ویسٹنگ ہاؤس اور امریکی خارجہ پالیسی

امریکی خارجہ پالیسی کے بارے میں ہمارا مذہبی اور لبرل طبقہ اس بات پہ متفق ہے کہ امریکی پالیسی کا محور نظریاتی ہے۔
مذہبی طبقہ یہ گمان رکھتا ہے کہ امریکی پالیسی تہذیبوں کے تصادم کے گرد گھومتی ہے اور وہ مسلمانوں کو اپنی مخالف قوت گردانتا ہے۔
اس کے برعکس لبرلز کا بیانیہ یہ ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی کا محور جمہوریت اور لبرلزم کا فروغ ہے۔ جبکہ یہ امریکیوں کا دعوی تو ضرور رہا ہے لیکن معیشت اور معاشی مفادات انکی پالیسی کی ہمیشہ سے پہلی ترجیح رہے ہیں اور نوے کی دہائی سے انکی پالیسی کے سیاسی اہداف بھی بالاخر معاشی مقاصد کے حصول کے لئے مقرر کئے جاتے رہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان پہ کوئی نہ کوئی نظریاتی ملمع کاری ضرور کی جاتی ہے تاکہ اصل غرض کی طرف دھیان نہ جائے۔
ویسٹنگ ہاؤس نامی فرم کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ہمارے ہاں یہ خبر بھی حسب معمول نظرانداز ہوئی کہ سول نیوکلئیر ٹیکنالوجی کے اس امریکہ میں اجارہ داری رکھنے والے صنعتی دیو نے دس دن قبل دیوالیہ کی درخواست دائر کردی ہے۔ اس کے کیا نتائج برآمد ہوسکتے ہیں اور انڈیا امریکہ کے سول نیوکلیئر معاہدہ کے پیچھے اس فرم کے بگڑتے مالی حالات کا کیا رول تھا؟
یہی ہماری تحریر کا موضوع ہے جس سے یہ سمجھنا آسان ہوجائے گا کہ کس طرح امریکی پالیسی اپنے معاشی اہداف کو خفیہ رکھتے ہوئے بیک وقت سیاسی اور معاشی فوائد حاصل کرتی ہے۔
۲۰۰۵ میں جب بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کو ملاقات میں صدر بُش نے سول نیوکلیئر معاہدے کی پیش کش کی تو انڈیا کے لئے یہ اتنی بڑی، دل خوش کن پیش کش تھی کہ اسکے مضمرات کا پوری طرح سے جائزہ لئے بغیر ہی ہاں کردی گئی۔ اس وقت انڈیا میں یہ سمجھا گیا تھا کہ امریکہ اور انڈیا فطری حلیف ہیں اور انڈیا کو چین کے مقابلہ میں لانے کے لئے یہ سیاسی رشوت دی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عام تاثر اس وقت ہر طرف یہی تھا لیکن یہ صرف امریکی جانتے تھے کہ ویسٹنگ ہاؤس مالی مشکلات کی شکار ہے جو آگے چل کے مزید بڑھیں گی۔
یہ ان مسائل کے حل کی ایک کوشش تھی۔ اسی لئے جب یہ معاہدہ حتمی صورت کو پہنچا تو یہ شق شامل تھی کہ انڈیا سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی صرف امریکہ سے حاصل کرسکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں امریکہ نے انڈین نیو کلیئر مارکیٹ کی اجاراداری حاصل کرلی۔
لیکن فرم کی مالی مشکلات کی دلدل اتنی گہری تھی کہ اسے دیوالیہ سے بچانے کے لئے جاپانی نیو کلیئر ساز فرم توشیبا نے اگلے سال خرید لیا۔ اغلب امکان یہی ہے کہ اس موقع پہ جاپانیوں اور امریکیوں کی کوئی خاموش ڈیل ہوئی ہوگی کیونکہ انڈین سول نیوکلیئر ڈیل میں جاپان کو بھی انڈین مارکیٹ تک رسائی کی اجازت مل گئی۔
امریکیوں نے اس سول نیوکلیئر ڈیل کا دوسرا فائدہ یہ اٹھایا کہ انڈیا کو اس بات پہ قائل کرلیا کہ انکی توانائی کی ضروریات مستقبل میں نیوکلیئر سے پوری ہوسکتی ہیں لہذا ایران، پاکستان، انڈیا گیس پائپ لائن منصوبہ میں سے انڈیا نکل جائے اور یہی ہوا بھی انڈیا اس معاہدہ سے نکل گیا۔
اس معاہدہ سے قبل انڈیا کے نیوکلیئر پاور پلانٹ روس تعمیر کیا کرتا تھا لیکن اس معاہدہ کے بعد روس انہی پراجیکٹس پہ کام کرنے کا اہل رہ گیا جس کے ٹھیکے اس کے پاس تھے نیا کوئی ٹھیکہ اس معاہدہ کی رو سے روس یا کوئی اور ملک ماسوائے جاپان کے نہیں لے سکتا۔
یہاں امریکیوں نے اس بات کا دھیان رکھا کہ سول نیوکلیئر کی جدید ترین ٹیکنالوجی یعنی ری پروسیسنگ اس معاہدہ کا حصہ نہیں بننے دی۔
ویسٹنگ ہاؤس نے بھارتی ریاست تامل ناڈو میں کدانکلم کے مقام پہ انڈیا کے سب سے بڑے نیوکلئیر پاور پلانٹ پہ کام شروع کردیا لیکن تب تک امریکہ اپنا بنیادی تزویراتی مقصد حاصل کرچکا تھا یعنی انڈیا کو روس اور ایران سے دور لے جانا اور انڈین اسلحہ مارکیٹ سے بھی روس کو باہر کرکے اس کی عملاً اجاراداری حاصل کرنا۔ اسلحہ ڈیل کے مقاصد جتنے سیاسی تھے اس سے کہیں زیادہ معاشی بھی تھے۔
اب صورت حال کافی الجھ چکی ہے تقریباً دس دن قبل ویسٹنگ ہاؤس نے دیوالیہ کی درخواست دائر کی تھی۔ معاملات رفتہ رفتہ واضح ہوں گے۔ فی الحال چار زیرتعمیر نیوکلیئر پاور پلانٹس کا مستقبل خطرے میں ہے دو امریکہ میں واقع ہیں اور ایک ایک برطانیہ اور انڈیا میں۔
خطرات کے بادل خود جاپانی فرم توشیبا کے مستقبل پہ بھی منڈلا رہے ہیں کیونکہ ویسٹنگ ہاؤس کے زیادہ ترحصص کی مالک وہی تھی۔ اس کے دیوالیہ کا ملی بوجھ بالاخر توشیبا پہ بھی گرے گا اور اس کے لئے مالی مشکلات پیدا ہونگی۔
جہاں تک اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ امریکی پلانٹس کی تعمیر جاری رکھنے کے لئے امریکی ویسٹنگ ہاؤس کے لئے کسی بیل آؤٹ پیکیج کی وکالت کرینگے۔ اور انڈیا کو بھی مجبوراً اس پیکیج میں اپنا حصہ ڈالنا پڑے گا۔
برطانوی اس لحاظ سے بہتر پوزیشن میں ہیں کہ انکے پلانٹ کا ٹھیکہ جس کنسورشیم کے پاس تھا اس میں ویسٹنگ ہاؤس اور توشیبا کے علاوہ فرانسیسی فرم سائنجی بھی شامل تھی۔ ہوشیار برطانوی کسی بیل آؤٹ کا حصہ بننے کی بجائے شائد یہ ٹھیکہ مکمل طور پہ سائنجی کے سپرد کردیں۔ جو بھی ہوا آنے والے کچھ ماہ میں واضح ہوجائے گا۔
لیکن اس دیوالیہ درخواست نے یہ سوال پیدا کردیا ہے کہ سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا عالمی سٹریٹیجک منظرنامہ ہی تو کہیں تبدیل ہونے والا جس کے بعد عالمی منظر نامہ پہ چین، روس اور فرانس چھا جائیں؟
لیکن ویسٹنگ ہاؤس ایک عمدہ مثال ہے ان دوستوں کے لئے جو امریکی پالیسی اس کے محرکات اور بیک وقت معاشی اور سیاسی مفاد کو ملا کر حاصل کرنے کو سمجھنے میں دلچسپی رکھتے ہوں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی اتنے عرصہ یہی تاثر دیتے رہے کہ انڈیا ان کا فطری حلیف ہے جمہوریت اور لبرلزم کی ترویج میں اور یہی ان کی قربت کی بنیاد ہے

عمیر فاروق
عمیر فاروق
اپنی تلاش میں بھٹکتا ہوا ایک راہی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *