احتساب کا دائرۂ کار۔۔محمد فیصل

آج جس ماحول اور معاشرہ میں ہم اپنی زندگی بسر کررہے ہیں اس کا اسلامی طرزِ حیات سے تعلق نہایت کمزور ہوچکا ہے۔اسی کا شاخسانہ ہے کہ آج ہمارے خیالات ، احساسات، اخلاقیات، معاملات ، عبادات غرضیکہ ہر شعبۂ زندگی میں ابتری نظر آتی ہے۔آج ہم کہنے کو تو مسلمان ہیں مگر الا ماشاء اللہ  ہماری اکثریت دینِ اسلام سے بے بہرہ ہے۔کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا اسلام سے رشتہ صرف نام کی حد تک رہ گیا ہے۔دیگر اُممِ سابقہ میں جو برائیاں انفرادی طور پر پائی جاتی تھیں آج بدقسمتی سے وہ تمام برائیاں اجتماعی طور پر امت مسلمہ میں موجود ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ زمانے بھر کے لئے ایک مسلمان کا کرداراسلام کی خوبیوں کا آئینہ ہوتا لیکن افسوس کے ساتھ آج اس حقیقت کے اعتراف سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں کہ ہم مسلمانوں کی بداعمالیوں کے نتیجہ میں اسلام پر بھی حرف آرہا ہے۔
آج کہنے کی حد تک ہمارے درمیان اصلاحِ معاشرہ کی آواز لگانے والے کم نہیں۔اس مقصد کے لئے نجانے کتنی انجمنیں ، کتنی جماعتیں اور پارٹیاں سرگرمِ عمل نظر آتی ہیں اور ان کے تحت آئے دن ان گنت جلوس اور اجتماعات بھی منعقد ہوتے رہتے ہیں مگر عموماََ ان تمام سرگرمیوں کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ ہمارے سامنے نہیں آپاتا اور اصلاحِ حال میں کوئی قابلِ ذکر ترقی دیکھنے میں نہیں آتی۔لا محالہ ذہن میں یہ سوال گردش کرنے لگتا ہے کہ یہ ساری کوششیں معاشرے کو بدلنے میں کیوں ناکام نظر آتی ہیں؟ آخر اس کی کیا وجوہات ہیں ؟

قرآنِ مجید اللہ  تعالیٰ کی آخری الہامی کتاب ہے۔ اس صحیفۂ مقدس میں زندگی کے ہر شعبے سے متعلق رہنمائی موجود ہے۔جب ہم اپنے مذکورہ بالا سوال کا جواب قرآنِ کریم میں تلاش کرتے ہیں تو قرآن نہ صرف ہماری ناکامی کی وجہ بیان کرتا ہے بلکہ کامیابی کا نسخہ بھی ساتھ میں عطا کرتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
یاایھا الذین آمنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذااھتدیتم الی اللہ  مرجعکم جمیعا فینبئکم بما کنتم تعلمون۔ ( سورہ مائدہ ، آیت 105)
ترجمہ : اے ایمان والو ؛ تم اپنے آپ کی خبر لو، اگر تم سیدھے راستے پر آگئے تو جو لوگ گمراہ ہیں، ان کی گمراہی تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔ تم سب کو اللہ  کی طرف لوٹنا ہے، وہاں پر اللہ  تعالیٰ تمہیں بتائیں گے کہ تم دنیا کے اندر کیا کرتے رہے ہو۔

اس آیتِ کریمہ میں غور کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اصلاحِ حال کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں میں ناکامی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی فرد یا تنظیم اصلاحِ معاشرہ کا بیڑہ اٹھاتی ہے تو اس کا سارا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ اصلاح کا آغاز اس کا مخاطب اپنے آپ سے کرے۔اب دوسروں تک اصلاح کا پیغام پہنچانے میں تو اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جاتا ہے مگر دوسری جانب اپنی ذات اور اپنے حالات میں تبدیلی لانے سے غفلت برتی جاتی ہے۔ اس حقیقت کو عموماََ نظر انداز کردیا جاتا ہے کہ معاشرہ دراصل افراد کے مجموعے کا نام ہے۔اگر ہر شخص انفرادی طور پر اپنی اصلاح کی فکر کرے اور خلوصِ نیت سے اپنے عیوب دور کرنے کے لئے سرگرم ہو جائے تو معاشرہ کی اصلاح خود بخود عمل میں آجائے گی۔ اس حقیقت کو قرآنِ کریم نے ایک اور مقام پر اس طرح بیان کیا ۔
یا ایھا الذین اٰمنو اتقوا للہ والتنظر نفس ما قدمت لغد۔
ترجمہ: اے ایمان والو؛اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لئے آگے کیا بھیجا ہے۔

اگر بصیرت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو ایک مسلمان کو ہر عمل میں اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ اس کا قیامت کے دن کیا انجام ہوگا۔ کیونکہ ایک مسلمان صبح بیدار ہونے سے لے کر رات کے سونے تک ہر عمل شریعت و سنت کے مطابق انجام دینے کا پابند ہے۔حج بیت اللہ  جیسی عظیم عبادت سے لے کر بیت الخلاء جانے کی ذاتی ضرورت تک ایک ایک امر کا طریقہ اسلام میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے لہٰذا ہر مسلمان کو اپنے شب و روز کے معمولات کا جائزہ لینا چاہیے اوراپنا احتساب کرنا چاہیے کہ میں کتنے کام اللہ  تعالیٰ کی رضا کے مطابق سنت طریقے سے انجام دے رہا ہوں اور کتنے کام اس کے خلاف کررہا ہوں۔اس کے پیشِ نظر مرادِ رسول حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد رہنا چاہیے کہ تم اپنے نفسوں کو تول لو اس سے پہلے کہ تمہیں تولا جائے، تم اپنے نفسوں کا محاسبہ کرلو اس سے پہلے کہ تم سے حساب لیا جائے، ایسا کرنا کل (قیامت) کے حساب میں تمہارے اوپر آسانی کرے گا ، اس سے پہلے کہ تم سے تمہارے نفسوں کا حساب لیا جائے اور بڑی پیشی کے لئے اپنے آپ کو مزین اور تیار کرلو۔

ایک روایت میں آتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا کہ یا رسول اللہ  ﷺ؛ مجھے وصیت فرمائیے۔ فرمایا کیا تو وصیت کا طلب گار ہے؟ اس نے کہا ہاں۔فرمایا کہ جب تو کسی بات کا ارادہ کرلے تو اس کے انجام کو سوچ لے۔ اگر اچھا ہو تو کر گزر اور اگر(اس کا انجام) سرکشی یا برائی ہو تو اس سے رک جا۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ  کا ارشاد ہے کہ مومن اپنے نفس کا حکمران ہے، وہ اس کا احتساب کرتا رہتا ہے تاکہ قیامت کو اس کا حساب آسان رہے۔جو دنیا میں اپنے نفس کا محاسبہ نہیں کرتے قیامت کے دن ان کا محاسبہ سخت ہوگا۔پھر محاسبہ کی تفسیر میں حضرت حسن بصری رحمہ اللہ  نے ارشاد فرمایا کہ اچانک کوئی چیز مومن کے سامنے آتی ہے اور وہ کہتا ہے کہ اللہ  تو مجھے پسند ہے لیکن تیرے اور میرے درمیان حساب حائل ہے۔حضرت عبداللہ  بن سلام رضی اللہ  عنہ کا واقعہ ہے کہ وہ لکڑیاں اٹھائے ہوئے بازار سے گزرے تو لوگوں نے کہا کہ اے ابو یوسف؛ آپ کے گھر میں تو لکڑیاں موجود تھیں اور آپ کے غلام بھی خدمت کے لئے موجود ہیں، آپ نے یہ کام کیوں کیا؟ آپ نے جواب دیا کہ میں اپنے نفس کا امتحان لے رہا تھا کہ کہیں یہ ان کاموں کو برا تو نہیں سمجھتا۔

حضرت عبداللہ  ابن عباس رضی اللہ  عنہ نے فرمایا کہ اے گناہ کرنے والے؛ تو برے انجام سے اور اس چیز سے بے خوف ہو جا جو گناہ کرچکنے کے بعد گناہ سے بڑی پیش آتی ہے۔ اگر تیری حیاء ان فرشتوں سے کم ہوگئی ہے جو تیرے دائیں اور بائیں جانب ہیں اور تو گناہ پر لگ رہا ہے، تو ان فرشتوں سے تیری حیاء کا کم ہو جانا اس گناہ سے زیادہ بڑا گناہ ہے جس کا تونے ارتکاب کیا ہے۔اور تیرا اس حالت میں ہنسنا کہ تو یہ نہیں جانتا ہے کہ  اللہ  تیرے ساتھ کیا کرنے والا ہے، یہ تیرے گناہ سے زیادہ بڑا گناہ ہے۔ اور تیرا اس گناہ پر خوش ہونا جس گناہ کے کرنے میں تو کامیاب ہوگیا ہے ، یہ خوش ہونا اس گناہ سے زیادہ برا گناہ ہے۔ اور جب کوئی گناہ تجھ سے چھوٹ جائے اور تو اس پر رنج کرے ،یہ اس گناہ سے زیادہ بڑا گناہ ہے کہ تو اس گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔اور تیرا اس ہوا سے ڈرناجو تیرے دروازے کے پردے کو ایسے وقت میں حرکت دے دے جبکہ تو مبتلائے گناہ ہو اور تیرے دل میں اس بات سے کوئی بے قراری نہ ہو کہ  اللہ پاک تیری طرف دیکھ رہا ہے، یہ اس گناہ سے زیادہ بڑا گناہ ہے جس کو تو کررہا ہے۔

تمام صحابہ کرام رضواناللہ  علیہم اجمعین کا یہی حال تھا کہ ہر ایک کو یہ فکر لگی ہوتی تھی کہ میرا کوئی عمل، میرا کوئی قول ، میری کوئی ادا اللہ  تبارک و تعالیٰ اور اللہ  کے رسول ﷺ کے حکم کے خلاف تو نہیں ہے۔ خودسرکارِ دو عالم محبوبِ خدا خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ بھی اپنے محاسبہ نفس کا سختی سے اہتمام فرماتے تھے۔ابن ماجہ میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ  عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک تیز گرمی کے دن بقیع کی طرف چلے اور لوگ آپ کے پیچھے چلتے تھے۔ جب آپ نے جوتیوں کی آواز سنی تو آپ کے قلب پر یہ امر گراں گزرا۔ پس آپ بیٹھ گئے یہاں تک کہ لوگوں کو اپنے آگے کردیا تاکہ کوئی اثر برائی کا آپ کے قلب میں واقع نہ ہوجائے۔

حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ  اس حدیث کے ذیل میں تحریر فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں غور کرنے سے ناقص تو ناقص کاملین کی بھی آنکھیں کھلتی ہیں اور ان لوگوں کہ غلطی ظاہر ہوتی ہے جو زعمِ کمال کے بعد اپنی نگرانئ حال سے بے فکر ہوجاتے ہیں۔خوب سمجھ لینا چاہیے کہ اکابر بھی کو فارغ ہو کر نہ بیٹھنا چاہیے۔مثل مبتدی کے اہتمامِ اصلاحِ حال اور اندیشۂ تغیرِ حال میں لگا رہنا چاہیے اور اسی میں خیریت ہے۔

مندرجہ بالا تفصیل سے یہ بات بخوبی واضح ہوتی ہے کہ اگر سلف صالحین کے طرز پر ہر شخص کو اپنی اصلاح کی فکر پیدا ہوجائے تو سارا معاشرہ خودبخود سدھر جائے۔لیکن اس کے برعکس اگر ہرشخص دوسرے کی فکر کرتا رہے اور اپنے کو چھوڑتا رہے تو سارا معاشرہ خراب ہی رہے گا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر شخص اپنے عیوب کا جائزہ لے کہ میں کیا کیا کام غلط کررہا ہوں اور پھر اس کی اصلاح میں لگ جائے ، پھر چاہے کوئی تنظیم یا جماعت نہ بنائے لیکن آدمی کم از کم اپنی ذات کی اصلاح کرلے اور خود صراطِ مستقیم پر آجائے۔تو اسی طرح ایک سے دو، دو سے چار، چراغ سے چراغ جلتے ہیں اور رفتہ رفتہ پورے معاشرے میں سدھار پیدا ہوتا جاتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *