مردوں کی کوکھ میں پلتے دکھ۔۔ارمغان احمد داؤد

عورت ذات کی تکمیل کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ مرد کا دکھ بتانے کے لئے بھی سہارا عورت کا ہی لینا پڑا۔ معلوم نہیں کون لوگ ہیں جو عورت کو ناکارہ اور نکما سمجھتے ہیں، ہم نے تو جس گھر میں آنکھ کھولی اس میں سوائے نوکری کے والد صاحب کچھ نہیں کرتے تھے، اور باقی سب گھریلو اور باہر کے کام والدہ ہی انجام دیتی تھیں۔ شادی کے بعد ہماری بیگم نے بھی ہمارا ہاتھ اسی طرح بٹایا ہے، بہت سے کام جو عمومی طور پر مرد حضرات کرتے ہیں، ہماری بیگم بخوشی کر کے ہمیں شکریہ کہنے کا موقع بھی نہیں دیتیں۔

مردوں کی چونکہ برائیوں کا ذکر زیادہ ہوتا ہے تو ہم نے سوچا کیوں نہ ایک ذمہ دار مرد کے حالات و واقعات کا احاطہ کریں کہ یہ صنف بھی بعض اوقات اتنی ہی مظلوم ہے جتنی عورتیں، بجز کہ ان پر رعب ہے کہ مرد روتے نہیں۔

چڑیوں کے چہچہانے کے وقت مرد کی آنکھ کھلتی ہے۔پچھلے دن کی تھکان ابھی تک ختم نہیں ہوئی ہوتی کہ اگلا پورا دن ایک آسیب کی طرح پاؤں پسارے انتظار میں ہوتا ہے۔ آنکھیں ملتے، گرتے پڑتے واش روم جاتا ہے تو پانی ندارد۔ گرمی میں تو چلو ٹھیک ہے، سردی میں چادر کو بکل مارے باہر موٹر چلانے جانا اور پھر چھت پر جا کر دیکھنا کہ ٹینکی میں پانی آ بھی رہا ہے کہ نہیں کافی مشکل کام لگتا ہے۔

چونکہ گیس کی لوڈ شیڈنگ ہے تو پانی ابالنا تاکہ خود اور بچے گرم پانی سے نہا سکیں۔ بجلی بھی گئی ہوئی ہے اور یو پی ایس کی بیٹری بھی آہستہ آہستہ ساتھ چھوڑتی جا رہی ہے، اس کا خرچہ بھی ہے مگر اس ماہ بیٹی کی فیس جانی ہے، بیٹری اگلے ماہ لینے کا سوچتا ہے کہ سردیوں میں کون سا پنکھوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ پنکھوں کی سوچ کے ساتھ ہی بیٹے کے ساتھ اے سی لینے کا وعدہ یاد آ جاتا ہے جس کا ایفاء کسی معجزے پر ہی منحصر ہے۔

اے سی سے یاد آیا کہ پچھلی دفعہ بھی بقر عید پر قربانی نہیں کر سکا تھا تو چھوٹی بیٹی ناراض ہوگئی تھی کہ اس کی ننھی دوست کے ہاں تو بیل آیا تھا۔ قرضہ لے کر قربانی کرنے کو جی نہیں چاہتا، بچی کا اترا منہ بھی دیکھنا گوارہ نہیں، اس کے لئے جو کمیٹی ڈالی تھی وہ تو بڑی بیٹی کی فیس کیلئے مختص ہو چکی۔ چھوٹی بیٹی سے اس دفعہ کیا بہانہ بناؤں گا؟ اسی اڈھیربُن میں ناشتہ کرتے بیٹے کے شوز پر نظر پڑی، پھٹ رہے تھے سائیڈ سے، باپ نے اشارہ کیا تو بیٹے نے کہا کہ بابا بس تھوڑے سے پھٹے ہیں میں موچی سے بندھوا لوں گا۔ بیٹے کی بات جس زور سے دل پر جا کر لگی اسی لمحے بڑی بیٹی اپنے دوپٹے کا پھٹا ہوا پلو باپ سے چھپا رہی تھی کہ کہیں باپ کو نظر نہ آ جائے۔

اس کا دل کیا کہ بس جلدی سے آفس پہنچ کر مصروف ہو جائے تاکہ بچوں کی محرومیاں نظر سے کچھ لمحے اوجھل ہو سکیں۔ مگر آفس کے اپنے مسائل ہیں۔ باس نہ صرف بدتمیزی کرتا ہے بلکہ گالم گلوچ کرتا ہے، جونیئرسفارشی ہے تو کام نہیں کرتا، ساتھ والے خوشامدوں میں وقت ضائع کرتے ہیں۔ کام اتنا بڑھ جاتا ہے کہ اکثر رات گئے واپسی ہوتی ہے۔

اگلے مہینے بہن کے بیٹے کی شادی بھی ہے، بیگم کو ادھر لے کر جانے کے لئے منانا بھی ہے، سلامی وغیرہ پر خرچہ بھی ہوگا کہ اکلوتی بہن کی پہلی خوشی ہے۔ سلامی وغیرہ دینے کے بعد گھر کا روزمرہ کا خرچ کیسے چلے گا؟ یہی سوچتے سوچتے مرد کو نیند آ جکڑتی ہے اور اگلے دن سے پھر وہی محرومیاں، پھر وہی خواہشیں، پھر وہی معجزوں کا انتظار۔

ارمغان احمد
ارمغان احمد
یہ عجب قیامتیں ہیں تری رہگُزر میں گُزراں نہ ہُوا کہ مَر مِٹیں ہم، نہ ہُوا کہ جی اُٹھیں ہم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *