• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سکھوں اور اورنگ زیب کی آپسی دشمنی : ایک الجھا ہوا سوال ۔۔احمد سہیل

سکھوں اور اورنگ زیب کی آپسی دشمنی : ایک الجھا ہوا سوال ۔۔احمد سہیل

SHOPPING
SHOPPING

سکھوں کی تاریخ میں  ارونگ زیب کو سکھوں کا سب سے بڑا دشمن قرار دیا جاتا ہے اور یہ تاثر  بھی رہا کہ ہندوؤں اور سکھوں کے خلاف مغل شہنشاہ اورنگزیب نے جو کچھ کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ان کی تہذیب اور مذہب کو انھوں نے تباہ و برباد کرنا چاہا اور یوں اورنگ زیب ایک تخریب کار دہشت گرد کے نام سے ان کی شناخت کی گی اور انھیں  ایک برا   حکمران بھی کہا گیا۔ جو سکھ دشمن تھا۔

سکھوں کے مطابق جو غیر مسلم جزئیہ نہیں دیتا تھا اسے ظالمانہ طور پر اورنگ زیب کے حکم پر قتل کروادیا جاتا تھا۔نویں گرو سکھ، تیخ بہادر (1621-75) اور ہیروں کاروں کو اس لیے قتل کروادیا تھا  کہ  انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا تھا اور ان کو دہلی گرفتار کرکے لایا گیا ان  کا  سر قلم کیا گیا۔ اور انہیں چاندنی چوک کے گردوارے میں دفن کیا گیا۔

ان واقعات کے تناظر میں سکھوں کے دسویں گرو، گوبند سنگھ (1666-1708) کی قیادت میں   ایک عسکری دستہ بنایا گیا۔ جو سکھوں کی جانی ،مالی اور معاشی حفاظت کے لیے تھا، اس نئی عسکریت پسندی کے پس منطر میں سکھ عقیدے کا تحفّظ بھی تھا۔ انہوں نے ایک بپتسمہ دینے والی تقریب کی بنیاد رکھی جس میں سوراخ پانی میں تلوار کی منتقلی بھی شامل تھی جو سرکیوں کو وقفے وقفے کے لئے خسارے (خالہ، فارسی کے اصطلاح سے “خالص کی فوج” کے طور پر اکثر الفاظ میں لے جانے کے لۓ) کا آغاز ہوا۔ جس نے جنگجو ” سنت” کو جنم دیا۔ جو حکم گرو گوبند سنگھ کے حکم پر قائم کیا۔

کہا جاتا ہے سکھوں کی   بغاوت اورنگ زیب کے خلاف آخری بغاوت تھی۔ حکمرانوں  کی طرح سکھ گرووں نے اپنا رہن سہن وضع کرلیا تھا۔ تک مرکذ کےاور فوج کے لشکر بھی کھڑے کردئیے جو خود کو ” سچا بادشاہ ” کہتے تھے۔ ۱۶۷۵ تک مرکذ کے لیے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ لہذا اورنگ زیب نے سکھوں کے خلاف کسی ردعمل اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ ایک انگریز افسر میٹکاف نے اپنی کتاب ” سکھوں کی تواریخ” میں   لکھا ہے کہ۔ ” اورنگ زیب نے کرو تیخ بہار کو سزائے موت دی۔ مگر اس سے پہلے اس کا کوئی ثبوت یا حوالہ نہیں ملتا۔

اس سے اہم ایک نکتہ یہ بھی ہے میٹکاف کے بعد شائع ہونے والی دوسری کتاب میں میٹکاف کے اس خیال کو ” ارونگ زیب نے گرو تیخ بہادر کو موت کی سزا دی ” کافی اہمیت دی گئی ۔ جب کہ  میٹکاف سے پہلے ایک دوسری بات سے آگہی ہوتی ہے۔۔۔۔ بھائی  منی سنگھ کی ۱۸۹۲ میں شائع ہوئی کتاب ۔۔” بھگت رتنا دلی” میں صاف صاف لکھا ہے ایک سکھ نے ہی ان کی اجازت سے ان کا سر قلم کیا۔ اور لکھا اورنگ زیب کو اپنی کرامت دکھانے کے لیے انھوں نے کہا کہ وہ ایک ایسا منترلکھیں  گے کہ جو بھی اسے اپنی گردن سے باندھے گا۔۔ تلوار کا بھاری سے بھاری وار کا بھی کوئی اثر اس کی گردن پر نہ ہوگا۔ اس منتر کو انھوں نے خود اپنی گردن پر باندھا اور اپنے چیلے کو وار کرنے کا اشارہ کیا۔ تلوار کی بھاری ضرب جیسے ہی ان کی گردن پر پڑی سرتن سے جدا ہوکر ایک طرف گرا۔ اور واقعہ کے راوی وہ لوگ ہیں جنہیں گرو جی کی خدمت میں ہمیشہ حاضر رہنے کی سعادت حاصل تھی۔

۱۹۱۲ میں یہ کتاب بھگت وتنا ولی جب دوبارہ شائع ہوئی تو یہ واقعہ کتاب سے حذف کردیا گیا۔ کیونکہ اس سے قبل میٹکاف کی کہانی آچکی تھا ۔ ایک کتاب ۔” سکھا دے راج” جو ۱۸۶۲ اور ۱۸۹۲ میں دوبار چھپی اس کتاب میں بھگت رتناول کے طرح گرو تیخ بہادو کو اورنگ زیب کے  ذریعے سزائے موت دِیے  جانے   کا کوئی ذکر نہِیں ہے۔ لیکن اس کتاب کے گرمکھی ایڈیشن میں اصلیت کے برخلاف اورنگ زیب کا نام اور یہ واقعہ شامل کردیا گیا ہے۔مگر یہ درست ہے کہ  اورنگ زیب کے عہد میں مرہٹوں  ، سکھوں اور جاٹوں  کی بغاوتیں ہوئیں لیکن کوئی فرقہ وارنہ فساد نہیں ہوا۔

SHOPPING

بھائی ہیر سنگھ پٹیالوی نے اپنی کتاب ” سنگھ ساگر” اور براون کنگھم نے کچھ یہ  تاثر دیا ہے کہ  اس میں  شبہ نہیں کہ  گربند سنگھ کے اہم منصوبوں اور مرکز مخالف تحریکوں سے اورنگ زیب چوکنا ہوگیا تھا اور دیگر مرکز بغاوت کرنے والوں کی طرح اس نے سکھوں کو بھی کچلا لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے   کہ اورنگ زیب نے گر وبند سنگھ کے دو بیٹوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ گربند سنگھ کی موت ایک پٹھان کے ہاتھوں ہوئی تھی جس کے دو بیٹوں کو گروبند   جی نے قتل کروادیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ گروبند سنگھ نے مل کر حالات کو معمول پر لانے اور صلح جوئی کے لیے خواہش کا بھی اظہار کیا تھا مگر ۱۷۰۷ میں اوررنگزیب کا انتقال ہوگیا۔

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *