سوشل میڈیا اور آزادی اظہار!

بیسوی صدی کے وسط میں ٹی وی کی ایجاد کو میڈیا اور ٹیکنالوجی کے انقلاب میں بنیادی حیثیت حاصل ہے جس کے بعد گویا ہر دہائی میں ایک نئی ایجاد کا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے ۔ ٹیکنالوجی کے اس عالمگیر انقلاب سے دنیا انسان کے ہاتھ اور جیب میں سمٹ آ ئی ہے۔ فیس بک ، ٹوئیٹر اور سوشل میڈیا کے دوسرے تمام ذرائع بھی اسی انقلاب کی ایک کڑی ہیں جو ہر عام و خاص کے یکساں استعمال میں ہیں بلکہ مختلف سربراہان ریاست کے ہاں بھی خاصے مقبول ہیں ۔ میڈیا کے آج سے پہلے یا آج جتنے بھی ذرائع موجود ہیں انکا بنیادی مقصد مختلف علاقوں کے افراد کے درمیان رابطہ و تعلق قائم کرنا ، عوام کو باخبر رکھنا اور عوام میں شعور پیدا کرنا ہے۔ یہ میڈیا کے مختلف ذرائع ہی کا کمال ہے کہ آج کا انسان اپنے ماضی اور تاریخ سے اتنا باخبر ہے جتنا پہلے کبھی نہیں رہا ، آج کا انسان ماضی کے واقعات یوں بیان کر رہا ہے گویا چشم دید گواہ ہو اور حال میں ہونے والے واقعات کی خبر اس برق رفتاری سے انسان تک پہنچتی ہے جسکا گزشتہ صدی یا اس سے پہلے گمان تک بھی نہیں کیا جا سکتا تھا ۔انٹرنٹ اور بالخصوص سوشل میڈیا نے ایک اضافی سہولت تو یہ فراہم کی ہے کہ اب افراد انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے اذہان میں محفوظ معلومات کو با آسانی دوسروں تک پہنچا سکتا ہے اور جدید جمہوری نظام میں آزادی اظہار کا اصول اسے مزید قانونی جواز اور قوت بھی فراہم کر رہا ہے ۔ دوسرا اضافی پہلو یہ ہے کہ سوشل میڈیا نے معلومات تک عام اور آسان رسائی کے ساتھ ساتھ افراد کے لیے تفریح کا بھی خوب انتظام کیا ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ آج انٹرنٹ پر جتنا بھی متنازعہ ، گستاخانہ اور غیر اخلاقی مواد موجود ہے وہ اسی آزادی اظہار اورتفریح کے نام پر پھیلایا جا رہا ہے ۔ آزادی اظہار کی اجازت تو یقیناً ہر معاشرے میں ہونی چاہئیے لیکن آزادی اظہار سے قطعاًٍ یہ مراد نہیں کہ اسلامی شعائر اور ہستیوں کی توہین کی جائے ،ایسا طرزِ عمل آزاد اور روشن خیالی کا نہیں بلکہ جہلا کا شغل رہا ہے۔
ہمارے ہاں کے سکیولر اور لبرل لوگ اپنے آزادی اور روشن خیالی کے دعوے میں بھی جھوٹے ہیں اس لیے کہ ایک آزاد اور روشن خیال شخص ذاتی پسند ، نا پسند، عناد اور حسد سے بالا تر ہو کر مطالعہ، تحقیق اور تجزیے کی بنیاد پر رائے قائم کرتا ہے جبکہ ہمارے ہاں کے یہ نئے مفکر یورپی تہذیب کے فرزند اور مغربی اماموں کے جامد مقلد ہیں جنکی اسلام سمیت کسی دوسرے مذہب پر کوئی تحقیق نہیں ہے ۔ اگر اسلام پر کچھ تھوڑی بہت بھی تحقیق کی گئی ہوتی تو کبھی بھی یوں ارب ہا مسلمانوں کے مذہب جن میں آج کے ان مفکروں سے ذہنی اور قلبی طور کئی درجنوں بلند شخصیات بھی شامل ہیں کا انکار نہ کیا جاتا۔ دنیا کا کوئی نظام اور نظریہ یکسر غلط نہیں ہوتا بلکہ اس میں نقائص کے ساتھ خوبیاں بھی ضرور پائی جاتی ہیں ۔اسلام کا تو معاملہ ہی مختلف ہے کیونکہ اسلام کسی شخص کا تراشیدہ مذہب نہیں ہے بلکہ خدا تعالی کا پسند کیا ہوا مذہب ہے ۔یہ اسلام کا ہی امتیازی و اعجازی وصف ہے کہ اسلام میں انسانی زندگی کے ہر پہلو اور گوشے کے متعلق اس طرح مکمل تعلیمات ملتی ہیں جسکا تصور کسی انسانی ذہن یا دوسرے مذہب میں ملنا ناممکن ہے۔ اسلام کے ضابطہ حیات میں زندگی،موت،رہن سہن، باہمی میل جول، ریاست کے معاملات بارے رہنمائی تفصیلاً بیان کی گئی ہے، لہذا یوں اسلام کا کلی طور پر رد اور بے جا تنقید کیا اس بات پر دلیل نہیں کہ ایسے لوگوں کی اسلام پر کوئی تحقیق نہیں ہے اور وہ محض اپنی پسند و نا پسند کی بنیاد پر رائے زنی کیے جا رہے ہیں۔یہ عمل محض فتنہ اور فساد کے سوا کچھ نہیں ۔ آئین پاکستان میں آزادی اظہار کی جو اجازت دی گئی ہے اس میں اسلام کی عظمت کا ملحوظ رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے چنانچہ آئین پاکستان کے آرٹیکل انیس میں درج ہے کہ :اسلام کی عظمت یا پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سالمیت ،سلامتی یا دفاع غیر ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات،امن عامہ ،تہذیب یا اخلاق کے مفاد کے پیش نظر ، یا توہین عدالت ،کسی جرم یا اس کی ترغیب سے متعلق قانون کے ذریعے مناسب پابندیوں کے تابع ،ہر شہری کو تقریر اور اظہار خیال کی آزادی کا حق ہوگا اور پریس کی آزادی ہوگی۔
پاکستان میں عدلیہ کے احترام، آئین و پارلیمنٹ کےتقدس، قومی سلامتی کے اداروں کے احترام اور بانی پاکستان کی عزت کے قوانین اور ضوابط کی پاسداری جب ہر شخص پر لازم ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ اسلام ( جو ریاست پاکستان کا بھی سرکاری مذہب ہے) کے متعلق مخصوص سوچ کے حامل افراد کو آزادی اظہار کے نام پر کھلی چھٹی دے دی جائے؟ کیا یہ عدل و انصاف کے تقاضوں کے منافی نہیں ہے؟ کیا یہ اسلام کے ساتھ روا رکھا جانے والا امتیازی سلوک نہیں ہے؟ اور کیا یہ آئین پاکستان کے الفاظ کے مطابق امن عامہ اور تہذیب و اخلاق کے اصولوں کے بھی منافی نہیں ہے؟
انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے درجہ اول کے نقصانات میں سے دوسرا نقصان تفریح کے نام پر پھیلایا جانے والا غیر اخلاقی مواد،فحاشی ،بے حیائی اورعریانی ہے ۔یہ اگرچہ اس وقت تو ہماری مجموعی توجہ کا مرکز نہیں ہے لیکن ہماری عدم توجہی کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ نقصان موجود ہی نہیں ہے بلکہ پوری طاقت کے ساتھ اپنی جگہ موجود ہے اور روز افزوں اس میں مزید اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے جس کے سحر میں ہماری پوری ایک نسل گرفتار ہے ۔افراد کی طرح مجموعی طور پر قوم کے لیے بھی مناسب تفریح کا انتظام تو ضرور ہونا چاہئیے لیکن آخر دنیا کا کونسا معاشرہ اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ تفریح کے نام پر اخلاقی اقدار ، معاشرتی روایات اور مذہبی حدود کو پامال کیا جائے ۔پاکستانی حکومت نے اس جانب اگرچہ کچھ توجہ دی ہے اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان صاحب نے بیان میں کارروائی کا عندیہ بھی دیا لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ رسمی بیان بازی سے آگے نکل کر فی الفور کارروائی کا آغاز کیا جائے اور ایسے لوگوں کو سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی دوسرا شخص اس قسم کی کارروائی سے باز رہے ۔یہ کام اگرچہ بہت پہلے ہو جانا چاہئیے تھا لیکن ہمارا المیہ ہے کہ یہاں اس وقت تک کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا جب تک کوئی بڑا سانحہ روپذیر نہ ہو جائے۔ اس عمل کے لیے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کو اگرمحدود مدت تک بند بھی کرنا پڑتا ہے تو کیا جائے کیونکہ یہ نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ ملک کے امن و امان، معاشرتی و مذہبی اقدار اور قوم کی تربیت کا تقاضا بھی ہے ۔

اعزاز کیانی
اعزاز کیانی
میرا نام اعزاز احمد کیانی ہے میرا تعلق پانیولہ (ضلع پونچھ) آزاد کشمیر سے ہے۔ میں آی ٹی کا طالب علم ہوں اور اسی سلسلے میں راولپنڈی میں قیام پذیر ہوں۔ روزنامہ پرنٹاس میں مستقل کالم نگار ہوں ۔ذاتی طور پر قدامت پسند ہوں اور بنیادی طور نظریاتی آدمی ہوں اور نئے افکار کے اظہار کا قائل اور علمبردار ہوں ۔ جستجو حق اور تحقیق میرا خاصہ اور شوق ہے اور میرا یہی شوق ہی میرا مشغلہ ہے۔ انسانی معاشرے سے متعلقہ تمام امور ہی میرے دلچسپی کے موضوعات ہیں مگر مذہبی وقومی مسائل اور امور ایک درجہ فضیلت رکھتے ہیں۔شاعری سے بھی شغف رکھتا ہوں اور شعرا میں اقبال سے بے حد متاثر ہوں اور غالب بھی پسندیدہ شعرا میں سے ہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *