• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاکستان ریلوے، مسائل، خوبیاں ، خامیاں اور تجاویز۔۔عمار کاظمی/پہلا حصہ

پاکستان ریلوے، مسائل، خوبیاں ، خامیاں اور تجاویز۔۔عمار کاظمی/پہلا حصہ

چند روز پہلے مذاق میں اپنی بچپن کی محبت اور چاہت   مال گاڑی کی بریک وین میں بیٹھنے کی خواہش کا اظہار کیا جسے دیکھ کرصافی سرحدی صاحب نے محمد جاوید انور (آپ پاکستان ریلویز میں سی ای او ہیں) کو کمنٹ میں ٹیگ کیا اور ساتھ میں لکھا کہ ’’یہ آپ کی خواہش پوری کر سکتے ہیں‘‘۔ آپ دونوں احباب سے میری کوئی پرانی دوستی یا واقفیت نہیں۔ صافی صاحب میری فرینڈز لسٹ میں پہلے سے موجود تھے مگر کبھی اس نوعیت کی  ذ اتی سلام دعا یا کچھ خاص بات نہ ہوئی اور محمد جاوید انور صاحب کو میں نے کمنٹ میں مینشن کیے جانے کے بعد خود فرینڈز ریکویسٹ بھیجی۔ میں آپ دونوں کا تہہِ دل سے شکر گزار ہوں کہ آپ میری بچپن کی ادھوری خواہش کو پورا کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہوئے۔ دُعا ہے کہ خدا محمد انور جاوید جیسے عوام دوست اعلی افسران پاکستان کے ہر محکمے کو دے۔ اور وہ یونہی عام شہریوں کی ایسی چھوٹی چھوٹی معصوم ادھوری خواہشات پوری کرتے رہیں! آمین

سوشل میڈیا پر میری یہ چند سطریں پڑھ کر دوستوں نے مختلف کمنٹس دئیے۔ ایک قریبی دوست نے مذاق میں کہا کہ یہ ’’قلم بِک گیا ہے‘‘ تو جواب میں اسی مزاحیہ انداز میں جواب دیا کہ ’’یہ قلم بِکنے والوں میں سے نہیں، بَکنے والوں میں سے ہے‘‘ پھر ایک دوست نے یہ بھی لکھا کہ ’’شاہ جی آپ عام آدمی نہیں ہیں‘‘۔ احساس محرومی کا  شکار عام آدمی کسی سرکاری افسر سےمثبت بات کی امید نہیں رکھتا۔

ان کے لیے عرض ہے کہ’’بندہ ایک عام شہری ہی نہیں، بلکہ ایک عام قلم کار بھی ہے اوراُسے اپنے لیے یہی سٹیٹس پسند ہے کیونکہ اُسے اپنے عام شہری ہونے پر ہی فخر ہے‘‘ (یہ الگ بات کہ باپ سے لے کر بھائی ،بہنوئی کزنز اور سسرال تک سب جگہ بہت سےفوجی موجود ہیں)۔

اس مختصر سی تمہید کا اولین مقصد محض اپنی ذاتی خواہش کی تکمیل پر قابلِ احترام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا ہی نہیں تھا، بلکہ یہ بتانا تھا کہ بطور ایک عام شہری، بیورو کریسی سے عدلیہ اور فوج تک پاکستان کے ہر ادارے کو یہ پیغام پہنچانا تھا کہ جب ایسی کوئی خوشی اور سرپرائز کسی سرکاری ادارے اور اسکے افسران کے طفیل کسی عام شہری کونصیب ہوتی ہے تووہ اس کے لیے کسی لاٹری سے کم نہیں ہوتا۔مراعات یافتہ طبقات اور ان کی فیملیز کے لیے ایسی کوئی آفرکوئی خاص معنی نہیں رکھتی ہوں گی۔

جانے ریلوے کے کتنے ملازمین ،اعلی افسران اور ان کی فیملیزکو  ایسی  سہولیات میسر آتی ہوں گی جن پر شاید وہ کبھی بھی ایک عام شہری کے جیسی خوشی محسوس نہیں کرتے ہوں گے، جانے کتنے ہی ججوں بیورو کریٹس کی فیملیز کو ایسی یا اس سے ہزار گنا زیادہ آسائشیں ملتی ہوں گی  اور جانے کتنے فوجیوں اور ان کی فیملیز کو یہ سب اور اس سے ہزار گنا زیادہ سہولیات باقاعدہ میسر رہتی ہیں جب تک وہ حاضر سروس ہوں اور بعض سہو لیات تو ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی جاری رہتی ہیں۔لیکن ایک عام شہری جو ماچس کی ڈبیہ سے لیکر گھی کے ڈبے تک ہر شے پر ٹیکس دے کر ان سب اداروں کو فیڈ کرتا ہے اس کے حصے میں کیا آتا ہے؟ میڈیکل؟ تعلیم؟تین سے پانچ فیصد پر قرض؟ اداروں کی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں لاکھوں کروڑوں کے پلاٹ جو انھیں محض ہزاروں یا چند لاکھ میں ملتے ہیں اور وہ بعد میں انھیں بیٹھے بٹھائے بغیر کسی محنت لاکھوں کروڑوں کے منافع پر فروخت کرتے ہیں؟

یقیناً ٹیکس سب کا کٹتا ہے مگر اس کے بدلے تںخواہ اور دیگر سہولیات بھی میسر ہوتی ہیں۔ ایک عام شہری جو نہ کسی ملٹی نیشنل کا حصہ، نہ کسی بڑے نجی ادارے کا اور نہ ہی کسی سرکاری ادارے کا حصہ، اُسے ریاست سے کیا ملتا ہے؟ کہتے ہیں اداروں کو اپنا سمجھیں۔ بھائی یہ بھی بتا دیں کیسے اپنا سمجھیں؟

دو تین سال پہلے بچوں کے ساتھ کراچی جانا ہوا، ما شا اللہ بھائی صاحب اُس وقت ڈیکوریٹڈ نیول آفیسر تھے( جواب ریٹائر ہو چکے ہیں)۔چھوٹا بھتیجا بڑے فخر سے اپنے کزنز ( میرے بیٹوں )کو سوئمنگ کروانے اپنے انٹرنیشنل سٹینڈرڈ نیول پول پر لے گیا۔ بچے اس وقت کافی چھوٹے تھے، میرے بیٹوں کو تیرنا نہیں آتاتھا(جو مجھے بھی نہیں آتا) تو احتیاطً انھیں جاتے دیکھ کر ساتھ ہو لیا ۔ جب پول پر پہنچے تو انسٹرکٹر نے نئے بچے دیکھ کر کہا کہ یہ سوئمنگ نہیں کر سکتے ، اس کے لیےممبر  شپ ضروری ہے (سولینز کو وہاں پیڈ ممبر شپ دی جاتی ہے جو ظاہر ہے کہ فورسسز اور ان کی فیملیز کی نسبت کافی مہنگی ہوتی ہوگی) ورنہ آپ ان کا پے کر دیں۔

بچے تھوڑا پریشان ہوکر اس کا منہ تکنے لگے ۔ بھتیجا بھی پریشان سا ہوکر اس سے بحث کرنے لگا تو میں نے فوراً پیسے نکال کر اسے دے دیے کہ میرے بچوں کے ذہن میں کوئی دوسری بات نہ آئے کہ ہمارا باپ نیول آفیسر نہیں ہے تو ہم یہ لگژری انجوائے نہیں کر سکتے۔یہ بھی کیا ستم ہے، عوام کے پیسوں پر بنے اداروں کی سہولیات صرف ان کے اپنے ملازمین کے لیے ہیں اور پھر اسی عوامی پیسے سے بزنس۔ آپ گلگت تک چلے جاؤ ہر جگہ ان بڑے سرکاری اداروں کے ریسٹ ہاوسسز یا وِلاز موجود ہیں۔ اگر کچھ اس سکیورٹی سٹیٹ میں نہیں ہے تو وہ عام آدمی کے لیے نہیں ہے۔

خیر نیوی تو بہت محدود سی فورس ہے جودو تین بڑے شہروں میں ہی موجود ہے۔ان کی  اصل تعداد تو کراچی میں ہے یا پھر اس کے بعد کچھ قابل ذکر تعداد این ایچ کیو اسلام آبادمیں ہے۔لیکن ذرا خاکی والی پاکستان آرمی پر غور کیجیے جو ہر چھوٹے بڑے شہر میں موجود ہے اور جس کے پاس ہر جگہ ایک دو یا تین سوئمنگ پولز ، سکواش کورٹس، ٹینس کورٹس(یہ سب سہولیات سولین ایریاز میں صرف جم خانہ کلب کے  پاس ہیں جس کی ممبر شپ فیس کافی عرصہ پہلے چھ لاکھ روپے تھی اور اس میں بھی ریٹائرڈ  فوجیوں اور بیوروکریسی کو شاید کافی کم پیسوں پر یہ سہولت میسر ہوگی)اور بڑے شہروں میں گالف کورسسز بھی ہیں۔ تھری سٹار ہوٹل سے لیکر فائیو سٹار ہوٹل تک کے معیار کے میسسز ہیں جو ان کے مقابلے میں مفت جیسی قیمت پر افسران اور ان کی فیملیز کو میسر ہوتے ہیں(ڈی ایچ اے کا ذکر یہاں غیر ضروری ہوگا)۔

ہمارے جیسے سولینز کا داؤ  وہیں لگتا ہے  جہاں اس کا کوئی قریبی عزیز رشتہ دار موجود ہو اور وہ بھی کوئی قابل احترام انداز میں نہیں ہوتا۔ کتنے سولینز ہیں جو ان کے میسسز میں جا کر فیملی ڈنر کر سکیں ، سنوکر کھیل سکیں؟ان کی سستی فسیلیٹیز انجوائے کر سکیں؟ کتنے جرنیلوں کو یہ احساس ہے کہ سولینز ان کی عیاشیاں دیکھ کر کس قدر احساسِ محرومی کا شکار ہیں؟ کبھی کسی کو شرم آئی؟

حال تو یہ ہے کہ والدہ کو ان کی وفات سے چند روز پہلے سی ایم ایچ پنڈی دیکھنے گیا تو(وزیٹرز کا وقت ختم ہونے پر) گیٹ پر کھڑے سکیورٹی والے جوان کاٹنے کو دوڑ رہے تھے ،جبکہ اسی وقت سٹار والی گاڑیاں یا جن میں کوئی فوجی افسر یا اس کا بیٹا موجود تھا انھیں جانے دیا جا رہا تھا۔ باقی تمام سولینز جو گیٹ کے باہر کھڑے تھے انھیں بری طرح جھڑک کر دھتکارا جا رہا تھا۔ ایسے کہ جیسے سب را کے ایجنٹ یا خود کُش بمبارتھے۔کیا فوج کے اعلی افسران کے علم میں(جو وہاں کا انتظام سنبھالے ہوئے ہیں) یہ سب باتیں نہیں ہوں گی؟

ارے تمھیں تو سولینز کو اپنوں سے زیادہ عزت دینی چاہیے کہ وہ تمھارے مہمان ہوتے ہیں۔ان بی اے پاس لوگوں کو کیااندازہ نہیں کہ سولینز میں بھی کوئی سفید پوش ، کوئی پڑھا لکھا، کوئی عزت دار شخص ہو سکتا ہے؟ سکیورٹی وجوہات ایک طرف مگر انسان کے بچوں والی اخلاقیات تو دکھاؤ۔ ڈسپلن کی بات کرتے ہو تو تمھارے اپنے افسران کے بچے وقت کے بعد کیوں داخل ہوں؟ڈسپلن ہے تو پھر چاہے وہ کسی آرمی چیف کی ہی اولاد کیوں نہ ہوں داخل نہیں ہونے  چاہئیں اور اگر ڈسپلن کے نام پر ڈرامہ ہے پھر اس کی سمجھ ہر شہری کو آتی ہے جب ایک کو روک کر دوسرے کو جانے دیا جاتا ہے۔

اسی طرح سے جب بیگم کی والدہ جوایک نامور شہید بریگیڈئیر کی ہمشیرہ تھیں انتقال سے پہلے وہاں ایڈمٹ تھیں تو محض شہید کی اہلیہ کی وجہ سے ساری فیملی کو کمانڈنٹ صاحب کے کمرے کے سامنے لگژری سٹنگ روم میں بیٹھنے کی اجازت تھی۔ بعد میں جب ان بریگیڈئیر صاحب سے جونئیر افسران یعنی کرنل میجر کی عیادت کے لیے جانا ہوا تو وہاں بیٹھنے سے منع کر دیا گیا کہ یہ صرف کمانڈنٹ صاحب سے ملنے آنے والوں کے لیے مختص ہے۔ جوانوں کی فیملیزاس ایریا کے نزدیک پھٹک بھی نہیں سکتیں۔اور ہم بلڈی سولینز؟ ہمارا تو مت ہی پوچھیے( بھلے ہم پڑھے لکھے سکالرز اور یا پھر اپنے علاقوں میں کتنے ہی عزت دار کیوں نہ ہوں ایک عام سنتری ہماری اتار کر ہاتھ میں پکڑا دیتا ہے)۔ جب تک کوئی حوالہ نہ ہوگا، ہمیں کوئی نہیں پوچھے گا۔

باقی سب ادارے عوام کے پیسے پر عیاشی کر کے عوام کیساتھ یہی کچھ کرتے ہیں۔ واپڈا سے اریگیشن تک سب جگہ یہی رویہ نظر آئے گا فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ سولین اداروں میں پیسے اور حیثیت کو قبول کر لیا جاتا ہے ،مگر یہاں وہ بھی نہیں ہوتا۔سو اتنی سی بات سے دوستوں کو تسلی ہو جانی چاہیے کہ یہ قلم بِکنے والا نہیں بَکنے والا ہے اور اگر کسی کی تعریف کی ہے تو اس کی وجہ میری ذات نہیں ایک فلسفہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر باقی اداروں کے سینئر افسران بھی یہی رویہ اپنا لیں اور سولینز کوبغیر واقفیت اور حوالہ ایسے سرپرائزز دینے لگیں توعوام بھی ان اداروں کو اپنا سمجھنے لگیں۔باقی ہم عوام کی بے حسی، ریلوے کے مسائل، تعریف و تنقید اور تجاویز اگلے حصے میں!

جاری ہے

عمار کاظمی
عمار کاظمی
عمار کاظمی معروف صحافی اور بلاگر ہیں۔ آپ سماجی مسائل پر شعور و آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *