فوٹوگرافر اللہ دا فقیر۔۔ایم بلال ایم

فوٹوگرافی کے حوالے سے پوری دنیا میں ایک منفرد اعزاز ہمارے شہر جلالپورجٹاں کے پاس ہے۔ کیونکہ مشہورِ زمانہ فوٹوگرافر ”اللہ دا فقیر“ ہمارے شہر کے تھے۔ ایک وقت تھا کہ جب حرمین شریفین (مسجدالحرام اور مسجدنبویؐ) کی تصویریں تو تھیں، مگر فوٹوگرافی کے اعلیٰ اور اپنے وقت کے جدید معیار کے مطابق یعنی ”پروفیشنل“ نقطہ ہائے نظر کی حامل ”باقاعدہ“ کوئی تصویر نہیں تھی۔ تب 1967ء میں سب سے پہلے ”اللہ دے فقیر“ کو باقاعدہ سرکاری طور پر حرمین شریفین کی تصویریں بنانے کا اعزاز حاصل ہوا۔ یہ اعزاز اتنی آسانی سے بھی حاصل نہیں ہوا تھا۔ اس کے لئے انہوں نے بڑی تگ و دو کی۔ بلکہ وہ تو کہتے تھے کہ اس میں میرا کوئی کمال نہیں، بس اللہ نے مجھے اس کام کے لئے چنا اور اعزاز بخشا۔ اُن کی بنائی تصویریں دنیا بھر میں مشہور ہوئیں۔ شاید بعض لوگ یہ جانتے بھی نہیں ہوں گے کہ دو چار دہائیاں پہلے وہ خانہ کعبہ اور روضۂ رسولﷺ کی جو تصویریں دیکھتے تھے وہ ”اللہ دے فقیر“ کی ہی بنائی ہوئی تھیں۔

بات تو وقت کے شروع ہونے سے پہلے کی کہی جا چکی تھی، اور پھر وقت متحرک ہوا اور وہاں پہنچا، جہاں ”شہرِ خوباں ارضِ جاناں“ میں ایک شیخ خاندان کپڑے کا کاروبار کرتا تھا۔ اُن کے ایک بچے کو خاندانی پیشے کی بجائے فوٹوگرافی کا شوق ہوا۔ والدین تو نہیں چاہتے تھے کہ بچہ فوٹوگرافر بنے مگر بچے کا شوق اسے کھینچ کھینچ کر تصویروں کی طرف لے جاتا۔ آخر والدین نے اسے تصویر سازی کی ایک چھوٹی سی دکان بنا دی۔ قیامِ پاکستان سے پہلے کی بات ہے جب اُس نے 13روپے کا کیمرہ خریدا۔ اس کے پاس جو بھی پیسے ہوتے ان سے فلمیں وغیرہ خرید لاتا اور فوٹوگرافی کرتا۔ اخبارات کو تصویریں بھیجتا اور اس سے اسے ذہنی سکون ملتا۔۔۔ واہ واہ ”اللہ دا فقیر“ کہہ گیا ہے کہ ”بات پیسے کی نہیں، بات تو ذہنی سکون کی ہے۔“۔۔۔ سبحان اللہ۔۔۔

وقت گزرتا رہا اور پھر ایک صاحب حج پر گئے۔ حج سے واپسی پر وہ خانہ کعبہ کی ایک تصویر لائے اور وہ تصویر اللہ کے فقیر کی دکان پر پہنچی۔ تصویر فوٹوگرافی کے لحاظ سے کچھ معیاری نہیں تھی۔ اوپر سے اللہ نے اپنے فقیر کو فوٹوگرافی کے حوالے سے نفاست اور اعلیٰ معیار دیا ہوا تھا، لہٰذا تصویر دیکھ کر فقیر کے ذہن میں خیال آیا ”دنیا میں کروڑوں مسلمان ہیں، یااللہ کوئی بھی ایسا مسلمان نہیں کہ جو تیرے گھر کی خوبصورت تصویریں بنائے۔“ خیال آیا اور پھر کہیں لاشعور میں چلا گیا۔ مزید وقت گزرتا رہا۔ فقیر دکان کرتا رہا۔ پھر ایک دن وہ گھر میں سویا ہوا تھا کہ اچانک ایک بندہ آیا اور اس نے بتایا ”آپ کی دکان پر چوری ہو گئی ہے، چور سب کچھ لے گئے ہیں۔“ اس پر فقیر کی بیوی نے کہا کہ ہم لٹ گئے۔ مگر فقیر نے پریشان ہونے کی بجائے یہی سوچا کہ اللہ پاک جو کرتے ہیں اس میں کوئی حکمت ہوتی ہے۔ اب اگر چور سب کچھ لے گئے ہیں تو اللہ پاک کوئی دوسری صورت پیدا کریں گے۔

روزگار ختم ہونے سے غربت نے ناک میں دم کر رکھا تھا۔ تبھی محلے کی ایک خاتون نے کویت میں مقیم اپنے شوہر کو فقیر کی حالت بارے خط لکھ بھیجا۔ اُس نے ویزہ بھیج دیا۔ مگر فقیر کے پاس تو کرایہ بھی نہیں تھا۔ یوں گھر کی چیزیں بیچیں اور جیسے تیسے ٹکٹ کے پیسے اکٹھے کئے۔ یہ 1958ء کی بات ہے جب وہ کویت پہنچے۔ اُدھر سخت مزدوری کرنی پڑی۔ فقیر مٹی کھودتا اور روتا اور دعا کرتا کہ یااللہ کویت آ تو گیا ہوں، مگر فوٹوگرافی کے علاوہ کوئی کام مجھے آتا نہیں، بس تو معاف کر دے اور کوئی رستہ نکال دے۔ اور پھر رب نے ایسا معاف کیا اور رستہ نکالا کہ دنیا نے دیکھا۔۔۔ کویت میں مٹی کھودنے کے دوران فقیر کی ایک تصویر بھی تھی۔ جسے وہ اپنے عروج کے زمانے میں بھی پاس رکھتے تاکہ انسان کو پتہ ہو کہ اس کی حقیقت کیا ہے، میں کیا تھا اور اللہ نے مجھے کیسی عزتیں عطا کر دیں۔ اللہ کا فقیر کہہ گیا ہے کہ اگر کوئی مشکل وقت آ جائے تو کام میں بدیانتی نہیں کرنی اور رو رو کر دعا کرنی ہے کہ یااللہ مجھے معاف کر دے۔

اللہ کا فقیر ایک دن کویت کے کسی بازار میں جا رہا تھا۔ اس کی نظر وہاں بکنے والے مقامی ”پکچر پوسٹ کارڈز“ پر پڑی۔ اُس نے سوچا کہ یہ تو میں بھی بنا سکتا ہوں۔ بس قدرت نے راستہ نکال دیا۔ کیمرہ خریدا، فوٹوگرافی کی اور پوسٹ کارڈز بنا کر بیچنے شروع کیے۔ کام چل نکلا اور پورے کویت میں فقیر کی فوٹوگرافی کی دھوم مچ گئی۔ ایک دن وزارتِ اطلاعات کویت کو خبر پہنچی کہ کوئی پاکستانی ہے جو یہ کام کر رہا ہے۔انہوں نے بلا بھیجا اور کہا کہ ہمارے پاس نوکری کر لو۔ فقیر نے کہا کہ میں اپنے کام میں خوش ہوں، کہاں نوکری کرتا پھروں گا۔ وزارت نے کہا کہ تم نوکری کر لو، ہم تمہیں فوٹوگرافی سیکشن کا انچارج بنا دیتے ہیں۔ حکومت کے کام بھی کراؤ اور ساتھ ساتھ اپنا کام بھی کرتے رہنا۔ آخر فقیر نے حامی بھر لی۔۔۔ واہ بھئی واہ، فقیر کا کام اس قدر شاندار کہ براہ راست حکومت کے فوٹوگرافی سیکشن کے انچارج کی کرسی مل گئی۔ فقیر کہہ گیا ہے ”دیکھو! اللہ پاک کیسے راستے بناتا ہے۔ بعض اوقات دیر لگ جاتی ہے مگر دعا کا اثر ہوتا ہےاور کام بنتا ہے۔“

ایک دن فقیر کو کہا گیا کہ ہمارے شاہ کویت کی تصویر بناؤ۔ تصویر بنی تو اس کی بھی بہت پذیرائی ہوئی۔ یوں اللہ پاک نے بہت عزت، دولت اور شہرت دی۔ مگر فقیر کے فوٹوگرافی کا جنون اسے مزید آگے لے جانا چاہتا تھا۔ فقیر سوچتا: ٹھیک ہے کہ بادشاہ کی تصویر بنائی مگر یہ تو کچھ بھی نہیں، اس سے بھی اوپر جو ہے، اب اس کی تصویر بنانی چاہیئے۔ یوں کیمرہ لیا اور بادشاہوں کے بھی بادشاہ کے در پر پہنچ گیا۔ مگر ٹھہریئے! فقیر کہہ گیا ہے کہ ”بادشاہ کی تصویر لینی ہو تو انسان کیا کیا جتن نہیں کرتا، جب بادشاہوں کے بادشاہ کے گھر کی تصویر لینی ہو تو انسان کو اچھے سے اچھا کرنا چاہیئے۔“ یوں اُس وقت(1967ء میں) ڈیڑھ لاکھ روپے کا کیمرہ خریدا اور سعودی عرب پہنچ گیا۔ مسجد نبویﷺ میں روضۂ رسول کی تصویر بنا رہا تھا کہ شُرطہ(سعودی پولیس کا جوان) آ گیا۔ اُس نے آتے ہی جھپٹا مارا، کیمرہ گرا دیا اور فقیر کو پکڑ کر قاضی کے پاس لے گیا۔ قاضی نے پوچھا کہ تم کیوں تصویر لے رہے تھے؟ فقیر بولا ”میں بھی مسلمان ہوں اور مجھے فوٹوگرافی کا شوق ہے۔ میں مجاہد ہوں نہ عالم، اور تو میں کچھ کر نہیں سکتا، بس یہ چاہتا ہوں کہ جو لوگ یہاں نہیں آ سکتے، وہ کم از کم اللہ اور اس کے رسول کے گھر کی تصویر دیکھ کر ہی دل خوش کر لیں۔“ قاضی نے فلم نکال کر ٹوٹا ہوا کیمرہ واپس کرتے ہوئے کہا کہ اب تصویر بنانے کی کوشش کی تو گرفتار کر لئے جاؤ گے۔

فقیر عمرہ کر کے واپس کویت پہنچا۔ ایک طرف عمرے اور مقاماتِ مقدسہ کی زیارت کی خوشی تھی تو دوسری طرف اداسی بھی تھی۔ کیونکہ فقیر کی فوٹوگرافی والی خواہش پوری نہ ہو سکی تھی۔ واپس پہنچ کر اداس کیفیت کی وجہ سے وہ دس پندرہ دن وزارت کے دفتر نہ گیا تو ایک دن وزیرِاطلاعات (جو کہ اب دوست بھی بن چکا تھا) کا فون آیا اور اُس نے پوچھا کہ تم کہاں ہو؟ فقیر نے کہا ”میں سعودی عرب فوٹوگرافی کرنے گیا تھا تو انہوں نے میرا کیمرہ توڑ دیا اور فوٹوگرافی نہیں کرنے دی۔“ وزیر نے کہا ”کیا تم پھر جانا چاہو گے؟“ فقیر بولا ”موقع ملے تو ابھی کے ابھی جاؤں گا۔“ وزیر ”تو پھر آ جاؤ میرے پاس۔“ وزیر نے اپنے سیکریٹری کو کہا کہ سعودی عرب کے وزیرِ اطلاعات کے نام ایک خط لکھ کر اسے دو۔ خط میں لکھا کہ ”یہ بندہ جو کام کر رہا ہے، وہ کام تو اپنے شوق سے کر رہا ہے اور اپنے خرچ پہ، لیکن یہ چیزیں کل کو آپ کے بھی کام آئیں گی۔“

فقیر خط لے کر سعودی عرب کے وزیرِاطلاعات کے پاس پہنچا۔ تب فقیر کی عمر تقریباً پینتیس چھتیس سال ہو گی۔اُس وقت دنیا بھر میں عام پاکستانیوں کے بارے میں یہی تصور پایا جاتا تھا کہ یہ ”غریب مزدور“ ہیں(کسی حد تک یہ تصور تو آج بھی ہے)۔ بہرحال ایک طرف فقیر کی عمر اتنی اور دوسری طرف پاکستانیوں کے بارے میں یہ تصور، لہٰذا وزیر نے طنزیہ کہا ”اتنی دنیا پڑی ہے، تم کیا کر لو گے؟“ فقیر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور بولا ”صرف ایک تصویر لے لینے دو۔“ وزیر نے بادل ناخواستہ ایک کارندے کو کہا کہ اسے چھت پر لے جاؤ تاکہ یہ ایک تصویر بنا لے۔ فقیر نے تصویر بنائی اور رو رو کر دعا کرتا کہ یااللہ تصویر اچھی آ جائے۔ اور پھر دعا قبول ہوئی اور ایسی تصویر بنی کہ دنیا بھر نے دیکھی۔ دنیا نے پہلی مرتبہ ”اللہ دے فقیر“ کے کیمرے کی آنکھ سے اللہ کا گھر دیکھا۔ آرٹسٹوں کی بنائی تصوراتی تصویروں کی نسبت وہ منظر مسلمانوں کے لئے بہت زیادہ روح پرور تھا۔ اس دور میں شاید ہی کوئی تصویر اتنی تعداد میں پرنٹ ہوئی ہو جتنی اللہ کے فقیر کی بنائی تصویر پرنٹ ہوئی تھی۔ اس تصویر کے پوسٹ کارڈ بنے، بڑے بڑے بورڈز پر آویزاں ہوئی، دنیا بھر کے مسلمانوں نے فریم کروا کر گھروں اور دکانوں حتی کہ مسجدوں میں بھی لگائی۔ جب ہم چھوٹے تھے تو ہمارے گاؤں کی مسجد میں بھی وہ تصویر لگی ہوئی تھی۔

مسجدِنبویؐ میں جس جگہ پہلے فقیر کا کیمرہ توڑا گیا تھا، بعد میں حکومت سے اجازت لے کر اسی جگہ سے تصویر بنائی اور روضۂ رسولﷺ کی وہ تصویر بھی بہت مشہور ہوئی۔ اس کے علاوہ خصوصی اجازت لے کر رات کو جب مسجد نبویؐ بند ہو جاتی ہے، تب سنہری جالیوں کی تصویر بنانے کا شرف بھی اللہ کے فقیر کو حاصل ہوا۔ یہ سلسلہ چل نکلا تو فقیر نے حرمین شریفین کی بہت اور منفرد فوٹوگرافی کی۔ لیکن ہر دفعہ وہی وزارت سے اجازت اور اس کاغذی کارروائی میں پانچ سات دن لگتے اور پھر حرم کے دروازے پر بیٹھے ”متوؤں“ کی رضامندی۔ دراصل حکومت اجازت دے بھی دے مگر ”متوا“ کہہ دے کہ یہ جائز نہیں یا میں اس کی اجازت نہیں دیتا تو اسے چیلنج نہیں کیا سکتا تھا۔ اس لئے فقیر جب بھی فوٹوگرافی کے لئے سعودیہ جاتا تو دعا کرتا رہتا کہ متوے مان جائیں۔

ایک دفعہ اللہ کا فقیر بابِ کعبہ کی تصویر بنانے لگا تو اُدھر ایک بزرگ بیٹھے ہوئے تھے۔ بزرگ نے شُرطوں(سعودی پولیس) سے پوچھا کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ خانہ کعبہ کے دروازے کی تصویر لے رہا ہے۔ بزرگ نے کہا ”میں نہیں لینے دوں گا“۔ پولیس ”اس کے پاس پرمٹ ہے اور حکومت نے اسے اجازت دی ہے“۔ بزرگ ”ایک پرمٹ اور لے آؤ اور مجھے گولی مار دو اور پھر تصویر بنا لینا۔ ایسے تو میں تصویر نہیں بنانے دوں گا۔ “ بزرگ کی بات سے فقیر ڈر گیا۔ اس نے سوچا کہ اگر بزرگ نے بدعا دی تو یہ سیدھی اوپر جائے گی اور میں غرق ہو جاؤں گا۔ لہٰذا بزرگ کے منع کرنے پر اُس وقت تصویر نہ بنائی اور دوسرے دن بنائی۔

حرم شریف کی بیرونی عمارت میں تعمیرات کا کام ہو رہاتھا۔ اس کی خصوصی رپورٹ تیار کرنے کے لئے تصویریں چاہئیں تھیں تو کوئی ماہر فوٹوگرافر بلایا گیا لیکن اس کا کام پسند نہ آیا۔ پھر انہوں نے بازار میں فروخت ہونے والی حرم کی تصویریں دیکھیں تو حکم ہوا کہ ان تصویروں کے فوٹوگرافر کو بلاؤ۔ پہلے جو جا کر اجازتیں لیتا پھرتا تھا، اب اسے سرکاری طور پر دعوت دی گئی۔ یوں اللہ کا فقیر مکہ مکرمہ پہنچا اور تصویریں بنا دیں، جوکہ پسند کی گئیں۔ گوکہ فقیر بغیر معاوضے کے یہ کام کرنے گیا تھا مگر تصویریں بنوانے والوں نے معاوضہ دیا۔ فقیر کہہ گیا ہے ”یہ نہیں کہ انسان کو تنخواہ مل گئی تو بس، بلکہ انسان کو بہتر سے بہتر کی تلاش میں رہنا چاہیے۔“ اسی بہتری کی تلاش میں فقیر کو خیال آیا کہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی فوٹوگرافی ہونی چاہیے۔ جب وزارت کو اس بات کا کہا تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کی اجازت تو شاہ فیصل(اس وقت کے بادشاہ) ہی دے سکتے ہیں۔ فقیر بولا ”تو پھر اسے لکھ بھیجو“۔ اس لکھ بھیجنے اور اجازت ملنے میں چھ ماہ لگ گئے اور پھر ایک دن اللہ کا فقیر خوشی سے روتا، پروردگار کا شکر بجا لاتا، اپنے چار پانچ کیمروں میں فلمیں لوڈ کر کے طائف کے مقام پر ہیلی کاپٹر میں سوار ہوا۔ مکہ مکرمہ  اور حرم کے اردگرد ہیلی  کاپٹر اڑتا رہا اور فقیر نم آنکھیں لئے کیمرے کے شٹر پر شٹر مارتا رہا۔ اسے لگتا کہ کہیں یہ کوئی خواب تو نہیں۔ درحقیقت وہ خواب ہی تھا مگر اللہ نے پورا کر دیا۔ یوں اللہ کے فقیر نے تاریخی لحاظ سے شاندار تصویریں بنائیں۔ یہ تصویریں پہلے لندن سے پرنٹ کرائیں تو پرنٹنگ پسند نہ آئی۔ اس کے بعد تصویریں پرنٹ کرانے اٹلی گئے اور ادھر کافی محنت کے بعد مطلوبہ معیار کی پرنٹنگ ہو ہی گئی۔

اللہ کے فقیر عظمت اللہ شیخ اپنے آپ کو ”اللہ دا فقیر“ کہلوانا پسند کرتے تھے۔ اپنے گھر کے باہر شناختی تختی (Name Plate) پر بھی ”اللہ دا فقیر“ لکھوا رکھا تھا۔ چونکہ وہ یہی کہلوانا پسند کرتے تھے، اس لئے میں نے بھی تحریر میں اسی نام سے مخاطب کیا۔ اللہ نے اپنے فقیر عظمت شیخ کو بہت عزت، شہرت اور مالی طور پر بھی بڑی خوشحالی دی۔ اُن کے لاہور اور کویت میں دو بڑے پرنٹنگ پریس تھے۔ 8ستمبر2017ء کو اللہ دا فقیر اللہ کو پیارا ہو گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور جنت نصیب کرے۔۔۔آمین!

بحوالہ: فوٹوگرافر اللہ دا فقیر | بیاضِ بلال
Save

Save

Avatar
ایم بلال ایم
ایم بلال ایم ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اردو بلاگنگ کی بنیاد رکھی۔ آپ بیک وقت اک آئی ٹی ماہر، فوٹوگرافر، سیاح، کاروباری، کاشتکار، بلاگر اور ویب ماسٹر ہیں۔ آپ کا بنایا ہوا اردو سافٹ وئیر(پاک اردو انسٹالر) اک تحفہ ثابت ہوا۔ مکالمہ کی موجودہ سائیٹ بھی بلال نے بنائی ہے۔ www.mBILALm.com

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *