استعمال شدہ ٹی بیگز کیسے آنکھوں کے لئے مفید؟؟

اگرچہ گھروں میں زیادہ تر ٹی بیگز کے بجائے کھلی پتی کی چائے بنائی جاتی ہے، تاہم اس کے باوجود تقریبا ہر گھر میں ٹی بیگز موجود ہوتے ہیں۔ چند دہائیاں قبل تو چائے کو ہی بیماری تسلیم کیا جاتا تھا، تاہم جدید تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ چائے کوئی بیماری نہیں دیتی، بلکہ یہ کئی حوالے سے انسانی صحت کے لیے بہتر ہوتی ہے۔ اسی طرح استعمال شدہ چائے کو بھی مختلف گھریلو اور علاقائی ٹوٹکوں کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن استعمال شدہ ٹی بیگز کے انتہائی اہم فوائد بھی ہیں، جن سے زیادہ تر افراد بے خبر ہیں۔ ہیلتھ جرنل ہیلتھ لائن میں شائع ایک مضمون کے مطابق اگر استعمال شدہ ٹی بیگز کو ٹھنڈا کرنے کے بعد آنکھوں پر رکھا جائے تو اس کے کئی فوائد ہیں۔ اس عمل سے آنکھوں کے گرد پڑنے والے کالے، پیلے اور دیگر اقسام کے دائرے اور دھبے ختم ہوجاتے ہیں۔ اس عمل سے نہ صرف آنکھوں کے باہر پڑنے والے دائرے اور دھبے ختم ہوجاتے ہیں بلکہ اس سے آنکھوں کی تھکاوٹ دور ہونے سمیت ان کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

اس عمل کے لیے مختلف اقسام کے ٹی بیگز کے مختلف فوائد ہوتے ہیں، گرین اور ہربل ٹی بیگز کو استعمال کرنے سے آنکھوں کی سوزش اور گندگی بھی ختم ہوسکتی ہے، جب کہ اس سے آنکھوں کو سکون بھی ملے گا۔ اسی طرح دیگر اقسام کے استعمال شدہ ٹی بیگز کے بھی مختلف فوائد ہیں۔ اس عمل کے لیے ٹی بیگز کو استعمال کرنا انتہائی آسان ہے۔ سب سے پہلے استعمال شدہ ٹی بیگز کو تھوڑا سا ٹھنڈا کرنے کے بعد انہیں 20 سے 30 منٹ تک فریج میں ٹھنڈا کرنے کے لیے رکھیں۔ جب ٹی بیگز ٹھنڈے ہوجائیں تو انہیں نکال کر آنکھوں پر رکھیں۔ ٹھنڈے ٹی بیگز کو آنکھوں پر کم سے کم 30 منٹ تک رکھیں۔ آخر میں آنکھوں کو صاف اور ٹھنڈے پانی سے دھولیں۔ یہ عمل کم سے کم 4 ہفتوں تک جاری رکھیں، فرق خود ہی نظر آئے گا۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply