آٹھ حلقوں سے الیکشن اور لیڈر عالمی؟۔۔سید شاہد عباس

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین جناب محترم عمران خان صاحب 2018 کے انتخابات میں آٹھ حلقوں سے انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یہ ایک قومی روزنامے کی خبر ہے۔ اور اس کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین پشاور، کراچی، میانوالی، اسلام آباد، لاہور، ایبٹ آباد، راولپنڈی سے انتخابات میں حصہ لیں گے۔ ذہن کے گم گشتہ گوشوں میں اب بھی واضح ہے کہ 2013 کے عام انتخابات میں راقم نے اس وقت کے مضبوط امیدوار چوہدری نثار علی خان کے ایک سے زیادہ حلقوں سے انتخاب لڑنے پہ شدید تنقید کی تھی اور اس تنقید کی وجہ سے ہی میرے ایک عزیز بزرگ آج تک مجھے خشمگیں نظروں سے دیکھتے ہیں بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ باقاعدہ گھورتے ہیں۔ مگر اس وقت بھی یہی کہنا تھا کہ ایک راہنما کو کیا یہ بات زیب دیتی ہے کہ ایک سے زائد حلقوں پہ اپنا تسلط قائم کر کے اس حلقے سے کسی اور کا حق مارئے۔ اور جس وجہ سے راہنما ایک سے زائد حلقوں سے انتخابات میں حصہ لیتے ہیں وہ بھی اپنی جگہ بہت دلچسپ ہے کہ انہیں اپنی جیت کا یقین نہیں ہوتا اور ایک حلقے سے الیکشن لڑیں اور ہار جائیں تو اسمبلی میں پہنچنے کا چانس ختم ہو جائے گا۔ اور اقتدار کا حصہ کیسے بن سکیں گی۔

مجھے 2013 میں بھی اس منطق پہ حیرانگی ہوئی تھی اور آج بھی حیران ہوں کہ ایک قومی سطح کا لیڈر اس خوف میں کیوں مبتلا ہے کہ اسے عوام مسترد کر دیں گے۔ اس کا مطلب تو واضح ہوا کہ انہیں اپنے سیاسی قد کا یقین نہیں ہے اور نہ ہی کارکردگی ایسی ہے کہ جس کی بنیاد پہ وہ کہہ سکیں کہ عوام انہیں ریجیکٹ کر ہی نہیں سکتے۔

انتہائی قابل احترام چوہدری نثار علی خان اور ان جیسے دیگر راہنما جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ 1985 یا اس کے بعد سے پارلیمان کا مسلسل حصہ ہیں اور اس پہ فخر بھی کرتے ہیں تو عرض ایسے تمام راہنماٶں سے بس اتنی سی ہے کہ اس پورے عرصے میں کتنے حلقوں سے وہ انتخاب لڑتے رہے؟ اور کتنے حلقوں میں شکست ہوتی رہی؟ اور کون سے ایسے حفظ ماتقدم کے طور پہ حلقے تھے جہاں سے بمشکل کامیاب ہو کے عزت بچا کے پارلیمان میں پہنچ پائے؟

بات صرف ایک راہنما تک نہیں ہے بلکہ ایسی کٸی مثالیں موجود ہیں۔ کہ سیاستدان ایک حلقے سے شکست کی ہزیمت سے دوچار ہوا مگر دوسرے حلقے سے وہ کامیاب ہو گیا۔ تو اس میں پھر فخر کیسا؟ کیسی کامیابی؟ جب آپ عوام سے ہی اتنے ڈرے ہوئے ہیں کہ آپ کو یقین ہی نہیں کہ کامیاب ہو سکیں گے یا نہیں اور آپ کو کوئی دوسرا بندوبست بھی کرنا پڑے تو پھر کیسی فتح کا جشن۔ کوئی شک نہیں کہ آئین اجازت دیتا ہے مگر پھر آپ کو عوام تو منتخب نہیں کر رہے آپ تو ہٹ دھرمی سے آ رہے ہیں کہ ایک جگہ سے تم مجھے ریجیکٹ کر دو میں کسی اور جگہ سے آ جاٶں گا۔

عمران خان صاحب کے آٹھ حلقوں سے انتخاب لڑنے کی خبر بظاہر عام سی ہے اور کئی دیگر سیاسی راہنما بھی ایک سے زائد حلقوں سے شاید انتخابات میں حصہ لیں مگر افسوس اپنے راہنماٶں پہ ہوتا ہے کہ ان کا اپنا کردار اس قابل بھی نہیں کہ وہ اپنے آپ پہ رسک لے سکیں۔ اور ایک ہی حلقہ انتخاب سے انتخابات میں حصہ لیں۔ کیوں کہ انہیں عوامی غضب کا یقیناً ادراک ہوتا ہے اسی لیے تو وہ کسی قسم کا رسک لینے کو تیار نہیں ہوتے کہ کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں اور رہی سہی عزت بھی خس وخاشاک کی طرح بہہ نہ جائے۔

عمران صاحب جیسا بڑا راہنما جب اپنی جیت کے حوالے سے اتنا پریشان ہو کہ وہ ایک سے زائد حلقوں میں امیدوار ہے تو پھر باقی کوئی کچھ کیا کہے۔ کہ خان صاحب خود کو اب شاید عالمی لیڈر گردانتے ہیں مگر اعتماد کا یہ عالم ہے کہ وہ ایک حلقے سے الیکشن لڑنے کا رسک بھی لینے کو تیار نہیں ہیں۔

Avatar
سید شاہد عباس
مکتب صحافت کی پہلی سیڑھی پہ قدم رکھنے کی کوشش ہے۔ "الف" کو پڑھ پایا نہیں" ی" پہ نظر ہے۔ www.facebook.com/100lafz www.twitter.com/ssakmashadi

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *