• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • سری لنکا: پرتشدد واقعات پر قابو پانے کیلئے ’فیس بک‘ پر پابندی

سری لنکا: پرتشدد واقعات پر قابو پانے کیلئے ’فیس بک‘ پر پابندی

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق حکومت کی جانب سے ٹیلی کام کمپنیوں کو ہدایات جاری کی گئیں وہ ملک بھر میں ’فیس بک‘ جبکہ کینڈی کے تشدد زدہ ضلع میں انٹرنیٹ سروس معطل کردیں۔

پولیس کی طرف سے خبردار کیا گیا تھا کہ حملوں آور سوشل میڈیا کو لوگوں کو مسلمانوں پر تشدد کے لیے بھڑکانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جس کے بعد حکومت نے کمپنیوں کو ہدایت جاری کی۔سری لنکا میں ایمرجنسی کے باوجود بد کے روز مشتعل ہجوم نے ملک کے وسطی ضلع میں مسلمانوں کے کاروباری مراکز کو آگ لگائی۔

کینڈی میں پرتشدد کارروائیوں کو روکنے کے لیے پولیس کے ساتھ فوج بھی تعینات کردی گئی ہے، تاہم اس کے باوجود مسلمانوں کی املاک اور مساجد کو نذرآتش کرنے کے واقعات پیش آرہے ہیں۔پرتشدد واقعات کے باعث متاثرہ ضلع میں شام کے وقت لگائے جانے والے کرفیو میں جمعرات کی شام تک توسیع کردی گئی ہے۔

کشیدہ صورتحال کے باعث کینڈی میں اسکولوں کو بند کردیا گیا ہے۔ضلع کے کئی علاقوں میں کرفیو پر عمل نہ کرنے والوں کی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں جس دوران مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

حکومتی ترجمان راجیتھا سینارتنے نے بدامنی پھیلانے والوں کو سزا دینے کے عزم کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ ’پرتشدد واقعات منظم سازش کی وجہ سے پیش آرہے ہیں، ہم نے حملوں کے پیچھے موجود 4 افراد کی نشاندہی کر لی ہے، جنہیں جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو سوشل میڈیا کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے والوں کو گرفتار کرنے کے احکامات بھی جاری کردیئے گئے ہیں۔پولیس کے ترجمان رووان گوناسیکرا کے مطابق گزشتہ رات کینڈی کے مضافاتی علاقے مینیکِھنا مشتعل افراد سے جھڑپ میں 3 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

سری لنکا میں حکومت کی جانب سے پولیس اور فوج کو گرفتاری اور حراست میں لینے کے وسیع اختیارات کے بعد غیر ملکی حکومتوں نے اپنے شہریوں کو سفری تنبیہ جاری کردی ہے۔اقوام متحدہ نے سری لنکا میں کشیدگی کی مذمت کرتے ہوئے حکومت پر امن کی بحالی کے لیے تمام تر اقدامات اٹھانے پر زور دیا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *