• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • زینب کیس، معافی کا وقت گزرگیا، نتائج بھگتیں، چیف جسٹس

زینب کیس، معافی کا وقت گزرگیا، نتائج بھگتیں، چیف جسٹس

چیف جسٹس پاکستان نے زینب قتل کیس کے ملزم عمران کے بینک اکائونٹس کا دعویٰ کرنے والے اینکر پرسن کے کیس کی سماعت کے دوران شاہد مسعود سے مکالمے میں کہا کہ اب معافی کا وقت گزر چکا آپ کو قانونی نتائج بھگتنا ہوں گے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اینکر پرسن کے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس پاکستان نے اینکر پرسن شاہد مسعود سے مکالمہ کیا کہ آپ کے دعوئوں پر جے آئی ٹی کی جو رپورٹ آئی وہ برعکس ہے، کیا آپ اپنی رپورٹ کو دیکھنا چاہیں گے؟ اس پر شاہد مسعود نے کہا کہ ابھی ڈارک ویب پر مواد ڈیلیٹ کیا جارہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ معاملہ الگ ہے، جو آپ نے الزام لگائے اس پر بات کررہے ہیں، شاہد مسعود آپ نے کہاغلط بیانی کروں تو فلاں فلاں ادارے پھانسی پر لٹکا دیں، میں نے آپ کی سی ڈی دوبارہ دیکھی، ہم نے اسی نقطہ نظر سے ازخود نوٹس لیا، آپ نے عدالت کے باہر اپنے دعوئوں کوپھر دہرایا۔ جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ آپ نے نوٹس لینے کا کہا تھا، خبر غلط ہوئی پھانسی پر چڑھانے کا کہا، آپ نے سنسنی پھیلائی ہے۔ چیف جسٹس کے ریمارکس پر شاہد مسعود نے کہا کہ میں معافی مانگ لیتا ہوں، اس پر جناب جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ شاہد مسعود صاحب آپ نے معافی کا چانس مس کردیا، معافی کا وقت گزر گیا، عوامی سطح پرتسلیم کریں کہ آپ نے غلطی کی۔ چیف جسٹس پاکستان نے اینکر پرسن سے مکالمہ کیا کہ آپ معافی مانگیں پھر دیکھیں گے کیا کرنا ہے اور آپ نے رپورٹ چیلنج کرنی ہے تو ہفتے تک کردیں، آپ یہ ذہن میں رکھیں کہ قانونی نتائج آپ کو بھگتنا ہوں گے، سچ تھا یا مبالغہ آرائی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ چیف جسٹس نے اینکر پرسن کو تحریری اعتراضات جمع کرانے کی ہدایت کی اور ساتھ ہی نجی ٹی وی چینل کو بھی نوٹس جاری کردیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 12 مارچ تک ملتوی کردی۔پنجاب کے ضلع قصور میں زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی کمسن زینب کے کیس میں ٹی وی اینکر شاہد مسعود نے مرکزی ملزم عمران کے بیرون ملک متعدد بینک اکائونٹس کا دعویٰ کیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تھا جب کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی معاملے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنائی تھی۔ شاہد مسعود کے الزامات کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ یکم مارچ کو سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی جس میں اینکر کے تمام 18 الزامات اور دعوے جھوٹ قرار دیئے گئے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *