اپُن کا کراچی،شیخ دیدات سے ملاقات۔۔محمد اقبال دیوان/قسط4

شہر کراچی سے ہماری شعوری یادوں کا سفر سن ساٹھ کی دہائی سے شروع ہوتا ہے۔یہ سفر تاحال جاری ہے۔ سوچا ہے کہ کراچی کے بارے میں جو پڑھا،دیکھا اور سنا ان کو یک جا کرکے آپ کی خدمت میں خالصتاً نجی زاویے سے پیش کریں۔اسے کوئی تاریخی دستاویز نہ سمجھیں۔یہ البتہ ضرور ممکن ہے کہ آپ اگر کراچی کی تاریخ کے سنجیدہ طالب علم ہیں تو اس سے آپ کو مزید اور بامعنی تحقیق میں معاونت ہوجائے گی۔کراچی کے بارے میں لکھنے کا خیال ہمیں سنگاپور میں آیا۔۔یہ سب جاننا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ کراچی کے حوالے سے ہمارا بیانیہ تشنہ کام نہ لگے۔خیال رہے کہ کراچی کے کالم انتین اقساط کے الاپ نما تعارفی اقساط کے بعد یہاں پے در پے شائع ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کو یاد ہوگا کہ دیدات صاحب نے رسمی تعارف کے بعد ہمارے میزبان سے جو پہلا جملہ کہا وہ یہ تھا،مصطفے

He needs Islam and Islam needs people like him،
سو دیدات صاحب کے اس فقرے نے ہمیں بدل ڈالا۔اسلام پر ہمارا مطالعہ ایسا پختہ ہوگیا دیدات صاحب کی تصنیفات اور سب سے بڑھ کر وی سی آر پر ان کی کیسیٹں دیکھ کر کہ ہم کما حقہ اسلام پر دل سے عمل کرنے اور اس کے بارے میں غیر مسلموں کے سوالات کے بارے میں خوش دلی سے جواب دینے لگے ۔

 

رشدی کی گستاخانہ تصنیف شیطانی کلمات پر سب سے پہلے پابندی جنوبی افریقہ میں لگی۔کتاب وہاں کھلے عام فروخت ہورہی تھی۔شیخ احمد دیدات کا Islamic Propagation Center International اس کتاب کے وہ حصے جن میں سیاہ فام افراد کے بارے میں بڑے تحقیر آمیز کلمات درج تھے ان کی کاپی کرکے سرکار کو بھیج دیتا تھا۔چند دن بعد خفیہ ایجنسیاں ادارے کے دفتر پہنچ گئیں کہ یہ کیا فساد پھیلارہے ہیں تو ادارے کی جانب سے جواب ملا کہ ہم تو محض آپ کی توجہ مبذول کرارہے ہیں۔فساد تو The Satanic Verses نامی کتاب کی صورت میں ملک کی ہر دکان پر مہنگے داموں فروخت ہونے کے لیے موجود ہے۔ اس کتاب پروہاں فوراًپابندی لگ دی گئی۔

ایسا ہی معاملہ اس وقت ہوا جب دیدات صاحب نے وزیر اعظم راجیو گاندھی کے دفتر میں کتاب کا وہ حصہ بھیجا جس میں ہندودھرم میں پیکر عصمت و پاکیزگی سیتا ماتا کو Flighty Sitaکہا گیا تھا یعنی بستر زادی۔

یہ بھی پڑھیں :  مومنِ مبتلا۔اپُن کا کراچی۔شیخ احمد دیدات/محمد اقبال دیوان۔قسط3

ہم نے سب سے پہلے دیدات صاحب کی اسی حوالے سے پہلی کیسٹ دیکھی تھی۔ ہمارے ایک عزیز  بھٹو دور کے پہلے وزیر اطلاعات اور بعد میں مذہبی امور مولانا کوثر نیازی کی محافل شبینہ کی وجہ سے بہت دوستی تھی۔امیر مقام محترمہ بے نظیر کے دور میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین تھے۔ ہمارے عزیز بھی انہیں بھٹو صاحب کی طرح ان کے منہ پر مولانا وہسکی کہتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت کو اچھی شراب اور خراب عورتوں سے دلی لگاؤ تھا۔اس کے علاوہ وہ عزیز محترم اور مولانا۔۔مل جل کر ایک سیل فون جتنی قامت کی پاکستانی اداکارہ کی زلف کے اسیر تھے جو وہ نام تونہ کما سکی جو اس کی سرو قد مگر ہیوی ویٹ بہن نے اداکاری اور ہدایت کاری میں کمایا مگر survival instincts کے معاملے میں چھوٹی چوہیا جیسی ہشیار نکلی۔عقل کے اندھے اور گانٹھ کے  پورے تاجر(بے وقوف مالدار )سے ہاتھ  کرکے  گھر گرہستی کی منڈلی سجالی ۔

مولانا مشہورپنجابی گیت وے سب توں سوہنیا گانے والی گلوکارہ پر بھی سورج غروب ہونے سے طلوع آفتا ب تک جان نچھاور کرنا شروع کردیتے تھے ۔وہ جب اک ادا سے ناک چڑھاتی تو میانوالی کے علاقے موسی خیل کے یہ لکی خیل نیازی اس کی بلائیں اتارنے کھڑے ہوجاتے تھے۔ پاکستان کے دیگر سیاسی مذہبی علما کی اکثریت کی مانند کردار کی رفعت و تقدیس سے محروم تھے۔

سلمان رشدی کے خلاف ملک میں مظاہرے جاری تھے جن میں   وہ  جانیں بھی ضائع ہوچکی تھیں جنہوں  نے تو کبھی قرآن الکریم سمجھ کر نہ  پڑھا  تھا ، نہ وہ اس کی کوئی سمجھ رکھتے تھے کہ انگریزی کے اخبار الٹا کہاں سے ہوتا ہے اور سیدھاکہاں سے۔۔
کوثر نیازی صاحب کی فرمائش پر ہمارے عزیز لندن سے دیدات صاحب کی کیسٹ رشدی نے مغرب کو کیسے بے وقوف بنا لائے تھے۔اسے دیکھ کر کوثر نیازی بے چاری بے نظیر صاحبہ کو مزید متاثر کرنا چاہتے تھے۔

مولانا اور ان کی میزبانی کے لیے کچھ مقامی بجلیوں کی آمد ہوئی تو بیورو کریٹ کی موجودگی کو پردے میں خلل کی خاطریہ کیسٹ دے کر رخصت کردیا گیا۔ مولانا کا قیام رات بھر وہیں تھا۔ڈرائیور ہم سے یہ کیسٹ ٹھیک بارہ بجے دوپہر کو آن کر لے جائے گا کیوں کہ چار بجے مولانا اسے لے کر اسلام آباد چلے جائیں گے۔ ہم بہت بعد میں پرویز مشرف کے دور میں کوڑیوں کے مول لاہور کے ایک کلب The Shape کے حوالے کیے جانے والے ریلوے کلب میں صبح پیراکی کرکے آئے تھے۔کیسٹ لگا کر دیکھنا شروع کی تو لگا کہ ہماری پلکیں کسی نے  سکرین سے ٹانک دی ہیں۔ہم نے تو پھر دیدات صاحب کی ہر کیسٹ دیکھ ڈالی۔۔

اللہ سبحانہ تعالی،قرآن الحکیم،نبی محترم محمد ﷺ اور دیگر مذاہب کے بارے میں ہماری سوچ ایسی جم کر واضح ہوگئی کہ سورہ التین میں انسان کو وہ جو احسن التقویم(یعنی ایسا وجود جو مخالفت کے باوجودفہم، وقار اور تمکنت سے دین حق اور بندگی الہی میں لگا رہے)
کہا گیا ہے اس کا سانچہ واضح ہوگیا۔

دیدات صاحب ہمیں ساتھ لے کر قریب ہی گرے  سٹریٹ کی مسجدچل دیے۔دیدات صاحب عصر کی نماز وہاں پڑھتے تھے،مسجدان کے سینٹر کے قریب تھی ان کے Mosque Tours بہت مقبول تھے جن میں بطور گائیڈ  وہ خود شریک ہوتے تھے۔غیر مسلم مہمانوں کو وہ سب سے پہلے یہ سمجھاتے تھے کہ جنوبی افریقہ کی ہر مسجد کا رخ شمال کی جانب ہے اس لیے کہ مکۃالمکرمہ اور کعبۃاللہ جنوبی افریقہ کے شمال میں واقع ہیں۔صلوۃ میں ہر مسلم کا اس طرف رخ کرنا عقیدے کی وحدانیت اور امت کے اتحاد کی علامت ہے۔وہاں صلوۃ کی مختلف حرکات اور اس میں پڑھے جانے والے کلمات سے مہمانوں پر یہ واضح کرتے تھے کہ مسجد اور اس عباد ت کی روح کیا ہے۔ان دوروں پر آنے والے بہت سے افراد بعد میں اسلام قبول کرنے آجاتے تھے۔

مسجد سے واپسی پر دیدات صاحب نے کچھ دیر سینٹر پر رک کر ہمارے لیے اپنی کچھ تصنیفات اٹھا لیں۔ان کی رہائش گاہ کچھ زیادہ دور نہ تھی۔مغرب سے فارغ ہوئے تو گفتگو کا ایک لمبا سیشن ہوا کہ رات کا کھانا جو کھچڑی،پاپڑ،اچار، قیمہ اور پکوڑے والی کڑھی، سویوں پر مشتمل تھا ان کے گھر کے کچن میں ہی تیار ہورہا تھا۔کھانے کی میز پر دیدات صاحب نے ہی بتایا کہ گجرات اور راجھستان میں جس کڑھی میں پکوڑے نہ ہوں اسے رانڈ کڑھی کہتے ہیں۔ یعنی بیوہ کڑھی۔

شیخ احمد دیدات پاکستان کے تبلیغیوں سے بہت شاکی تھے۔جنوبی افریقہ ان کا محبوب اسٹیشن تھا۔غول کے غول بھدے کرتہ شلواروں میں پہنچ جاتے تھے۔مسجدوں میں گندگی پھیلاتے تھے۔ان لوگوں کو دین اسلام کی تبلیغ کرنا چاہتے جن کی مساجد میں تہجد کی نماز باقاعدگی سے ہوتی تھی جن کی خواتین بھی محلے کی مسجد میں جماعت سے صلوۃ ادا کرتی تھیں۔دیدات صاحب کے دلائل میں بڑا وزن تھا۔چھوٹے چھوٹے قصبوں سے افراد جنہیں نہ ٹھیک سے انگریزی آتی ہے نہ کوئی مقامی زبان، پاکستان سے دین کی تبلیغ کرنے یہاں آجاتے ہیں۔وہ سیالکوٹ اور ڈسکہ کیوں نہیں جاتے۔ایک تبلیغی نے انہیں کہا کہ وہاں تو نچلی ذات کے ہندو رہتے ہیں ہم تو انہیں پیر کی جوتی سمجھتے ہیں۔۔

دیدات صاحب کو بہت ناگوار گزرا۔وہ کہنے لگے کہ یہ ہندو قیام پاکستان کے وقت چار میل کا فاصلہ طے کرکے بھارت نہیں گئے۔ جس طرح آپ پاکستان آگئے۔اس لیے کہ انہیں یہاں بہتر مستقبل دکھائی دیتا تھا۔جنہیں آپ نے پیر کی جوتی سمجھ رکھا ہے ۔انہیں اٹلی،البانیہ(مدر ٹرریسا وہیں سے آئی تھی)،فرانس،جرمنی،بیلجئیم جیسے ترقی یافتہ ممالک سے پادری آن کر صاف کرتے ہیں اور تمہارے سروں پر برساتے ہیں۔تمہارے بہترین  سکول اور ہسپتال ان کے قبضے میں ہیں اور  سکول کی حد تک تمہاری اشرافیہ ان کی بے دام  غلام   ہے۔ان کے مدرسہ حضرت پیٹر،مدرسۂ عیسی و مریم میں تم اپنے بچے تعلیم کے لیے بھیج کر ہمہ وقت اتراتے ہو،جب کہ اپنے مدارس تم نے ریاست کے کمزور ترین اذہان کے سپرد کردیے ہیں۔
جاری ہے۔۔

Save

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”اپُن کا کراچی،شیخ دیدات سے ملاقات۔۔محمد اقبال دیوان/قسط4

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *