یہ سب اداکاری کر رہے ہیں ۔۔آصف محمود

خونخوار لہجے میں اعلی عدالت کے جج حضرات کو سر عام گندی اور غلیظ گالیاں دینے والے نہال ہاشمی کو جب عدالت نے ایک بار پھر طلب کر لیا تو صاحب نے کہا امائی لارڈ میں تو اداکاری کر رہا تھا۔یہ تو نہال ہاشمی کی میانہ روی ہے کہ انہوں نے خود کو اداکار قرار دے لیا ورنہ اگروہ یہ دعوی کر لیتے کہ مائی لارڈ میں ایک نظریاتی سیاست کا علمبردار ہوں اس لیے گالی بک کر میں سیاست کو شرافت کا نیا رنگ دے رہا تھا ، تو ہم کیا کر لیتے۔ یہ سوال البتہ مزاحیہ اداکار سے پوچھا جا سکتا ہے کہ جس ڈرامے میں تم اداکاری کر رہے تھے اس کا ڈائریکٹر کون تھا اور سکرپٹ کس نے لکھا تھا۔

کھیل بہت واضح ہے ۔اپنا نامہ اعمال ان کے سامنے ہے اور انجام انہیں خوب معلوم ہے۔کہاں یہ دعوے کہ میری بیرون ملک تو کیا پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں اور کہاں یہ عالم کے سب کچھ سر بازار بے نقاب ہو چکا۔ نجات کی اب ایک ہی صورت تھی کہ قانون کی بجائے سیاست کے میدان میں مقدمہ لڑا جائے اور اس تاثر کو مضبوط کیا جائے کہ ہمارے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔

اسی ڈرامے کا یہ حصہ ہے کہ منظم طریقے سے عدلیہ کی اتنی توہین کر دی جائے کہ آئندہ آنے والوں کو بھی سبق حاصل ہو کہ شریف خاندان سے گستاخی کا انجام کیا ہو تا ہے۔اور عدلیہ کو مجبور کیا جائے کہ وہ توہین عدالت کی کارروائی کرے تا کہ پروفیسر احسن اقبال صاحب اس کے بعد اقوال زریں سنا سکیں کہ عدلیہ کو متنازعہ ہوتے دیکھ کر دکھ ہو رہا ہے اور نون غنوں کو یہ راگ درباری الاپنے کا موقع مل جائے کہ دیکھیے صاحب عدلیہ تو فریق بن گئی۔تاکہ اول تو عدلیہ دباؤ میں آ جائے اور ان کی نجات کی کوئی راہ نکل آئے اور اگر وہ دباؤ میں نہ آئے تو نیم خواندہ معاشرے کو باور کرا دیا جائے کہ بڑا ظلم ہوا ہے اور ججوں نے تو انتقام لیا ہے۔

نہال ہاشمی ایوان بالا کے رکن رہ چکے، ایک سیاسی شخصیت بھی ہیں، قانون دان بھی ہیں۔ان پر اٹھتی جوانیوں کی نوخیزیوں کا بھی کوئی سایہ نہیں کہ گاہے شدت جذبات میں تتلیوں کے پیچھے دور تک بھاگتے رہنا انہیں اچھا لگتا ہو۔ انہوں نے اگر عدالت کو گالی دی ہے اور سرعام دی ہے تو یہ ایک منظم واردات ہے جس میں نہال ہاشمی ایک پیادے کے طور پر اپنا وہ کردار ادا کر رہے ہیں جو سکرپٹ میں لکھا جا چکا ہے اور ہدایت کار نے جس کی ہدایت جاری فرما دی ہے۔

نہال ہاشمی واحد نہیں ، ایسے کئی ’’ رجالِ کار‘‘ ابھی بروئے کار آئیں گے۔ہدایت کار کے پاس اداکاروں کی کمی نہیں ۔اور ایسے گداگران سخن بھی بہت ہیں ۔سکرپٹ بھی لکھے جاتے رہیں گے اور فصیل شاہی پر اپنے پیٹ کو ڈھول کی طرح بجا بجا کر اقبال بلند کی صدائیں دینے والے بھی منادی کرتے رہیں گے۔

یاروں نے یہاں بعض لوگوں کو عظمت کا ہمالہ بنا دیا ہے۔اب یہ لوگ اتنے قدآور ہیں کہ بادل ان کی کنپٹیوں کا بوسہ لے کر گزرتے ہیں۔ انہی میں سے ایک قبلہ رضا ربانی ہیں ۔اب دہائی دی جا رہی ہے دیکھیے صاحب عدالتی ایکٹو ازم پر اب رضاربانی بھی بول پڑے۔جی ہاں اب تک منصب کی وجہ سے ان کی زبان بند تھی اب ذرا انہیں منصب سے الگ ہو لینے دیجیے پھر دیکھیے وہ کیسے کشتوں کے پشتے لگاتے ہیں۔

حیرت مگر اس بات پر ہوتی ہے کہ رضا ربانی اور فرحت اللہ بابر کی پارٹی ایک مشکوک وصیت پر ورثے کے مال کی طرح تقسیم ہو جاتی ہے مگر وہ خاموش رہتے ہیں،وہ اس پر بھی سوال نہیں اٹھاتے کہ پی پی پی کے سابق گورنر ایان علی کا کیس اتنے غیر معمولی عزم سے کیوں لڑتے ہیں، وہ اس پر بھی بد مزہ نہیں ہوتے جب ڈاکٹر عاصم جیسے بندے کو سندھ میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا سربراہ لگا دیا جاتا ہے،سینیٹ کے وہ چیئر میں ہیں مگر سینیٹ الیکشن میں ہونے والی جملہ بے ہودگیاں بھی ان کے ماتھے پر ایک شکن تک لانے میں کامیاب نہیں ہو پاتیں، سینیٹ کے نام پر جمعہ بازار لگتا ہے مگر وہ ریلیکس اینڈ انجوائے فرماتے رہتے ہیں،ان کا مزاج نازک اس وقت بھی برہم نہیں ہوتا جب ایک وزیر اعظم سوئٹزر لینڈ خط لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے مگر وزیر اعظم اپنا منصب قربان کر دیتا ہے لیکن اپنے قائد کے مال پانی کی حرمت پر حرف نہیں آنے دیتا،وہ ایک دفعہ بھی یہ نہیں فرماتے کہ قائد محترم اگر آپ نے لوٹ مار نہیں کی تو خط لکھنے میں ہرج ہی کیا ہے؟البتہ عدالت جب ان معززین پارلیمان کے بارے میں دو فیصلے کر دیتی ہے تو ایوان کا تقدس ان کے نزدیک خطرے میں پڑجاتا ہے اور یہ شمشیر بکف میدان میں اتر آتے ہیں۔اس وقت بھی انہیں اتنی توفیق نہین ہوتی کہ برائے وزن بیت ہی سہی ، سابق سینیٹر نہال ہاشمی کی مذمت ہی کر دیں کہ انہوں نے گالی دے کر اپنے سابق رفقاء کو بھی شرمندہ کر دیا۔

یہاں بھی معاملہ بہت واضح ہے۔پہلے اس سماج کو اپنی گرفت میں لیا گیا۔ پیسے کے بے دریغ استعمال سے معاشرے پر ایسے لوگ مسلط کیے گئے جو قانونی اعتبار سے بھلے صادق اور امین کہلائے جاتے ہوں لیکن ان کی عمومی شہرت کسی بھی گلی محلے کے آدمی سے جا کر معلوم کر لیجیے، چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔

گڈ گورننس کے نام پر کرپشن کی وہ داستانیں قائم کی گئیں کہ الامان ۔عالم یہ ہے کہ نیب گڈ گورننس کی جو اینٹ اکھاڑتا ہے نیچے سے آواز آتی ہے : جمہوریت بہترین انتقام ہے۔تھانوں میں مرضی کے لوگ بٹھائے جاتے ہیں جو جھوٹے مقدمات اور ظلم و وحشت سے اس معاشرے کو ان کے قدموں میں لا بٹھاتے ہیں اور ان کی فتح کی ضمانت بنتے ہیں۔بیوروکریٹوں میں معتبر وہ ہے خاص کارندہ بن جائے۔بیچ میں کوئی طارق ملک ، کوئی شارق کمال، کوئی محمد علی نیکوکار جیسا آدمی آ جائے تو اسے عبرت کا نشان بنا دیا جاتا ہے۔قلمی کارندے صبح شام ان کے قصیدے لکھتے ہیں اور بدلے میں ریاستی مناصب پر فائز کیے جاتے ہیں۔

اتنے بندوبست کے باوجود کبھی قانون ان کی دہلیز پر دستک دے ڈالے تو یہ اسے ڈراتے ہیں ، دھمکاتے ہیں،ہر پولیس افسر میں سے عابد باکسر اور ہر جج میں جسٹس قیوم کو تلاش کرتے ہیں۔لیکن کوئی افسر واجد ضیاء جیسا نکل آئے اور کوئی جج جسٹس قیوم نہ بنے تو پھر یہ انہیں گالیاں دیتے ہیں، گندی اور غلیظ گالیاں، یہ ان پر زمین تنگ کر دینے کے اعلان کرتے ہیں، یہ انہیں قائمہ کمیٹیوں میں طلب کر کے نشان عبرت بنانا چاہتے ہیں۔اس سب کے باوجود یہ انہیں ڈرا دھمکا نہ سکیں تو پھر یہ قانون سازی کے نام پر واردات ڈالتے ہیں ۔یہ کسی ایک فرد واحد کی خاطر راتوں رات قوانین بدل دیتے ہیں۔اور عدالت اس قانون کو آئین کی روشنی میں جوڈیشل ریویو کے ذریعے کالعدم قرار دے دے تو ان کی جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے اور ان کے پارلیمان کا استحقاق مجروح ہو کر چیخیں مارنا شروع کر دیتا ہے۔

کھیل ابھی جاری ہے۔ہدایت کار اور اس کے اداکاروں پر نظر رکھیے اور دیکھتے جائیے۔’’ ہم نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں‘‘ سرگرمیوں کے تحفظ کے لیے یہ سب ایک ہو جائیں گے۔یہ سماج اور انتظامی مشینری کو مفلوج کرنے کے بعد اب عدالت کو مفلوج کرنے کے لیے بھی ’’ قوم کے وسیع تر مفاد میں‘‘ مل جل کر کوئی قانون سازی کر سکتے ہیں تا کہ کوئی عدالت ان سے ان کی تجوریوں کے بڑھتے حجم پر سوال نہ پوچھ سکے۔

تحفظ کرپشن کا یہ آخری معرکہ پارلیمان کی بالادستی کے نام پر لڑا جا رہا ہے۔ سکرپٹ کے عین مطابق ، ہدایت کار کی ہدایات کی روشنی میں۔سٹیج سج چکا اور اداکار مہارت دکھانے کو بے تاب ہیں۔ان کی اداکاریاں دیکھتے جائیے ، اور ڈائیلاگ سنتے جائیے۔

آصف محمود
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *