• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • کیا انتخابات سے قبل ترقیاتی فنڈز پری پول دھاندلی نہیں ؟ چیف جسٹس

کیا انتخابات سے قبل ترقیاتی فنڈز پری پول دھاندلی نہیں ؟ چیف جسٹس

SHOPPING
SHOPPING
speciaal sale

سپریم کورٹ نے الیکشن سے قبل ارکان پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈز دینے کا نوٹس لے لیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران الیکشن سے قبل ارکان پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈز دینے کا نوٹس لیا۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ یہ بات سامنے آرہی ہے کہ حکومت الیکشن سے پہلے اراکین کو ترقیاتی فنڈز جاری کر رہی ہے، کیا اراکین کو ترقیاتی فنڈز دینے کا عمل پری پول دھاندلی میں نہیں آتا؟ الیکشن سے پہلے کروڑوں کے فنڈز کس قانون کے تحت دیئے جاتے ہیں؟ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل حکومت سے فنڈز کے اجرا کی قانونی حیثیت پوچھ کر عدالت کو آگاہ کریں۔علاوہ ازیں چیف جسٹس پاکستان نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ ہمیں پاکستان کی عزت مقدم ہے اور باقی سب چیزیں ثانوی ہیں لہٰذا پتا چلنا چاہئے کہ اربوں روپے کے اکائونٹس کہاں سے آئے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس کی سماعت ہوئی تو پاکستان براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن کی جانب سے کیس میں فریق بننے کی درخواست کی گئی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے پی بی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کا کیا مفاد ہے؟ اس پر وکیل نے کہا کہ جرائم کا پیسہ استعمال کیا جارہاہے، پوری میڈیا انڈسٹری سٹیک پر ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پوری میڈیا انڈسٹری کل بھی سٹیک پر تھی، کل شاہد مسعود نے کہا میڈیا انڈسٹری سٹیک پر ہے، جب بھی ہم کسی سے کچھ پوچھیں تو پوری میڈیا انڈسٹری سٹیک پر لگ جاتی ہے، پتہ نہیں یہ کون سا سٹیک ہے؟ کہیں یہ چکن سٹیک تو نہیں؟ عدالت نے پاکستان براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن کی فریق بننے کی درخواست خارج کردی۔ چیف جسٹس پاکستان نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ایف آئی اے نے جعلی ڈگری سے متعلق کوئی تحریری جواب داخل کرایا ہے؟ اس پر سرکاری وکیل نے بتایا ایف آئی اے نے جواب داخل کرادیا ہے۔ اس موقع پر ایگزیکٹ کے وکیل نے بتایا کہ کراچی میں ایگزیکٹ کے خلاف زیر سماعت مقدمے میں 18 گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوچکے ہیں، راولپنڈی میں بھی مقدمہ زیر سماعت ہے۔ چیف جسٹس نے ایگزیکٹ کے وکیل سے مکالمہ کیا کہ بول متاثرین کو تنخواہیں دی جائیں، اس پر وکیل نے کہا کہ ہم متاثرین کو تنخواہیں کہاں سے دیں؟ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ جہاں سے بول چلا رہے ہیں۔ ایگزیکٹ ملازمین نے ریکس ٹلرسن بن کر بھی لوگوں کو فون کیا، برطانوی صحافی کا انکشاف ،سماعت کے موقع پر بول متاثرین کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ ٹوٹل متاثرہ ملازمین کی تعداد 300 سے زائد ہے، اس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ہمیں ٹوٹل رقم کا پتا نہیں چلے گا تو ہم کیسے ریلیف دیں گے؟ اگر بول نے آپ کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی تو اب فورم کون سا ہوگا؟ بول متاثرین نے کہا کہ ہم مائی لارڈ کے پاس آئے ہیں، چیف جسٹس پاکستان نے مکالمہ کیا کہ مائی لارڈ کیا کرسکتے ہیں؟ ہمیں بتایا گیا ہے کہ بول ملازمین کی تنخواہوں کا مقدمہ سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوا، جب مقدمے کی سماعت ہو تو تیاری کرکے آئیں۔ اس موقع پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پاکستان کے نام کی گڈ ول متاثر نہیں ہونے دیں گے، انہوں نے ایف آئی اے حکام سے سوال کیا کہ مشکوک عوامل کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ نوٹس لینے کا مطلب یہ تھا کہ الزامات کے باعث پاکستان کی بدنامی ہورہی ہے، یہ بھی دیکھنا ہے کہ کیا یہ اشتہارات لے رہے ہیں؟ کہاں سے یہ سلسلہ چل رہاہے۔ بعد ازاں عدالت نے سماعت میں کچھ دیر کے لیے وقفہ کردیا۔قبل ازیں سپریم کورٹ نے سابق وزرائے اعظم نواز شریف، یوسف رضا گیلانی، بینظیر بھٹو، سابق صدر پرویز مشرف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت دیگر کے خلاف توہین عدالت کی درخواستیں نمٹاتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ عدالتوں سے متعلق جو بیانات اب دیئے جارہے ہیں، ان پر مناسب وقت پر سماعت کریں گے۔ مختلف سیاسی رہنمائوں کے خلاف توہین عدالت کی درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی۔ سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف محمود اختر نقوی کی جانب سے دائرکردہ توہین عدالت کی درخواست یہ کہہ کر نمٹا دی کہ جو بیانات آپ بتارہے ہیں وہ پاناما جے آئی ٹی سے متعلق ہیں، عدالتوں سے متعلق جو ریمارکس اب دیئے جارہے ہیں، وہ ہمیں مل رہے ہیں اور مناسب وقت پر ان ریمارکس سے متعلق کیس سنیں گے۔ عدالت عظمیٰ نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وفاقی وزیر برائے نجکاری دانیال عزیز اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری سے متعلق محمود اختر نقوی کی درخواستیں بھی نمٹادیں۔ سپریم کورٹ میں سابق صدر جنرل ر پرویز مشرف کے 2 عہدوں کے خلاف درخواست بھی غیر موثر قرار دے کر نمٹا دی گئی۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *