فلیٹ ارتھ حقیقت یا افسانہ؟۔۔محمد شاہزیب صدیقی

(فلیٹ ارتھرز کے 200 اعتراضات کے جوابات پرمبنی سیریز)
اعتراض151: اگر زمین واقعی سورج کے گرد گردش میں مصروف ہوتی تو پولارس ستارے کی ٹائم لیپس تصاویر لینا ممکن نہ ہوتا کیونکہ زمین سورج کے گرد انتہائی تیز رفتاری سے گھوم رہی ہے، سورج کہکشاں میں تیز رفتار سے گھوم رہا ہے، پوری کہکشاں انتہائی تیز رفتاری سے گردش میں مصروف ہے۔ ان سب متضاد گردشوں کے باعث پولارس کی ایسی ٹائم لیپس تصاویر آنا ناممکن تھا جس میں تمام ستارے پولارس کے گرد گھوم رہے ہیں۔ بلکہ ترچھی، آڑی اور کُروی تصاویر آتیں ۔
جواب: یہاں پر دوبارہ فلیٹ ارتھرز سائنس سے اپنی ناواقفیت کا برملا اظہار کرتے دِکھائی دے رہے ہیں۔ پہلے بات سمجھنے والی یہ ہے کہ ہماری کائنات کو ئی چھوٹا سا علاقہ نہیں بلکہ انتہائی وسیع و عریض ہے، صرف ہماری کہکشاں (جسے کائنات میں چھوٹی کہکشاؤں کا درجہ حاصل ہے) 1 لاکھ نوری سال وسیع ہے، پولارس ستارہ ہماری کہکشاں کا حصہ ہے جس کی وجہ سے یہ سورج اور دیگر اربوں ستاروں سمیت ہماری کہکشاں کے درمیان میں موجود ایک بلیک ہول کے گرد چکر لگانے میں مصروف ہے، زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے مگر پولارس اور دیگر ستارے چونکہ سینکڑوں نوری سال زمین سے دور ہے اس خاطر دُوری کی وجہ سے ان کی پوزیشن میں واضح فرق نہیں پڑتا ۔ ہم پچھلی اقساط میں پڑھ چکے ہیں کہ  قطبی ستارہ بدلتا رہتا ہے، آج سے 5 ہزار سال پہلے پولارس قطبی ستارہ نہیں تھا۔ سو یہ زمین /سورج کے ساکن نہ ہونے کی بذاتِ خود بہت بڑی نشانی ہے۔
اعتراض 152: 2003ء میں ایک یونیورسٹی کے جغرافیہ کے پروفیسر نے ایک تجربہ  میں حصہ لیا، اور ثابت کیا کہ امریکی ریاست کنساس کسی پین کیک سے بھی زیادہ چپٹی اور سیدھی ہے!۔
جواب:2003ء میں یہ تجربہ انتہائی مشہور ہوا اور اس کا مغربی میڈیا پر بہت چرچا رہا لیکن بعد میں ہونے والی تحقیقات میں حقائق اس کے برعکس نکلے ، ہمیں معلوم ہے کہ ہماری زمین مکمل گول نہیں بلکہ بیضوی (یا شُتر مرغ کے انڈے جیسی) ہے ۔ اس خاطر کچھ جگہوں پر یہ معمول سے زیادہ فلیٹ محسوس ہوتی ہے۔ مذکورہ ریاست میں چونکہ پہاڑیاں اور جنگلات موجود ہیں جو کہ اسے فلیٹ محسوس کرنے میں زیادہ کردار ادا کرتے ہیں۔ جب اس تجربے کا چرچا ہوا تو بہت سے سائنسدانوں نے ڈیٹا کو کھنگالا ،اس تجربے کے جواب میں بہت سے سائنسی جریدوں میں آرٹیکلز لکھے گئے اور اِسی پروفیسر کے ڈیٹا کو پرکھنے کے بعد جغرافیہ کے ماہرین جیروم ڈوبسن اور جوشا کیمبل نے انکشاف کیا کہ کنساس اسی صورت میں پین کیک سے زیادہ فلیٹ تصور کیا جاسکتا ہے اگر اس میں 10 ہزار میٹر بلند پہاڑ موجود ہو، دُنیا کا سب سے بلند پہاڑ (ماؤنٹ ایورسٹ) بھی فقط 8848 میٹر بلند ہے۔ بعد ازاں سائنسدانوں نے زمین کے بیضوی ہونے کے باعث دُنیا میں موجود فلیٹ محسوس ہونے والی ریاستوں کی لسٹ ترتیب دی تو کنساس پہلی دس ریاستوں میں بھی شامل نہیں تھا جس سے معلوم ہواکہ یہ تحقیق اعداد و شمار کو غلط طریقے سے پرکھ کر کر دی گئی تھی۔
اعتراض153:Reverned Thomas Milner نے Altas of Physical Geography میں لکھا ہے :”ہم نے پایا کہ بہت وسیع رقبہ پر محیط علاقے ڈیڈ لیول پر ہیں۔۔۔ایمزان دریا کے دہانے کے آخری 700 میل کے راستے پر پانی صرف 12 فٹ کے لیول کے فرق سے بہتا ہے ، جبکہ La Plata میں صرف ایک انچ کے 33ویں حصے فی میل اُترائی ہے”
جواب: مذکورہ اعتراض میں فلیٹ ارتھرز دوبارہ اپنی علمی قابلیت کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے سطح سمندر سے اونچائی کو زمین کاخم سمجھ کر اعتراض کررہے ہیں، اس کے متعلق ہم شروع کی اقساط میں تفصیلاً پڑھ چکے ہیں کہ سطح سمندر سے اونچائی کچھ اور معاملہ ہے جبکہ زمین کا خم کچھ اور معاملہ ہے، زمین کا خم قطعاً کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے فیتہ لے کر ناپ لیا جائے کیونکہ جوں جوں آپ آگے جاتے جائیں گے تو زمین کے خم ہونے کے ساتھ ساتھ آپ بھی خم کھاتے جائیں گے، اسی خاطر آپ کو سمندر کے لیول میں فرق نہیں نظر آئے گا کیونکہ زمین کے خم کے ساتھ ساتھ سمندر بھی خم کھاتا جائے گا ۔ چونکہ فلیٹ ارتھرز گلوب زمین کے قائل نہیں اسی خاطر زمین کے خم اور سطح سمندر سے اونچائی میں فرق نہیں سمجھ پاتے۔
اعتراض154: Felix Baumgartner کی Red Bull والی چھلانگ میں باہر لگا کیمرہ “فش آئی لینز” کے باعث زمین کو گلوب دِکھا رہا تھا جبکہ راکٹ کے اندر لگا کیمرہ زمین سیدھی دِکھا رہا تھا جس سے معلوم ہوا کہ زمین فلیٹ ہے۔
جواب: یہ عموماً فلیٹ ارتھرز کا پُرانا طریقہ واردات ہے کہ جو کیمرہ زمین کو گول دِکھا دے اس کو فش آئی لینز کا کمال قرار دے دیتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ کئی جگہوں پر فش آئی لینز کا استعمال کیا جاتا ہے تا کہ کیمرے میں زیادہ سے زیادہ علاقے کو cover کیا جاسکے، لیکن مذکورہ ویڈیو میں فش آئی لینز کے اثر کو کم یا ختم بھی کیا جاسکتا ہے ، جس کے بعد بآسانی دیکھا جاسکتا ہے کہ زمین کا خم بدستور دِکھائی دے گا۔اس کے علاوہ راکٹ کے اندر موجود کیمرہ اُس وقت کھڑکی سے باہر زمین کا انتہائی تھوڑا سا حصہ دِکھا رہا تھا جس کے باعث اس کیمرے میں زمین سیدھی نظر آئی مگر باہر لگا کیمرہ چونکہ مکمل view دِکھا رہا تھا اس خاطر اس میں زمین گلوب نما دِکھائی دی ۔
اعتراض155: کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں جہاز سے زمین کا خم دِکھائی دیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جہاز کا شیشہ کُروی ہوتاہے جس کی وجہ سے گلوب ارتھ کے ماننے والے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے زمین کو گول ثابت کردیا حالانکہ وہی بات ہے اگر زمین گلوب ہوتی تو اتنی اونچائی سے افق نیچے نظر آنا چاہیے تھا۔
جواب: ہم اعتراض نمبر 155 تک پہنچ گئے ہیں مگر اب تک فلیٹ ارتھرز اُفق کی تعریف کو نہیں سمجھ پائے۔بہرحال اس اعتراض کا جواب شروعاتی اقساط میں دیا جاچکا ہے۔
اعتراض156: اکثر لوگ Go-Pro یا کسی اور اونچائی پر بنائی گئی ویڈیوز دیکھ کر زمین کو گلوب مان لیتے ہیں ۔ زمین گلوب نما کیمرے کے لینز کے باعث دِکھائی دیتی ہے اگر اُسی لینز کوٹھیک کیا جائے تو زمین فلیٹ نظر آئے گی۔
جواب: بہت سے ممالک میں amateur astronomers نے فش آئی لنیز کے بغیر کیمروں سے بھی اونچائی سے زمین کی ویڈیو بنائی ہے جس میں زمین صاف گلوب دِکھائی دے رہی ہے ۔ان تجربات کی تفصیل اور ویڈیوز انٹرنیٹ پر بآسانی دستیاب ہیں۔
اعتراض 157: اگر کشش ثقل کے باعث سب کچھ زمین کے ساتھ گھوم رہا ہے تو زمین کے خط استواء اور قطبین پر ماحول کے مختلف اثرات ہونے چاہیے، کیونکہ زمین کے خط استواء پر زمین کے گول گھومنے کی رفتار تیز اور قطبین پر کم ہے ، اس کااثرکبھی نوٹ نہیں کیا گیا، نہ جہازوں پر ، نہ ماحول پر۔
جواب: فرض کیجئے کہ ہم انتہائی تیز رفتار جہاز میں سفرکرہے ہیں اور اِس دوران ہم جہاز میں چہل قدمی کرتے ہیں یا بھاگتے ہیں، تو کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ جہاز سینکڑوں کلومیٹر فی گھنٹہ فی رفتار سے پرواز کررہا ہے سو ہمارے بھاگنے کی رفتار بھی سینکڑوں کلومیٹر فی گھنٹہ ہے؟ نہیں! کیونکہ ہم جہاز کے فریم آف ریفرنس میں ہیں۔ یہاں پر حقیقت کھلتی ہے کہ سائنس دشمنی میں فلیٹ ارتھرز کشش ثقل کے ساتھ ساتھ فریم آف ریفرنس کے بھی انکاری ہیں خیر زمین کے گھومنے کا اثر ہوتا ہے اور اسے نوٹ کیا گیا ہے ہم نے پچھلی اقساط میں Cariolis Effect  اور Foucault pendulumکو انتہائی تفصیل سے پڑھا ہے۔
اعتراض158: اگر زمین واقعی گول گھوم رہی ہے تو جیسے جیسے اونچائی پرجاتے جائیں گے تو گھومنے کی رفتار میں اضافہ ہونا چاہیے اور جیسے جیسے زمین کے پاس آئیں تو گھومنے کی رفتار میں کمی آجائے گی مگر بارش اور آتش بازی کے معاملے میں ایسا نہیں ہوتا کیوں؟
جواب:1791ء میں Battista Guglielminiنے دیگر کچھ سائنسدانوں کے ساتھ مل کر کئی تجربات کےذریعے ثابت کیا تھا کہ زمین کے گھومنے کی وجہ سے 261 فٹ کی اونچائی سے پھینکی گئی گیندیں زمین پر اپنے حدف سے تھوڑا سا ہٹ کر گرتی ہیں، مذکورہ سائنسدان کے اِن تجربات کی بنا پر 200 سال پہلے انسان کو زمین کے گھومنے کے حوالے سے تجرباتی ثبوت میسر آنا شروع ہوگئے تھے۔اسی وجہ سے بارش کے دوران ہوا نہ چلنے کے باوجود بارش کے قطرے سیدھا گرنے کی بجائے تھوڑا ترچھا  گرتے ہیں۔ انِ تجربات اور ثبوتوں کی بنا پر ہمیں معلوم ہوا کہ زمین کے گھومنے کی وجہ سے free-fall کرتی چیزوں پر معمولی اثر پڑتا ہے ۔
اعتراض159: اگر زمین کا ماحول واقعی زمین کے ساتھ گردش میں مصروف ہوتا تو اونچائی کے ساتھ ساتھ ماحول کے گھومنے رفتار تیز ہوتی جاتی ایک وقت آتا جہاں یہ تیز رفتار ماحول خلاء میں جہاں ویکیوم ہے وہاں جا کر مل جاتی، اگر واقعی ایسا ہوتا تو راکٹ اور خلائی جہازوں نے بڑی تباہی سے دوچار ہونا تھا۔
جواب: مذکورہ اعتراض میں فلیٹ ارتھرز اشارے کنائے میں ہی سہی مگر اپنے عقیدے کے برعکس سیٹلائٹس کے ہونے کا اعتراف کررہے ہیں، بہرحال ہمیں معلوم ہے کہ اونچائی کے ساتھ ساتھ atmosphere کی تہہ ہلکی سے ہلکی ہوتی چلی جاتی ہے، ایک وقت آتا ہے کہ خلاء شروع ہوجاتی ہے، معلومات میں اضافے کی خاطر یہاں یہ بتاتا چلو ں کہ خلاء بھی ویکیوم نہیں ہے خلاء میں بھی وقفے وقفے سے ہائیڈروجن  ایٹم پھیلے ہوئے ہیں سو ایسا کچھ نہیں ہوتا جیسا فلیٹ ارتھرزسوچتے ہیں۔
اعتراض160: یہ ناممکن ہے کہ  جیٹ انجن ویکیوم میں کام کرے، یعنی خلاء میں ہوا نہیں ہوتی سو راکٹ اور شٹلز کے جیٹ انجنز کیسے جہاز کو آگے دھکیلتے ہیں جب کہ خلاء میں ہوا نہیں ہے جس کو دھکیل کے آگے بڑھا جائے، اس طرح تو چاند پر بھی نہیں جایا جاسکتا۔
جواب: ہم نے شاید دسویں کی کتاب میں پڑھا تھا کہ زمین سے نکلنے کے لئے escape velocity چاہیے ہوتی ہے ، زمین کے مدار سے نکلنے کے بعد خلاء میں پہنچ کر راکٹ بنا ایندھن کے بڑھتا رہتا ہے۔ سو راکٹ کے ذریعے چاند پر بھی جایا جاسکتا ہے، کچھ سالوں بعد انسان دوبارہ چاند پر جارہاہے، چاند کے بعد مریخ پر بھی جارہاہے، ساری دنیا اپنی سوچ کو وسعت دے رہی ہے، صرف چند افراد پر مبنی گمراہ ٹولہ اپنے ساتھ سب کو کنویں کا مینڈک بنانے پر بضد ہے، یقیناً فلیٹ ارتھرز کے بوسیدہ خیالات سے بقیہ دنیا کو کوئی فرق نہیں پڑتا ، یہ سیرز صرف اس لئے لکھی جارہی ہے کہ بعد میں کوئی یہ کہنے کے قابل نہ رہے کہ فلیٹ ارتھرز اگر جھوٹ بولتے تو انہیں بےنقاب کیوں نہیں کیا جاتا؟،لہٰذا ابھی بھی وقت ہے کہ اپنی اصلاح کی کوشش کی جائے اور بند کمرے میں بیٹھ کر اعتراضات اٹھانے کی روش چھوڑ کر انسانی ترقی میں اپنا حصہ ڈالا جائے۔
اعتراض 161: اگر زمین واقعی گلوب ہوتی تو ہمیں خلاء میں جانے کے لئے راکٹ کی ضرورت نہیں تھی بلکہ صرف ہوائی جہاز اڑتے ہی مخصوص بلندی کے بعد خلاء  میں پہنچ جاتا ، اور زمین پر رہنے کے لئے پائلٹس کو لگاتار جہاز کی ناک زمین کی طرف کرنا پڑتی ، مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔
جواب: اس متعلق ہم اعتراض 15 کے جواب میں تفصیلاً پڑھ چکے ہیں۔
اعتراض162: ناسا اور دیگر سپیس ایجنسیاں جب بھی راکٹ لانچ کرتی ہیں تو وہ راکٹ سیدھا اوپر نہیں جاتا بلکہ یہ راکٹس خم کھاتے  ہوئے کہیں دور جا کر گر جاتے ہیں۔ جن راکٹس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کی لانچنگ کامیاب ہوئی ہے  اور نہیں پھٹے، وہ دراصل بہت دُور سمندر میں restricted area میں جا کر گرجاتے ہیں۔ اسپیس اسٹیشن اور اس کے متعلق تمام چیزیں اسٹوڈیو میں فلمائی جاتی ہیں۔
جواب: ہمیں ان اعتراضات پر بحث کرنے سے پہلے یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ تمام اعتراضات صرف وہی لوگ اٹھاتے ہیں جنہوں نے شاید کبھی زندگی بھر ٹیلی سکوپ کے ذریعے کوئی بھی تحقیق نہ کی ہو، ناسا اور دیگر سپیس ایجنسیز سے جُڑا ہر شخص کسی بھی اہم مشن کا حصہ ہونا فخر سمجھتا ہے، اگر راکٹ بھیجنا اور اسپیس اسٹیشن سب جھوٹ ہوتا تو ناسا اور دیگر خلائی ایجنسیز کے  ہزاروں ملازمین یہ “سچ” اگل چکے ہوتے بہرحال ہمیں معلوم ہے کہ زمین کے گلوب ہونے اور کشش ثقل کے باعث راکٹس کو 8 کلومیٹر فی سیکنڈ کی escape velocity  حاصل کرنی پڑتی ہے اور اگر راکٹ یہ رفتار کُروی راستے پر حاصل کرلے تو زمین کے مدار سے نکلنا آسان ہوتا ہے جس کے باعث راکٹس کی لانچنگ سیدھی ہی ہوتی ہے مگر کافی اونچائی پر جاکر یہ اپنا راستہ کُروی شکل میں اختیار کرلیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم پچھلی اقساط میں بہت تفصیلی ذکر کرچکے ہیں کہ کوئی سمندری علاقہ ممنوعہ نہیں ہے ،  فلیٹ ارتھرز اگر گھر سے نکل کر ٹکٹ خرید کر کبھی سمندر کےمبینہ ممنوعہ علاقوں کا سفر کرنے کی جسارت کریں تو کوئی انہیں نہیں روکے گا بلکہ بہت سی ٹریول ایجنسیز اِن علاقوں میں سفر کے لئے باقاعدہ پیکجز کا اعلان کرتی ہیں۔
اعتراض163: ناسا  اور دوسری سپیس ایجنسیز کی عموماً آفیشل ویڈیوز جو کہ بیرونی خلاء دِکھا رہی ہوتی ہیں ان میں اکثر پانی کے بلبلے دِکھائی دیتے ہیں اور کئی بار خلاء بازوں کو سکوبا ڈائیونگ کا سامان پہنے بھی دیکھا گیا ہے، اسی وجہ سے ایک خلاء باز Luca Parmitano خلاء میں چہل قدمی کے دوران ہیلمٹ میں پانی بھر جانے کی وجہ سے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے تھے۔ ناسا  یہ مانتا ہے کہ خلاء بازوں کو عموماً اسپیس میں بھیجے جانے سے پہلے ٹریننگ ناسا کی پانی کے اندر بنی  Neutral Buoyance Lab میں دی جاتی ہے، درحقیقت خلاء میں موجود خلاء بازوں کی ویڈیوز بھی یہیں بنائی جاتی ہیں اور عوام الناس کو دھوکہ دیا جاتا ہے۔
جواب: یہاں پر فلیٹ ارتھرز خلاء بازوں کی ٹریننگ کے دوران بننے والی ویڈیوز کو اسپیس اسٹیشن میں بننے والی ویڈیوز کے ساتھ گڈ مڈ کرنے کی ناکام کوشش کرتے دِکھائی دے رہے ہیں ۔ چونکہ خلاء بازوں کا اسپیس سوٹ مکمل طور پر sealed ہوتا ہے تاکہ اس میں سے ہوا باہر نہ جاپائے اور نہ اندر آپائے، جس کے باعث اس میں متعدد نظام موجود ہوتے ہیں، اسپیس سوٹ کا temperature کنٹرول میں رکھنے کے لئے اس میں پانی کا استعمال کیا جاتا ہےاس کے علاوہ سپیس سوٹ میں خلاء بازوں کے پینے کے لئے پانی بھی رکھا جاتا ہے ، مذکورہ خلاء باز جب چہل قدمی کے لئے خلاء میں نکلے تو اسپیس سوٹ میں خرابی آجانے کے باعث درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کے لئے موجود پانی اسپیس سوٹ کے اندر leak ہونا شروع گیا اور چونکہ خلاء میں کشش ثقل نہیں ہوتی جس وجہ سے پانی پاؤں میں جمع ہونے کے بجائے ،ہیلمٹ میں بھرنا شروع ہوگیا ، خلاء باز کو جیسے ہی صورت حال کا علم ہوا تو خلائی جہاز میں پہنچ کر انہوں نے اپنا اسپیس سوٹ اتار لیا ، لہٰذا اس واقعے سے کسی طرح بھی یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا  کہ یہ سب اسٹوڈیو میں ریکارڈ کیا جاتا ہے یا سوئمنگ پول کے اندر ریکارڈ کیا جاتاہے۔
اعتراض 164:انٹرنیشنل  سپیس  سٹیشن کی اکثر ویڈیوز کوباریک بینی کے ساتھ جانچنے کے بعد معلوم ہوتا ہےکہ یہ سب اسٹوڈیو میں فلمایا گیا ہے،اس حوالے سے یوٹیوب پر موجود ویڈیوز سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔
جواب: اس اعتراض میں فلیٹ ارتھرز اپنے خیالات کا پرچار کرتے ہوئے ضدی بچے کی طرح “میں نہ مانوں”کی رٹ لگاتے دِکھائی دے رہے ہیں۔دوبارہ کہوں گا کہ اگر یہ سب جھوٹ ہوتا تو کوئی ایک ملک سرکاری طور پر اس جھوٹ کابھانڈا پھوڑ چکا ہوتا، دنیا میں موجود اِکا دُکا فلیٹ ارتھرز جو اس نظریے کو آخری سانسیں لیتا دیکھ رہے ہیں اسے بچانے کے لئے ایسے فضول اعتراضات کرتے دِکھائی دیتے ہیں۔
اعتراض165:  انٹرنیشنل سپیس  سٹیشن کو ہائی زوم کیمرے کی مدد سے دیکھا جائے تو اس کے رنگ تبدیل ہوتے دِکھائی دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ہولوگرام یا ڈرون جیسی کوئی شے ہے
جواب: بہت سے amateur astronomers ٹیلی سکوپس کے ذریعے ISS کی تصاویر اور ویڈیوز بنا چکے ہیں اگر آپ کے کیمرے سے اس کا رنگ تبدیل ہوتا دِکھائی دیتا ہے تو آپ کو یقیناً اچھا کیمرہ خریدنے کی ضرورت ہے ۔بہرحال فلیٹ ارتھرز کسی اچھی ٹیلی سکوپ سے خود بھی انٹرنیشنل سپیس  سٹیشن کا نظارہ کرسکتے ہیں اس میں کوئی مشکل بات نہیں ہے۔
اعتراض166:زمین کے مدار میں کمیونیکیشن سیٹلائیٹس کا مفروضہ سب سے پہلے ایک فری میسن لکھاری نے بتایا پھر اس کو دس سال بعد سائنس کا حصہ بنا دیا گیا۔ اس سے پہلے ریڈیو، ٹی وی اور دیگر نیویگیشن سسٹم جیسے LORAN اور DECCA بہترین کام کررہے تھے۔ آج کے دور میں وسیع و عریض سمندر میں فائبر آپٹکس کے ذریعے انٹرنیٹ چلایا جارہا ہے، قوی ہیکل کمیونیکیشن ٹاورGPS کو ٹرائی اینگولیٹ  کرتے ہیں، Ionospheric Propagation کے ذریعے ریڈیو کی لہروں کو بڑھایا جاتا ہے۔ یہ سب سیٹلائیٹ کے بغیر ہورہا ہے۔
جواب: LORAN اور DECCA کی accuracy سیٹلائیٹ سے چلنے والے GPS اور دیگر نیویگیشن سسٹم کے مقابلے میں انتہائی خراب  تھی۔ آج کے دور میں بھی انٹرنیٹ کا زیادہ حصہ فائبر آپٹکس کے مرہونِ منت اسی وجہ سے ہے کہ سیٹلائیٹ کے انٹرنیٹ کی رفتار سست ہوتی ہے (اس کا اندازہ آپ یوں لگا سکتے ہیں جب فون پر بات کررہے ہوتے ہیں تو دوسری جانب موجود شخص کو آپ کی آواز تھوڑی دیر سے پہنچتی ہے)جبکہ فائبر آپٹکس میں انٹرنیٹ کی رفتار انتہائی تیزہوتی ہے ، فائبر آپٹکس میں خرابی کو آسانی سے دور کیا جاسکتا ہے جبکہ سیٹلائیٹس میں آنے والی خرابیوں کو دُور کرنا انتہائی مشکل کام ہے، سیٹلائیٹ کے ذریعے انٹرنیٹ کا استعمال مہنگا ثابت ہوسکتا ہے جبکہ فائبر آپٹکس کےذریعے انٹرنیٹ کا استعمال سستا ہےایسے ہی دیگر کئی وجوہات کی بنا پر فائبر آپٹکس کو ترجیح دی جاتی ہے۔
اعتراض167: کمیونیکیشن سیٹلائیٹس عموماً زمین کے تھرمو سفئیر پر تیر رہی ہیں جہاں درجہ حرارت 4530 ڈگری فارن ہائیٹ ہوتا ہے جبکہ سیٹلائیٹس میں استعمال کی جانے والی دھاتیں اس درجہ حرارت کی اہل نہیں ہوسکتیں لہٰذا اگر واقعی ایسا کچھ ہو تو سیٹلائیٹس کو پگھل جانا چاہیے۔
جواب:  گرمائش عموماً اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انرجی ملنے کے باعث molecules کی vibration کی رفتار تیز ہوجاتی ہے ،ہم عموماً درجہ حرارت کو molecules کی رفتار کے ذریعے ہی ناپتے ہیں مگر چونکہ thermosphere (خلاء)میں ہوا کے molecules انتہائی کم تعداد میں ہیں، جس کی وجہ سے وہاں4530 ڈگری فارن ہائیٹ ہونے کے باوجود گرمائش زیادہ نہیں ہوتی کیونکہ بہت کم مالیکیلولز سیٹلائیٹ سے ٹکراتے ہیں اسی خاطر یہ دھاتیں وہاں بھی survive کرجاتی ہیں۔
اعتراض168: سیٹلائیٹ فون کے ریسیپشنز کے بارے اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ قزاقستان جیسے ملکوں میں جہاں موبائل ٹاور انتہائی کم ہیں وہاں ان کی ریسیپشن انتہائی کم ہے ، اگر زمین کے گرد واقعی 20 ہزار سیٹلائیٹس گردش کررہی ہوتیں تو ایسا نہ ہوتا۔
جواب: یہ بات سچ ہے کہ زمین کے گرد تقریباً 20 ہزار کے قریب سیٹلائیٹس محو گردش ہیں جن میں سے تقریباً 405 سیٹلائیٹس geostationary orbit میں موجود ہیں۔سیٹلائیٹ فونز موبائل ٹاور کو استعمال نہیں کرتے بلکہ geostationary satellites کو استعمال کرتے ہیں جس کا انکار مسلسل فلیٹ ارتھرز کرتے آرہے ہیں۔ عموماً جنگلات یا پہاڑی علاقوں پر اسے استعمال کرتے ہوئے دشواری پیش آتی ہے یا پھر اس دوران جب کوئی geostationary satellite  آپ کے اوپر موجودنہ ہو۔ جیسے ہی کوئی geostationary satellite اوپر آتی ہے تو سیٹلائیٹ فون ٹھیک کام کرنا شروع ہوجاتا ہے۔
اعتراض 169: سیٹلائیٹ ٹی وی کے ڈش انٹینا عموماً 45 ڈگری کے زاویے پر لگایا جاتا ہے اگر یہ انٹینا آسمان سے کسی سیٹلائیٹ سے سگنل وصول کررہا ہوتا تو اس کا رخ آسمان کی جانب ہونا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں ہوتا جس سے معلوم ہوتا ہےکہ یہ انٹینا زمین کے ہی کسی ٹاور سے سگنل وصول کررہا ہے۔
جواب:  ڈش انٹینا جن سیٹلائیٹس سے سنگل وصول کرتا ہے وہ عموماً خط استواء سے 37 ہزار کلومیٹر کی بلندی پر پرواز کررہی ہوتی ہیں اور اس کا فائدہ یہ ہوتا ہےکہ یہ روزانہ اسی پوزیشن پر ہوتی ہیں جہاں پچھلے دن تھیں ، اس کے علاوہ کچھ انٹینے ایسی سیٹلائیٹس سے بھی سگنل وصول کرتے ہیں جو Molniya orbit میں تیر رہی ہوتی ہیں، اس کی inclination تقریباً +/-63.5 ڈگری تک ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عموماً ڈش انٹینے کا رخ سیدھا آسمان کی جانب نہیں کیا جاتا ۔
اعتراض170: کئی لوگوں نے یہاں تک دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سیٹلائیٹس کو ننگی آنکھوں سے دیکھا ہے جو کہ ناممکن ہے کہ ایک بس سے چھوٹی چیز سینکڑوں کلومیٹر دُور انسانی آنکھ سے نظر آجائے۔ ٹیلی سکوپ استعمال کرنے والے کبھی یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ ہم نے فلاں سیٹلائیٹ کو دیکھا اس کی ہئیت ایسی تھی وغیرہ وغیرہ۔ بلکہ عموماً یہ کہا جاتا ہےکہ ہم نے روشنی کو گزرتے دیکھا جو کچھ بھی ہوسکتی ہے کوئی جہاز، ڈرون یا پھر شہابِ ثاقب وغیرہ۔
جواب: انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کو ٹیلی سکوپ کے ذریعے دیکھا جاسکتا ہے۔ اگر کسی نے یہ جھوٹا دعویٰ کردیا کہ اس نے سیٹلائیٹ کو عام آنکھ سے دیکھا اور اس کی ہئیت ایسی تھی۔ اس سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ سیٹلائیٹ موجود نہیں ۔ سیٹلائیٹس موجود ہیں اور زمین کے قریب والے مدار میں موجود سیٹلائیٹس دیکھی جاسکتی ہیں۔ سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کے متعلق معلومات لے لی جائیں کہ وہ آپ کے علاقے کے اوپر سے کس وقت اور کس direction میں گزرے گا ، اس کے بعد ٹیلی سکوپ یا دُوربین سے بآسانی اس کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔اگر ننگی آنکھوں سے دیکھا جائے گا تو یہ ایک ستارے کی طرح محسوس ہوگا جو تیزی سے آگے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس کا مشاہدہ کروڑوں لوگ کر چکے ہیں آپ بھی کرسکتے ہیں۔
جاری ہے!
فلیٹ ارتھر حقیقت یا افسانہ؟۔۔محمد شاہزیب صدیقی/قسط9

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”فلیٹ ارتھ حقیقت یا افسانہ؟۔۔محمد شاہزیب صدیقی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *