Entiendo Kafka

چنانچہ کمرے میں اتنی جگہ تک نہ رہی کہ اس میں کافکا کی ایک سانس سما سکتی. اس نے بورخیس کو لکھے جانیوالے خط کو آخری مرتبہ پڑھا. یہ محسوس ہونے پر کہ اس میں کچھ بھی ایسا نہیں کہ جس سے لگے یہ کسی اور نے لکھا ہوگا اس نے گرامر غلط کرنی شروع کر دی. اس نے ابتدائیہ لکھا.
Hagel grenzt an Kafka
بورخیس نابینا ہو چکا تھا. اس نے خط وصول کیا اور مسکراتے ہوئے بولا
Entiendo kafka

Avatar
جنید عاصم
جنید میٹرو رائٹر ہے جس کی کہانیاں میٹرو کے انتظار میں سوچی اور میٹرو کے اندر لکھی جاتی ہیں۔ لاہور میں رہتا ہے اور کسی بھی راوین کی طرح گورنمنٹ کالج لاہور کی محبت (تعصب ) میں مبتلا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *