لوگ کہتےہیں بابارحمتےایسے ہی لگارہتا ہے : چیف جسٹس

SHOPPING
SHOPPING
لاہور : چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ لوگ کہتے ہیں بابا رحمتے ایسے ہی لگا رہتا ہے، مجھے کسی کی پروا نہیں جو مرضی کہتا ہے کہتا رہے۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے میڈیکل کالجز میں فیسوں کےاضافےپرازخود نوٹس کی سماعت کی ۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بابے کاتصور کہاں سے لیا آج بتاتا ہوں، بابے کا کانسپٹ اشفاق احمد سے لیا، بابا وہ ہےجو لوگوں کےلیے سہولتیں پیدا کرتا ہے ۔

عدالتی معاون نے بتایا کہ عدالت نے10فروری کومیڈیکل کالجزاسٹرکچرکی رپورٹ طلب کی، 3سال کاریکارڈ،ہیلتھ ڈپارٹمنٹ،اکاؤنٹس تفصیلات طلب کی گئیں ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ بہت سارےایشوزکواکٹھاٹیک اپ کیا،اب ہم ہر معاملے کو علیحدہ علیحدہ دیکھیں گے، پی ایم ڈی سی کواپڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے ۔

چیف جسٹس نے کہاکہ  فیسیں اتنی نہ بڑھائی جائیں کہ لوگوں کی جیبیں کٹ جائیں، ایجوکیشن کاروبار ہوسکتا ہے لیکن میڈیکل کی تعلیم ایسی نہیں کہ اس پر فیسیں لگائی جائیں ، پی ایم ڈی سی کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے ،ڈاکٹرندیم نےبتایا ایسے ڈاکٹرز بھی آرہے ہیں جنہیں بلڈ پریشر چیک کرنا بھی نہیں آتا، کل 5 بچے مرگئے، ان کا ذمہ دار کون ہے، انکوائری ہوگی تو سارا ملبہ دھوپ پر ڈال دیا جائے گا۔

سماعت کے دوران ہی چیف جسٹس پاکستان لاہور کے سروسز اسپتال پہنچ گئے اور وہاں دی جانے والی سہولتوں کا جائزہ بھی لیا انھوں  نے کہاکہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ میڈیکل کالجز میں کیا سہولیات دی جاتی ہیں،ہرمعاملے کو الگ الگ دیکھیں گے، کسی میڈیکل کالج کو بند کرنے نہیں جارہے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثارکاریڈکریسنٹ میڈیکل کالج کادورہ

چیف جسٹس ثاقب نثارنے ریڈکریسنٹ میڈیکل کالج کےدورہ کے دوران کالج انتظامیہ کو2روزمیں زائدفیس واپس کرنےکاحکم جاری کردیا ۔

چیف جسٹس کےحکم پرکیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کےڈاکٹرشوکت گرفتار کرلیا گیا مقامی ایس ایچ اونےڈاکٹرشوکت کو کرپشن الزامات پرگرفتارکیا۔

SHOPPING

چیف جسٹس نے ایچ آراوراکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کو بھی سیل کرنےکاحکم دے دیا جس پرمیڈیکل کالج کےطلبانےچیف جسٹس کےحق میں نعرے لگائے ۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ایف آئی اےمیڈیکل کالج کےبورڈآف ڈائریکٹرکولیکرلاہورپہنچے،ایف آئی اےریکارڈقبضےمیں لےکرعدالت پیش کرے،فوراً طلبا کی فیس واپس کی جائے،پیسےواپس نہیں کیےتوایف آئی اے کارروائی گرےگی ۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *