سنیاسی کون ہوتا ہے؟۔۔ثناا للہ خان احسن

سنیاسی ٹوٹکے۔
سانپ کے کاٹے کا تریاق!
بچھو، بھڑ اور شہد کی مکھی کے کاٹے کے لئے کراماتی ہاتھ بنانا!
وہ بوٹی جسے کھا کر شدید گرمی میں بھی سردی لگنے لگے!
وہ بوٹی جسے کھا کر پندرہ دن تک بالکل بھی بھوک نہ لگے!
سرطان کے علاج کی کراماتی بوٹی!

ہندومت میں دنیا کو ترک کرنے اور بری عادتوں کو چھوڑ کر جوگ اور
فقیری اپنانے کو سنیاس کہا جاتا ہے۔ اور اس عمل کو کرنے والے مرد کو سنیاسی اور عورت کو سنیاسنی یا سنیاسن کہا جاتا ہے۔

سنیاس کیا ہے,
وہ شخص جو قدرتی جڑی بوٹیوں کے مرکب سے نسخہ جات بنا کرلوگوں کو فیض یاب کرتا ہے یا مختلف دھاتوں کو کشتہ کر کےعلاج کرتا ہے سنیاسی کہلاتا ہے,اور اس طریقہ علاج کو سنیاس کہتے ہیں,سنیاس کے علم کے لیے کسی مذہب یا زبان کی کوئی قید نہیں یہ علم برصیغر پاک و ہند میں بہت مقبول ہے جہاں تک سنیاسی نسجہ جات کی افا دیت کی بات ہے تو انتہائی ذود اثر اور بہت ہی خطرناک بیماریوں کی شفایابی کا باعث بنی اگر وہ نسخہ کسی حقیقی سنیاسی کا ہی ہو کیوں کہ سنیاس ایک انتہا ی کٹھن شعبہ طب جس میں سنیاسی کی زندگی بو ٹیوں کی تلاش اور تجربات میں جنگلوں بیابانوں اور ویرانوں میں گزرتی ہے, مگر اب یہ عظیم فن ختم ہوتا جا رہا ہے, اگر آپ میں کسی کے پاس کوئی سنیاسی مستند نسخہ ہو تو اپ اس کو یہاں ضرور شیر کرئیں تاکہ کسی کی فلاح ہو سکے.

گرو اور چیلا:
کوئ بھی نو آموز بذات خود سنیاسی نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ کسے سنیاسی کی شاگردی اختیار نہ کرلے۔ پرانے بوڑھے تجربہ کار سنیاسی کا چیلا بننے کے لئے بھی بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں چیلا اپنے گرو کی سیوا کرتا ہے اور اس کا ہر حکم بلا چوں و چرا بجالانے کا پابند ہوتا ہے۔ چیلا گرو کے ساتھ رہ کر گرو کی کہی اور کری ایک ایک بات کو پلو سے باندھتا رہتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سنیاسیوں کو جڑی بوٹیوں اور ٹوٹکوں کے بارے میں کیسے علم ہوتا ہے؟ سنیاسی جنگلوں میں گھومتے ہیں جس سے ان پر فطرت کے کئ راز آشکار ہوتے ہیں۔
SKAF
سانپ کے کاٹے کا تریاق:
مثال کے طور پر پنڈت کرشن کنور دت شرما اپنی کتاب میں ایک ڈاکٹر صاحب کا واقعہ لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ بغرض سفر اجمیر کے جنگل سے گزرتے ہوئے اس نے ایک سیاہ شیش ناگ اور نیولے کے درمیان لڑائ کا منظر دیکھا۔ سانپ بار بار نیولے کو ڈستا لیکن نیولا بھی میدان میں جما رہا۔ جب زہر اثر کرنے لگتا تو نیولا بھاگ نکلتا لیکن کچھ ہی دیر میں پھر آ دھمکتا۔ ڈاکٹر نے دیکھا کہ نیولا کچھ دور جا کر ایک جھاڑی سے کچھ پتے کھاتا ہے اور پھر تازہ دم ہو کر سانپ سے مقابلے کے لئے آجاتادھمکتا۔ بالآخر نیولے نے سانپ کو ھلاک کر ڈالا اور اور اپنی فتح کے جشن کے طور پر ایک مرتبہ پھر اس بوٹی کے کچھ پتے کھا کر جنگل میں غائب ہوگیا۔ ڈاکٹر سمجھ گیا کہ یہ بوٹی یقینا” سانپ کے زہر کا تریاق ہوگی۔ اس نے بوٹی کی کچھ شاخوں کو توڑ کر اپنے تھیلے میں ڈال لیا کہ کبھی وقت پڑنے پر اس کی آزمائش کی جائے۔ اتفاق ایسا ہوا کہ جب وہ ڈاکٹر ریلوے اسٹیشن جاکھل سے ریل میں سوار ہوا تو وہاں ایک ایسا مریض دیکھا جس کے ہر موئے تن سے خون جاری تھا۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ اس کو کسی انتہائ زہریلے سانپ نے ڈس لیا تھا۔ کسی ڈاکٹر کے پاس لے گئے تھے لیکن ڈاکٹر نے صاف جواب دے دیا۔ اب یہ لوگ مریض کی زندگی سے مایوس ہوکر اسے واپس گھر لے جا رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کو اور تو کچھ نہ سوجھا انہوں نے زرا الگ جا کر اس بوٹی کو کچل پیس کر تین گولیاں بنا دیں کہ ایک گولی ابھی دے دو اور باقی چند گھنٹے کے وقفہ سے دے دینا۔ڈاکٹر صاحب نے اپنا تعارف بھی کروادیا کہ وہ سرسہ میں مطب کرتے ہیں۔ کچھ دیر بعد ان لوگوں کا اسٹیشن آگیا اور وہ اتر گئے۔ اس بوٹی کے اثرات دیکھنے کا شوق ڈاکٹر صاحب کے دل میں ہی رہ گیا۔ ڈاکٹر صاحب بٹھنڈہ ہوتے ہوئے سرسہ پہنچ گئے۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ کچھ دن بعد وہ اپنے مطب میں بیٹھے تھے کہ ایک جوان رعنا مطب میں داخل ہوا اور بعد سلام عرض کرنے لگا کہ جناب میں آپ کا بڑا احسانمند ہوں۔ آپ نے میری زندگی بچا کر مجھ پر اور میرے گھر والوں پر بڑا احسان کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب اس شخص کو قطعی نہ پہچان پائے۔ جس پر اس شخص نے اپنا تعارف کروایا کہ میں وہی مارگزیدہ ہوں جس کی زندگی بچنے کی کوئ امید نہ تھی لیکن آپ کی دوا نے تو معجزہ کردیا۔ اب تو ڈاکٹر صاحب نے اس دوا کواپنے مطب کا معمول بنا لیا۔ اس دوا نے کبھی خطا نہ کی۔ اس بوٹی کا نام “گوما” ہے جو ویدک کی مایہ ناز بوٹی ہے۔ سانپ کاٹے کو چھ گرام سے لے کر بارہ گرام تک پانی میں گھوٹ چھان کر پلانے سے زہر کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔ سانپ زیادہ زہریلا ہو تو دوبارہ بھی گھوٹ کر پلانی چاہئے۔
مئ جون میں کڑکتے جاڑوں کی سردی:
اسی طرح ہندوستان میں بعض سادھو مئ جون کی چلچلاتی دھوپ اور گرمی میں اپنے چاروں طرف انگیٹھیاں دھکا کر بیٹھ جاتے ہیں اور لوگ اسے سادھو مہاتما کا چمتکار سمجھتے ہیں۔ اس کا راز ایک سنکھ مکھی نامی بوٹی ہے۔اگر اس بوٹی کو گھوٹ چھان کر بطور سروائ پی لیا جائے تو سخت گرمی میں بھی دسمبر جنوری کے کڑکتے جاڑوں کی سردی لگنے لگتی ہے۔ اس بوٹی کا نام اس کے پھولوں کی شکل کی بنیاد پر رکھا گیا ہے جو چھوٹے چھوٹےنیلگوں سنکھ کی شکل کے ہوتے ہیں۔

سخت سردی میں مئ جون کی گرمی:
اسی طرح کچھ سادھو حضرات کڑکتے جاڑوں میں صبح سویرے دریا کے یخ بستہ پانی سے اشنان کرتے نظر آتے ہیں۔ اسے بھی ضعیف العقیدہ لوگ سادھو مہاراج کے گیان دھیان کا چمتکار سمجھتے ہیں لیکن اس چمتکار کا راز بھی ایک بوٹی ہے کہ جس کی جڑ کی باجرے برابر مقدار کھا لینے سے آپ کو سخت برفیلی سردی میں بھی مئ جون کی گرمی محسوس ہونے لگتی ہے۔ اس بوٹی کا نام ” مندورا” ہے جو کشمیر اور پونچھ کے پہاڑوں میں اسی نام سے ملتی ہے۔ اس کی شکل نربسی یعنی جدوار سے ملتی جلتی ہوتی ہے۔ یہ بوٹی انتہائ مقوی باہ ہے لیکن مقدار خوراک باجرے کے دانے بلکہ اس سے بھی کم لینی چاہئے۔ ورنہ لالچی حضرات باہ کے نخل کو سرسبز کرنے کے چکر میں جد بازی میں کہیں شجر حیات کو ہی قطع نہ کر بیٹھیں۔
SKAF
بچھو اور بھڑ کے کاٹے کے لئے کراماتی ہاتھ بنانا:

اسی طرح بچھو بھڑ یا ڈینبھو کے کاٹنے کے لئے کراماتی ہاتھ بنایا جاتا ہے۔ کسی کے بچھو نے کاٹ لیا ہو ی بھڑ شہد کی مکھی ڈینبھو وٖغیرہ نے تو بس اپنا ہاتھ کاٹے کی جگہ پر رکھ دیجئے۔ تین چار منٹ میں روتا مریض بھی ہنسنے لگتا ہے۔ اور کاٹےکا اثر زائل ہو جاتا ہے۔ اس کو بھی لوگ کرامات سمجھتے ہیں لیکن ہم میں سے ہر شخص ایسا کراماتی ہاتھ بنا سکتا ہے۔ طریقہ اس کا یہ ہے کہ جب آم کے درخت میں پھول آجائے جس کو آم کا بور بھی کہتے ہیں۔ جب یہ پکنے پر آتا ہے تو اس میں سے بڑی اچھی خوشبو آنے لگتی ہے۔ بس یہی وقت ہے کراماتی ہاتھ بنانے کا۔ فرصت سے کسی آم کے باغ چلے جائیے۔ دو چار درختوں سے بور توڑ کر ایک رومال میں ڈال لیجئے۔ کوئ پائو بھر کے قریب۔ اب کسی جگہ آرام سے بیٹھ کر اس بور کو اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان مسلتے رہئے۔ جس طرح دونوں ہاتھوں میں صابن دبا کر رگڑا جاتا ہے۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے تک یہ عمل جاری رکھئے حتی کہ ہاتھوں پر بور کا میل اور رس خوب اچھی طرح جم جائے۔ اب بس آپ نے یہ کرنا ہے کہ ڈیڑھ گھنٹے ہاتھوں میں بور ملنے کے بعد تین چار گھنٹے تک اپنے ہاتھ نہ دھوئیں۔ اس کے بعد اپنے ہاتھ دھو لیجئے۔ لیجئے آپ بھی کراماتی ہاتھ کے مالک بن گئے۔ جہاں کبھی کوئ بچھو بھڑ یا شہد کی مکھی کاٹ لے اس جگہ اپنا ہاتھ رکھ دیجئے۔ چار پانچ منٹ میں درد وغیرہ سب کافور ہوجائے گا اور لوگ آپ کو بابا جی سمجھ کر عقیدت مند بن جائیں گے۔ لیکن یہ عمل آپ کو ہر سال کرنا پڑے گا،۔ اس کی تاثیر ایک سال تک رہتی ہے۔ اگلے سال جب آم اکا بور آئے تو پھر یہ عمل کرلیجئے۔ یہ بارہا کا آزمایا اور مجرب عمل ہے اور اکثر گائوں کے حکیم یا روحانی علاج وغیرہ والے کرتے ہیں لیکن کسی کو بھنک تک نہیں پڑنے دیتے۔
SKAF.
اس طرح کے سینکڑوں بلکہ شاید ہزاروں سنیاسی نسخے اور ٹوٹکے ہیں جو سنیاسیوں کے صدیوں بلکہ ہزاروں سال کے تجربات پشت در پشت چلے آرہے ہیں۔ ارنڈ کا درخت۔ آکھ کا پودا، بسکھپرا اور دیگر بے شمار جڑی بوٹیاں ایسے حیرت انگیز خواص رکھتی ہیں کہ اس پر جادو منتر کا گمان ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک جڑ ہے جو پنساری کے پاس مل جاتی ہے۔ آپ اس کو کچھ مقدار میں کھا لیجئے۔ اس کے بعد آپ کو مزید کچھ کھانے کی ضرورت نہیں۔ وہ آپ کے تمام غذائ ضروریات پوری کردیتی ہے۔ سادھو سنیاسی جنگلوں میں اس کو دو وقت کھا کر ہفتوں بغیر کچھ کھائے گزار دیتے ہیں۔ جب بھی بھوک لگتی ے اس کا ایک ٹکڑا چبا لیتے ہیں۔
وہ بوٹی جس کے کھانے سے پندرہ دن تک بھوک نہیں لگتی:
اسی طرح ایک بالکل عام ملنے والی بوٹی ایسی بھی ہے کہ جس کو کھانے کے بعد قطعی بھوک نہیں لگتی۔ سادھو اور سنیاسی جب کوئ چلہ وغیرہ کاٹتے ہیں جس میں کچھ کھانا منع ہوتا ہے تو وہ یہی بوٹی کی بیج کوٹ کر دودھ میں کھیرپکا کر کھا لیتے ہیں پھر ان کو ھفتہ دس دن تک کسی غذا کی حاجت نہیں رہتی۔ ایک صاحب نے تجربے کے طور پر اس کی زرا سی کھیر بنا کر کھا لی۔ کہتے ہیں کہ مجھے چار دن تک قطعی بھوک محسوس نہ ہوئ۔ بالآخر چوتھے روز قے کر کے اس کھیر کو باہر نکالا تب کہیں دوسرےدن کھانے کی حاجت ہوئ۔
پیپل اور برگد کے درخت بھی انتہائ عجیب و غریب خواص رکھتے ہیں جو ان کے عام دوائ فوائد سے بالکل مختلف اور عجیب و غریب ہوتے ہیں۔
سادھو سنیاسی اور فقیر کچھ تجربات سے اور کچھ گیان دھیان اور مراقبے کی مدد سے بھی سیکھتے ہیں۔ جس کو آپ کشف کہہ سکتے ہیں۔ ایک زمانے میں بلکہ آج بھی لوگ سادھو سنیاسی کی تلاش میں رہتے ہیں جو کیمیا یعنی تانبے سے سونا بنانا جانتا ہو۔ لیکن دنیا سے سنیاس لینے والے یہ راز آسانی سے کی کو نہیں بتاتے۔ البتہ اگرخود ہی موڈ ہو یا کی کی کوئ بات اچھی لگے تو بتا بھی دیتے ہیں۔ حکمت اور ویدک میں جتنے بھی کشتہ جات استعمال ہوتے ہیں وہ اکثر و بیشتر سنیاسیوں کے بتائے طریقوں سے ہی بنائے جاتے ہیں۔ اس قسم کے سینکڑوں واقعات اور جڑی بوٹیاں ہیں جو کہ سادھو سنیاسیوں اور فقیروں سے جڑے ہیں جن پر ایک نہیں بلکہ سینکڑوں ضخیم کتب لکھی جا سکتی ہیں۔ نہ صرف جڑی بوٹیاں بلکہ مختلف جانووں پرندوں اور کیڑے مکوڑوں تک کے ایسے فوائد ہیں کہ عقل نہیں مانتی لیکن اثر یسا ہوتا کہ جیسے کوئ جادو۔ مشہور عام سانڈے کا تیل ہو یا ریگ ماہی کے نسخہ، کیچوے کا طلا ہو یا بیر بہوٹی کا تیل، گینڈے کے سینگ سے نامردی کا علاج ہو یا بارہ سنگھے کے سینگ سے نمونیہ اور چلتی پسلی کا علاج۔ یہ سب اور اکثر ویدک مرکبات سنیاسیوں ہی کی دین ہیں۔ لیکن یہاں میں حکیم عبدالوحید سلیمانی جہانیاں دوا خانے والے کا بیان کردہ کینسر کے علاج کی کراماتی بوٹی کا ذکر کرونگا۔
SKAF
کینسر کے علاج کی کراماتی بوٹی:
سنبلو سے ہرقسم کا کینسر ختم!بارہا کا آزمودہ علاج۔
۔ ’’ سات آٹھ سال پہلے کی بات ہے‘ میں حسب معمول مطب میں بیٹھا ہوا تھا۔ مریضوں کا کچھ زیادہ ہجوم نہیں تھا۔ اچانک فون کی گھنٹی بجی۔ فون اٹھایا تو ایک بڑے ہسپتال کے ڈائریکٹر بول رہے تھے۔ کہنے لگے بھائی! یہ سنبلو بوٹی کیا ہے؟ میں نے کہا: بھائی جان! سنبلہ بوٹی کے بارے میں تو پڑھا ہے لیکن سنبلو کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ شاید اس کو سنبلو کہتے ہوں یا ہو سکتا ہے کوئی اور بوٹی ہو۔ لیکن آپ بتائیں کہ قصہ کیا ہے؟ ڈاکٹر صاحب کہنے لگے ’’میرے پاس جہانیاں سے ایک ڈاکٹر صاحب دو سال سے آرہے تھے جن کی اہلیہ کو چھاتی کا سرطان تھا اور وہ مسلسل میرے زیرعلاج تھیں۔ ڈاکٹر صاحب انہیں لے کر میرے پاس آیا کرتے تھے۔ آج وہ اکیلے آئے۔ میں نے ان کی اہلیہ کا حال پوچھا‘ تو فرمایا کہ الحمدللہ وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ میں نے پوچھا کہ ہمارے علاج سے فائدہ ہوا یا کہیں اور سے علاج کروایا ہے؟ ’’انہوں نے جواب دیا‘ جہانیاں میں حکیم عبدالحمید صاحب کی بیٹی ناصرہ نے ایک نسخہ بتایا تھا‘ وہ استعمال کروایا ہے۔ اللہ کے فضل سے ایک ماہ میں بالکل ٹھیک ہوگئیں۔ میں نے بعدازاں بھائی جان عبدالحمید کو فون کرکے پوچھا تو وہ کہنے لگے‘ ناصرہ اپنے میاں زبیراسلم کے ساتھ کامرہ میں ہے لیکن ایک دفعہ ان خاتون کا ذکر ہوا تو اسی نے بتلایا تھا کہ سنبلو استعمال کروائی ہے آپ ناصرہ سے پوچھ کر مجھے بھی بتائیں کہ یہ کون سی بوٹی ہے اور کہاں ملتی ہے‘‘
ناصرہ ڈاکٹر مقبول شاہد کی بھانجی اور میری بھتیجی ہے۔ چند دن بعد اس سے رابطہ ہوا تو میں نے سنبلو کی بابت دریافت کیا۔ اس نے کہا ’’چچا جان! آج کل اس بوٹی کا موسم نہیں‘ یہ فروری کے آخر سے ستمبر اکتوبر تک ہوتی ہے لیکن میرے پاس اس کی جڑ پڑی ہوئی ہے۔ چند دن تک لاہور آرہی ہوں‘ لیتی آؤں گی۔‘‘ چند دن بعد وہ میرے پاس آئی تو ایک موٹی سی پیلے رنگ کی جڑ مع چھلکا مجھے دی، میں نے پوچھا ’’بیٹے! تمہیں اس کے فوائد کا کیسے پتہ چلا؟‘‘ کہنے لگیں: ’’ہمارے پڑوس میں ایک خاتون کو چھاتی کا سرطان ہوگیا تھا۔ اس کے میاں نے کراچی‘ لاہور‘ اسلام آباد غرض ہر بڑے شہر کے ہسپتال سے علاج کروایا لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ تنگ آکر اس کے شوہر نے سوچا کہ اسے امریکہ لے جاکر علاج کرواؤں۔ وہ ویزے کے چکر میں تھے کہ مانگنے والا کوئی فقیر محلے میں آیا۔ جب ان کے دروازے پر اس نے صدا دی تو انہوں نے فقیر کو بڑی جھاڑیں پلائیں اور کہا ’’میری بیوی کینسر میں مبتلا ہے اور تمہیں مانگنے کی پڑی ہے‘‘ فقیر نے اس سے پوری کیفیت پوچھی اور کہا کہ کل وہ ایک بوٹی لاکر دے گا‘ اسے استعمال کرائیں۔ انشاء اللہ امریکہ جانے کی نوبت نہیں آئے گی۔ اگلے روز وہ فقیر ایک بوٹی کی جڑ کے چھلکے اتار کر ان کے پاس لایا اور کہا صبح کو تین ماشے چھلکے ایک پیالی پانی میں بھگودیں اور شام کو کھانے کے آدھ گھنٹے بعد پی لیں۔ اسی طرح شام کو بھگو کرصبح پئیں۔انہوں نے ایسا ہی کیا ایک مہینے بعد بیماری کا وجود بھی نہیں تھا۔ اب میں نے اس پیلے رنگ والی بوٹی کو چکھا تو اس کا ذائقہ انتہائی کڑوا تھا‘ میں اسے اپنے مطلب میں لے گیا‘ خیال تھا کہ اس میں سے لکڑی کا ڈنٹھل نکال کر صرف چھلکے کو استعمال میں لاؤں گا کیونکہ سنبلو کی جڑ کا چھلکا ہی بطور دوا مستعمل ہے لیکن ہوتا وہی ہے جو اللہ کو منظور ہو۔ میں نے ابھی اسے مطب پر رکھا ہی تھا کہ شرقپور سے ایک حکیم صاحب تشریف لے آئے۔ میں نے خیریت دریافت کی تو جواب دیا ’’والد صاحب کو ہڈیوں کا سرطان ہوگیا ہے اور وہ کافی عرصہ ہسپتال میں داخل رہے‘ آج ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے اور اب ہم انہیں گھر لےجارہے ہیں‘ اگر آپ کے پاس کوئی دوا ہو تو عنایت فرمادیں‘‘ مجھے فوری طور پر خیال آیا کہ اللہ نے آج ہی سنبلو بوٹی بھیجی ہے اور آج ہی اس مرض کا مریض بھی آگیا۔ میںنے انہیں بتایا کہ
یہ بوٹی شاہراہ ریشم کے علاقے میں ہوتی ہے۔ آدھی آپ رکھ لیں اور آدھی مجھے واپس کردیں۔ اسے باریک پیس کر ڈبل زیرو کے کیپسول بھرلیں اور صبح و شام بعداز غذا استعمال کرائیں۔ تھوڑی دیر بعد وہ آدھی جڑی بوٹی مجھے واپس کرگئے اور آدھی لے گئے۔ ابھی انہیں گئے ہوئے بمشکل ایک گھنٹہ ہوا ہوگا کہ ظہورالدین بٹ صاحب تشریف لے آئے۔ بٹ صاحب اور میں ایک ہی دور میں پنجاب یونیورسٹی میں پڑھتے رہے تھے اس لیے بے تکلف دوست بھی ہیں۔ وہ آئے تو میرے حال پوچھنے پر بے اختیار رونے لگے۔ میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے’’اہلیہ کو جگر کاسرطان ہوگیا ہے‘‘ بچے چھوٹے چھوٹے ہیں‘ ان کا کیا بنے گا‘‘ میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے باقی دوائی غالباً بٹ صاحب ہی کیلئے رکھوائی تھی۔ میں نے دوا انہیں دے دی اور وہی ترکیب بتائی۔ بعد کو ظہورصاحب وقتاً فوقتاً مریض کے بارے میں بتاتے رہے۔ الحمدللہ ان کی اہلیہ کی طبیعت بحال ہوگئی۔ شرقپور سے محترم حکیم صاحب تین ماہ بعد ملنے آئے۔ میں نے ان سے پہلا سوال ہی یہ کیا کہ والد صاحب کے بارے میں بتائیں انہوں نے کہا ’’الحمدللہ! اب وہ بالکل ٹھیک ہیں اور اب تو مطب میں بھی بیٹھنے لگے ہیں‘‘ میں نے ان سے پوچھا ’’صرف سنبلو ہی استعمال کروائی تھی یا کچھ اور بھی؟‘‘ فرمانےلگے: ’’طاقت کیلئے خمیرہ گاؤزبان عنبری والادیتارہا ہوں لیکن سرطان دور کرنے کیلئے صرف یہی بوٹی استعمال کرائی ہے‘‘ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ بوٹی کارآمد رہی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *