خدا کی خدائی یا انسان کی آقائی۔۔عامر کاکازئی

انسان کسی دوسرے انسان کی غلطی کی سزا دینے کا حقدار ہے، مگر گناہ کا کفارہ مانگنے کا حق دار نہیں۔ یہ حق صرف خدا کے پاس ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے زندگی اور موت کا فیصلہ کرنے کا بھی حق خدا کے پاس ہے۔

16:81اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو اے محمدؐ، تم پر صاف صاف پیغام حق پہنچا دینے کے سوا اور کوئی ذمہ داری نہیں ہے!

جب خدا نے کہہ دیا کہ تمھارا کام صرف پیغام پہنچانا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں؟ کسی کے عقیدے کی بنیاد پر اس کو قتل کر دیں۔ ایک انسان کو اس کے عقیدے کی بنیاد پر اور خدا اور اس کے رسول کے نام پر زندہ جلا دیں؟ کیا خدا نے اپنی خدائی  کا ٹھیکہ پاکستانی مسلمانوں کو دیا ہوا ہے کہ وہ ہر انسان کے مقدر، اس کی زندگی، موت اور اس کے عقیدے کا فیصلہ کریں؟

16:93اور اگر اللہ چاہتا تو تم (سب) کو ايک ہي امت بنا ديتا ليکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ ٹھہرا ديتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدايت فرما ديتا ہے، اور تم سے ان کاموں کي نسبت ضرور پوچھا جائے گا جو تم انجام ديا کرتے تھے،

ہم وہ مورکھ ہیں جو اپنے بنانے والے کا بھی حکم نہیں مانتے، آج تک کبھی اس کی دی ہوئی  کتاب کھول کر پڑھنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ اگر پڑھا بھی تو ایک بدیسی زبان میں جس کو ہم صرف عقیدت سے دیکھتے اور پڑھتے ہیں۔ہم پاکستانی مسلمان مذہب کو مُلا کی نظر سے  دیکھنا کب ترک کر کے اپنے مذہب کو خود سے قرآن  میں تلاش کرنا شروع کریں گے؟

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *