ہاکنگ اور ہمارا رویہ۔۔۔ فوزیہ قریشی

“چھوڑ دو جنت اور جہنم کے فیصلے سونے رب پر”
آج اسٹیفن ہاکنگ بھی اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔۔۔۔ہر شئے فانی ہے۔
کل کس کی باری ہوگی کون جانے؟
لیکن لوٹ کر ہم نے اسی کی طرف جانا ہے لیکن ہم بحیثیت مسلمان انسان ہونا کیوں بھول جاتے ہیں؟
جب بھی کوئی بڑا انسان اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو مسلم غیر مسلم کی جنگ کیوں چھڑ جاتی ہے؟
آج بھی کچھ یونہی ھوا۔۔ میں نے بہت سارے مذہبی، نیم مذہبی، ملحد اور لبرل دوستوں کو آپس میں گتھم گتھا ہوتے دیکھا ۔ یہ جنگ صبح سے سوشل میڈیا پر جاری ہے۔ نجانے کتنے دن چلے؟
اگر کسی نیم مذہبی، ملحد اور لبرل نے اظہار تعز یت کی پوسٹ لگائی تو سوشل میڈیا پر کہیں سرد اور کہیں گرم جھڑپیں دیکھنے کو ملیں۔۔ کچھ اسلامی شدت پسند آ گئے فتوے دینے کہ یہ جنت میں نہیں جا سکتا کیونکہ اس کے دروازے پر شائد ان کی ڈیوٹی ہوگی۔ خدارا نکل آؤ اس سوچ سے ہم تو خود اپنے بارے میں نہیں جانتے کہ ہم بھی جنت جانے کے حق دار ہیں یا نہیں۔۔۔۔۔ہم میں سے بہت سارے لمبی داڑھیوں کے ساتھ بغض کی آخری سیڑھی پر کھڑے ھو کر نیچے حقارت سے دیکھ رہے ہیں۔۔ بھائیو میرے رب نے تمہارے دلوں میں چھپے بغض کا اگر پردہ رکھ ہی دیا ہے تو اس کا بھرم رکھنا سیکھو۔ یہ نہ ہو آج ہماری کہی گئی بات کی پاداش میں ہمیں ایک ایک نیکی سے ہاتھ دھونا پڑے اور ہمارا کشکول خالی ہو جائے۔اس دن کوئی کام نہیں آئے گا آج کا بویا ہی ساتھ جائے گا لیکن ہم تو عظیم لوگ ہیں جس کا حکم اللہ نے قرآن پاک میں دے دیا اس پر حرف با حرف ایمان لانے والے عظیم لوگ ۔۔۔۔۔رب نے فرمایا تدبر کرو تو کیا تم نے اے مسلمان تدبر بھی۔۔۔ بے شک جس نے غورو فکر کیا اس نے کائینات فتح کرلی لیکن ہم نے تو اس قرآن کو غلاف میں لپیٹ کر کسی اونچی جگہ پر رکھ دیا تدبر تو دور کی بات ہم نے اس میں سے اپنے مطلب کی باتیں اخذ کیں۔۔ تسخیر کائنات کا ہمیں کیا فائدہ ہونا تھا؟ جو ہم تدبر کرتے لیکن اگر کسی غیر مسلم نے تدبر کر کے ہمارے حصے کا کام کر دیا تو ہم نے اسے مذہب کے ہاتھوں آڑے لیا۔ بخض کی عینک سے دیکھا اور دھتکار دیا
لیکن نہ خود سیکھنے کی خواہش کی اور نہ اس کے علم سے استفادہ حاصل کیا۔۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ اسی تکبر نے آج ہم پر یہ دنیا تنگ کر دی ہے۔ اسٹیفن ہاکنگ کو کبھی غور سے دیکھتے تو تمہیں احساس ھوتا کہ اللہ نے اس کے ذریعے اسی دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ۔ میرے رب نے دکھایا اس ایک معذور شخس کے تواسط سے کہ آج بھی یہ معجزے کیسے ہوتے ہیں؟
بے شک سب کچھ تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے اور اسے ہم بدل نہیں سکتے لیکن انسا ن میں will power ہو اور وہ ضد لگا لے تو کوئی اس کی ضد کے آگے جیت نہیں سکتا۔۔ اس نے بھی ضد لگا لی اور وہ جیت گیا۔ اس بحث کو چھوڑو اور سوچو کہ اس معذور شخص سے میرے رب نے اتنے بڑے کام کیسے اور کیونکر لے لئے؟ جو تم سے نہیں لئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گر پل بھر کے لئے سوچو تو تمہیں احساس ہو۔۔۔ جب تم جانتے ہو کہ میرے رب کی مرضی کے خلاف پتا نہیں ہل سکتا تو وہ ایک غیر مسلم سے ہی کیوں سب کروا رہا ہے؟ اس بات کو میرے اور تمہارے جیسوں کو سمجھنے میں صدیاں لگ سکتی ہیں کیونکہ ہم سمجھنا نہیں چاہتے۔ خیر آج ایک اور ذہین و فطین شخص اس دنیا سے چلا گیا جس پر میرے رب کا خاص کرم تھا۔۔ یہ علم میرے رب کی دین ہے جسے وہ عطا کرے۔۔ وجہ صرف یہ ہے کہ جب بندہ خود کو اس قابل بنا دے تقدیر سے ضد لگا لے تو میرا رب فرماتا ہے بول اے بندے اب بتا تیری رضا کیا ہے؟ پھر وہ اس بندے کی رضا پوری کر دیتا ھے۔۔۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
غیر معمولی ذہانت کا مالک اور آئن اسٹائن کے ہم پلہ سائنسدان قرار دیے جانے والے اسٹیفن ہاکنگ آج آئن سٹائن کے جنم دن پر 76 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔
اسٹیفن ہاکنگ کا بڑا کارنامہ کائنات میں ایک ایسا ” بلیک ہول ” دریافت کرنا تھا جس سے روزانہ نئے سیارے جنم لیتے ہیں، اس بلیک ہول سے ایسی شعاعیں خارج ہوتی ہیں جو کائنات میں بڑی تبدیلیوں کا سبب بھی بنتی ہیں۔ ان شعاوں کو اسٹیفن ہاکنگ کے نام کی مناسبت سے ” ہاکنگ ریڈی ایشن ” کہا جاتا ہے۔
1963 میں اسٹیفن ہاکنگ جب کیمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہے تھے ایک دن سیڑھیوں سے پھسل گئے اور پھر طبی معائنے کے بعد پتہ چلا کہ وہ پیچیدہ ترین بیماری ” موٹر نیوران ڈزیز ” میں مبتلا ہیں۔ 1965ء میں وہ وہیل چیئر تک محدود ہو کر رہ گئے۔ اس کے بعد گردن دائیں جانب ڈھلکی اور دوبارہ سیدھی نہ ہو سکی۔ وہ خوراک اور واش روم کیلئے بھی دوسروں کے محتاج ہو گئے۔ ان کا پورا جسم مفلوج تھا، صرف پلکوں میں زندگی کی رمق باقی تھی، طبی ماہرین نے 1974ء میں ہاکنگ کو ” الوداع” کہہ دیا تھا لیکن اس عظیم انسان نے شکست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اور تقدیر سے ضد لگا لی۔۔۔۔ مفلوج جسم کے ساتھ انہوں نے آگے بڑھنے اور عظیم سائنسدان بننے کا خواب دیکھا۔ ویل چیئر پر بیٹھ کر ہی انہوں نے کائنات کے نئے رموز کھولے تو دنیا حیران رہ گئی۔ کیمبرج کے سائبر ماہرین نے ہاکنگ کیلئے ”ٹاکنگ“ کمپیوٹر ایجاد کیا۔ کمپیوٹر ویل چیئر پر لگا دیا گیا، یہ کمپیوٹر ہاکنگ کی پلکوں کی زبان سمجھ لیتا تھا۔۔ اسٹیفن اپنے خیالات پلکوں سے کمپیوٹر پر منتقل کرتے۔ خاص زاویے، توازن اور ردھم کے ساتھ ساتھ اسپیکر پر یہ الفاظ نشر بھی ہوجاتے تھے۔
دنیا کا واحد انسان جو اپنی پلکوں سے بولتا تھا اور پوری دنیا انہیں سنتی تھی۔
کیا یہ میرے رب کا معجزہ نہیں تھا؟
انہوں نے پلکوں کے ذریعے بے شمار کتابیں لکھیں، ”کوانٹم گریویٹی“ اور کائناتی سائنس (کاسمالوجی) کو نیا فلسفہ کو نئی زبان دی۔ ان کی کتاب ”اے بریف ہسٹری آف ٹائم“ نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔۔۔
یہ کتاب 237 ہفتے دنیا کی بیسٹ سیلر کتاب رہی جسے “ادبی شاہکار” کی طرح خریدا اور پڑھا گیا۔
ہاکنگ نے 1990ءکی دہائی میں منفرد کام شروع کیا۔ مایوس لوگوں کو زندگی کی خوبصورتی پر لیکچر دیئے۔ دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں، ادارے اور فرمز ان کی خدمات حاصل کرتی تھیں۔۔
وہ اس معذوری کے باوجود کامیاب ہوا اور اس نے ثابت کیا کہ کچھ بھی نا ممکن نہیں ۔
تم بھی تدبر کرو، خواہشات کرو تو اسے حاصل کرنا سیکھو، تقدیر کے آگے ڈٹ جاؤ لیکن خدارا چھوڑ دو یہ گناہ ثواب کے فیصلے کرنا۔ اسے کرنے دو جس کا یہ کام ہے۔۔ وہ رب کائنات ہے۔ اس کے کام میں دخل اندازی چھوڑ دو۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”ہاکنگ اور ہمارا رویہ۔۔۔ فوزیہ قریشی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *