آہ مامتا کے لاڈلو۔۔۔۔

آہ مامتا کے لاڈلو۔
تمہاری تو وہ ہی عمر ہے نا۔۔ کہ باہر سے کھیل کود کر آو تو ماں کھانے کی چیز کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہاتھ دھونے کا کہتی ہے۔۔
جب بیمار ہو جاؤ تو۔۔۔ پورے گھر کی توجہ کا مرکز ہوتے ہو
اس عمر میں سسک سسک کر ، تڑپ تڑپ کر تمہیں جان دینے پر کس نے مجبور کیا ؟؟؟ شام کے نونہالوں۔۔
روز محشر ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے کے سامنے۔۔۔کس کس کی خاموشی کو بطور جرم گنواؤ گے ؟؟معصوم بچوں۔۔۔
یقیناً اس دنیا میں تمہا را کوئی ہمدرد نہیں ہے۔۔
یہ مہذب تہذیب ، یہ ترقی پسند ، یہ سیکولر اور لبرل سارےکے سارے اپنے اپنے مفادات کے دائرے میں گھومتے ہیں۔۔
ان کی نظر میں اپنے بچے تو پیار دینے اور دشمن کے بچے پھاڑ دینے کے مستحق ٹہرتے ہیں۔ ہیرو شیما ، ناگا ساقی اس مہذب تہذیب کی کوکھ پر کم بوجھ تھے کیا ؟؟
جنگ عظیم اول اور دوئم کا قتل عام ہم بھول نہ پائے تھے کہ افغانستان و عراق میں یہ مہذب تہذیب ہی ماؤں کی گودیں اجاڑنے میں پیش پیش رہی۔۔
اس سیکیو لر اور لبرل تہذیب کی کرتوتوں کے آگے داعش و القائدہ کچھ نہیں ہے۔۔ کچھ نہیں۔۔ہاں بس پر فریب میڈیا جو دکھاتا ہے وہ ہی نظر آتا ہے۔
گوانتا نامو بے اور ابو غریب تمہیں اس لیے یاد نہیں رہتا کہ یہ دکھایا نہیں جاتا۔اب تو یقین ہو چلا ہے داعش و طالبان کا سر قلم کرناجدیدتہذیب کے قتل عام کے آگے ہیچ ہے۔۔۔لاکھوں انسانوں کو نگلنے کے بعد بھی اس تہذیب کا پیٹ نہیں بھرا اور اس تہذیب کے کالے پجاری ۔۔۔ہاں پاکستانی لبرل اور ترقی پسند۔۔۔ کچھ کم متعصب نہیں۔اپنے نظریاتی حریف کے قتل عام سے ان کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی۔۔۔ خود کو وسیع ذہن کہلوانے والے کچھ کم کند ذہن نہیں۔کوئی موم بتی جو ان شام کے نونہالوں کے لیے ہو؟کوئی آنکھ جو اشکبار ہو ؟ کوئی سینہ جو نوحہ کناں ہو ؟کوئی تحریر ۔۔ کوئی پوسٹ۔۔ہاں تمہارے سامنےایک ہی ٹھنڈی چھاؤں نظر آتی ہے۔۔ایک ہی روشنی کا مینارہ ہے۔حسین ر ض اور حسن رض کے نانا۔۔۔کہ جب دشمن علاقوں میں لشکر روانہ کرتے ہیں توحکم دیتے ہیں کہ عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کرنا۔۔آہ مامتا کے لاڈلو۔۔ یہ جبر کی رات جلد چھٹے گی۔۔۔ انشاءاللہ جلد!

Avatar
عبداللہ اشفاق
اٹلی کی جامعہ پولیٹیکنیک میں شعبہ انجینئرنگ اینڈ مینیجمنٹ میں ماسٹرز کے لئے زیر تعلیم ہوں، این ای ڈی یونیورسٹی سے مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ معاشرے اور خصوصا" پاکستان کے سماج کی بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے منزل کی تلاش ہے۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *