ جی اچھا جی، نجمہ نے انتہائی مودب لہجے میں جواب دیا۔

بچوں سے پیار کر کے عارف کچن سے نکل کر کمرے کی طرف آیا تو اُس کی نگاہ گھر کے بدلے ہوئے نقشے پر پڑی ،گھر بہت پہلے کی طرح مکمل طور پر صاف ستھرا تھا، برآمدے کے کونے میں جائے نماز بچھی ہوئی تھی، دیوار پر کیل کے ساتھ عارف کی نماز کی ٹوپی اور تسبیح  لٹک رہی تھی، برآمدے اور کمرے کے اندر لگی ہوئی دونوں تصویریں غائب تھیں، عارف کے بیڈ کے پاس الماری میں عارف کی تمام کتابیں بڑے سلیقے سے لگی ہوئی تھیں اور نجمہ کی کتابیں پیچھے کر کے ڈھانپ دی گئی تھیں۔ عارف بیڈ پر بیٹھا تو نجمہ نے نیچے بیٹھ کر جلدی سے اُس کے جوتے اتارنے کے لئے ہاتھ بڑھائے، نجمہ عارف کے جوتے اتار رہی تھی اور وہ اُس کے سر پر چاروں طرف سے اچھی طرح سے لپٹے ہوئے سکارف کو دیکھ رہا تھا۔

جوتے اتار کر نجمہ کچن میں گئی اور دو منٹ کے اندر چائے کی پیالی عارف کے سامنے تھی، آپ چائے پیئیں اور ساتھ ساتھ مجھے اپنے سفر کے بارے میں بتائیں، عارف سب کچھ بھول کر نجمہ کو اُسی انداز میں باتیں سنانے لگا جیسے سٹور پر دِن بھر ہونے والی دلچسپ باتیں بتایا کرتا تھا۔ کچھ دیر بعد نجمہ نے بات کاٹی میں تو وضو میں ہوں مگر آپ وضو کر لیں نماز کا وقت ہونے لگا ہے باقی
باتیں کھانے پر کریں گے۔ نجمہ قمیض کے گلے کے آگے ہاتھ رکھ کر اٹھتے ہوئے بولی اور کچن کی
طرف چلی گئی۔ عارف ‍ طمانیت سے نجمہ کو دیکھ رہا تھا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *