اپُّن کا کراچی اور دیدات صاحب ۔۔محمد اقبال دیوان

شہر کراچی سے ہماری شعوری یادوں کا سفر سن ساٹھ کی دہائی سے شروع ہوتا ہے۔یہ سفر تاحال جاری ہے۔ کراچی کے بارے میں جو پڑھا ،دیکھا اور سنا ان کو یکجا  کرکے آپ کی خدمت میں خالصتاً نجی زاویے سے پیش کریں۔اسے کوئی تاریخی دستاویز نہ سمجھیں۔البتہ یہ ضرور ممکن ہے کہ آپ اگر کراچی کی تاریخ کے سنجیدہ طالب علم ہیں تو اس سے آپ کو مزید اور بامعنی تحقیق میں یقیناًمعاونت ہوجائے گی۔کراچی کے بارے میں لکھنے کا خیال ہمیں سنگاپور میں آیا۔وہاں ہماری آمد کیوں کر ہوئی اورشیخ احمد دیدات نے کراچی میں اس قدر دلچسپی  کیوں لی۔۔۔یہ سب جاننا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ کراچی کے حوالے سے ہمارا بیانیہ تشنہ کام نہ لگے۔خیال رہے کہ کراچی کے کالم ان دو یا تین اقساط الاپ نما تعارفی اقساط کے بعد یہاں پے در پے شائع ہوں گے۔۔لیکن اس سے پہلے دو وضاحتیں۔
پہلی وضاحت!
محکمہء زراعت کے  ذیلی ادارے برائے زرعی ادویات اور تحفظ نباتات کے ڈی ۔جی اپنے طور پر کچھ سیانا پن دکھارہے تھے۔انہیں پیشہ ورانہ طور مصروفیت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ٹڈیوں کے روک تھام کے لیے موپٹی نائیجر جانا لازم تھا۔ وہاں مصر، چاڈ ،سوڈان نائجیریا  اور ماریطانیہ کے ماہرین زر اعت صحرائی دلدلی علاقوں کے سروے میں مصروف تھے۔ حضرت گھات لگائے بیٹھے تھے کہ وہاں اپنے کسی نہلے دہلے ماتحت کو بھیج کر خود جنوبی افریقہ سٹک جائیں گے۔ان کی خوشی اس لیے دیدنی تھی کہ پروگرام سے ایک دن پہلے وزیر زراعت کو ٹماٹر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر وزیر اعظم بے نظیر کی طلبی پر اسلام آباد آنا پڑا۔ ڈی جی صاحب کے لیے تو مانو بلی کے بھاگوں چھیکا ٹوٹا(چھیکا ۔ وہ ٹوکری جس میں باقی ماندہ طعام گلنے سڑنے سے بچنے کے لیے ریفیرجریٹر کی آمد سے پہلے گھروں میں کھلی ہوا میں لٹکا دیا جاتا تھا)۔ سیکرٹریٹ کی پورچ میں وزیر صاحب کو دیکھتے ہی دن کے دس بجے تہجد پڑھنے لگے۔سجدے میں دہرے ہوئے جاتے تھے۔امراؤ جان مجروں میں اتنا جھکتی تو ریڑھ کی ہڈی کا آپریشن کرانا پڑجاتا۔ڈی جی صاحب کا یہ کورنش بجانے کا انداز دیکھ کرہم خود اگر سی ایس پی یا کاکول کے فارغ التحصیل افسر ہوتے تو کہتے بلڈی نٹییو بلڈی سویلین۔گو ہم نے پہلے والوں کو حاضر سروس میں اور دوسرے گروپ والوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد وزراء کے دربار میں سستے قالینوں اور دریوں کی طرح بچھتے دیکھاہے۔

ڈی جی صاحب نے لپک جھپک کار سے اترتے ہی وزیر زراعت کو قابو کر لیا۔اپنے جنوبی افریقہ کے دورے جس کے مکمل اخراجات وہاں کی زرعی ادویات کی ایک بڑی کمپنی نے اٹھانے تھے اس کی زبانی منظوری کمپنی کے دعوت نامے پر کھڑے کھڑے ہی لے لی۔ وزیر محترم نے درخواست ہمیں تھما دی کہ ڈاکٹر صاحب سے فائل پر منظوری لے کر نوٹیفیکشن جاری کرادیں ۔ہم وزیر صاحب کے ساتھ کراچی سے آئے تھے ۔ہمیں کہنے لگے کہ میں وزیر خزانہ کی طرف کافی اور کچھ  سکیموں کے بارے میں بات کرنے جارہا ہوں ۔ دعوت نامے کا منظوری کے لیے ہماری تحویل میں آنا تھا کہ ڈی ۔جی صاحب نے ہمیں بھی ہتھیلی میں چاند دکھا کر رجھانے کی کوشش کی ۔ فرمانے لگے کہ زرعی ادویات کی ایک بین الاقوامی کانفرنس کیرالہ میں ہورہی ہے۔یوں بھی ہمیں ’’کن ٹھاری ملکو ‘‘مرچیں جنہیںBird146s eye chilli کہا کھانے کا بہت شوق ہے کہ ہڈیوں کا درد دور اور مردانہ قوت میں اضافہ کرتی ہیں۔یہ دنیا کی دس سب سے تیز مرچوں میں شمار ہوتی ہیں اور پرندوں کو بہت پسند ہیں۔ان کی زراعتی افزائش میں ان پرندوں کا بڑا رول ہوتا ہے۔

درخواست ہم نے ڈاکٹر ظفر الطاف صاحب کو جب پیش کی تو اپنی طرف سے یہ وضاحت کردی کہ اس میں Conflict of Interest اورExtravagance کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ یہ کیسے روا مانا جائے کہ جو افسر، ان کی ادویات کی درآمد کی موزونیت کا تصدیق نامہ جاری کرے گا وہی افسر ایک ماہ کے لیے اس کمپنی کا مہمان بنے ۔ وہ بھی اس شان سے کہ قیام پانچ ستارہ ہوٹل،جس میں تین دن کا دوبئی کاٹرانزٹ اور جہاز کا فرسٹ کلاس ٹکٹ بھی شامل ہے۔حضرت اسٹیٹس کے اعتبارسے ہنری کسنجر یامائیکل جیکسن تو ہیں نہیں۔ سچ پوچھو تو چک چورانوے کے پکے پینڈو ہیں ۔ بارانی کالج کے پڑھے ،زراعت کے محکمہ جاتی افسر ہیں۔اتنی طویل مدت تک تو اداکارہ شسمیتا سین فلم صرف تم میں ا پنے بہترین گانے(جو ڈاکٹر صاحب کو بھی بہت پسند تھا ) ’’دلبر دلبر ہوش نہ خبر ہے ،یہ کیسا اثر ہے تم سے ملنے کے بعد دلبر ‘‘کی فلم بندی کے لیے اور ایشوریا رائے مس ورلڈ کے مقابلے میں منتخب ہونے کے لیے وہاں قیام پذیر نہیں ہوئی تھی۔ How dare  he (اس کی یہ جرات کیسے ہوئی)۔ ڈاکٹر صاحب نے صرف اتنا کہا’’ I concur‘‘۔(مجھے اتفاق ہے)
عین اس لمحے ان کے پاس گھی کارپوریشن کے ایم ڈی آگئے تو انہوں نے ہمیں حکم دیا کہ اس کا نوٹیفکیشن اپنی سوجھ بوجھ سے بنواکر ان سے منظوری کے لیے لے آئیں But put the D.G. on bull’s horns and time it well۔ڈاکٹر ظفر الطاف سب سے کم الفاظ میں ہدایت دینے کا ملکہ رکھتے تھے اور ہم ان کی ہدایات کو برتنے کا۔ ڈی۔جی صاحب کو تو ہم نے   ٹڈیوں کی افزائش روکنے کے دو ہفتے کے پروگرام میں ان کے سب سے ناپسندیدہ افسر کے ساتھ جبل انکور سے وادیء یدود کے سروے کانفرنس میں سوڈان بھیجے جانے کا نوٹیفکیشن بنوا کر منظوری لے لی ۔ متعلقہ ڈپٹی سیکرٹری جن کو ہمارا منصوبہ بہت پسند آیا تھا نوٹیفکشن کی پہلی کاپی ہاتھ میں آنے پر ڈی جی صاحب کا نام لے کرکہنے لگے ’’ جا میری رضیہ سلطان جا ڈھونڈتی پھر اپنے حبشی یار، غلام یاقوت کو نائجر ،چاڈ اور سوڈان میں ٹڈیوں سے کھدبداتے دلدلی میدانوں میں۔حکم نامے میں درج تھا وقت کی کمی کے باعث ڈی۔جی صاحب کراچی واپس جا نے کی بجائے کل ہی اسلام آباد سے سوڈان کے لیے روانہ ہوجائیں۔

وہ رخصت ہوگئے تو تھرڈ کامن کے ڈپٹی سیکر ٹری نے دعوت نامے کو منظوری کی خاطر جنوبی افریقہ کی زراعت کے ایک جائزہ مشن کا جامہء خوش وضع پہنایا۔ مشن کی مدت قیام ایک ماہ کی بجائے ایک ہفتے میں سمیٹ لی ، فرسٹ کلاس کا ٹکٹ بزنس کلاس کے ٹکٹ میں بدل ڈالا ، ڈی جی صاحب مطمئن تھے کہ بیٹی باپ کے گھر میں ہے ۔جب چاہے برات لے کر پہنچ جائیں گے۔کمپنی کے ٹینٹوے پر پاکستان کی حد تک ان کاپیر جما ہے۔واپس آئیں گے تو پھر جنوبی افریقہ کا دورہ ان کا بانہیں پھیلائے منتظر ہوگا۔انہیں کیا پتہ تھا کہ سوڈان جاتے ہی نی سسئیے ، بے خبرے تیرا لٹیائے شہر بھنبھور نے والا معاملہ ہوجائے گا۔

کمپنی کے جو ڈپٹی ایم ڈی تھے وہ جنوبی افریقہ کے گجراتی تھے ۔ان دنوں پاکستان آئے ہوئے تھے وہ اس نوٹیفیکشن کو دیکھ کر خوش ہوئے لیکن ہمارے ائیر لائن کے انتخاب پر حیران۔ہم کراچی سے سنگاپور ائیر لائن سے ڈربن پہنچنا چاہتے تھے۔وہ امارت سے براستہ دوبئی لے جانا چاہتے تھے۔حیرت ناک طور پر ہمارا مجوزہ روٹ، کم خرچ تھا۔ہم نے کہا دونوں صورتوں میں  بحیرہ ہند پر سے اڑنا ہے۔انہیں اس پر بھی دویدا (ہندی میں تشویش )تھی کہ ہم نے پیر اور بدھ ا کی بجائے جمعرات کو کیوں رخت سفر باندھا ہے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ڈربن کی سنگاپور سے اگلی فلائیٹ  اتوار کی رات تھی اور ہم تین اس طرح سنگاپور ائیرلائن کے ٹرانزٹ مسافر ہونے کے ناطے بلا ویزہ بلا خرچہ ہوٹل میں قیام کرتے اورسنگاپور دیکھ لیتے۔

ائیر لائن کے عملے کو ہم تینوں افسران عالی مقام کا نام یاد تھا۔اس قدر خوشی ہوئی۔ ورنہ افسروں کو ہوائی اڈے کے لاؤنج کے باہر کون پہچانتا ہے ۔ یوں بھی جہاں زین ملک ،شاہ رخ خان اور رونالڈو جیسے کھلاڑی ہوں وہاں چیف سیکرٹری سندھ و پنجاب بے چارہ کس کھیت کی مولی ہے۔ ہمارے دو ساتھی تو اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے۔ہم جہاز میں اپنی نشست کے بارے میں ذرا زیادہ ہی نازک مزاج ہیں۔ ذرا سی اونچ نیچ ہوجائے تو اودھم مچادیتے ہیں۔ہماری سیٹ پر کوئی امارتی شیخ اپنی حرم کی حسے چیوں ( Hatice ترکی زبان میں سلطان کے حرم کی محبوب داشتہ) کی مفارقت میں ڈھیر پڑا تھا۔کیبن کریو کا انچارج آگیا اور ہمیں رجھانے کی کوشش کرنے لگا کہ اتنے بڑے کیبن میں اپنی پہلے سے مخصوص نشست کی جگہ کہیں اوربیٹھ جائیں۔ہم انکاری ہوئے تو کہنے لگا کہ جہاز میں اپر ڈیک بھی ہے اس کی بزنس کلاس بالکل خالی ہے۔وہ کیسی رہے گی۔ہم نے کہا دکھاؤ تو اس نے انٹر کام اٹھایا اور وہاں تعینات بی بی کو ہمیں سیٹل کرنے کو کہا۔ بی بی کا نام سو (SUE) تھا۔ دلفریب نقوش ،دراز قامت، چست و چالاک،اپنے کام کی ماہر .ایک ایسی خود اعتمادی جواس لیے چہرے پر نمایاں تھی کہ اس کا تعلق ایسے ملک سے تھا جو رقبے میں لاہور اور کراچی کے بے ہنگم ڈیفنس سوسائیٹیوں سے چھوٹا اور اپنی ساکھ اور زر مبادلہ کے ذخائر کے اعتبار سے ہندوستان سے کہیں آگے ہے۔جس کے پہلے وزیر اعظم لی کوان یو جب امتحان دینے جاتے تو تیاری کا یہ عالم ہوتا تھا کہ دس یا بارہ سوالات کے ہر امتحانی پرچے پر لکھا ہوتا ہے Attempt any five questions ،لی کوان یو اسی دوران پرچے کے تمام سوالات کے جواب لکھتے اور ممتحن کی سہولت کے لیے لکھ کر آتے تھے Please Check Any Five Answers
۔سوُ ہم سے انگریزی میں پوچھنے لگی کہ سرکار کہاں براجمان ہونا پسند کریں گے۔ہم نے یہ کہہ کر خود کو ہمت دلائی کہ جو بھی ہے بس اس اک پل ہے۔آگے بھی جانے نہ تو، پیچھے بھی جانے نہ تو۔سو ہم نے کہا Close to you۔کوئی اور ہوتی تو تاؤ کھاجاتی مگر اس نے مسکرا کر کہا  Always there ۔سیڑھیاں چڑھتے ہوئے وہ پہلی خاتون تھی جسے ہمارے آگے سیڑھیاں چڑھنے پر کوئی اعتراض نہ تھا ورنہ آپ تو جانتے ہی ہیں ۔پاکیزہ طینت بیبیاں یہ پسند نہیں کرتیں کہ انہیں سیڑھیاں چڑھتا، بل کھاتا لہراتا کوئی نامحرم مرد دیکھے۔ اوپر وہ تھی،ایک ادھیڑ عمر مسافر جوڑا کہ لطفاً نہیں ضرورتاً ایک دوسرے پر گرا پڑتا تھا،سب سے اگلی نشست پر سورہا تھا۔سوُ کیبن کی کھڑکی میں کھڑی ہوگئی ہمیں کہنے لگی کہ آرٹ کو سمجھتے ہو،حسن کی دید بانی کا ہنر آتا ہے تو سیدھے ہاتھ پر بیٹھو میں تمہیں کھڑکی کے فریم سے دکھائی دوں گی۔ جیسے پابلو پکاسو کو Dora Maar دکھائی دیتی تھی ۔ہم نے کہا دوسری جانب بیٹھنے میں کیا قباحت ہے تو کہنے لگی ایک تو دروازے سے روشنی سیدھی چہرے پر پڑے گی اور پھر برتن سجاتی ،کھانا لگاتی عورت مرد کے ذوق سلیم پر گراں گزرتی ہے۔اسے دیکھتے ،کتاب پڑھتے،اس کی مسکراہٹوں کوفریم سے دوسری طرف سمیٹتے ہماری کئی دفعہ آنکھ لگی کمبل کھسک جاتا تو ایسے بھاگ کر  اوڑھا دیتی تھی جیسے پہلوٹھی کے نوزائیدہ بچے کی ماں ۔ہم نے پوچھا کہ یہ مہربانی ہم سے مختص ہے کہ میں جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا ہوں یہ کمبل اوڑھانا ، یہ تبسم، یہ تکلم تیری عادت تو نہیں ۔فرمانے لگی Let’s keep it in beneifit of doubt box(اسے شک کے فائدے کے خانے میں رکھو۔سو ہم بھی سو کو بارے میں آپ کے ذہن میں کوئی خیال ہے تو اسےbeneifit of doubt box میں رکھتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”اپُّن کا کراچی اور دیدات صاحب ۔۔محمد اقبال دیوان

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *