• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سینیٹ چئیرمین کا الیکشن ،اصل پارٹی تو اب شروع ہوئی ہے۔۔عبید اللہ چوہدری

سینیٹ چئیرمین کا الیکشن ،اصل پارٹی تو اب شروع ہوئی ہے۔۔عبید اللہ چوہدری

رضا ربانی کی حمایت کا اعلان کر کے نوازشریف نے سیاست کی ایک بڑی چال چلی۔ میں تو قائل ہو گیا کہ میاں صاحب اب اتنے بھولے نہیں رہے جتنا کئی لوگ آج بھی ان کو قرار دے رہے ہیں۔ 2018 کے عام انتخابات سے قبل رضا ربانی کی حمایت ترپ  کا پتا تھا۔ اس سے انہوں نے گیم اوپن کر دی۔ اس نہلے پر زرداری صاحب نے دہلا تو مارا ہے مگر چئرمین سینیٹ لانے کے لیے ان کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ان کی سیاسی بازی کے کئی پتے بھی پہلے شو ہو گئے ہیں۔

ن لیگ نے اصطبل سے ایک “خاکی گھوڑے” کا انتخاب کیا تاکہ ان کی بازی مضبوط ہو سکے۔ اس خاکی گھوڑے کے علاوہ کسی قد آور شخصیت کو سینیٹ کی ٹکٹ ہی نہ  دی ،جسے چیئرمین کا امیدوار بنایا جا سکے۔ اب پیپلز پارٹی کے تگڑے ترین گھوڑے کو چیئرمین شپ سے آؤٹ کرنے کا اس سے آسان طریقہ اور کیا تھا کہ ن لیگ اس کی حمایت کر دے۔ اب اگر زرداری اس پر مان جاتے تو عمران کہتا کہ یہ دونوں ملے ہوئے ہیں۔ اور یہ بھی ثابت ہوجاتا  کہ کنگ میکر زرداری نہیں نواز شریف ہے۔ اور یہ کسی صورت زرداری صاحب کو قبول نہیں۔ اس سے آنے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو پنجاب میں کافی نقصان ہونا تھا اور پارٹی کا جو ووٹر مایوس ہو کر پی ٹی آئی میں گیا تھا اس کا واپس آنا مشکل ہو جاتا۔

یہ بات سچ ہے کہہ جیالا عمران کی محبت میں نہیں بلکہ آپشن نہ  ہونے پر نوازشریف کی مخالفت میں “بلے” کے پاس گیا تھا۔ اب پنجاب میں آپشن دینا ہی پی پی پی کا اصل چیلنج ہے۔ اگر عمران کا بیانیہ کہ نواز زرداری بھائی بھائی ہیں ‘چل جاتا تو پی پی پی کا پنجاب میں (جو پہلے ہی آئی سی یو میں ہے) نام و نشان ہی مٹ جاتا۔

دوسرا نواز شریف یہ بھی ثابت کرنے میں کامیاب رہے کہ وہ ہی اصولی سیاست دان ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کو وہ ہی ٹکر دے سکتے ہیں۔ مگر اس خاکی گھوڑے کا کوئی کیا کرے۔ مشاہد حسین کی شمولیت اس شک کو مضبوط  کرتی ہے کہ” شیر” اب بھی اپنے “رنگ ماسٹر”کی خوشنودی کے لیے  سرگرم ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو ٹکر دینے کا ایک مناسب وقت ہوتا ہے۔ زرداری پہلے ایک بار غلط موقع پر بڑھک مار کر اپنا نقصان کر چکے ہیں اب وہ بالکل بھی ایسا دوبارہ کرنے کے لیے  تیار  نہیں۔ اب “اینٹ” سیاست کی چادر میں چھپا کر رکھنا ہی عقلمندی ہے۔ 2018 کے الیکشن کے بعد جس کی جتنی زیادہ طاقت ہو گی وہ اتنا زیادہ “گیم” میں آگے ہو گا۔اب ساری دوڑ اسی ایک مقصد کے لیے ہے۔ میاں صاحب نے سیاسی ہونے کا ثبوت دے کر مقابلہ دلچسپ بنا دیا ہے۔

لیکن وقت کا کیا ظلم ہے کہ اقتدار کے حصول کے لیے نواز شریف اب وہاں کھڑے ہیں جہاں بینظیر کھڑی ہوتی تھی اور زرداری وہاں ہیں، جہاں پہلے میاں صاحب ہوتے تھے۔ عمران کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں وہ اپنی تباہی کے لیے  خود ہی کافی ہے۔ اگلے چند روز سیاست کی اس بازی اور اس کے کرداروں کو مزید کھول کر رکھ دیں گے۔ میاں صاحب اصل میں بدل گئے ہیں یا ایکٹنگ کر رہے ہیں اس کا بھی معلوم ہو جائے گا۔ جو یہ کہہ رہے ہیں کہ  لگ پتا جائے گا، ان کا بھی واقعی ہی پتا لگنے کو ہے۔ بس تھوڑا سا اور انتظار۔۔ سب عیاں ہونے کو ہے۔

عبیداللہ چودھری
عبیداللہ چودھری
ابلاغیات میں ماسٹر کرنے کے بعد کئی اردو اخباروں میں بطور سب اڈیٹر اور روپوٹر کے طور پر کام کیا۔ گزشتہ18سال سے سوشل سیکٹر سے وابستگی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *