بھارت جنگی دوڑ میں محو مگر غُربت جوں کی توں۔۔شاہد یوسف خان

بھارت اس وقت فوجی طاقت کے اعتبار سے  دنیا میں چوتھی سب سے بڑی جنگی طاقت بن چکا ہے۔ جنگی ہتھیاروں کی موجودگی، دفاعی ساز و وسامان کی نوعیت اور مسلح افواج کی نفری کی بنیاد پر انڈیا، امریکہ، روس اور چین سے پیچھے ہے جبکہ فرانس اور برطانیہ انڈیا سے پیچھے جا چکے ہیں۔جنگی جنون کا شکار اور اسلحہ پر بے شمار دولت خرچ کرنے والے بھارت میں کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جب کہ اقوام متحدہ کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا  کے  ایک تہائی انتہائی غریب لوگ بھارت میں کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔

چوتھی طاقت بننے کے ساتھ ساتھ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق 21.25 فیصد بھارتی عالمی بینک کے طے کردہ 1.9 ڈالر کی روزانہ آمدنی کے معیار کے مطابق غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور 3.1 ڈالر روزانہ آمدنی والے افراد کی تعداد 58 فیصد ہے۔۔۔۔

اقوام متحدہ کی  پیش کی جانے والی متعدد رپورٹس میں  کہا گیا ہے کہ ایک ارب 25 کروڑ کی آبادی والے بھارت میں 30 کروڑ سے زائد افراد  انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں جو تعلیم، صحت، پانی سیوریج سسٹم اور بجلی جیسی بنیادی انسانی ضروریات  سے محروم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسی غربت  کے باعث بھارت میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات بھی دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہیں اور ہر سال ایک کروڑ 40 لاکھ بچے اپنی پانچویں سالگرہ منانے سے قبل ہی موت کے بے رحم شکنجے  میں پھنس جاتے ہیں جب کہ ان میں سے 60 فیصد لوگ گھر جیسی نعمت سے بھی محروم ہیں اور کھلی فضا میں اپنی زندگی کے شب و روز گزارنے پر مجبور ہیں۔

اقوام متحدہ کے سوشل کمیشن فار ایشیا اینڈ پیسفیک کی رپورٹ کے مطابق  بھارتی حکومت کو انتہائی غربت کے خاتمے کے لیے کوششوں میں تیزی لانا ہوگی اورغربت کے بڑھتے ہوئے گراف کو کم کرنے کے لیے کوششوں میں توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو بھارت کی وجہ سے دنیا بھر میں غربت کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ اپنے اہداف کو حاصل نہیں کر پائے گا۔

بھارت کے حوالے سے میڈیا میں ایسی خبریں اور رپورٹس کئی اداروں  نے شائع کی ہیں کہ بھارت جیسے جنگی  اور مذہبی جنونی مُلک میں لوگوں کو ایک وقت کی روٹی   میسر ہونا بھی  بہت  مشکل ہے۔ پڑھے لکھے افراد بھیک مانگ کر گزارا کرتے ہیں۔ بھارت کے  اپنے ہی سرکاری اداروں کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 3 لاکھ بہتر ہزار افراد بھیک مانگتے ہیں جن میں 75 ہزار افراد پڑھے لکھے ہیں جو بھکاریوں کا 21 فیصد بنتے ہیں ۔

پاکستان اور بھارت جنوبی ایشیا کی ان دونوں حریف ایٹمی طاقتوں کو اپنے اپنے ہاں غربت کے خاتمے کے لیے ایک مشکل اور صبر آزما ہدف کا سامنا ہے بھارت اور پاکستان ہتھیاروں سے جنگ لڑنے کے طریقہ کار سے تو آگاہ ہیں لیکن  غربت کے خلاف جنگ کیسے لڑی جانا چاہیے اس بارے دونوں ممالک سنجیدہ نہیں لگ رہے غربت کا خاتمہ ایک ایسا چیلنج ہے، جس کا بھارت  کے ساتھ ساتھ خود پاکستان کو بھی سامنا ہے۔

پاکستان میں انتہائی غریب طبقے کی آمدنی ملکی اوسط سے زیادہ تیز رفتار شرح سے بڑھ رہی ہے۔ پاکستان میں قومی شرح ترقی چار فیصد ہے لیکن بہت غریب طبقے کی آمدنی میں چار فیصد سے بھی زیادہ کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔

اسی طرح بھارت میں بھی، جو دنیا میں سب سے تیز رفتار ترقی کرنے والی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے، بہت غریب طبقے کی آمدنی اقتصادی ترقی کی قومی شرح سے بھی زیادہ رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ لیکن مجموعی طور پر ان دونوں ملکوں کو اپنے ہاں انتہائی غربت کے شکار شہریوں کی حالت بہتر بنانے کے عمل میں مشکل اور طویل سفر کا سامنا ہے۔

ان دونوں ممالک کے پالیسی میکرز ستر سال گزرنے کے باوجود بھی عوام کو سہولیات دینے کی بجائے ہتھیار دینے پر تُلے ہوئے ہیں۔ایسی ساری صورتحال کے بعد   کبھی  کبھار تو ایسا لگتا ہے کہ ہمارے اداروں کی روزی روٹی ایسی جنگوں سے وابستہ ہے ورنہ پہلے غریب لوگوں کو  دو وقت کی روٹی مہیا نہیں ہو سکتی تو وہ ان  غریبوں کی حُب الوطنی پیٹ سے زیادہ طاقتور کیسے بنائی جاتی ہے۔۔ اللہ جانے!

شاہد یوسف خان
شاہد یوسف خان
علم کی تلاش میں سرگرداں شاہد یوسف خان ایم اے سیاسیات اور صحافت مکمل کر چُکے ہیں ۔ سیاسی و سماجی موضوعات پر سوالات کرتے رہتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *