جہالت میں معاشرہ

السلام علیکم ! قارئین،
آج میں اپنے کالم میں معاشرے میں جو جہالت ہے اس کے بارے میں لکھ رہا ہوں لیکن میرا اپنا تعلق ایک کَٹر بریلوی سے ہے، یہ محض اس لیئے بتانا مقصود تھا کہ کہیں میری اس تحریر کو کوئی بھی شخص کسی مذہبی فرقہ واریت سے نہ جوڑ دے، کیونکہ یہ بات بھی درست ہے کہ میں کوئی عالم دین اور نہ ہی حافظ قرآن ہوں، یہ تحریر فقط ہمارے معاشرے کا ایک خوفناک پہلو دکھانے کی کوشش ہے۔ ہم سب اولیاءاکرام کی تہہ دل سے عزت و احترام کرتے ہیں اور کرنا بھی چاہیے کیونکہ اولیاءاکرام کی دین اسلام کی ترویج اور تربیت انسانیت میں بہت بڑا کردار رہا ہے جسکو شاید ہی کوئی شخص رد کر سکے، لیکن میری تحریر کا مقصد فقط شر پسند عناصر کی پہچان کروانا ہے۔ صوفیا نے اشاعت اسلام کے لئے اہم کردار ادا کیے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ معاشرے سے شرک وبدعت اور غیر اسلامی رسومات کے خاتمے کے لئے بنیادی کردار ادا کئے۔ صوفیاسے اللہ نے خوب کام لیا۔ انہی عظیم لوگوں میں حضرت حسن بصری، حضرت جنید بغدادی، حضرت سید عبدالقادر جیلانی، حضرت مجدد الف ثانی، حضرت نظام الدین دہلوی، حضرت قطب الدین، حضرت امداد اللہ مہاجر مکی، حضرت بہاﺅ الدین زکریا، حضرت علی ہجویری، حضرت میاں میر، حضرت خلیفہ، غلام محمد، حضرت احمد علی جیسی عظیم ہستیاں ہیں۔ یہ ایک طویل فہرست ہے۔معاشرے کے بگڑے ہوئے لوگ ان اکابرین اور ان کے خلفاءکے پاس آتے تھے تو پھر ان کی اصلاح ایسی ہوتی تھی کہ وہ تہجد گزار بن کر برائیوں سے بچنے والے اور نیکیاں کرنے والے بن جاتے تھے۔
لیکن آج اس مقدس مشن کو دولت کے بٹورنے اور دنیا کی اغراض و مقاصد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے اور حالت یہاں تک آپہنچی ہے کہ جعلی پیر اور عامل معصوم لوگوں کی جان لے رہے ہیں اور دولت جمع کرنا ان کا مقصد بن چکا ہے۔ جعلی پیروں اور عاملوں کی بڑھتی ہوئی یہ تعداد یقیناً ملک و قوم کے لئے نقصان کا باعث ہے کیونکہ ملک میں سادہ لوح عوام اپنے مسائل کے حل کے لئے ان جاہلوں کے حکم پر چلتے ہیں جس کی وجہ سے اب تک نجانے کتنے لوگ جان، مال اور عزت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔لیکن ہمارے معاشرے میں لوگ عقل کا استعمال کرنا ہی نہیں چاہتے اور اسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جعلی عامل اور پیر لوگوں کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ جعلی پیر ہمارے معاشرے کا وہ کردار ہے جسے ہر کوئی جانتا ہے لیکن پھر بھی لوگ ان کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔آخر کب تک یہ لوگ جہالت میں ڈوب کر جعلی پیروں سے اپنی عزتیں لٹواتیں رہے گے؟ 65سالوں میں جعلی عاملین، جعلی پیروں اور جادوگروں کے خلاف کچھ نہیں کیا گیا، اس وقت ملک بھر میں ہزاروں عامل عوام کے مال وجان سے کھیل رہے اورکھلے عام مکروہ دھندے کی تشہیر میں مصروف ہیں، کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں،حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے،ان جاہل عاملوں کے کہنے پر جہالت کے مارے ان کے معتقد دوسروں کو قتل کررہے ہیں اور ماں کی گودیں اجاڑ رہے ہیں، حکومت کو چاہیے فوری طور پر ان عاملوں کے خلاف آپریشن کرے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے تمام آستانے بند کر دے جہاں جعل سازی کا دھندہ ہوتا ہے۔
واضح رہے ملک میں جعلی عاملوں اور جعلی پیروں کی بڑی تعداد عوام کی جان، مال، عزت و آبرو کے ساتھ کھیلنے میں مصروف ہے۔آئے دن ان عاملوں کے حوالے سے رونگٹے کھڑے کردینے والا کوئی واقعہ پیش آجاتا ہے۔انتہائی قابل افسوس بات یہ ہے کہ 21ویں صدی میں بھی ملک میں بہت سے لوگ توہم پرستی کا شکار ہیں،سادہ لوح افراد دھڑا دھڑ ان عاملوں کے آستانوں کا رخ کرتے ہیں جن کی بدولت ان کے یہ آستانے آباد ہیں۔ جعلی عاملوں اور جعلی پیروں کے جال میں پھنسنے والوں میں خواتین پیش پیش ہوتی ہیں۔گھریلو جھگڑوں سے نجات، شوہر کوراہ راست پر لانے، مقدمہ بازی، کاروباری بندش، اولاد کے حصول، بیرون ملک رہائش ودیگر مقاصد کے حصول کے لیے خواتین کی بڑی تعداد جعلی عاملوں اور جعلی پیروں کے آستانوں کا رخ کرتی ہیں۔ گلی گلی میں پھیلے عاملوں کے دعوے، اشتہاری مہم، وال چاکنگ، ہورڈنگز، بینرز، پمفلٹ اور اشتہارات کی بھرمارسے متاثر ہوکرمسائل کے گرداب میں پھنسی مختلف طبقات کی تعلیم یافتہ، ان پڑھ، ہرعمر کی خواتین انہیں اپنے مسائل کا ” واحد حل“ سمجھنے لگ جاتی ہیں۔ ”عاملین“ چٹکی بجانے میں ان کے مسائل کو حل کرنے کا جھانسہ دے کر ان سے بھاری رقوم بٹور تے ہیں اور سادہ لوح مایوس خواتین ان کی چکنی چپڑی باتوں میں آکرمسائل کے حل کے لالچ میں اپنی جمع پونجی سے محرومی سمیت عزت گنوانے جیسے مسائل کا بھی شکار ہوجاتی ہیں۔ملک میں متعدد بار جعلی عاملوں اور پیروں کے ہاتھوں خواتین کی عصمت دری کے واقعات بھی پیش آچکے ہیں۔دوسری جانب میڈیا بھی عوام کو گمراہ کرنے میں ایک اہم کردار ادا کررہا ہے۔ ٹیلی ویژن اور اخبارات میں جعلی دوایئاں، جعلی ڈاکٹر، جعلی پیر، تعویز گنڈے اور نہ جانے کس کس طرح کے اشتہارات شائع کئے جاتے ہیں۔
بلکہ کئی چینلز پر تو کئی ایسے پروگرامز بھی نشر کئے جارہے ہیں جو جعلی عاملوں کے کام کو تقویت دیتے ہیں۔پیمرا کو چاہئے کہ وہ میڈیا پر نشر ہونے والے پروگرامز اور اشتہارات پر پابندی عائداور جعلی پیروں اور عاملوں کے فروغ دینے والے چینلز کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے۔۔ میرا خیال ہے کہ یہ مرض اب ہمارے معاشرے میں موذی مرض کی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس مرض کا سب سے زیادہ نقصان اور شکار ہماری خواتین ہیں، اس لیے ہم سب لوگوں کو اپنی خواتین کی اس حوالے سے تربیت کرنی چاہیے ورنہ مردوں کو عذاب الہیٰ کے لیے تیار ہوجانا چاہیے کیونکہ یہ سب کچھ مردوں کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے اور اس جرم میں آپ بھی برابر کے شراکت دار بن رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جو خواتین بھی ایسے حیوان طبعیت بابووں کی ہوس کا شکار ہوئیں، انکے ان گناہوں کا مداوا کیسے ہوگا ؟ خیر یہ تو ہے، ہمارے آج کے معاشرے کا المیہ کہ ہم اصل عقائد بھول کر بہروپیوں کی بھی تقلید اور انکے تحفظ اور دفاع میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ کوئی بھی سمجھنے کو تیار نہیں یہ سب جعلی پیر، بابے اور عامل، حقیقی، سچے پیر اور اللہ کے ولیوں کے نام بھی داغدار کررہے ہیں۔ ہم سب کو اپنے اپنے گھروں سے ان کے خلاف آپریشن شروع کرنا چاہیے اور اپنے نیک لوگوں اور اللہ کے پسندیدہ بندوں کی حرمت بحال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply