اپُّن کا کراچی۔سنگاپوراورعمران خان ۔۔محمد اقبال دیوان/قسط2

شہر کراچی سے ہماری شعوری یادوں کا سفر سن ساٹھ کی دہائی سے شروع ہوتا ہے۔یہ سفر تاحال جاری ہے۔ سوچا ہے کہ کراچی کے بارے میں جو پڑھا ،دیکھا اور سنا ان کو یک جا کرکے آپ کی خدمت میں خالصتاً نجی زاویے سے پیش کریں۔اسے کوئی تاریخی دستاویز نہ سمجھیں۔یہ البتہ ضرور ممکن ہے کہ آپ اگر کراچی کی تاریخ کے سنجیدہ طالب علم ہیں تو اس سے آپ کو مزید اور بامعنی تحقیق میں معاونت ہوجائے گی۔کراچی کے بارے میں لکھنے کا خیال ہمیں سنگاپور میں آیا۔۔یہ سب جاننا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ کراچی کے حوالے سے ہمارا بیانیہ تشنہ کام نہ لگے۔خیال رہے کہ کراچی کے کالم ان تین اقساط کے الاپ نما تعارفی اقساط کے بعد یہاں پے در پے شائع ہوں گے۔
لیکن اس سے پہلے دوسری وضاحتیں۔
دوسری وضاحت
جس رات ہم سنگاپور کے لیے عازم سفر ہوئے،کراچی، دھواں دھواں تھا۔خاک میں لپٹا ہوا ،خون میں نہلایا ہوا۔کہیں سوختہ لاشیں تھیں تو کہیں تشدد زدہ بوری بند مردہ وجود ۔بوری میں پہلے ادھ مواء کرکے مخالف کو لوہے کے موٹے سریوں اور کرکٹ کے بیٹ سے کوٹا جاتا تھا اور پھر گولیاں مار کے سڑک کے کسی کنارے پھینک دیتے تھے۔ نہ مدعی ،نہ منصف ،حساب باک ہوا ۔ریاست اور اس کے خرچیلے ادارے افراد کے مظالم کے آگے لاچار اور بے دست و پاتھے۔

سنگاپور کے چانگی ائیر پورٹ پردنیابہت منظم اور باشعور تھی۔سُو پینگ نے وعدہ کیا کہ وہ کوشش کرے گی کہ  اتوار کی شب والی ڈربن کی فلائیٹ میں بدستور ہماری فضائی میزبانی کے فرائض سر انجام دے۔ممکن ہوا تو وہ جوہانسبرگ میں سلپ (دو پروازوں کے درمیان فضائی عملے کا قیام )لے گی تاکہ وہ بھی چند دن جنوبی افریقہ کی سیر کرلے ہم چاہیں تو اسے کیپ ٹاؤن میں مل لیں۔ وہاں اس کی ایک دوست رہتی ہے ۔ اسے بھی ہماری طرح سفاری پر جانے کا ارمان ہے۔ہم دویدا(ہندی میں تشویش) نہ کریں ۔ سب انتظام اس کا اپنا ہوگا۔ ہم نے سوچاایسے ہم سفر تو نصیب سے ملتے ہیں۔

ہمارا سوٹ کیس سنگاپور ائیرپورٹ پر ٹوٹا ملا۔سوپینگ عین اس وقت تک لاؤنج میں دکھائی دی۔اب کچھ لوگ اتنے اچھے ہوتے ہیں کہ زندگی میں ذرا سی بھی لفٹ کرادیں تو جی چاہتا ہے کہ  انہیں اندھے کی لاٹھی کی مانند مضبوطی سے تھام لیں۔ ہم نے بھی اسے دیکھ کر سوچا کہ تم جو مل گئے ہو تو یہ لگتا ہے کہ جہاں مل گیا ایک بھٹکے ہوئے راہی کو کارواں مل گیا کے مصداق کیوں نہ اسی کی مدد لیں۔ وہ ہمیں شکستہ سامان کے کاؤنٹر پر لے گئی۔بی بی کو ہمارا دکھ بتایا تو وہ گلہ مند ہوئی کہ کراچی ائیرپورٹ پر Baggage Handling بہت بری ہے۔ہم نے کہا یہ صرف سامان کی حد تک محدود نہیں۔اسی لیے ہم اپنا دل چیک ان نہیں کرتے کہ کم بخت نہ جانے اس کا کیا حشر کریں۔یوں بھی ہمارا یہ سوٹ کیس مردوں کی انّا کی طرح Fragile تھا۔دونوں ہماری اس کھلواڑ اور جملے بازی سے محظوظ ہوئیں۔ہمیں مصطفے شمس الدین کا ایک وؤچر  دیا کہ سنگاپور کے سو ڈالر کی مالیت کا بیگ وہاں سے لے لیں یہ  سٹور لٹل انڈیا کے علاقے میں علوی روڈ پر ہمارے ہوٹل کے قریب ہی واقع ہے،چوبیس گھنٹے کھلا رہتا ہے۔ ہم نے کہا تھا نہ کہ ایسے ہم سفر تو نصیب سے ملتے ہیں۔۔

سنگاپور کا شہر اپنی خوش حالی اور سجاوٹ میں اکلوتا ہے ۔ خود ہی ایک ریاست ہے کہ نہ یہاں کوئی گاؤں نہ دوسرا شہر۔باشندے خوشحال،تعلیم سے آراستہ اور شعور یافتہ ہیں۔لی کوان یو جنہیں پیار سے LKY کہاجاتا تھا وہ اس کے تیس برس تک سربراہ رہے اور اپنی ریاست کو تیسری دنیا سے پہلی دنیا کی صف میں لے گئے۔ڈاکٹر ظفر الطاف  اکثر  کہتے  تھے کہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور ملک کے اس وقت کے حالات ایسے تھے کہ وہ چاہتے تو ملک کو بہت آگے لے جاسکتے تھے ۔وہ کاردار صاحب اور دیگر افسران کے ذریعے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ان کے ابتدائی ایام سے بڑے نجی حوالوں سے جانتے تھے اس لیے ان کے بارے میں پاکستان کے حوالے سے جلد مایوس ہوگئے ۔ان کے نزدیک وہ ذہین ،چالباز، شدید متعصب،معاشی تقاضوں سے ناواقف،ذاتی طور پر منتقم المزاج اور ادارہ سازی کے دشمن تھے۔بیورکریسی میں انہیں سی ایس پی افسران سے عمومی طور پر اور مہاجر افسران سے خصوصی شکایت تھی۔ یہ طبقہ انہیں بہت Fake and Phony سمجھتاتھا۔اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے مہاجروں سے بدلے بھی خوب لیے۔ڈاکٹر صاحب البتہ بے نظیر صاحبہ کے بہت مداح تھے۔ انہیں نوازشریف اور مشرف سے کہیں زیادہ انسان دوست محب وطن اور قابل سمجھتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں :  اپُّن کا کراچی اور دیدات صاحب ۔۔محمد اقبال دیوان

پاکستان کے پہلے بلوچ اور آٹھویں صدر فاروق لغاری کی ڈاکٹر ظفر الطاف صاحب سی۔ایس ۔ پی سے دوستی بھی تھی ۔وہ ان سی ایس پی گروپ میں ایک بیچ سینئر بھی تھے ۔ان کے بارے میں ہمارے مربی و محسن ڈاکٹر صاحب کا خیال تھا کہ ان میں یہ صلاحیت تھی کہ وہ پاکستان کو بہت آگے لے جاتے ۔ وہ بڑی خوبیوں کے مالک تھے۔ان کی ذات میں ایسے بہت سے عوامل جمع تھے جن کا پاکستان کے کسی ایک سربراہ میں اتفاقاً جمع ہونا ناممکن تھا۔ ۔آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ، اعلیٰ ملازمتوں کے امتحان میں میرٹ پر داخلے کی وجہ سے اولمپک میں شریک رہنے کی وجہ سے مقابلے کی اہمیت سے کما حقہُ آگاہ،والدہ یوسف زئی پٹھان،خود بلوچ سردار،پنجاب سے تعلق، تہجد گزار،دھیمے مزاج اور شائستہ برتاؤ والے۔دکھ ہوا کہ انہوں نے یونس حبیب بینکر سے مل کر مہران بینک  سکینڈل میں اپنی بے آب و گیا زمینوں کے بدلے لمبے پیسے پکڑے ،بیس لاکھ ڈالر کی رقم کے عوض ایمل کانسی کو امریکہ کے حوالے کرکے فیرفیکس کاؤنٹی کے اٹارنی Robert F. Horan Jr. سے یہ طعنہ بھی قوم کو دلوایا کہ ’’پاکستانی رقموں کے عوض اپنی ماؤں کو بھی بیچ دیتے ہیں‘‘۔حضرت نے بے حد احتجاج کے باوجود اپنے اس تبصرے پر معافی نہیں مانگی اور مزید شرمندہ کرنے کے لیے قبائیلوں کے ہاں عورتوں کی فروخت کا معاملہ مزید اچھالا۔

ائیر پورٹ پر جو ٹیکسی ملی اس کا ڈرائیور جیکی چان جیسا تھا۔چست،پھرتیلا اور پر مذاق۔صبح اجلی اور پر رونق تھی۔لگتا تھا صبح صبح سالم اخبار گھٹکا کر آیا تھا۔گھما پھرا کر کراچی پر بات لے آیا ۔شہر کی اموات کا پورا رجسٹر اس کے پاس تھا۔جلی ہوئی، بوری بند لاشوں کا مکمل رجسٹر کھول کر بیٹھ گیا۔ سنگاپور میں جو امن و امان کا راج ہے اس سے ہماری مملکت خداداد پاکستان کا موازنہ کرنے لگا اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ہماری پولیس کیا کررہی ہے۔ریاست کے ادارے ان وارداتوں پر کیوں انگلیاں دابے بیٹھے ہیں اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔سات آٹھ منٹ تک کراچی کی دہشت گردی پر بولتا ہی چلاگیا۔یکایک اسے گمان ہوا کہ پسنجرز سے ان کی مملکت کی برائی کرنا بہت ہی ناپسندیدہ عمل ہے۔معافی مانگے بغیر بہت آہستگی سے موضوع کو موڑنے لگا۔معذرت خواہانہ لہجے میں کہنے لگا یہ ہمارا سنگاپور تو چائے کی پیالی جتنا ہے۔آپ کا کراچی تو فن لینڈ،ڈنمارک،سوئیڈن اور ناروے سے آبادی کے لحاظ سے بھی بڑا ہے۔دنیا کا چوتھا بڑا شہر ہے۔ سو ممالک کے برابر اور اپنے تنوع میں Exotic۔اپنی سابقہ گفتگو کی تلخی کم کرنے کے لیے کہنے لگا کہ وہ اگر کراچی آئے تو کیسا رہے گا؟

ہم نے جواب دیا اگر وہ شادی شدہ ہے تو بہتر ہے کہ پہلے اپنی ساس کو بھیج دے۔اس نے اپنی چھوٹی چینی آنکھوں کو ساکٹ سے باہر انڈیلتے ہوئے پوچھا’’وہ کیوں؟‘‘ ہم نے بھی انگریزی میں جواب دیا “Free Funerals”(مفت تدفین کا انتظام)۔واضح رہے کہ بدھ مت میں تدفین کے بڑے اخراجات ہوتے ہیں۔ان کے عقیدے میں سم سارا (آواگون )کا چکر ہے۔ مرنے والے کو پچھلے جنم کے اعمال کے حساب سے دوبارہ دنیا میں لوٹا دیا جاتا ہے۔تدفین پر بہت سی رسومات ہوتی ہیں۔ان کے راہب لواحقین کے ہاں کئی دن مہمان ہوتے ہیں۔کثیر اخراجات ہوتے ہیں۔ہمارا جواب سن کر اس نے ٹیکسی سڑک کنارے لگائی اور بونیٹ کھول کر بے تحاشا ہنسنے لگا۔جب ہنسی رکی تو ہمیں جتلانے لگا کہ یہ لطیفہ اتنا عمدہ ہے کہ وہ کئی ماہ تک اسے یاد کرکے ہنستا رہے گا مگر اس میں ایک قباحت ہے کہ وہ اسے اپنی بیوی کو نہیں سنا سکتا۔ہم نے بھی اس کی جنم کنڈلی (زائچہ)کو مزید چھیڑنے سے اجتناب کیا۔

سنگاپور ائیر لائن کی جنوبی افریقہ کی فلائٹ میں جہاز کے دروازے پر ہمیں سو پینگ مل گئی۔ہمیں وہ اپر ڈیک میں بٹھانے لے گئی ۔وہی وجود مشک بار ،وہی مردنگ جیسے بجتے خطوط (مردنگ یا پکھاوج جنوبی ہندوستانی موسیقی میں تال کا ڈھول نما ساز جس کے گمک کے لیے بڑے حصے s .aperture bas جسے تھوپی کہتے ہیں اسے بائیں ہاتھ سے اور تال والے چھوٹے حصے کو بالا بھاگ کہتے ہیں اسے دائیں ہاتھ سے بجاتے ہیں) ۔دس گھنٹے چالیس منٹ کی فلائیٹ میں ہم نے آرٹ،ہندوستانی فلموں ،ملائیشیا اور چینیوں پر خوب باتیں کیں۔وہ بتارہی تھی کہ سنگاپور کے چینی بہت ملٹی کلچرڈ اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے عادی ہیں۔ان کا سب سے بڑا سرمایہ ان کا میرٹ کو فوقیت دینے کا اصول ہے۔ان کے ہاں بزرگوں کا بھی بہت احترام کیا جاتا ہے۔چین کی ترقی میں ان کے وزیر اعظم لی کوان یو کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔وہ خود تیس مرتبہ چین گئے۔ان سے اسی کی دہائی میں چین کے سربراہ Deng Xiaoping نے رابطہ کیا تھا۔ہزاروں چینی افسر تربیت کی غرض سے سنگاپور بھیجے گئے۔انہیں یہاں سکھایا گیا کہ معاشی ترقی کے بغیر چین کبھی بھی سپر پاور نہیں بن سکتا۔معاشی ترقی اسی وقت ممکن ہے کہ عسکری طاقت ہمہ وقت اقوام عالم کو دکھائی تو دے مگر اشد ضرورت کے علاوہ اور وہ بھی محدود اور موثر ترین انداز میں استعمال نہ کی جائے۔اصلاحات ایک مستقل اور جاری رہنے والا عمل ہے۔ڈینگ ژیاؤپنگ نے جب ان سے اصلاحات میں ناکامی کا پوچھا تو انہوں نے انہیں سمجھایا کہ اگر ایک منصوبہ ناکام ہو تو اس کی ناکامی کے اسباب پر غور کرکے ان کا آئندہ منصوبے میں اجتناب کیاجائے۔ اس اپدیش(مشورے ) کے بعد ہی چینی سربراہ نے یہ مشہور جملہ کہا تھا کہ
it doesn146t matter whether a cat is black or white, as long as it catches mice
(اگر وہ چوہوں کو مارتی ہے تو اس سے فرق نہیں پڑتا کہ بلی کالی  ہے کہ سفید)۔

جب ہم نے جوہانسبرگ سے ڈربن کے لیے فلائٹ پکڑنے کے لیے سو پینگ کو اللہ حافظ کہا تو وہ کہنے لگی کہ جمعہ کے دن لنچ پر وہ کیپ ٹاؤن کے کلفٹن بیچ پر The Bungalow نامی ریستوراں میں ہماری منتظر ہوگی۔وقت کی پابندی لازم ہے ایک بجے دوپہر ورنہ اپنا سلام آخر ہے۔ہم نے بھی جاگتی آنکھوں سپنا دیکھا اور مومن کا یہ شعر پڑھتے ہوئے رخصت ہوئے کہ
پھر بہار آئی ،وہی دشت نوردی ہوگی
پھر وہی پاؤں وہی خار مغیلاں ہوں گے(خار مغیلاں ۔ببول ،کیکر کے کانٹے)

ڈربن کے ہوائی اڈے پر   ہمیں لینے آسٹریلوی نژاد ڈاکٹر آرتھر آئے تھے۔وہ کمپنی کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل تھے۔جیمز بونڈ جیسے۔پر اعتماد اور وجیہہ۔کار میں بیٹھتے ہی ہم سے پہلا سوال عمران خان کے بارے میں پوچھا تو ہم بڑے خوش ہوئے اور پوچھ بیٹھے کہ کیا انہیں عمران خان بہت پسند ہے ۔ہمارا سوال سنتے ہی ایسا لگا جیسے انہیں کسی نے ہاتھ میں کیکٹس کی باریک کانٹوں والی شاخ تھما دی ہو۔ انہوں نے عمران خان کا نام لے کر ایک ننگی گالی دی جسے آپ پنجابی میں ایڈی موٹی گالھ کہہ سکتے ہیں۔ ہمیں بڑی حیرت اور دکھ ہوا کہ عائشہ گلالئی اور ریحام خان کے علاوہ عمران کسی اور کو بھی اتنا برا لگتا ہے ۔

گورے سماجی طور پر بہت محتاط رویوں کے مالک ہوتے ہیں۔وہ یوں بھی ہماری میزبان کمپنی کے ملازم تھے اور ہماری شکایت ان کے لیے الجھن کا باعث بن سکتی تھی۔ہم نے پوچھا انہیں وہ اتنا خراب کیوں لگتا ہے تو بے چارگی سے کہنے لگے۔سولہ برس سے بائیس کی تین بیٹیوں کا باپ ہوں ۔یہ ناہنجار جب آسٹریلیا کھیلنے آیا تو میری بیٹیاں اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے شہر کی جملہ حسیناؤں کے ساتھ ہوٹل کے باہر رات رات بھر ڈیرے ڈالے رکھتی تھیں۔ اس کم بخت عمران نے ایک دفعہ اور بھی ہمیں ساؤ پاؤلو برازیل میں انگاروں پر لوٹایا۔ وہاں ہم اپنی مترجم رفیئلا کے ساتھ فٹ بال میچ دیکھنے جارہے تھے۔برازیل کا آسٹریلیا کے ساتھ میچ تھا اور پارک میں خلق خدا امڈی پڑی تھی۔کرکٹ کو برازیل میں کوئی نہیں جانتا۔راستے میں رفئیلا کی دو پڑوسنیں مل گئیں ہمارا پوچھنے لگیں کہ کیا تمہارا مہمان ہندوستان سے ہے تو وہ کہنے لگی نہیں پاکستان سے۔ وہ یک زبان ہوکر گویا ہوئیں ۔۔۔ آہا ہا عمران خان کی سرزمین سے۔۔

تم کو نہ ہو خیال تو ہم کیا جواب دیں

کہنے کو ہو ملال تو ہم کیا جواب دیں،

مشکل ہو عرض حال تو ہم کیا جواب دیں!!!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *