• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • 8 مارچ عالمی یومِ خواتین اور جموں کشمیر گلگت بلتستان کی خواتین۔۔ اظہر مشتاق

8 مارچ عالمی یومِ خواتین اور جموں کشمیر گلگت بلتستان کی خواتین۔۔ اظہر مشتاق

8 مارچ خواتین کا عالمی دن ہے ، اس دن دنیا بھر میں عورتوں کے حقوق پر کام کرنے والی سماجی تنظیمیں عورتوں کے حقوق کی جدوجہد کرنے والی خواتین کو پوری دنیا میں خراج تحسین پیش کرتی ہیں۔ صنفی برابری اور عورتوں کوکام کرنے کے مواقع فراہم کرنے کا تقاضا کیا جاتا ہے۔ عورت کے لئے صنفی برابری اور اس کے مساوی حقوق کے حصول کے لئے معاشی اور معاشرتی نظام، طرح پیداوار، طرزِ پیداوار اور پیداواری ذرائع کا تجزیہ لازمی ہے۔ ساتھ میں اگر معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے عورتوں کے مسائل کو طبقاتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو بہت سے مسائل کا حل ڈھونڈا جا سکتا ہے۔

ریاست جموں کشمیر کی متنازعہ صورت حال کے پیشِ نظر ریاست کے مختلف حصوں میں بسنے والی خواتین زندگی کی بنیادی سہولیات سے ہی محروم ہیں ، ایک طرف بھارتی فوج کے ہاتھوں جسمانی اور جنسی تشدد کا شکار خواتین شدید ذہنی اور نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں تو دوسری طرف سہولیات کی عدم فراہمی ، قبائلی سماجی نظام اور فرسودہ روایات کے زیرِ اثر خواتین ترقی کے عمل میں اس طرح سے شامل نہیں ہو سکتیں جس طرح انہیں شامل ہونا چاہیے۔

ریاست جموں کشمیر کی خواتین،علم ، عقل ، شعور اور قابلیت کے لحاظ سے کسی طور بھی باقی دنیا کی خواتین سے کم نہیں، ذیل میں ریاست جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کی چند خواتین کی خدمات کی تفصیل پیش کی گئی ہے جو نامساعد حالات میں بھی باقی دنیا کی خواتین کی طرح مردوں کے شانہ بشانہ ایسے اقدامات میں حصہ لے رہی ہیں جو بلا شبہ قابل فخر ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خواتین کو مرکزی دھارے میں لاتے ہوئے، ان کی عزت نفس اور احترام کی ضمانت کے ساتھ ان کی صلاحیتوں کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں سیاسی ، سماجی، معاشرتی اور معاشی ترقی کا حصہ بنائیں۔

 

 

 

 

 

 

 

سیدہ نجمہ شکور
سیدہ نجمہ شکور کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے ، جس نے تقسیم اور ہجر ت کا درد سہا ہے ، ریاست جموں کشمیر کےپاکستان اور بھارت کے درمیان منقسم ہونے سے جہاں ریاست کے دوسرے خاندانوں نے ہجرت اور تقسیم کے درد سہے وہا ں محترمہ نجمہ شکور کا خاندان بھی ہجرت کے غم سے دوچار ہوا۔ سیدہ نجمہ شکور کے والد سرینگر میں ایک متمول کاروباری شخصیت تھے انہوں نے تقسیم کے بعد مظفرآباد کی طرف ہجرت کی ، نجمہ شکور کی پیدائش ملک کی دوسری عورتوں سے الگ نہیں تھی، انہوں نے اپنی آنکھ ایک ایسے گھر میں کھولی جہاں گھر کا سرپرست  کو دال روٹی اور گھر کے دوسرے معاملات چلانے کیلئے سخت محنت کرنی پڑتی ہے، 1965 میں حد متارکہ پر گولیوں کے تبادلے نے ان کےبڑے بھائی کی جا ن لے لی جو کمائی کا اکلوتا ذریعہ تھے، اس سانحے اور کمزور معاشی حالات نے ان کے خاندان کی پریشانی میں اضافہ کیا، ان حالات میں انکے والدین کی پہلی ترجیح ان کی شادی تھی۔ 1978میں جب وہ بمشکل سولہ سال کی تھیں انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور تعلیم کے حصول کی جدوجہد کو جاری رکھتے ہوئے گریجویشن کا امتحان شادی کے بعد پرائیویٹ امیدوار کے طور پر پاس کیا ۔ چونکہ وہ ایک متنازعہ علاقے میں بڑی ہوئیں ، اس لئے وہ بچپن سے ہی امن او ر پائدار ترقی کے لئے کام کرنے کی خواہاں تھیں۔ 1978 میں ابتدائی قدم انہوں نے اپنے گاؤں میں ایک کمیونٹی سکول قائم کر کے اٹھایا، یہ سکول لڑکیوں کی تعلیم کے لئے تھا، انہوں نے یہ رضاکارانہ طور پر شروع کیا اور اپنی خاندانی ذمہ داریا ں نبھانے کے ساتھ ساتھ اس عمل کو جاری رکھا۔
1994 میں جب مقامی نوجوان لڑکیوں کی خودکشیوں کے سانحات اور نوجوانوں کے جرائم میں ملوث ہونے کے واقعات نے سیدہ نجمہ شکور کو مجبور کیا کہ وہ مقامی لوگوں کی تنظیم سازی ، مناسب استعداد کاری اور ان کی توانائیوں کو مناسب انداز میں استعمال کرتے ہوئے انہیں ترقی کے عمل کا حصہ بنائیں۔ اس وقت تک وہ اتنی باشعور ہو چکی تھیں کہ وہ سماج کی نچلی پرتوں کو منظم کرکے ان انہیں انفرادی اور اجتماعی ترقی کے قابل بنا سکیں۔ انہوں نے اپنی ہم عصر خواتین کو تحریک دی کہ وہ ایک تنظیم بنائیں اور مقامی مسائل کو سماج کی نچلی پرتوں میں دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے حل کریں ۔ 1995 میں انہوں نے مقامی خواتین کے لئے ایک غیر سرکاری تنظیم کی بنیاد رکھی۔
انہوں نے پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں پینتیس ہزار خواتین ارکان کے ساتھ خواتین کی نمائندہ تنظیم قائم کرتے ہوئے دوسری خواتین کے لئے ایک مثال قائم کرتے ہوئے اور انہیں اپنا ہم نوا بناتے ہوئے پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں پہلے چیمبر آف کامرس کی بنیاد بھی رکھی اور امن کے لئے خواتین جیسے اقدام کو بھی عملی جامہ پہنایا۔ خواتین کی توانائیوں پر یقین کامل ہونے کے پیش ِ نظر سیدہ نجمہ شکور نے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے ضلع پونچھ میں وومن ویلفئیر آرگنائزیشن نامی تنطیم کا قیام عمل میں لایا۔ انہوں نے جو بھی وسائل مہیا ہوئے ان سے اس علاقے کی خواتین کی مناسب مدد کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ اسی اثناء میں ان کی محنت اور مستقل مزاجی اور کام کی لگن نے ان کے کام کو شہرت بخشی ، انکی قابلیت کو دیکھتے ہوئے انہیں پندرہ سکولوں کی مانیٹرنگ کا ہدف دیا گیا، ان کی مسلسل کوششوں کی وجہ سے مختلف قومی اور بین الاقوامی امدادی اداروں نے زلزلہ زدہ علاقوں کے متاثرین کی بحالی کے لئے وومن ویلفئیر آرگنائزیشن تک رسائی حاصل کی۔ انہوں نے 2005 کے زلزلہ کے متاثرین کی بحالی، سوات کے اندرونی طور پر نقل مکانی کرنے والے افراد اور سیلاب زدگان کی بحالی کے لئے بھی کام کیا ۔
سیدہ نجمہ شکور نے حد متارکہ کی دونوں طرف پائیدار امن کے قیام کے اقدام میں بھرپور حصہ لیا اور 2007 میں سنٹر فار ڈئیلاگ اینڈ ری کونسیلیشن کے زیر اہتما م سری نگر میں ہونے والی پہلی انٹرا کشمیر کانفرنس میں کی اہم مندوب کے طور پر شامل ہوئیں۔اسکے ساتھ ساتھ وہ پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر میں “امن کے لئے خواتین ” نامی تنظیم کی بانی رکن ہیں۔ وہ کمیشن فار دا سٹیٹس آف وومن پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی ایک متحرک کارکن ہیں۔ انہوں نے 2012 میں حد ِ متارکہ کی دونوں اطراف کی خواتین کے درمیان مظفرآباد کے اندر ایک کشمیر کے اندر کے خواتین کا ایک مکالمہ بھی منعقد کروایا، جس میں پاکستانی اور بھارتی زیر انتظام کشمیر کی سماجی پر متحرک اور امن کی خواہاں خواتین نے شرکت کی۔ وہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں قریباً ساٹھ سماجی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ کام کرتی رہی ہیں تاکہ امن کےقیام کے لئے ایسی تنظیموں کے موثر کردار کے بارے میں آگاہی دی جا سکے۔انہوں نے حد متارکہ کی قریبی آبادیوں میں گزر اوقات کے ذرائع کی بحالی کا کام بھی پوری دلجمعی سے کیا۔
مذکورہ بالا تمام کاموں کے علاوہ سیدہ نجمہ شکور نے خواتین کی رسمی اور غیر رسمی تعلیم و تربیت کے علاوہ ان کی استعداد کار کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ایک ہزار کے قریب گاوں کی سطح کی تنظیموںکو امن اور ترقی کے لئے منظم کیا۔ اسکے ساتھ ساتھ معذور افراد کو ترقی کے دھارے میں لانے کے لئے بھی ایک پروگرام ترتیب دیا، انہوں نے 2014 میں امریکن ایکسچینج پروگرام میں خطے کی خاتون رہنما کی حیثیت سے شرکت کی، انہوں نے خواتین کو ہنر مند بنانے کیلئے ، انکی استعداد کار کو بڑھانے اور ان کے حقوق کے بارے میں اگاہی کی تربیت میں ایک عمل انگیز کا کام کیا۔
نجمہ شکور کا ماننا ہے کہ خواتین کی ساری طاقت کو بروئے کار لائے   بغیر پاییدار ترقی کا حصول ناممکن ہے، انہیں اندازہ ہے کہ محض سماجی کاموں سے اور معاشی ترقی کے بغیر پائیدار ترقی کا حصول محض ایک خواب ہے ۔ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں بڑی صنعتوں کے نہ ہونے کے سبب انہوں نے خواتین کو چھوٹے کاروبار کرنے کی تربیت دیتے ہوئے خواتین کے چیمبر آف کامرس کے قیام کے لئے تگ و دو کی ۔ وہ پائیدار ترقی اور امن کے لئے خواتین کی کاوشوں کو تبدیلی کا استعارہ سمجھتی ہیں ، اس لئے انہوں نے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے طول و عرض میں خواتین میں سماجی بیداری کی تحریک کو اجاگر کرتے ہوئے انہیں اس قابل بنایا کہ وہ ترقی میں اپنا موثر کر دار ادا کر سکیں۔
نجمہ شکور قومی اور علاقائی سطح پر ہونے والی امن اور تنازعات کی کوششوں کی ایک متحرک رکن ہیں ، انہوں نے مقامی، قومی اور علاقائی سطح پر پائیدار امن اور ترقی کے حصول کے لئے کئی سیاسی، سماجی، مذہبی، نشریاتی اور حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا۔ پاکستان اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں جب بھی متنازعہ علاقے کی خواتین کی معاشی و اقتصادی ترقی، امن اور تبدیلی میں خواتین کے کردار اور دیہی خواتین کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے کا کوئی بھی کام شروع کیا جاتا ہے سیدہ نجمہ شکور کی کاوشوں کو بطور مثال پیش کیا جاتا ہے۔
سیدہ نجمہ شکور کو ان کی سماجی خدمات کے اعتراف میں 2003میں پاکستان سوشل ایسوسی ایشن کی طرف سےمادرِ ملت ایوارڈ، 2005 میں اقوام متحدہ کا اعترافی ایوارڈ، 2010 میں اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ خوراک کا صنفی برابری کا ایوارڈ، 2005 تا 2008 پاکستان پاورٹی ایلیوی ایشن فنڈ ایوارڈ، 2010 میں یونیسیف اور پاکستانی زیرانتظام کشمیر کی حکومت کی طرف سے بہترین کارکردگی کا ایوارڈ، 2012 میں پاکستان پاوررٹی ایلیوی ایشن فنڈ کی طرف سے امتل رقیب ایوارڈ، 2013 میں پاکستان سوشل ایسوسی ایشن کی طرف سے سونے کا تمغہ اور 2005 میں زلزلےمیں پلٹنے کی بہترین صلاحیت کے اعتراف میں حکومت پاکستان، اقوام متحدہ اورایرا کی جانب سے تعریفی سند سے نوازا گیا۔
سیدہ نجمہ شکور کا کہنا ہے کہ کام عمر کے کسی حصے میں بھی شروع کیا جا سکتا ہے، وہ آج کل خواتین دوست پالیسی اور بلدیاتی انتخابات میں خواتین کی شمولیت اور نمائندگی کے لئے پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت کے ساتھ کام کر رہی ہیں ۔ سیدہ نجمہ شکور ترقی کے عمل میں خواتین کو ایک اہم جزو سمجھتی ہوئے ان کی تعلیم ، تربیت اور استعداد کار کو بڑھانے کے اقدامات میں پیش پیش ہیں۔ وہ ایک متنازعہ خطے میں امن اور ترقی کے خواب کی تعبیر کے لئے کوشاں ہر فرد کو اپنا ہم نوا سمجھتے ہوئے ، پائیدار امن اور ترقی کے لئے کام کرنے والے اداروں اور تنظیموں کو اپنا سمجھتے ہوئے ہر ممکن تعاون کرتی ہیں۔ بلا شبہ سیدہ نجمہ شکور کی خدمات اس خطے کی خواتین کے لئے متاثر کن ہیں۔


ازیبیر علی
چالیس سالہ ازیبیر علی کا تعلق بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر سے ہے، وہ کشمیر کے چک شاہی خاندان کے آخری بادشاہ یوسف شاہ چک کے خاندان سے ہیں- ازیبیر علی گزشتہ پچیس سال سے تنازعے سے متاثرہ خواتین کے پاس پہنچیں ہیں اور انہیں صدمے ، ذہنی دباؤ اور الجھن سے نکلنے کی تربیت دینے کا کام کر رہی ہیں ، ان کا کام اس لیے بھی اہم ہے کہ توپوں کی گھن گرج، گولیوں کی آواز اور خار دار تاروں سے بھری وادی میں خواتین کا ماہر نفسیات کے پاس جانا معیوب سمجھا جاتا ہے۔
ازیبیر علی نے اپنی بنیادی تعلیم نییری، کینیا سے حاصل کی جہاں ان کے والد بطور مشیر کینیا کی حکومت کے ساتھ کا م کر رہے تھے، 1980 میں والد کی کشمیر واپسی پر انہوں نے کشمیر یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا، پھر وہ انگلستان چلی گئیں اور وہاں سے ڈویلپمنٹ سٹڈیز میں بھی ماسٹرکیا۔ وہ دولت مشترکہ کی فیلو ہیں اور ہاورڈ کی سابقہ طالبہ، انہوں نے اقوام متحدہ کےکمیشن برائے خواتین کے اٹھاونویں سیشن میں “کشمیر میں آدھی بیواؤں کے نفسیاتی صدمے ” کے عنوان سے ایک مقالہ پیش کیا۔
وہ کہتی ہیں، “عشروں پہلے کے تنازعے نے کشمیر کے لوگوں پر بالعموم اورخواتین پر بالخصوص گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے ان تمام چیلنجز کا مقابلہ کیا جائے اور جدوجہد کے دوران ان تمام غیر معمولی حالات سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کی جائے، یہاں ہر زندگی جدوجہد کی ایک کہانی بن چکی ہے اور ایسی غیر یقینی فضا میں بقاء ایک مسئلہ ہے”۔
ازیبیر علی “اپنی مدد آپ” کے فلسفے پر کاربند رہتے ہوئے خواتین کے  چھوٹے چھوٹے گروپ بنا نے کی تربیت کر رہی ہیں،ان کے مطابق وادی کے حالت کے پیشِ نظر بہت سی خواتین بیوہ اور بچے یتیم ہو جاتے ہیں ، جو مختلف قسم کے ذہنی ہیجان کا شکار ہو کر خودکشی کی طرف مائل ہوتے ہیں، انہوں ایسی کچھ خواتین کو منظم کرکے انہیں اپنی آمدنی سے کفایت شعاری کی تربیت دی، نتیجتاً پندرہ سو خواتین نے ” اپنی مدد آپ ” کے تحت گروپ بنائے اور اب وہ عزت سے زندگی گذار رہی ہیں۔
ازیبیر علی کو 1980 میں اپنے ایک کلاس فیلو کی موت اور اپنی ہندو دوست کے والد کی موت نے جہاں گہرا صدمہ دیا وہاں ان کے اندر کشمیر کے متنازعہ خطے میں لوگوں کے لئے کام کرنے کے جذبے کو ابھارا، 1990 میں انہوں نے تمام غیر سیاسی اور سماجی تنظیم کو رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کیں۔ مذکورہ تنظیم نے دیہی علاقوں میں صحت اور ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہی تھی ۔ تنظیم نے خواندہ لڑکیوں کو تربیت دی اور انہیں لوگوں تک صحت کی سہولیات میسر کرنے پر مامور کیا۔ ازیبیر علی نے دیہی خواتین کے لئے صحت کے عمومی مسائل کے ساتھ ساتھ تولیدی صحت کے مسائل کی آگاہی کے لئے ورکشاپس منعقد کیں۔
وادی میں تشدد میں کمی کے بعد ازیبیر علی نے مختلف مذاہب، ذاتوں، قبیلوں اور پیشوں سے منسلک خواتین کے تشدد کے متعلق رد عمل کا نقشہ کھینچا، اس ساری مشق کا مطلب امن کے لئے خواتین کے کردار کو اجاگر کرنا تھا۔ ازیبیر علی نے پائیدار امن اور ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لئے خواتین سے آراء لیں اور ان سے پوچھا کہ وہ خود اس کے لئے کیا کر سکتی ہیں۔ انہوں جموں ،کشمیر اور لداخ کی خواتین کے درمیان رابطہ کاری میں اہم کردار ادا کیا۔
ازیبیر علی کے مطابق تنازعے کے نتائج بھیانک ہوتے ہیں۔ انہوں نے خواتین کو ایک عام سا پلیٹ فارم دیا جس کے ذریعے وہ اپنے دکھوں کا تبادلہ کر سکتی ہیں اور وہ بتا سکتی ہیں کہ وہ مستقبل کے بارے میں پر امید ہیں بھی کہ نہیں۔”احساس” اور “اتھواس ” نامی امن کے لئے کام کرنے والے گروپ کے پلیٹ فارم سےازیبیر علی نے آدھی بیواؤں کے لئے سارے اسلامی علماء سے یہ فتوٰی لیا کہ چار سال کے انتظار کے بعد وہ دوبارہ شادی کر سکتی ہیں۔ اس فتوٰی سے ان دیہی خواتین کی زندگی میں بہتری آئی جو ایک لمبے عرصے سے اپنے گمشدہ خاوند کے انتظار میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ ازیبیر علی نے 150 ایسے کونسلر ز کی تربیت کی ہے جو خواتین کو صدمے کے بعد کے ذہنی دباؤ سے نکلالنے کیلئے کام کرتے ہیں۔
ازیبیر علی متنازعہ علاقے کی خواتین کی سماجی اور نفسیاتی سہولت کار ہیں وہ خواتین کو امن اور ترقی کے عمل میں ساتھ لے کر چلنے کے ساتھ ساتھ ، صنفی مساوات، برابر مواقع اور خواتین کی معاشی اور سماجی آزادی پر یقین رکھتی ہیں، وہ “احساس” میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر والنٹئیر ہیلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن کی بورڈ ممبر ہیں۔


ایلورا پوری
ایلوراپوری کا تعلق بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کے سرمائی دارالحکومت جموں سے ہے، وہ جموں میں مقیم ہیں اور تعلیمی ترقی کے شعبہ میں کام کرنے والی سر گرم کارکن ہیں۔ انہوں نے 1995 میں لیڈی شری رام کالج سے تاریخ میں آنرز کی ڈگری حاصل کی اور 1997 میں یونیورسٹی آف مشی گن سے سیاست میں ماسٹرز کیا، اسکے بعد انہوں نے 1999 میں پنڈت جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے ساؤتھ ایشین سٹڈیز میں ایم فل کیا۔ ایلورا پوری نے 2005 میں مشی گن یونیورسٹی سے دوبارہ ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ وہ گذشتہ گیارہ برس سے جموں یونیورسٹی میں سیاسیات کا مضمون پڑھا رہی ہیں اس سے پہلے وہ بطور ریسرچ ایسوسی ایٹ دہلی پالیسی گروپ کا حصہ رہی ہیں اور مشی گن یونیورسٹی میں بھی سیاسیات پڑھاتی رہی ہیں۔
ایلورا پوری شہری حقوق، سیاسی حقوق ، امن اور تنازعات کے حل پر کام کرنے والے مختلف قومی اور بین الاقوامی پالیسی گروپس اور تھنک ٹینکس کے ساتھ منسلک رہیں۔ انہوں نے فریڈم ہاؤس نیو یارک اور وومن ان سیکیورٹی اینڈ کنفلکٹ مینیجمنٹ پیس ، نیو دہلی جیسی تنظیموں کے ساتھ منسلک رہیں۔
ایلورا پوری جموں کشمیر میں ، 1995 سےانسٹیٹیوٹ آف جموں کشمیر افئیرز کے ساتھ بطور ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر منسلک رہیں اور 2015 سے وہ مذکورہ ادارے کی اعزازی ڈائریکٹر ہیں۔ وہ1998 سے 2014 تک ادارے کے زیر اہتمام چھپنے والے مجلے جموں کشمیر ہیومن رائٹس پراسپیکٹِو کی معاون مدیر بھی رہیں۔ وہ ان پالیسی تنظیموں کا جانا پہچانا نام ہیں جو جموں کشمیر کے اندر انسانی حقوق اور امن کے لئے کا م کرنا چاہتی ہیں یا کر رہی ہیں۔ وہ ریاست جموں کشمیر کے مسئلے کے حل کےلئے بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں ہر اس مکالمے اور مباحثے کے سر گرم شرکاء میں شامل رہی ہیں۔سماجی تنظیمیں، جموں کشمیر پالیسی اناکولیٹرز اور یورپی یونین کے سفیروں کے مشن جیسے اہم ادارے ان سے جموں کشمیر بارے کسی بھی طرح کی پالیسی یا مسائل کے حل حوالے کے لئے ان کی رائے کا احترام کرتے ہیں۔ وہ جموں کشمیر میں امن کے قیام کے لئے اہم اقدام کا حصہ رہی ہیں۔ 2012 میںمظفرآباد میں منعقدہ، حد متارکہ کے دونوں طرف کی خواتین کے پہلےمکالمے کے مندوبین میں ایلورا پوری بھی شامل تھیں۔ یہ حد متارکہ کے دونوں طرف رہنے والی خواتین کا سات دہائیوں بعد پہلا مکالمہ تھا جس کا انعقاد سنٹر فار ڈائیلاگ اینڈ ری کونسیلیشن دہلی اور جموں کشمیر وومن فارپیس آرگنائزیشن ، مظفر آباد نے کروایا تھا۔
ایلورا پوری لوک نیتی، سینٹر فار ڈیولیپنگ سوسائٹیز کی جموں کشمیر کی کوآرڈینیٹر کے طور پر بھی کام کر رہی ہیں، وہ سینٹر فار ملٹی لیول فیڈرلزم ، دہلی کی فیلو ہیں، انہیں انکی سماجی خدمات کے اعتراف میں کئی اعزازات سے بھی نوازا گیا ہے۔ ایلورا پوری نے کے تحقیقی مقالہ جات کئی بھارتی اور بین الاقاموامی تحقیقی جرائد میں چھپے ہیں ، ان کے مقالہ جات اور مضامین کئی کتابوں کا حصہ ہیں وہ بھارتی اور بین الاقوامی اخبارات کے لئے باقاعدگی سے مختلف سماجی معاملات پر کالم بھی لکھتی ہیں۔


فاطمہ سید
فاطمہ سید بلتستان سے تعلق رکھنے والی سماجی کارکن ہیں، فاطمہ اس وقت ورلڈ لرننگ /پاکستان ریڈنگ پروجیکٹ کے ساتھ بطور ضلعی پروگرام مینیجر کام کر رہی ہیں ۔ انہوں نے ماسٹر ڈگری کے ساتھ ساتھ آغا خان یونیورسٹی کراچی سے سرٹیفیکیٹ ان ایجوکیشن اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن ، اسلام آباد سے پروجیکٹ مینجمنٹ کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے نو ماہ تک پرو وومن لاء کے لیے سارے گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں روانڈ ٹیبل کانفرنسز، سیمینارز اور ریڈیو ٹاک شوز کئے، اس سلسلے میں فاطمہ سید نے تمام مکاتبِ فکر کے علماء ، مذہبی سکالرز ، سیاستدانوں، خواتین، اداروں کے سربراہان اور بیورو کریسی سے ملاقاتیں کیں اور خواتین کے حقوق کے بارے میں قانون سازی کے عمل کی اہمیت سے  آگاہ کیا۔ فاطمہ سید اور ان جیسی اور خواتین کی کاوشوں کے نتیجے میں، وومن پروٹیکشن ایکٹ اور چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ پر عمل درآمد کے لئے گلگت بلتستان اسمبلی میں قرارداد پاس کی گئی۔
فاطمہ سید 2000 سے لیکر اب تک پورے بلتستان میں بچیوں کی تعلیم کے لئے ماؤں کے ساتھ ملاقاتیں کرر ہی ہیں اور انہیں بچیوں کی تعلیم کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں آگاہی دے رہی ہیں۔ وہ مذہبی علماء کو استعمال کرتے ہوئے والدین کو بچیوں کو سکول بھیجنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ فاطمہ سید نے 2005 میں بلتستان میں پہلی خواتین کانفرنس منعقد کروائی جس میں پورے بلتستان میں مختلف اداروں اور تنظیموں سے منسلک دو سو خواتین نے شرکت کی۔ اور اپنے شعبوں میں بہترین کارکردگی انجام دینے والی خواتین کو ایوارڈ دئیے گئے۔ اس کانفرنس کے انعقاد سے مختلف شعبوں میں کام کرنے والی خواتین کی حوصلہ افزائی ہوئی اور خواتین کا کسی بھی سماجی یا معاشی سرگرمی میں حصہ لینے کیلئے اعتماد بڑھا۔ اس سے پہلے خواتین صرف سرکاری اداروں میں ملازمت کرتی تھیں اور غیر سرکاری یا نجی اداروں میں خواتین کے کام کرنے کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔
فاطمہ سید نے 2010 میں “ایکٹ 2009” کے حوالے سے بلتستان وومن فورم کے پلیٹ فارم سے مذکورہ ایکٹ پر تنقیدی جائزے کے لئے ایک گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں سیاستدانوں، خواتین ، صحافیوں اور طلباء و طالبات اور سول سوسائٹی کے لوگوں نے حصہ لیا، اس گول میز کانفرنس سے شہری حقوق ، سیاسی حقوق اور آئینی حقو ق کا پتا چلا، اسی گول میز کانفرنس میں ریاست کا کردار اور شہریوں کے حقوق و فرائض پر بھی تفصیلی بات کی گئی۔ 2016 میں بلتستان میں ایک طلبہ کو جنسی طور پر ہراساں کیا گیا اور اس کے گھر والوں پر قانونی کاروائی نہ کرنے کیلئے دباؤ ڈالا گیا لیکن بلتستان وومن فرم کے پلیٹ فارم سے ان کے گھر جاکر والدین کو قانونی کاروائی کے لئے آمادہ کیا، بلتستان کے ایک معروف چوک میں سول سوسائیٹی اور طلباء کے ساتھ مل کر صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے مجرمان کو عمر قید کی سزا دلوانے میں اہم کردار اد ا کیا۔
فاطمہ سید نے 2012 میں بلتستان کی خواتین کی نمائندگی کرتے ہوئے بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی جس میں دنیا کے سو ممالک سے خواتین مندوبین نے شرکت کی۔ فاطمہ سید نے گھریلو تشدّد کا شکار کئی خواتین کو تعاون فراہم کیا اور انکو انصاف دلانے کے لئے مفت وکلاء فراہم کئے اور محکمہ پولیس سے رابطہ کرکے ان کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے مدد کی۔ 2016 میں خواتین کے حقوق کیلیے کام کرنےاور بلتستان کے کسی بھی ادارے کی پہلی خاتون سربراہ ہونے پر 8 مارچ کو ایوارڈ دیا گیا۔ فاطمہ اب بھی مختلف گاؤں اور محلوں میں خواتین کے لئے ہفتہ وار آگاہی نشست منعقد کرتی ہیں تاکہ ان کے حقوق مسائل اور اہمیت کو اجاگر کیا جاسکے۔
فاطمہ سید آغا خان ایجوکیشن سروسز پاکستان کے ساتھ بطور ایجوکیٹر اور آگاہی پاکستان کے ساتھ ایڈوکیسی آفیسر کے طور پر کام کرتی رہی ہیں۔ وہ چائلڈ پروٹیکشن پاکستان کی رکن، بلتستان ایجوکیشن ٹرسٹ کی ڈائریکٹر ، بلتستان وومن فورم کی چئیرپرسن ، سکردو ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر ، بلتستان کلچرل اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کی رکن اور چائلڈ رائٹ پروٹیکشن موومنٹ کی رکن ہیں۔ وہ بلتستان میں بچوں اور عورتوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ شہری حقوق کے لئے کام کی نسبت سےجانی جاتی ہیں۔ہمالیہ کی بیٹی کا عزم اور حوصلہ ہمالیہ کی بلندی جیسا ہے۔

افراہ بٹ
افراہ بٹ بھارتی زیر انتظام کشمیر کے سرمائی دارلحکومت سرینگر میں رہتی ہیں ، افراء نے کشمیر کے اندر نوے کی دہائی کے ابتدائی دنوں میں آنکھ کھولی جس کے بارے میں ہر ذی شعور فرد باخبر ہے ۔ افراہ کی ہم عصر نسل کو کرفیو کی نسل بھی کہا جاتاہے۔ افراہ عسکری زدہ ماحول میں پلی بڑھی ہیں ۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم سرینگر سے مکمل کرنے کے بعد سرینگر سے ہی سوشل ورک میں گریجویشن کیا، اسکے بعد انہوں نے بین الاقوامی تعلقات میں پوسٹ گریجویشن کیا، پوسٹ گریجویشن میں ان کا خاص مضمون امن اور تنازعے کا مطالعہ تھا۔
افراہ بٹ نے نوجوانی میں ہی جنسی تشدد کی شکار عورتوں سے انٹرویو لینے کا سلسلہ شروع کیا۔ 2013 میں وہ خواتین کے گروہ کا اہم حصہ تھیں جنہوں نے عدالت میں کنان پاسفورا میں ہونے والی جنسی درندگی کے کیس پر نظر ثانی کیلئے عدالت میں درخواست دی۔ سرینگر کی عدالت عظمٰی نے درخواست منظور نہیں کی مگر ایک معاون گروپ بنایا گیا جس نے پوری دنیا کی توجہ حاصل کی۔
بعد میں معاون گروپ کی پانچ رکن خواتین نے ایک کتاب لکھی جس میں بڑے پیمانے پر جنسی ہراسگی اور اذیت کا ذکر کیا گیا اور یہ بات بتائی گئی  کہ ریاست اتنے بڑے پیمانے پر جنسی تشددکرنے والوں کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنے سے معذرت خواہانہ لہجہ اپنا رہی ہے۔
افراہ اور اسکی ساتھیوں کی لکھی گئی کتاب، ” کیا آپ کو کنان پاسفورا یاد ہے” بھارتی زیرِ انتظام جموں کشمیرضلع کپواڑہ کے دو گاؤں کنان اور پاسفورا میں مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے والی خواتین کی زندگی کا روزنامچہ تو ہے ہی مگر یہ ایک کشمیری عورت کے اس سفر کی کہانی ہے جس میں وہ جنس پرستی اور تشدد کے خلاف دونوں نہج پر لڑتی ہے۔ یہ کتاب جنسی زیادتی کے بعد زندہ بچ جانے والی خواتین کی داستانوں کا روزنامچہ ہے۔ یہی وہ دستاویز ہے جس میں کنان پاسفورا کی خواتین نے کھل کر بتایا کہ23 فروری 1991 کی اس اندوہناک رات کو کیا ہوا جب بھارتی فوج کے سپاہیوں نے دو گاؤں کو گھیرے میں لے کر مبینہ طور پر پچاس سے زیادہ خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
افراہ بٹ کے نزدیک بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کی عورت کی شناخت کو اس طرح خیال کیا جاتا ہے کہ زیادہ تر خواتین عسکری تنازعے میں بڑی ہوئیں۔ کشمیری خواتین اس خرابی کی موصول کنندہ ہیں ، جہاں قابض فوج کا ہر ظلم انہیں برداشت کرنا پڑتا ہے۔وہ سمجھتی ہیں کہ کشمیری مرد و زن بلواسطہ اور بلاواسطہ اس تشددکا شکار ہیں۔ ان کے نزدیک کشمیری خواتین بالخصوص ذہنی ، جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا شکار ہیں۔ ان کی تحقیق کے مطابق گزشتہ تین عشروں سے خواتین نے معاشی اور سماجی مسائل کا شکار ہوئیں ہیں، بہت سی خواتین مردوں پر انحصار کررہی ہیں اور بھارتی زیر انتظام کشمیر کے مرد بھی تنازعے کی وجہ سے بہتر معاشی سر گرمیوں میں شامل نہیں ہو سکتے۔
ان کے نزدیک کشمیری خواتین جدوجہد کا جزوِ لاینفک ہیں، وہ کشمیری خواتین جو اپنے سماجی نظام کی وجہ سے گھر تک سے باہر نہیں نکلتی تھیں آج مردوں کے شانہ بشانہ آزادی کی تحریک میں شامل ہیں۔ کنان پاسفورا کے سانحے نےخواتین کو باہر نکلنے پر مجبور کیا۔ افراہ کے نزدیک جموں کشمیر کی خواتین ہمیشہ جدوجہد کی ہے اور وہ آزادی کے لئے ہر طرح کی جدوجہد کرتی رہیں  گی۔ افراہ بٹ تشدد اور صدمے سے دوچار خواتین کی بحالی اورکونسلنگ میں مصروف ہیں اور خواتین کے مسائل پر تحقیق کر رہی ہیں۔


رخسانہ خان
رخسانہ خان کا تعلق پونچھ پاکستانی زیرِ انتظام کشمیرسے ہے ، وہ جامعہ کشمیر مظفرآباد میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اور قائداعظم یونیورسٹی کے ٹیکسلا انسٹیٹیوٹ آف ایشین سیویلائزیشن میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں اور ریسرچ فیلو ہیں، انہوں نے قائداعظم یونیورسٹی سے ہی ایشیاء کی تہذیبوں میں ایم فل کیا ہوا ہے۔ ایم فل میں ان کی تحقیق ثقافتی ورثے کے آثار کے کھوج لگانے پر کام کرنا تھا۔ اور انہوں نے یہ کام نیلم کشن گنگا وادی کے ثقافتی ورثے کے آثار کی کھوج لگا کر کیا۔ ان کی ڈاکٹریٹ کی تحقیق متنازعہ علاقے میں ثقافتی ورثے اور آثار قدیمہ کے انتظام و انصرام پر ہے ، اور ساتھ ساتھ وہ یہ پتا لگانے کی سعی کررہی ہیں کہ آثار قدیمہ یا ثقافتی اور تہذیبی ورثہ سیاحت کے فروغ اور سماجی ترقی میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کی پی ایچ ڈی کی تحقیق بھی کشن گنگا وادی نیلم میں ہے۔ رخسانہ خان نے اپنے تحقیقی  کام کے سلسلے میں پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر کے طول و عرض میں سفر کیا اور قدیم تہذیب کے آثار کو جمع کرکے ان کے بارے میں معلومات کو ایک دستاویزی شکل دی۔ اس سے پہلے فائن آرٹس میں ماسٹرز کے دوران ان کی بنائی ہوئی پینٹنگز مختلف نمائشوں میں پیش کی گئیں۔ ان کی پینٹنگز کا خیالیہ صنفی مساوات، ماحولیاتی تبدیلی، گھریلو تشدد اور عدم مساوات پر مبنی معاشرے پر مبنی تھا۔
آثار قدیمہ کی کھوج میں انہوں پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں موجود آثارِ قدیمہ کا سروے کرتے ہوئے اس کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے ایک دستاویز مرتب کی، انہوں نے ہائر ایجوکیشن پاکستان کا منصوبہ بعنوان ” آثار قدیمہ خطرے میں” کامیابی سے مکمل کیا۔ انہوں نے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر بشمول گلگت بلتستان کے معدوم ہوتے ثقافتی ورثے اور آثار قدیمہ پر ایک تفصیلی دستاویز مرتب کر کے ہائر ایجوکشن کمیشن پاکستان کی مدد سے شائع کی۔ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی سرخیل ماہر آثارِ قدیمہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے سو سے زیادہ آثارِ قدیمہ کو دستاویزی شکل دی۔ انہوں نے شاردہ وادی نیلم کشن گنگا اور بھرنڈ مندر کوٹلی کے آثار قدیمہ کی کھدائی کروا کر ان کی تاریخی اور ثقافتی حیثیت کو جاننے کی کوشش کی۔ انکی آثار قدیمہ کی دریافتوں کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور اخبارات میں زبردست پذیرائی ملی جس کی وجہ سے حد متارکہ کے دونوں طرف کے لوگوں کو آگاہی ملی اور انہیں اس زمین کی اپنائیت کا احساس ہوا۔ رخسانہ خان کی دریافتوں پر ایک وسیع مقالہ شائع ہوا جس میں انہوں نے وادی نیلم کشن گنگا کے آثار قدیمہ کو امن کے قیام کے لئے اہم قرار دیا۔ انہوں نے بحث کی کہ آثار قدیمہ کی وجہ سے حد متارکہ کے آر پار اور مجموعی طور پر پورے جموں کشمیر میں پائیدار امن کے قیام کے لئے کام کیا جا سکتا ہے۔
رخسانہ خان نے خطے کے ثقافتی ورثے اور آثار قدیمہ کو ایک دستاویزی شکل دیتے ہوئے ا س کا ایک نقشہ بنایا۔ ان کے کام کی وجہ سے جنوبی ایشیا کی چند اچھی جامعات نے ان کے کام کو سراہتے ہوئے اور مل کر کام کرنے کی پیشکش کی۔ ان کے اس کام کی وجہ سے آثار قدیمہ ، سیاحت اور ثقافتی ورثہ کے محکموں میں کا م کرنے والے اہلکاران کی استعداد کار میں اضافہ ہوا اور وہ مختلف شعبہ جات کو مل کر کام کرنے کا موقع ملا۔ رخسانہ خان مختلف جامعات میں ثقافت اور آثار قدیمہ کی ریسورس پرسن ہیں۔

 

شائستہ رحمان
شائستہ رحمان مظفرآباد میں مقیم سماجی کارکن ہیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مظفرآباد سے حاصل کی، ان کا تعلق ایسے خاندان سے تھا جس میں لڑکیوں کےگھر سے دور رہ کر پڑھنے کے عمل کو معیوب سمجھا جاتا تھا مگر شائستہ اور اسکی بہن کو والدین نے یونیورسٹی میں جانے کی اجازت دی، شائستہ نے فاطمہ جناح یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا۔ دوران تعلیم انہیں پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں نافذ العمل تعلیمی نظام کی پسماندگی کا اندازہ ہوا۔ یونیورسٹی میں ایک قابل طالبہ ہونے کی وجہ سے انہیں ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم میں وظیفے کے ساتھ انٹرن شپ کرنے کا موقع ملا۔ زمانہ ءِ طالب علمی میں ہی اقوام متحدہ کی طرف سے جاپان یوتھ لیڈر شپ کے لئے نامزد ہوئیں۔ تعلیمی تحقیق مکمل ہونے کے ساتھ ہی عسکری بینک میں ملازمت اختیار کی پہلے اسلام آباد اور پھر مظفرآباد میں عسکری بینک کے ساتھ کام کرتی رہیں۔ شادی اور پھر ایک بچے کی پیدائش کے بعدملازمت کو خیرآباد کہہ دیا اور دوبئی منتقل ہو گئیں۔ وہاں ایم بی اے میں داخلہ لینے کے ساتھ ساتھ ایک ٹرانسپورٹ کمپنی بنائی، اسکے ساتھ ساتھ دوبئی کے مختلف کالجوں اور جامعات میں بطور وزیٹنگ فیکلٹی پڑھاتی رہیں۔ انہوں نے پاکستانی ، امریکی اور برطانوی نصاب پڑھائے اور ان کا بغور مطالعہ کیا۔ دوبئی میں قیام کے دوران انہیں اپنے وطن واپسی کا خیال آیا اور پسماندہ سماج کو علم کی روشنی سے منور کرنے کی کسک انہیں واپس مظفرآباد لے آئی۔
شائستہ رحمان جب مظفرآباد لوٹیں تو جامعہ کشمیر مظفرآباد میں بطور وزیٹنگ فیکلٹی تدریس کی ذمہ داریاں نبھانے لگیں۔ نئے انداز کی تحقیق اور اچھوتے خیالات کو متعارف کروانے پر انہیں جامعہ کی انتظامیہ کی طرف سے مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ انہوں نے جامعہ کشمیر میں کیرئیر کونسلنگ ، جاب پلیسمنٹ سینٹراور ماک جاب انٹرویوز کی تجاویز دیں۔ وہ طلباء کی بے روزگاری کے حوالہ سے بہت متفکر تھیں۔ انہوں نے چند طلباء کے ساتھ مل کر خود سے قدم اٹھایا اور سٹیپ کشمیر کے نام سے ایک ادارہ بنایا۔
سماجی خدمت کے جذبے سے سرشار شائستہ نے سٹیپ کشمیر کو انعم رحمان کے ساتھ ملکر جاری رکھا۔ انہوں نے چھوٹی چھوٹی سرگرمیاں شروع کیں۔ اپنی دوست فریحہ جاوید کی مدد سے انہوں نے کچھ خاندانوں کی ماہانہ مدد شروع کی، پھر انہوں نے کچھ یتیم بچوں کی کفالت کا پروگرام شروع کیا۔ پہلے سال انہوں نے اپنے دوستوں کی مدد سے رمضان پیکج، عید پیکج، سردیوں کے ملبوسات، تعلیمی پیکج اور راشن پیکج جیسے اقدامات اٹھائے، انکے یہ اقدامات معاشرے کے نادار اور پسے ہوئے طبقات کے لئے تھے۔
پہلی عوامی سرگرمی کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے شائستہ اور ان کے دوستوں پر کڑی تنقید کی گئی مگر وہ ہمت نہ ہاریں، انہوں نے لوگوں کو روزگار دلانے کے لئے روزگار کے وسائل مہیا کئے، انہوں نے مختلف مردوں کو رکشے اور ٹیکسی چلانے کی ترغیب دی اور خریدنے کے لئے مالی امداد بھی کی، عورتوں کو بیکری کی مصنوعات بنانے پر مامور کیا اور یہ مصنوعات بنانے کے لئے تکنیکی مہارت اور تربیت کے وسائل مہیا کیے ۔
راشن پیکج اور اس جیسے دوسرے پیکج چونکہ تہی دست طبقے کو مزید معذور ی کی طرف دھکیلتے ہیں اس لئے شائستہ رحمان نے مارکیٹ کا سروے کر کے راشن پیکج لینے والے خاندانوں کو روزگار کرنے کی تربیت اور وسائل مہیا کئے۔ گھریلو صنعت پر پوری توجہ دی اور کم معاشی وسائل کے باوجود عورتوں کی بنائی گئی گھریلو مصنوعات کی مارکیٹنگ کرتے ہوئے نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں رسائی حاصل کی ۔
شائستہ رحمان کم آمدنی والے خواتین و حضرات سے کشمیری ثقافتی لباس بنواتی ہیں اور انٹرنیٹ کے ذریعے ان کی مارکیٹنگ کرتی ہیں، جس سے نہ صرف کم آمدن والے خاندان معاشی سرگرمی کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ کشمیری ثقافت پوری دنیا میں متعارف ہو رہی ہے۔شائستہ رحمان “ایمپاورمنٹ تھرو انٹر پرینیورشپ” پر یقین رکھتی ہیں اور خواتین کو ہنر مند بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی گھریلو مصنوعات کو منڈی میں متعارف کروانے کو ہی معاشی تبدیلی کا اعشاریہ سمجھتی ہیں۔ انہوں نے ضرورت مند بچوں کو تعلیم دلانے کا بیڑہ بھی اٹھایا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نےضرورت مند بچوں کی ایک فہرست بنائی ہے جنہیں وہ تعلیم حاسل کرنے کے لئے مدد کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
شائستہ رحمان عورتوں کے کھل کر کام کرنے کے چیلینجز اور مشکلات کا ادراک رکھتی ہیں ، وہ معاشرتی اور سماجی رویوں اور سماجی تنگ نظری سے بخوبی واقف ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ کامیاب خواتین کے لئے سمجھدار مردوں کا ساتھ بہت ضروری ہے ، اس سلسلے میں وہ اپنے والد کو بطور مثال پیش کرتی ہیں۔وہ چار دیواری کی اندر کی مدد کو اہم سمجھتی ہیں۔ ان کے کام میں ان کے والد خواجہ عبدالرحمان اور ان کے شوہر احتشام الحق کی مدد کو وہ ایک نعمت سمجھتی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ عورت اگر کام کرنا چاہے تو تنگ نظر ماحول اور ایک گھٹن زدہ معاشرے میں ترقیاتی کام کر سکتی ہے ۔ وہ سماجی کام کو مشکل سمجھتی ہیں مگر ناممکن نہیں۔
شائستہ رحمان کا خواب ہے  کہ ریاست جموں کشمیر کی خواتین اپنے بل بوتے پر کسی مقام تک پہنچیں۔وہ مقامی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے خوشحالی کا بیج بونا چاہتی ہیں۔ وہ خود انحصاری پر یقین رکھتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتی ہی تاکہ وہ نہ صرف خود خود کفیل ہوں بلکہ دوسری عورتوں کو بھی خود کفیل ہونے کے مواقع میسر کر سکیں۔

ڈاکٹر زاہدہ قاسم
ڈاکٹر زاہدہ قاسم پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں، وہ آزاد جموں کشمیر محکمہ صحت میں بطور پیتھالوجسٹ/ ہیماٹالوجسٹ کام کر رہی ہیں اور ساتھ ہی محترمہ بینظیر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائینسز میرپور پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ ڈاکٹر زاہد ہ قاسم نے میڈیکل کے شعبہ میں بہت سے طلباء و طالبات کی تربیت کی اور ان کی ممتحن رہیں۔ ڈاکٹر زاہدہ شاعرہ ، ادیبہ اور سماجی کام کرنے والی خاتوں ہیں۔ ان کا پہلا مجموعہ کلام “پھر فصلِ بہاراں آئے گی” 2008 میں شائع ہوا، اس مجموعے کی ایک نظم بھارتی زیر انتظام کشمیر کی “آدھی بیواؤں” کے نام کی گئی ۔ وہ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان ٹیلی ویژن اور آزاد کشمیر ریڈیو سے منسلک ہیں۔ ان کی سماجی اور پیشہ وارانہ خدمات کے اعتراف میں انہیں2005 میں قائداعظم گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ڈاکٹر زاہدہ کی دو نظمیں پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے نصاب میں شامل ہیں۔ ڈاکٹر زاہد مختلف پروفیشنل ایسوسی ایشنز اور سماجی تنظیموں کی رکن ہونے کے ساتھ جموں کشمیر وومین فار پیس آرگنائزیشن کی نائب صدر ہیں ، وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی امن کی کاوشوں کے لئے چار کانفرنسز میں شرکت کر چکی ہیں۔

ماریہ اقبال ترانہ
ماریہ اقبال ترانہ کا تعلق پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد سے ہے۔ جب وہ چودہ سال کی تھیں تو ان کے والدِ گرامی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ان کا پہلا مقابلہ اپنے آپ سے تھا کہ باپ کے بغیر ان کے معاملات کو آگے کیسے لیکر چلنا ہے۔ان کی زندگی کا سب سے پہلا واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ سماجی انصاف لینے کم عمری میں ہی عدالت پہنچیں۔ اس کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ بے نوا عورتوں کی آواز بنیں گی۔نامساعد حالات کے باوجود تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا، 2005 میں انگلستان چلی گئیں اور 2010 میں وہاں سے ماسٹرز ڈگری کر کے لوٹیں۔ ڈگری کے بعد سیرینا میں 6 ماہ کی انٹرن شپ کی اور بعد ازاں سماجی کاموں میں مصروف ہو گئیں۔
2012 میں یو این ایچ سی آر کے اجلاس میں جانے کا موقع ملا تو خیال آیا کہ اکیلی آواز مسئلہ جموں کشمیر کے لئے ناکافی ہے۔جموں کشمیر کی عوام کا درد ماریہ اقبال کی رگ رگ میں ہے وہ چاہتی ہیں کہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے۔ وہ نوجوانوں میں مسئلہ کشمیر کی آگاہی کے لئے ” یوتھ فورم فار کشمیر ” نامی تنظیم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں اور پاکستانی زیرانتظام جموں کشمیر اور پاکستان کی جامعات میں نوجوانوں کو مسئلہ جموں کشمیر کے بارے میں آگاہی فراہم کرتی ہیں، ماریہ اقبال ترانہ کمیشن فار دا سٹیٹس آف وومن آزاد کشمیر شاخ کی چئیر پرسن ہیں ۔
وہ صنفی مساوات، انسانی اور جمہوری حقوق، اظہار رائے کی آزاد، جنسی ہراسگی ، جنسی تشدد اور گھریلو تشدد سے متاثرہ خواتین کے لئے کام کرتی ہیں۔ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے وہ ڈپلومیٹس اور مختلف بین الاقوامی اداروں کے سربراہان کو آگاہی فراہم کرتی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ہمیں مسئلے کے حل کےلئے کام گھر سے شروع کرنا ہو گا اور خواتین مسئلہ کشمیر کی وجہ سے مختلف ذہنی، نفسیاتی ، معاشی اور معاشرتی الجھنوں کا شکار ہیں۔ وہ خواتین کو قومی دھارے میں لانے کے لئے کوشاں ہیں۔

اظہر مشتاق
اظہر مشتاق
اظہر مشتاق سماج کے رِستے زخموں کو محسوس کرنے والا عام انسان ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”8 مارچ عالمی یومِ خواتین اور جموں کشمیر گلگت بلتستان کی خواتین۔۔ اظہر مشتاق

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *