میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں ۔۔کفایت الرحمن

 جس معاشرے میں سیاست‘ جرائم اور کرپشن میں گٹھ جوڑ ہو جائے۔ وہاں کھیتوں میں بھوک کا اگنا‘ غربت اور فاقہ کشی‘ امانت میں خیانت‘ جہالت کا فروغ‘ گروہی تضادات ، فسادات اور بددیانتی عام بات ہوتی ہے۔ پاکستانی معاشرہ بھی ایسی ہی کیفیت کا شکار ہے۔
ہم قومی حمیت و غیرت کی بات تو کرتے ہیں لیکن سمجھتے نہیں ہم مذہبی معاشرے کی بات تو کرتے ہیں لیکن کوئی اسے اپنے آپ پہ لاگو  نہیں  کرنا چاہتا، ہم جمہوریت کے دلدادہ تو ہیں لیکن کسی کو جمہوری حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی رائے قائم کرسکے۔یہاں سیاست کا معیار پیسہ، ڈنڈا اور زیادہ سے زیادہ کرپشن ہے۔اور اسی کرپشن کے بل بوتے پر کوئی بھی   کرپٹ انسان ہی معاشرے کا رہنما بن جاتا ہے، بہ نسبت اس کے کہ کسی سیاسی لیڈر کیلئے لازم یہ  ہے کہ وہ تعلیم یافتہ ہو، مہذب ہو، تجربہ کار ہو، ایمان دار ہو اور تربیت یافتہ ہو، بلکہ اس معاشرے میں اتنی غلاظت موجود  ہے  کہ لوگ بد سے بدترین بن جاتے ہیں، رائے دیتے وقت ہم بھول جاتے ہیں کہ کوئی جیسا بھی ہو لیکن ہمارے برے کاموں کے نتیجے میں  آنے والی .  مصیبت میں ہمارے کام آئے۔ میں چوری کروں، ڈاکہ ڈالوں تو میرا ساتھ دیں اور  دوسروں کا حق مارنے میں میری مدد کرے، تو بس  اسی کو میں اپنا لیڈر مان لوں گا۔

پھر جو بھی  لیڈر بنے گا ہمارے سوچ کی ترجمانی تو کرے گا ،ہم کسی سے گلہ کیوں کریں؟ ہمارا معاشرہ سیاسی معاشرہ بن چکا  ہے۔ بچے ہو ں  یا  نوجوان،  ہر  کوئی سیاسی تیر کہیں نہ کہیں سے چلاتے نظر آتے ہیں، سکول کالجز اور یونیورسٹی کی تو بات ہی چھوڑیے، مسجد و ممبر بھی سیاست سے پاک نہیں، ویسے میں سیاست کے خلاف نہیں سیاست تو حضور پاک ﷺ نے آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے کی تھی جسکی مثال نہیں ملتی، اور جس کی مثالیں آج بھی تمام انسانیت دے رہی  ہے۔

لیکن آج کی  گلی سڑی  سیاست کی بات کی جائے تو انسانیت کا  سر شرم سے جھک جاتا ہے۔جب ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی اپنے  سگے ماں باپ کیساتھ  فرعون جیسا  رویہ رکھے ہوئے ہے۔اور وہی شخص  پارٹی ورکرز کے نزدیک مائی باپ ہے۔سیاست اور اخلاقیات کا تو دور کا بھی واسطہ نہیں رہا۔ایک دوسرے کی ماں بہنوں کے بارے میں نازیبا الفاظ کا استعمال  معمولی بات ہے۔ ایسے ہی لوگ جب اسمبلی کے فلور پہ ایک دوسرے کو گھسیٹتے  ہیں  تب ہماری نئی نسل  ،ان جہلا کے پیروکار سیاسی مخالفت میں ایسی گھٹیا لفاظی کرتے ہیں ،ایسی غلاظت اگلتے    ہیں جو کسی گندگی کے ڈھیر سے بھی برآمد نہ ہو،
عمران خان، زرداری، نواز شریف، مولانا فضل الرحمان ، اسفندیار اور سراج الحق نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت بھی گوارا نہ کی ہوگی کہ ان کی اندھی تقلید میں نوجوان نسل کس کھائی میں چھلانگ لگا رہی ہے۔کیا اس تبا ہی   کا  ذمہ دار  وہ   معاشرہے کو ٹھہرائیں گے؟یا کبھی یہ اقرار کریں گے کہ  اس تباہی کے ذمہ دار وہ خود ہیں۔
میرا ان سیاستدانوں سے سوال ہے کہ کیا ان کے بچوں کی تربیت بھی ایسے ہی ہو رہی ہے جیسے میرے بچے کی؟ جس خوف اور  بے یقینی کی فضا میں عام آدمی کا بچہ سانس لے رہا ہے۔اس کے ان سیاستدانوں کے لیے تصور بھی کرنا محال ہے۔
یہ سیاسی کھیل میرے بچوں کو کس نے سکھایا؟
میرا ان کرپٹ سیاستدانوں کے پیروکاروں سے سوال ہے کہ کیا آپ اگلی  نسل کیلئے اس طرح کے سیاست دان چننے  جا رہے ہیں جو تباہی و بربادی کے ضامن ؟
خدا کیلئے اس معاشرے پہ رحم کریں، اپنے ورکرکی تربیت کیلئے اگر آپکے پاس وقت نہیں تو سیاسی ورکر بننے کے کچھ قواعد و ضوابط وضح کریں اُن کیلئے ہفتہ نہیں تو  ہر مہینے ایک  تربیتی  ورکشاپ کا اہتمام کریں۔
کاش یہ انھے مقلد اس بات کو سمجھ سکیں کہ عمران ،زرداری ، نواز یا  سراج الحق بننے سے پہلے انسان بننا زیادہ ضروری ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *