میرا جسم، میری مرضی۔۔۔ ڈاکٹر عامر میر

SHOPPING

پچھلے کچھ سالوں سے دنیا کے بیشتر ممالک میں یہ تحریک جاری ہے جسے FEMEN کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس کی کارکنان عام طور پر مظاہرہ کرتے ٹاپ لیس ہو جاتی ہیں۔ایکسپوزڈ باڈی پہ نعرے لکھے ہوتے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ میرا جسم میرے اصول/مرضی وغیرہ وغیرہ۔

مختلف ورلڈ فورمز پر نامور افراد کے سامنے فیمین کی کارکنان اپنا “انوکھا” احتجاج ریکارڈ کروا چکی ہیں جن میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن بھی شامل ہیں۔فیمین کے احتجاج کی تصویریں و ویڈیوز آپ گوگل کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں یہ احتجاج ذرا پاکستانی تڑکے کے ساتھ پلے کارڈز پہ نعروں کی صورت میں بےلباس ہوئے بغیر سامنے آیا ہے۔دیکھیے  جب تک پاکستان میں خواتین خود مالی طور پہ آزاد نہیں ہوں گی۔کچھ نہیں بدلے گا۔

ابھی کی صورتحال یہ ہے کہ جو کما رہی ہیں اُن کی اکثریت اپنی کمائی اور اپنے کام کرنے کو احسان جتلانے بیٹھ جاتی ہیں حالانکہ ہر بالغ و تندرست انسان کو مرد ہو یا عورت،کم از کم اپنا آپ تو خود پالنا چاہیے۔یہ کسی پہ احسان نہیں ہے۔انسان میں یہ پرابلم ہے کہ ایک خاص عمر کے بعد اگر باپ احسان جتلائے تو وہ بھی چُبھتا ہے۔ابھی ہمارے ہاں میاں بیوی کے درمیان آقا غلام ٹائپ رشتہ ہے زیادہ تر۔کئی جگہوں پہ بےشک غلام مرد بھی ہوتا ہے۔وہ آپسی صلاح مشورے اور احسن طریقے سے معاملات چلانے کی سٹیج ابھی بہت دور ہے۔

اس وقت تو بھئی پاکستانی فیمینسٹسں مغرب کی فیمینسٹوں سے بھی چار ہاتھ آگے ہیں لیکن اس دوڑ میں اول نمبر پہ پاکستانی مرد فیمینسٹ ہیں۔خواتین فیمینسٹوں کی تو چلو خیر ہے لیکن بھئی کوئی تو ان مرد فیمینسٹوں کو کنٹرول کرے۔ٹُٹے چھتر وکراں ودی جان ڈئے نیں۔خام خا دے بغلولئے۔حضرت جی یہ پاکستان ہے بغلولستان نہیں۔پا جی پہلے یہاں کی ڈائنامکس کو تو سمجھیے ۔

SHOPPING

ابھی پچھلے دنوں ڈارک ویب ان کے سر پر سوار   تھی اور آج کل انہوں نے مائیکرویو میں سر دے دیا ہے۔ہاں میں مرد و عورت کی برابری کا قائل ہوں اور انہیں برابر کا انسان سمجھتا ہوں لیکن مرد و زنانہ فیمینسٹوں نے جو طریقہ اپنایا ہوا ہے وہ فارغ ہے۔عورت کو برابری مرد کی توہین،تضحیک،تمسخر و پنچنگ بیگ بنانے سے حاصل نہیں ہو گی۔ویسے کئی پاکستانی مردوں کو خود بھی پنچنگ بیگ بننے کا شوق ہے۔۔
اورہاں جاتے جاتے۔
میرا جسم میری مرضی۔
اوکے ڈن۔
منظور ہے۔
بس ایک چھوٹی سی باریکی ہے یہ مرضی پھر یکطرفہ نہیں چلے گی۔تھوڑا غور فرمائیے گا۔
ہیں؟
اُڑگئے کارٹونوں والے پرندے کانوں سے۔
بس اینی جنی گل سی۔غور تھوڑا سا ہی کر لیا جائے تو بات سمجھ آ ہی جاتی ہے۔نعرے نقل کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن تھوڑی عقل بھی استعمال کر لی جائے تو ٹھیک رہے گا۔

SHOPPING

ڈاکٹر عامر میر
ڈاکٹر عامر میر
اکثر لوگ کہتے ہیں کہ میں تکلیف دہ حد تک سچا انسان ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *