جہاں لائبریریوں کو تالے لگتے ہیں۔۔نعیم الدین جمالی

سندھ ہمیشہ المیوں کا شکار رہا  ہے،اپنے اور غیروں نے سندھ کو تختہ مشق بنا یا ہے،لوٹنے اور عوام کو ظلم کی چکیوں میں پیسنے کا عمل تاحال جاری ہے. کمین گاہوں کی طرف اگر ایک نظر دیکھتے ہیں تو اپنے لوگوں کے ہاتھوں میں ہی تیر ہیں جو اپنوں پر برسا رہے ہیں۔
سندھ ایک غریب اور مظلوم کسان کی مانند ہے جس کی محنت کا پھل اسے کبھی نہیں ملتا۔ہم سندھ کے المیوں کی داستان کو اگر زیر قلم لائیں گے تو الف لیلوی  قصے کی مانند ہماری یہ تحریر طوالت کا شکار رہے گی لیکن داستان الم وغم پھر بھی اختتام پذیر نہ ہوگی۔

آج میں آپ کو اپنے ضلع کی ایک لائبریری اور میوزیم  کا حال سناتا ہوں۔لاڑ میوزیم حاجی احمد ملاح لائبریری ہماری ضلع کی بڑی اور قدیم لائبریری ہے، لائبریری میں تمام موضوعات پر عمدہ کتابیں دستیاب ہیں، یہاں پورے ضلع سے تشنگان علم وفن اپنی پیاس بجھانے آتے ہیں، طلبہ وطالبات پر امن اور پر سکون ماحول میں اپنے امتحانات کی تیاری  کرتے ہیں،ایک قدیم عرصے سے یہ لائبریری پیاسوں کی پیاس بجھا رہی ہے ـ کتنے لوگ اس کی کتابوں سے استفادہ حاصل کرکے اہم عہدوں پر فائز ہیں  اور بیشمار لوگ معاشرے میں شعور و آگاہی کی شمع جلا رہے ہیں۔

یہ لائبریری ابتداء سے ضلع کی گورنمنٹ کے زیر انتظام رہی ہے ـ اس کے اخراجات بھی وہی برداشت کر رہی تھی،ـ دو سال قبل سندھ گورنمنٹ کے محکمہ  ثقافت نے اس لائبریری اور میوزیم کو کلچر ڈپارٹمنٹ  کے تحت اپنے انتظام میں لے لیا ہے۔جب سے اس محکمہ نے انتظام سنبھالا ہے لائبریری بد انتظامی کا  شکار   رہی ہے۔ گزشتہ اٹھارہ ماہ سے ملازمیں کو تنخواہ نہیں ملیں ، ایک ماہ کے طویل عرصے سے ملازمین  سراپا احتجاج اور بھوک ہڑتال پر ہیں، لائبریری بند پڑی ہے، ان کے مطالبات ہیں کہ انہیں مستقل بحال کیا جائے، انہیں اپنی گزشتہ اٹھارہ ماہ کے بقایا جات دیے جائیں۔

سندھ گورنمنٹ کے لیے مطالبات اتنے بڑے نہیں ہیں  کہ وہ اس پر عمل کرکے مشکلات کا شکار ہوجائے گی،لیکن بے حسی غالب ہے۔

محکمہ ثقافت کے وزیر صاحب کے بچوں کو اگر ایک روز روٹی نہ ملے تو انہیں اندازہ ہوجائے گا کہ بھوک کیا ہوتی ہے،صرف اس پر بس نہیں ہوئی، کہتےہیں فنڈز نہیں ہیں لیکن دوسری طرف اسی لاڑ کی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لیے اسی محکمہ نے بدین میں لاڑ میوزیم سے متصل جم خانہ میں لاڑ میلہ سجایا، جس میں سید سردار شاہ بھی شریک ہوئے،اس میلہ پر کروڑوں روپے کے فنڈز کے بل بنائے گئے تھے ،افسوس اس وقت ہوتا ہے کہ  جس کی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لیے میلہ سجایا تھا اس کا ایک چھوٹا سا ادارہ میوزیم اور لائبریری اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے ـ، ملازمین اپنے  حقوق کے لیے نوحہ کناں تھے کسی کو ان کی فکر نہ ہوئی !

منگل کے روز  بدین  کی  نوجوان سنگت نے اپنی استطاعت کی حد تک ایک احتجاجی ریلی کا انتظام کیا، جس میں شہر کی سیاسی سماجی تنظیموں کے رفقاء اور سوشل ایکٹیویسٹ احباب شامل رہے جن کا مطالبہ بھی یہی تھا کہ ملازمین  کو مستقل بحال کیا جائے اور ان کے  بقایا جات ادا کیے جائیں۔

سید سردار شاہ صاحب !آپ کے وزیز بننے کے بعد ہمارے قومی سرمائے زوال کا شکار ہیں آخر کیوں؟
یہاں صرف لائبریری کو تالہ نہیں لگا،یہاں سندھ کے  ازلی شاعر لطیف کے رسالے کو مقفل کیا گیا ہے،یہاں ایاز اور سچل کی حق گوئی کو دبایا گیا،سامی اور حاجی احمد ملاح کی شاعری سے عوام کو بے خبر کیا جانے لگا ہے،یہاں یہ تالہ صرف لاڑ میوزیم اور لائبریری کو نہیں لگا، یہ سندھ کی ہزار سال کی تہذیب کو لگا ہے، جس کی بدولت آپ کی روزی روٹی ہے!

محترم! جہاں لائبریریاں بند ہوتی ہیں وہاں سے جہالت کا سماج نشو ونمو پاتا ہے،شعور بے گور وکفن تڑپتے لاشے کی مثل ہوتا ہے،
ہماری تہذیب اور ثقافت کی رکھوالی کرنے والی یہی لائبریریاں ہیں، یہی کتابیں ہیں، جب لائبریریاں بند ہوئیں  تو ہماری تہذیب کا نام ونشان بھی باقی نہیں رہے گا، پھر آپ کتنے ہی لاڑ میلے کیوں  نہ کر لیں اپنی تہذیب کو نہیں بچا پائیں گے.
بدین کی عوام آپ سے درخواست کرتی ہے کہ ان کی لائبریری بند ہونے سے بچائی جائی!

Avatar
نعیم الدین
لکھنے پڑہنے والا ایک ادنی طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *