• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مارکسیّت، ترقی پسندی، نئی فکر کا احیاء اور اس کی جدید تر تعبیرات۔۔احمد سہیل

مارکسیّت، ترقی پسندی، نئی فکر کا احیاء اور اس کی جدید تر تعبیرات۔۔احمد سہیل

نظریاتی، ادبی مارکسی ادبی تنقید اور فکریات کا مطالعہ!
مارکسزم بنیادی طور پر ایک سائنس ہے ۔جس میں سماجیات کو تاریخی مادیت اور جدلیت کے تناظر میں سمجھنے اور اس کو بدلنے کی صلاحیت مو جود ہے ۔دوسری طرف ادب کا تعلق بنیادی طور پر جذبات و محسوسات اور حسیات سے ہے ۔جو سوچ اور احساس کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے اور محسوس کرنے کی حس کو جلا بخشتا ہے ۔اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو مارکسزم اور ادب کا تعلق ایک انتہائی سطحی اور پست نوعیت کا ہوتا ہے بلکہ اگر زیادہ واضح انداز میں بات کی جائے تو مارکسزم جیسی سائنس کا ادب جیسے ایک جذباتی اور حسیاتی موضوع سے کوئی سروکار ہی نظر نہیں آتا ۔یہی وجہ ہے کہ کہیں  مارکسٹ تنقید نگار ایک ہی جملے میں گزشتہ دس ہزار سالوں سے بھی زائد عرصے میں تخلیق کئے جانے والے ادب کو ’’جمالیاتی‘‘،’’جذباتی‘‘اور’’ غیر منطقی‘‘کہہ کر سرے سے ہی رد کر دیتے ہیں ۔

مارکسی تنقید کو ہی ترقی پسند تنقید اور سماجی تنقید کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے اور مارکسی تنقید ہی ایک ایسی تنقید ہے جسے اردو میں باقاعدہ ایک دبستان قرار دیا جاسکتا ہے۔ترقی پسند ادیبوں نے زندگی میں رونما ہونے والے مسائل کو اپنا موضوع بنایا یعنی سماج اور اس سے وابستہ مسائل کو اپنی تخلیقات میں پیش کرنے لگے اور ادب برائے زندگی کا تصور پیش کیا۔

مارکسی تنقید میں ادب کے مطالعے کے لیے سماجی حالات، طبقاتی تقسیم، اور تاریخ کے مادی عوامل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔کیونکہ اس کے تجزیے کے بغیر ادب کا سماجی نقطہ نظر واضح نہیں ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ مارکسی نقاد جمالیاتی، نفسیاتی، اور تاثراتی تنقید وغیرہ کو تسلیم نہیں کرتے۔مارکسی یا سماجی تنقید میں ادیب زندگی اور معاشرے کے ارتقاء کے مختلف عوامل کا ذکر کرتا ہے

سوویت یونین اور ماواسٹ چین میں جب اسٹالن ازم کے تحت کلاسیکی ادبی شاہکار تحریروں اور کتابوں پر پابندی لگائی گئی تو اس کے ساتھ نہ صرف ان ممالک (خاص طور پر روس )میں ادب کا کلاسیک ازم اور اعلی روس ادبی روایت سے  تعلق  ٹوٹ گیا بلکہ ریاستی سرپرستی میں ’’مزدور ادب ‘‘ کے نام جو تخلیق کیا گیا وہ کلاسیکی روسی ادب (جو بلاشبہ اپنی روایت میں دیگر ممالک کے ادب سے ایک مستشنی مقام رکھتا تھا صکہ روس میں ادب کا آغاز ہی حقیقت نگاری سے ہوا تھا عشر و عشیر کے برابر بھی نہیں تھا ۔

پشکن،دوستوفسکی ،ٹالسٹائی ،میخائل،بلگاکوف اور اکسا کوف کلاسیکی روسی  ادب کی مثالیں ہیں ادب کے ساتھ مارکسزم کے نام پر جو سلوک کیا گیا وہ درست تھا ؟یا کیا حقیقت میں دنیا میں اب تک تخلیق کیا گیا سارا ادب محض ’’جذباتی‘‘اور ’’غیر منطقی‘‘ہی ہے۔

” مارکسی ناقد کو یہ سماجی تجزیہ کس طرح کرنا چاہیے ؟ ۔مارکس ازم سماجی زندگی کو بطور کُل کے پیش نظر رکھتا ہے جس کے علیحدہ علیحدہ حصے ہیں جو ایک دوسرے پر انحصار رکھتے ہیں اور اس میں نہایت فیصلہ کن رول مادی اور اقتصادی رشتے اور ان سب کے اوپر انسانی محنت کرتے ہیں ۔ مثلاً مارکسی نا قد کو ایک عہدکے عمومی تجزیے میں اس عہد کے تمام سماجی ارتقا کی تصویر کھینچنی چاہیے۔ جب کسی ادیب یا کسی تخلیق پر بحث کی جارہی ہو تو اس وقت بنیادی اقتصادی صورت حال کے تجزیے کی ضرورت نہیں کیونکہ درست اصول جو پلیخانوف اصول کہلاتا ہے بطور خود سامنے آجاتا ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ کسی سماج میں ادبی تخلیق کا انحصار اس کی محض تخلیقی نوعیت کی حد تک غیر اہم ہے بلکہ اس کا انحصار سماج کے طبقاتی ڈھانچے اور اس نفسیاتی رابطے پر ہے جو طبقاتی مفاد کے نتیجے میں وجود میں آتے ہیں۔ شعوری ہو کہ غیر شعوری ہر ادبی تخلیق ہمیشہ اس طبقے کی نفسیات کی عکاسی کرتی ہے جس کی ادیب نمائندگی کرتا ہے ۔ بات یہ ہو یا جیسا اکثر ہوتا ہے کہ ادبی تخلیق مختلف عناصر کی بات کرتی ہو جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ متعدد طبقات کے اثرات رکھتی ہے اس کا پورے غور وفکر سے تجزیہ کیا جانا چاہیے۔(پوھوزانت » مارکسی تنقید کا مسئلہ ۔۔۔ لونا چرسکی۔ ماہتاک، ” سنگت” کوئیٹہ، مارچ 2018)۔

1923ءمیں جرمنی میں ہٹلر کی سرکردگی میں فاشزم نے سر اُٹھایا ، جس کی وجہ سے پورے یورپ کو ایک بحران سے گزرنا پڑا۔ ہٹلرنے  جرمنی میں تہذیب و تمدن کی اعلیٰ اقدار پر حملہ کیا ۔ بڑے بڑے شاعروں اور ادبیوں کو گرفتار کر لیا۔ ان شعراءو ادباءمیں آسٹائن اور ارنسٹ ووکر بھی شامل تھے۔ ہٹلر کے اس اقدام پر جولائی 1935ءمیں پیرس میں بعض شہر ہ آفاق شخصیتوں مثلا رومن رولان ، ٹامس مان اور آندر مالرو نے کلچر کے تحفظ کے لیے تمام دنیا کے ادیبوں کی ایک کانفرنس بلالی ۔اس کانفرس کا نام تھا۔” دنیا کے مختلف ثقافتوں کےادیبوں کی عالمی ثقافت کانگریس” ۔۔۔

ہندوستان سے اگر چہ کسی بڑے ادیب نے اس کانفرس میں شرکت نہیں کہ البتہ سجاد ظہیر اور ملک راج آنند نے ہندوستان کی نمائند گی کی ۔ اس طرح بعد میں سجاد ظہیر اور ملک راج آنند نے کچھ دیگر ہندوستانی طلبا کی مدد سے جو لندن میں مقیم تھے۔ ”انجمن ترقی پسند مصنفین“ کی بنیاد رکھی۔ اس انجمن کا پہلا جلسہ لندن کے نانکنگ ریستوران میں ہوا۔ جہاں اس انجمن کا منشور یا اعلان مرتب کیا گیا ۔ اس اجلاس میں جن لوگوں نے شرکت کی ان میں سجاد ظہیر ، ملک راج آنند ، ڈاکٹر جیوتی گھوش اور ڈاکٹر دین محمد تاثیر وغیرہ شامل تھے۔ انجمن کا صدر ملک راج آنند کومنتخب کیا گیا ۔ اس طرح انجمن ترقی پسند مصنفین جو ترقی پسند تحریک کے نام سے مشہور ہوئی وجود میں آئی ۔ترقی پسند تحریک کی تنقید   شروع میں اتنہا پسندی کا رجحان زیادہ تھا ۔ اس انتہا پسندی کے جوش میں انھوں نے میرتقی میر سے لے کر غالب تک بعض اچھے شعراءکو صرف اس جرم کی پاداش میں  یکسر  قلم زد کر دیا کہ انہوں نے طبقاتی کشمکش میں کسی طرح کا کردار ادا نہیں کیا۔

اکبر الہ آ بادی ، حالی ، سرسید ، اقبال وغیرہ ان کے لیے ناقابلِ قبول قرار پائے ۔لیکن اس ابتدائی  جارحیت کے بعد مجنوں گورگھپوری ، احتشام حسین ، عزیز احمد اور دیگر سلجھے ہوئے ناقدین نے اشتراکیت کے بارے میں اعتدال پسندی سے کام لیتے ہوئے عصری ادب میں نئی جہات دریافت کیں ۔ یہی نہیں بلکہ ماضی کے شعراء پر نئے زاویے سے روشنی ڈال کر ان کی عظمت میں اضافہ کیا۔ علی سردار جعفری ترقی پسند ادب کو عوام کی ملکیت تصور کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’ترقی پسند مصنّفین نے ادب کے اس تاریخی، مادی اور عوامی تصور کو اپنایا ہے۔ ان کے نزدیک ادب نہ تو چند پیٹ بھروں کی میراث ہے اور نہ ذہنی عیاشی کا سامان وہ ادب کو عوام کی ملکیت قرار دیتے ہیں اور اس پر زندگی کے سدھارنے اور سنوارنے کے مقدس فرائض عائد کرتے ہیں اور جدوجہد حیات میں اسے ایک حربے کی طرح استعمال کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ ۔مجنوں گور کھپوری پہلے تاثراتی تنقید نگار تھے، بعد  میں وہ  ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوگئے۔انہوں نے اپنی تحریروں میں اس پر زور دیا کہ ادب اور سماج کا رشتہ اٹوٹ ہے لیکن جب ترقی پسندوں نے ادب کے تقاضوں کو مسلسل نظرانداز کیا تو وہ اس تحریک سے بدظن ہوگئے۔ ان کے دوسرے مجموعہ مضامین ” ادب اور زندگی “ ، ”مبادیاتِ تنقید “ زندگی اور ادب کا بحرانی دور“ اور ”ادب اور ترقی “ میں انہوں نے اپنے قائم کردہ تنقید ی نظریات کی روشنی میں عملی تنقید کی ہے۔ وہ بھی دوسر ے ترقی پسند نقادوں کی طرح ادب کو زندگی کی کشمکش کا رجحان سمجھتے ہیں۔ لیکن مارکسی ہونے کے باوجود اُن کے ہاں ایک توازن کی کیفیت ملتی ہے اور اتنہا پسندی اُن کے ہاں پیدا نہیں ہوتی۔
مقاصد:۔
ترقی پسند تحریک نے اپنے منشور کے ذریعے جن مقاصد کا بیان کیا وہ کچھ یوں ہیں کہ اس تحریک کا مقصد
1۔ آرٹ او ر ادب کو رجعت پرستوں کے چنگل سے نجات دلانا اور فنون لطیفہ کو عوام کے قریب لانا ہے۔
2۔ادب میں بھوک ، افلاس ، غربت ، سماجی پستی اور سیاسی غلامی سے بحث کرنا
3۔واقعیت اور حقیقت نگاری پر زور دینا۔ بے مقصد روحانیت اور بے روح تصوف پرستی سے پرہیز کرنا۔
4۔ایسی ادب تنقید کو رواج دینا جو ترقی پسند اور سائینٹیفک رجحانات کو فروغ دے۔
5۔ ماضی کی اقدار اور روایات کا ازسر نو جائزہ لے کر صر ف ان اقدار اور روایتوں کو اپنانا جو صحت مندہوں اور زندگی کی تعمیر میں کام آسکتی ہوں۔
6۔ بیمار فرسودہ روایات جو سماج و ادب کی ترقی میں رکاوٹ ہیں ان کو ترک کرنا وغیرہ

ڈاکٹر طاہر منصور قاضی نے لکھا ہے ۔۔۔”ایک بنیادی سوال جو اس مقام پر ضروری ہے کہ مارکسزم اصل میں کیا ہے؟ بہت سے دانشور اسے سوویت  یونین کا ہدایت نامہ سمجھتے رہے ہیں۔ یہ سوچ بالکل سطحی ہے، کہ جیسے کسی مشین کے ساتھ آئے ہوئے کتابچے کو، جس میں استعمال کی ضروری ہدایات درج ہوتی ہیں، اُسے مشین کی سائنس اور انجیئرنگ سمجھ لیا جائے۔”
ادب شعور کے بڑے ووٹروں میں سے ایک ہے، اور تاریخ کے فریم ورک کے اندر مطالعہ کیا ہونا چاہیے ۔ جتنا ادب ایک ظالم ہتھیار کے طور پر برقرار رکھنے اور ماسٹر دراڑیں تسلط کو نافذ کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے یہ بھی اس تسلط کو کمزور کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے
ناپائیدار سٹے بازی پرہے برائے ادب کے دو اہم طریقے، رائے اور مختلف مارکسی مفکرین اور ناقدین جیسے لوکاکس، بریچٹ، ادورنو، ریمنڈ ولیم اور دوسروں کے درمیان عملیات میں فرق سے قطع نظر اس میں دیکھے جا سکتے ہیں:

مارکسی یا یساریت پسند ادبی تنقید کا متن اور اس کی مناجہیات
مارکسی ادبی تنقید کا متن ایسی مناجیات یا طریقیات کو تلاش کرتی ہے اور ان میں دلچسپی لیتی ہے ۔ جن میں متن ماتحت طبقات پر ایک غالب معاشی طبقے کے نظریاتی ظلم اور معاشرتی جبر کو ظاہر اور بے نقاب کرتا ہے۔ . ایسا کرنے کے لئے ایک مارکسی ادبی ناقد یہ سوالات   پوچھ سکتا ہے،

1۔کیا متن غالب نظریات کی عکاسی یا مزاحمت کرتا ہے؟ یا اس ادبی تنقیدی متن کو توسیع دیتا ہے۔؟ کیا متنی بیانیہ میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے بوژوا اقدار کی تصدیق یا مزاحمت کرتا ہے؟ اور کونسی کہانی متن میں بتائی یا اس کی تشریح وتفہیم کی جاتی ہے ؟

2۔کیا معاشرے کے پسے یا کچلے ہوئے طبقے کم معاشی گروہوں کو نظر انداز کیا گیا یا اس کے لیے سفارشات اور عملی اقدام اٹھائے گئے؟ کیا اقدار میں مستحکم معاشی گروپ کا استحکام فراہم کرتے ہیں؟ مگر یہ ممکن ہے ۔ جو خود اقدار کو ظاہر کرتی ہیں. وہ فن کے حالات اور جزیات کا ادراک رکھتے ہیں۔ حالات کا تجزیہ کرتے ہیں۔ ساختیات مباحث نے مارکسی ادبی تنقید کی سکہ بند جگالی کا ازسرنو مطالعہ کیا اور اسے نئے معنویت سے ہم کنار کیا اور مارکسی ادبی آئیڈیالوجی اورتنقید کو لوکاش، باختن،آلتھیوز، جیمسن، ایگلٹن، پئیر ماشرے، لوسین گولڈ مین ئے پیرائے اور مناجیات کی مدر سے قرات کی اور مارکسی آئیڈیالوجی میں سے نئے رموز اور نکات اخذ کئے، اور ان کی طہارت بھی کی ۔

یساریت پسند ادب میں سرمایہ داریت ، دولت کی لوٹ کھسوٹ اور حکمران طبقات کے نظریے کو نافذ کرنے کا ردعمل تھا۔ جس کا مقصد پسں حکایت یہ تھا کہ ابھی تک تضادات کے بغیر اس بنیادی موضوعی قیاسات کے کمزور پڑ نے کا خدشہ ہوسکتا ہے۔ ۔ کے طور پر ایک ترقی پسند حکایت کہ مظلوم خراب بورژوائی ترتیب کے خلاف اپنی طویل اور سخت جدوجہد میں ۔ لوکاکس سمیت کچھ روایتی مارکسی نقادوں نے اپنے تحریروں میں حقیقت پسندی کی اہمیت پر زور دیا اور سب کے نمائندے طبقاتی جدوجہد کے تو پر دیگر طریقوں کی دہریت کے تحت ، مابعد /جدیدیت کے طور پر ۔ اپنے نظریاتی مؤقف کے دفاع بھی کیا گیا۔ ، وہ ایلیٹ جوائس، ورجینا ولف دوسروں کے درمیان تو دیکھا جاسکتا ہے۔

اس طرح قدیم مصنفین کے یہاں  بھی عام انسانوں کے دکھ اور مظلوموں کی جدوجہد کی نمائندگی دکھائی نہیں دیتی اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ذاتی تجربات ان کی تحریروں میں بسی ہوئی ہیں۔ ۔ روایتی یساریت پسند حقیقت پسندی کی وجہ سے لوگوں نے  حقیقی حالات بورژوائی دنیا جابرانہ قوتوں کو مسترد کرتے ہوئے پرولتالیہ آواز کے ذریعے ان کے معاشرتی حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کی اور مظلوم لوگوں کے لیے آواز اٹھائی۔ ۔اور ان کہانیوں  کو رد کرتے ہوئے۔ ان سے سمجھوتہ نہیں کیا جو بورژوائی متروک اخلاقیات اور اقدار وراثت اور استحصال کی تائید سے انکار کیا جس میں انسانوں کے طبقات ، انسانی دکھ ، بے نقاب تنازعات اور مختلف فاسد نظریات کی مقتدریت کو ٹھکرا دیا گیا۔ جو نسلوں سے معاشرتی، ثقافتی، سیاسی متن اور مکرو شکل میں فرد کے شعور کی دنیا پر غلبہ حاصل تھا۔۔ دیگر مفکرین اور کئی ادیبوں نے جس میں برتوت بریخت، ادورنو، لوئی آلتھیوز، ایگلٹن، جیمسن شامل تھے ان سب نے کس طرح تمام ہیتوں اور مکتبہ فکر کو مقتدر اور مناسب تصور کرتے ہیں۔ترقی پسند تحریک نے سماجی زندگی میں تغیر و تبدیلی پیدا کی۔

اس تحریک نے سماج کو رجعت پسندی سے نکال کر ایک نئے سماج کی عمارت کھڑی کی اور اس کے ذریعہ اردو ادب میں ایک انقلاب پیدا ہوا جس سے ادب زیادہ جاندار اور خوبصورت ہوگیا۔ ترقی پسند تحریک کے اثرات زیادہ افسانے اور شاعری پر ہوئے۔ ادب سے دلچسپی رکھنے والا ہر شخص اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ ترقی پسند تحریک کے دور میں شعرا اور افسانہ نگاروں کی ہی تعداد بہت زیادہ تھی اور ان ادیبوں نے ترقی پسند تحریک کے اصول و ضوابط پر عمل کرتے ہوئے سماج میں غربت، افلاس، ظلم و ستم، بے انصافی، استحصال، جیسی برائیوں پر کھل کر اظہار بھی کیا ہے۔یساریت پسن ادبی متںن و فکر ان افتراقی روّیوں کو مادی بنیادوں پر بے نقاب کرتی ہے۔ او ر اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ جیاک یا تسور طبقاتی تقسیم میں شریک ہونے والے کسی بھی گروہ سے  جڑا ہوا ہے۔ اور یہیں سے عام قاری خالص ادب کے حصار سے باہر نکل کر وسیع تر عوامی دائرے میں داخل ہو جاتا ہے۔ جو ادبیات اور معاشرے کے باہمی انسلاکات کو نمایاں  طور پر سامنے لے آتی ہے۔ اور یوں یہ خیال اور شعور کو بیدار کرتا ہے اور ماورائیت سے اصل اور حقیقی دینا میں آجاتی ہے جس مین فن، جمالیات اور معاشرتی حقاءق کی گرہیں کھلتی ہیں اور فرد کر ایک وسیع سیاق میں نئے آفاق سے آگاہی ممکن ہو پاتی ہے۔
ماخذات:
ڈاکٹر انور سدید :اردو ادب کی تحریکیں ابتدا تا 1975،انجمن ترقی اردو، پاکستان۔ ۱۹۹۹
علی سردار جعفری: ترقی پسند ادب،انجمن ترقی اردو (ہند) علی گڑھ 1951،
ثاقب رزمی: ترقی پسند نظریہ ادب کی تشکیل جدید،آئینہ ادب چوک مینار انار کلی، لاہور،
ژینو سیلورینی ” مارکسیّت اور فن ” { ترجمہ۔ سجادضوی } نئی تحریریں، لاہور شمارہ پنچم
ظہیر کاشمیری، ادب کے مادی نطرئیے، کلاسیک، لاہور ۱۹۷۵
گوپال متل، ادب میں ترقی پسندی: ایک ادبی تحریک یا سازش، نیشنل اکیڈمی، دہلی ۱۹۵۸
ہنس راج رہبر: ترقی پسند ادب: ایک جائزہ، آزاد کتاب گھر کلاں محل دہلی، 1967،
عزیز احمد: ترقی پسند ادب، چمن بک ڈپو اردو بازار، دہلی،
احمد سہیل: ساختیات اور مارکسّیت، بشمول جدید تنقید کا منظر نامہ، { مرتب۔ ڈاکٹر ارتضٰی کریم}، موڈرن پبلشنگ ہاوس، نئی دہلی۔
خلیل الرحمان اعظمی: اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک، ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ، 2007،
وھاب اشرفی: مارکسی فلسفہ، اشتراکیت اردو ادب : ایجوکیشنل پبلشنگ ھاؤس, دہلی2010
حمیرا اشفاق : “ترقی پسند تنقید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پون صدی کا قصہ فکری و نظری مباحث”،سانجھ پبلی کیشنز (لاہور) ، 2012۔
ڈاکٹر طاہر منصور قاضی : مارکسزم: فلسفہ اور نئے سماج کا خواب، “نیا زمانہ” ۲۳ نومبر ۲۰۱۶
پروفیسر قمر رئیس، سید عاشور کاظمی { مرتبین}: ترقی پسند ادب، بچاس سالہ سفر۔ ایجوکشینل پلبشنگ ہاوس، دہلی، ۱۹۸۹۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”مارکسیّت، ترقی پسندی، نئی فکر کا احیاء اور اس کی جدید تر تعبیرات۔۔احمد سہیل

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *