بچے کو پر اعتماد شخصیت کا مالک بنائیں۔

بحیثت والدین ہم میں سے سبھی کی خواہش ہوا کرتی ہے کہ ہماری اولاد پراعتماد شخصیت کی مالک ہو۔ لیکن ہم اس بات کا تعین نہیں کرپاتے کہ انکی شخصیت کی تعمیر کس وقت سے شروع کی جائے۔میرے اپنے حساب اور تجربے و تجزیے سے یہ کام پیدائش سے پہلے ہی شروع کردینا چاہئے،کہ جب بچہ رحم مادر میں ہوتا ہے۔ اس ننھی سی جان کی پہلی حرکت کو محسوس کرنا خود میں ایک ننھے وجود کا احساس ہونا ۔ اس کو چھونا، ٰ اپنا لمس دینا اس کو سونوگرافی میں دیکھنا۔ اس سے بات کرنا۔ یہ سارے احساسات جہاں ماں میں زندگی اور خوشی بھر دیتے ہیں وہیں ماں اور بچے کا تعلق مضبوط کرنے میں بے حد معاون ہوتے ہیں۔ مرد پر چونکہ ذمہ داریاں ہوتی ہیں اس لئے اس دوران عموماً مردوں کی توجہ کمانے پر لگی ہوتی ہے۔ یا بیوی کی حالت کے سبب مایوس شوہر یا تو ٹی وی یا دوستوں میں وقت گزار رہا ہوتا ہے۔ ایسے میں بچے اور باپ میں کنیکشن نہیں بن پاتا۔
دوراندیش بیوی اور ماں کو ٰ اپنےشوہر اور ہونے والے بچے کے باپ کو ٹیکل کرنا آنا چاہئے ۔تاکہ شوہر کی دلچسپی گھر پر بیوی اور ہونے والے بچے کے پہلو میں گزرے۔اور باپ اور بچے کا بھی کنیکشن بنے۔جن کا یہ وقت نکل گیا وہ مایوس نا ہوں۔ بچے کی پیدائش کے وقت سے بھی آپ یہ کام شروع کرسکتے ہیں ۔ یعنی بچے کو پوری توجہ دینا ۔ماہرین کے مطابق جو والدین اپنے بچوں کو شروع سے ہی انکے رونے پکارنے بے چین ہونے وغیرہ پر فوری توجہ دیتے ہیں وہ بچے دوسروں کی نسبت زیادہ پراعتماد ہوتے ہیں۔

1:- بچے کا پیغام فوری وصول کرنے اور اسکو کوئک ریسپانس دینے کے اوقات:-
* جب بچہ دودھ کے لئے روئے.* نیند سے جاگ کر ماں کو پاس نہ پاکے پریشان ہو اور روئے۔* جب بچہ ذرا بڑا ہوکے اپنی کسی ضرورت کے لئے پکار رہا ہو.
*بچہ جب بھی آپ کی ضرورت محسوس کرےاور کسی بھی طریقے سے آپکی توجہ چاہے (مثلاً روکے، چلا کے ،چہرے یا جسمانی تاثرات سے بول کے — تو فوراً اسکی جانب متوجہ ہوں۔اس مرحلے پر آپکو اس بات سے غرض نہیں ہونی چاہئے کہ بچہ کی طلب جائز ہے یا ناجائز ی،ا طریقہ کار صحیح ہے یا غلط —- اسکا فیصلہ بات کو سننے کے بعد کیا جائے گا۔ اس وقت بچے کو آپکی توجہ کی ضرورت ہے۔ اسکو سکون اور اعتماد کی ضرورت ہے۔جو آپ نے ہی دینا ہے۔اس لئے فوری پیغام وصول کریں۔)
اس ضمن میں ایک بات بہت اہم ہے کہ بہت چھوٹا بچہ چند دن یا ماہ کا جسکا پیٹ بھرا ہو خشک ہو ٰ نفق کی صورت بھی نا ہو کیڑا مچھر وغیرہ بھی نا ہو اور وہ آدھی رات کو اٹھ کر اچانک کلکاریاں مارے یا رونا شروع کرے تو اسکو چھپ کر، جی بالکل چھپ کے دیکھ لیں، چیک کرلیں لیکن اسکو اس بات کا احساس نا ہونے دیں کہ آپ نے اسکو دیکھ لیا ہے یا جاگی ہیں۔ تمام طرح کی حرکات و سکنات بند کردیں۔ یقین جانیں بچہ توجہ نہ پاکے تھوڑی دیر میں واپس سوجائے گا۔ اگر اس وقت توجہ دی تو وہ اسکے لئے اور آپکے لئے بھی سخت نقصان دہ ہوگی۔ بچہ روز عین اسی وقت اٹھاکرےگا، اور اپنی ضد منوانےکا عادی ہوتا جائے گا۔بچہ بہت سمجھدار ہوتا ہے اسے بے وقوف نا سمجھیں۔
2:- چھونےکا قیمتی احساس:-
لمس کا احساس، سمجھدار مائیں عموماً پیدائش سے پہلے ہی دینا شروع کردیتی ہیں۔ جو اپنے آپ میں ہی ٹانک ہے۔ پیدائش پر دودھ جس طرح غذا کا کام کرتا ہے اسی طرح چھونے کا احساس حد درجہ تحفظ اور خوشی کا احساس دیتا ہے۔جو کہ اسکے پر اعتماد ہونے کے لئے بہت ضروری ہے۔ بچے کو چھونے کی مد میں جسم اور چہرے پر ہاتھ پھیرنا اسے چومنا بانہوں میں بھرنا۔ اسکے چہرے سے اپنا چہرہ ہلکے ہلکے رگڑنا۔ اسکو آنکھیں بھر کر دیکھنا ۔ آئی کانٹیکٹ کرنا۔ ہونٹ لگاکے اسکے کانوں میں سرگوشیاں کرنا اسکو محبت اور والدین سے مضبوط تعلق کی بناء پر حد درجہ پراعتماد بناتا ہے۔
3: بہت چھوٹا بچہ بھی ہماری بولی سمجھتا ہے-
بچوں سے بات چیت کرنا انکو توجہ دینا تتلاکے نہیں بلکہ صاف بولنا بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ بچے بھلے چند دن یا ماہ کے ہوں والدین کےاور خصوصاً ماں کے بات چیت، چہرے کے تاثرات جسمانی حرکات و سکنات سمجھنےلگتے ہیں اور اس کا رسپانس اتنی مبہم طور پر کرتے ہیں کہ عموماً مصروف دور کی مصروف ماں کو سمجھ نہیں آپاتے۔ عموماً میں نے دیکھا ہے کہ بچے کو بے عقل جان کر والدین ہر الٹا سیدھاکام یا اپنی کوئی بھی خلوت اس ننھے بچے کے سامنے لائیو شو کی صورت دے رہے ہوتے ہیں ،کہ جی کاکے نو کی پتا ۔ کاکے نو سب پتا ہوندا ہے۔ کبھی کوئی اسی طرح کی شرارتیں کرتے وقت کاکے کی شکل اور آنکھ دیکھ لیا کیجئے۔ ان نظروں میں آپکو مستقبل کا ٹھرکی نظر آجائے گا ۔ اسکے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ پرآپ تھوڑی دیر کے لئے ہی سہی اپنے ہی بچے کے سامنے گھبرائے گھبرائے سے رہیں گے۔ اس گھبراہٹ کو برقرار رکھیں ،کیونکہ آج ہم نے ہپناٹزم کی پریکٹس سے یہ جان لیاہے کہ انسان کا انتہائی بچپن حتیٰ کہ شیرخوراگی کے دور کی تلخ و اہم باتیں شعور میں لے آتے ہیں۔لہٰذابچے کے سامنے کسی بھی طرح کی فضول حرکتیں لڑائی جھگڑے خوفناک مناظر اور توتلا بولنا یہ ساری پراعتماد شخصیت کے لئے سخت مضر ہیں۔
.
سعدیہ کامران*
.

Avatar
*سعدیہ کامران
پیشہ مصوری -- تقابل ادیان میں پی ایچ ڈی کررہی ہوں۔ سیاحت زبان کلچر مذاہب عالم خصوصاً زرتشت اور یہودیت میں لگاؤ ہے--

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *