ننھا علی رضا اور ہمینگوے کا مختصر ناول ۔۔سبطِ حسن گیلانی

علی ہم تو آپس میں کبھی ملے بھی نہیں ۔ چلو آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ میں تمہاری نانو کا رشتہ دار ہوں ۔ وہ میری کزن ہیں اس حوالے سے تم میرے اپنے ہوئے ناں ۔۔۔ تم یہ تو جانتے ہی ہو کہ بچوں کو دو چیزیں بہت پسند ہوتی ہیں۔ ایک کھلونے دوسری کہانی ۔ چلو ہم تمہیں کہانی سناتے ہیں۔ جب میں چھوٹا سا بچہ تھا تو میری دادو نے مجھے سنائی تھی ۔

انہوں نے بتایا تھا کہ جب کوئی تمہارے جیسا بچہ اس دنیا سے چلا جائے  تو وہ سیدھا جنت میں چلا جاتا ہے ۔ لیکن وہاں سے وہ اس دنیا کو دیکھ نہیں پاتا، جسے پوری طرح دیکھے بنا وہ اسے چھوڑ چکا ہوتا ہے ۔ وہاں سے اسے ماما بابا بھی نظر نہیں آتے ،جن کے بغیر وہ سونے کا عادی نہیں ہوتا ۔ اس لیے اللہ میاں اسے دوسرے دن ہی آسمان پر ایک ننھا سا ستارہ بنا کر بھیج دیتے ہیں ۔ وہاں سے وہ ساری دنیا کو دیکھ سکتا ہے ۔ اپنی ماما اور بابا کو بھی ۔وہ ساری رات جاگ کر سب کو دیکھتا ہے اور صبح صبح جب اس کی ماما اٹھ کر اس کو دودھ دیا کرتی تھیں  اس وقت وہ اپنی ماما کو دیکھ کر سو جاتا ہے ۔

آج تم بھی ایک ستارہ بن کر آسمان پر جا چکے ہو گے اور ہم سب کو دیکھ رہے ہو گے ۔ دیکھو تمہارے بعد تمہاری ماما نہ جیتی ہے نہ مرتی ہے، تم اس کے  خواب میں آکر ضرور اسے تسلی دینا کہ تم وہاں بہت خوش ہو ۔ بس ماما کو بہت مس کرتے ہو کیونکہ اللہ میاں نے جنت میں ہر شے بنائی ہے مگر دوسری ماں نہیں بنائی ۔

تمہیں پتا ہے جب بچہ ماں کے پیٹ میں پہلی سانس لیتا ہے تو ماں اس کی شکل دیکھ لیتی ہے ۔ اس کا پیار بس اسی لمحے سے شروع ہو جاتا ہے ۔ اگر کوئی اپنی ماں سے ملے بغیر بھی اس دنیا سے چلا جائے  تو ماں اسے پھر بھی نہیں بھولتی ۔ اور جو تمہاری طرح کچھ دیر مل کر اپنی یادیں چھوڑ کر چلا جائے  تو ماں جیتے جی مر جاتی ہے ۔ باقی کے دن بس وہ اپنے آدھے ادھورے وجود کو دوسروں کی خاطر گھسیٹتی رہتی ہے اندر سے وہ مری مکی ہوئی ہوتی ہے اور جب وہ اپنی زندگی گزار کر اپنی قبر میں جا سوتی ہے تو اس وقت بھی وہ تمہاری یادیں اپنے ساتھ لے جاتی ہے ۔ تم جیسے بچوں کی خوشبو گھر کے ہر کونے سے آتی ہے ۔ تمہاری چھوٹی چھوٹی شرارتیں اور یادیں اپنے دل میں اورتمہارے کپڑے جوتے کھلونے اپنے سامان میں سنبھال لیتی ہے ۔

جس دن تم رخصت ہوئے  تھے کسی نے مجھے بتایا ہے کہ اس دن تم نے نئے شوز پہنے تھے ۔ تمہارے شوز سے ایک اور چھوٹی سی کہانی یاد آتی ہے۔۔

 ہمینگوئے اس دنیا کا بہت بڑا کہانی کار ہو گزرا ہے ۔ اس نے صرف چھ لفظوں پر مشتمل ایک کہانی لکھی تھی تمہارے جیسے بچے کی یاد میں ۔ تمہارے ماما بابا کی طرح اس بچے کے ماما بابا نے بھی اس کے لیے نئے شوز خریدے تھے ۔مگر وہ انہیں پہنے بغیر ہی تمہاری طرح آسمان پر ایک ستارہ بن کر چلا گیا تھا ۔ اس کی ماما ہر وقت وہ شوز اپنے سینے سے لگا کر روتی رہتی تھی ۔ ایک دن اس کے بابا نے ان شوز کو اپنے سٹال پر بیچ دینے کا فیصلہ کیا ۔ اس نے ان شوز پر چھ لفظ لکھے ۔

Baby shoes for sale never worn .

ان چھ لفظوں والی کہانی کو دنیا نے سب سے مختصر ناول قرار دیا تھا ۔ یقیناً کسی پورے  ناول میں بھی اتنا درد سما نہیں سکتا جتنا ہمینگوے نے ان چھ لفظوں میں سمو دیا تھا ۔اب نہ میں ہمینگوے ہوں نہ میرا قلم اس جیسا ۔ میں بھی تمہارے شوز پر ایک مختصر کہانی لکھنا چاہتا ہوں ۔ تمہاری ماما سے کہوں گا تمہارے شوز کی ایک تصویر بنا لے اس تصویر کے نیچے میں ایک مختصر سی کہانی لکھوں گا ۔وہ کہانی کچھ یوں ہو گی ۔

“یہ وہ شوز ہیں جو علی رضا نے صرف ایک بار پہنے” ۔

Avatar
سبطِ حسن گیلانی
سبط حسن برطانیہ میں مقیم ہیں مگر دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ آپ روزنامہ جنگ لندن سے بطور کالم نگار وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *