سب سے پہلے — بلال شوکت آزاد

آگے بڑھنے سے  پہلے پاکستانیوں کے کچھ  کام وں پر نظر ڈالتے ہیں ۔۔سعودیہ شام کے معاملے پر خاموش کیوں ہے؟جیسے پاکستان وہاں پوزیشن سنبھال چکا ہے نا؟۔۔۔بھائی سعودی تم سے بھی پہلے “سب سے پہلے سعودیہ” والے فارمولے پر کاربند ہیں۔ترکی شام میں مظلوموں کی مدد نہیں کررہا ہے بلکہ وہ خود کی کردوں کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔جی بالکل جیسے ہمارے ملک میں بلوچ علیحدگی پسند اور تحریک طالبان پاکستان کے دشمن ہیں اور ہم ان کی سرکوبی کررہے ہیں ویسے ہی ترک بھی سب سے پہلے ترکی پر کاربند ہوکر اپنی جنگ لڑ رہے ہیں پریشانی کس بات کی ہے۔ایران شام میں پراکسی وار لڑرہا ہے۔۔۔۔بالکل لڑرہا ہے کیونکہ سب سے پہلے ایران کا سبق انہیں بھی ازبر ہے سو جہاں ان کے مفادات کی بات ہوگی, جہاں ایران سب سے پہلے ہوگا وہاں ایران گھسے گا۔

دبئی میں مندر کھل گیا جبکہ شام میں انسانیت کٹ گئی۔درست کہا جی سب سے پہلے دبئی میں کیا قباحت ہے؟ کیا باقی نام نہاد اسلامی ممالک میں غیر مسلم بالخصوص ہندوؤں کی عبادت گاہیں  موجود نہیں   کیا؟۔کیا ہوا سب سے پہلے دبئی کی بقاء اور بھارت سے تجارتی و اقتصادی تعلقات کا سٹرکچر ہی اس پر کھڑا ہو تو؟۔

مصر کی خاموشی بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔۔کیوں سمجھ سے بالاتر ہے؟ ۔کیا پاکستان نے سپیکر پھاڑ ڈالے ہیں شور مچا کر, سب سے پہلے مصر والی خاموشی پر اتنا غصہ کاہے کا؟

ساری امت مسلمہ کی خاموشی اور بے حسی نے کفار کو مضبوط کیا ہے۔جی سچ کہا لیکن برادر امت مسلمہ نام کی چڑیا ہے کدھر؟۔

کولونیل ازم سے نکل کر ریاست اور وطن کے سبق پڑھا گئے ہمارے آقا امریکہ, فرانس, برطانیہ اور جرمنی وغیرہ۔۔اب 56 وطن ہیں جہاں مسلمان بستے ہیں لیکن ان کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ “سب سے پہلے ہم” پر عمل کرو۔مطلب اب۔۔۔

سب سے پہلے سعودیہ،سب سے پہلے ایران

سب سے پہلے افغانستان،سب سے پہلے لیبیا

سب سے پہلے مصر،سب سے پہلے عرب امارات

سب سے پہلے قطر،سب سے پہلے دوحہ

سب سے پہلے اردن،اور

سب سے پہلے پاکستان وغیرہ وغیرہ

اب جب 56 ممالک بطور وطن سب سے پہلے ہیں تو امت مسلمہ بیچاری کا کیا وجود ہے۔یہ جو سب سے پہلے کی رٹ ہے اس نے بطور مسلمان اور بطور انسان ہمیں سب سے آخر میں لاکھڑا کیا ہے۔جہاں سے ہمیں کچھ نظر نہیں آتا۔سب اوجھل اور غیر ضروری اور یہاں تک کے فیک نظر آتا ہے۔پاکستانی تو خیر سب سے بڑھ کر ہیں کہ نعرے سب سے پہلے پاکستان کے لگاتے ہیں لیکن ادھر سعودی, ایرانی اور دیگر پرو حلقے آباد ہیں جو ان ہی کا چورن منجن بیچ کر زندہ ہیں۔56 اسلامی ممالک میں کامیاب نعرہ دو ہی ممالک کا ہے کہ “سب سے پہلے سعودیہ” اور “سب سے پہلے ایران”۔کیونکہ ان دو ممالک کی پراکسیز بہت ایکٹو ہیں عالم اسلام خاص کر پاکستان میں۔یہاں ایران کے مفادات اور سب سے پہلے ایران کے محافظ بھی ہیں اور ادھر سعودی مفادات اور سب سے پہلے سعودیہ کا دم بھرنے والے بھی موجود ہیں۔

اب خود ہی اندازہ کرلیں کہ سب سے پہلے یہ، سب سے پہلے وہ، سب سے پہلے فلاں اور سب سے پہلے ڈھمکاں کے نعروں سے ہمیں حاصل کیا ہوا اور اس کا آگے چل کر کتنا فائدہ ہوگا۔۔ہم یہ نہیں کہتے کہ پاکستان ایٹم بم چلادے یا جنگ چھیڑ دے لیکن کیا عالمی فورمز پر ببانگ دہل امت مسلمہ کی ترجمانی کے لیے  بھی ہم کوشش نہیں کرسکتے؟۔۔پاکستان ہمارا بیس کیمپ ہے, پہلا اور اہم پڑاؤ ہے نشاتہ ثانیہ, خلافت اسلامیہ, غزوہ ہند اورغزوہ شام کا۔اسے منزل سمجھ اور مان کر امت مسلمہ کی سالمیت کو داؤ پر مت لگایا جائے۔پاکستان اگر محمدعلی جناح کے نزدیک بھی اولین ترجیح ہوتا تو فلسطین کے قضیے  پر وہ اسرائیل سے بائیکاٹ نہ کرتے وہ سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگاتے اور آگے بڑھ جاتے۔

علامہ اقبال کے اشعار ان کی وطنیت اور عصبیت کے خلاف ہونے کی دلیل ہے۔کس کس طریقے سے سمجھاؤں کہ یہ پاکستان صرف ایک بیس کیمپ ہے جبکہ ہماری منازل اور اگلے پڑاؤ اور بھی ہیں۔چلو پاک فوج کی ہی بات کرلو یا آئی ایس آئی کی تو وہ اپنے دائرہ اختیار اور حدود میں موجود آزادی کا استعمال کرتے ہوئے امت مسلمہ کے درد کو کم کرنے کی سعی کرتے رہتے ہیں لیکن ہماری طاغوتی و غدار حکومتوں اور اکابرین سیاست کا حال ملاحظہ ہو تو انہیں اپنی لوٹ مار کی دولت سے عیاشی اور اس کی حفاظت سے ہی فرصت نہیں ملتی۔قومی وملی سطح کے اقدامات اور قانون سازی اور پالیسی میکنگ کا ذرا خیال نہیں۔پھر عوام کو سب سے پہلے کی بتی کے پیچھے لگا کر خود مزے سے ہیں۔

چراٹ میں دفن سنگ میل پر درج دہلی, سرینگر اور یروشلم کا فاصلہ اس بات کی گواہی ہے کہ ہمارے محافظ اداروں کا نعرہ  عملاً ہرگز سب سے پہلے پاکستان نہیں ۔۔سوچنے اور بولنے پر اور حق کو حق کہنے پر پابندی نہیں اس لیے  غیرت کا مظاہرہ کریں اور اس کھوکھلے نعرے سے باہر نکل کر امت کا درد محسوس کریں۔ویسے ایٹم بم بنانے میں سب قابل ذکر اسلامی ممالک کا کچھ نہ کچھ کردار رہا ہے جو ایک اور گواہی ہے سب سے پہلے امت کی۔یہ ہم ہی ہیں جنہوں نے 2001 کے بعد سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ بلند کرکے دیگر اسلامی ممالک کو بھی راستہ دکھادیا سب سے پہلے والے ٹرک کی بتی کا۔

اب بھی وقت ہاتھ سے گیا نہیں کہ ہم امت کو اول رکھ کر فیصلے کرسکیں اور طاغوت سے ٹکر لے سکیں۔پاکستان کا تو مطلب بھی امت واحدہ اور امت مسلمہ کے گواہ کلمے سے منسوب ہے کہ

پاکستان کا مطلب کیا؟

لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ!!!

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *