مبشر زیدی، میں اور خدا۔۔۔ انعام رانا

مبشر علی زیدی بھائی سے میں فقط اک بار ملا ہوں اور پھر شاید ہی کبھی مل پاوں، مگر نا وہ پہلی ملاقات تھی نا آخری۔ فیس بک پر جو بڑے نام ہیں وہ ان میں سے ایک ہیں، فیس بک سے باہر بھی وہ بڑا نام ہی تھے؛ مگر انکساری کا نمونہ۔ کراچی کانفرنس میں فقط اک درخواست پہ وہ شامل ہوے اور محبت سے نوازا۔ مجھے مبشر بھائی سے کئی باتوں پہ اختلاف ہے، مجھے دکھ ہے کہ انھوں نے انباکس کا راز فاش کر کے نور درویش کی شناخت ظاہر کی، مجھے برا لگا جب اک سیاسی لیڈر کی شادی پہ انھوں نے پرانی گیند کی مثال دی، مجھے لگتا ہے کہ وہ اپنی کہانیاں زرا نرم کر کے بھی لکھ سکتے ہیں جو کم اشتعال پیدا کریں۔ مگر ان سب کے باوجود میں انکی فکر کا، انکے لکھنے اور چھپنے کے حق کا حامی ہوں اور ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑا ہوں۔ وہ دوستی ہی کیا ہوئی جو دوست کو کسی بھی حال میں تنہا چھوڑ دے۔

مبشر زیدی ایک مستند ادیب ہیں۔ انکی سو لفظی کہانی نے اردو ادب میں اپنی شناخت بنائی اور بلاشبہ وہ بہت اچھا لکھتے ہیں۔ جب تک وہ کربلا و حج کا قصہ لکھتے رہے وہ مسلمان تھے، آجکل البتہ انکے مذہب کا فیصلہ وال وال ہو رہا ہے۔ مُکالمہ پہ انکی دو کہانیاں چھپیں چنانچہ گالیوں میں مُکالمہ اور انعام رانا بھی شریک ہیں۔ اب کئی بغض زیدی میں انعام رانا کو گالی دیتے ہیں تو کئی بغض انعام میں مبشر کو۔ حتی کہ کئی عزیز دوست یا ادب سے شغف رکھنے والے بھی مجھ سے خفا ہیں کہ یہ کیا چھاپا۔ لیکن صاحبو میں حیران ہوں کہ آخر وہ کون سی توہین ہے جو مجھے نظر نہیں آ رہی۔ خدا تو مجھے بھی پیارا ہے، مجھے تو اور بھی پیارا ہے کہ میں نے اسے کھو کر پایا ہے، تشکیک سے گزر کر اسکے ہونے اور وحدہ لا شریک ہونے پر ایمان لایا ہوں، وہ میرے دکھ سکھ کا ساتھی ہے، میرا عزیز ترین ہے، میں تو کبھی اسکی گستاخی کو نا چھاپتا۔ مگر یہ کون سی عینک ہے جو “مہنگا خدا” میں گستاخی دھونڈ لائی؟

“مہنگا خدا” نامی تحریر کا بنیادی تھیم خدا نہیں، “ہمارا تصور خدا” ہے۔ یہ ایک ادبی تحریر ہے جس میں معاشرتی روئیے پہ چوٹ کی گئی۔ کیا یہ سچ نہیں کہ ہمارے مختلف طبقات نے خدا کو اپنی اپنی تعریف کے مطابق ڈھال رکھا ہے؟ کیا واقعی اک غریب کا تصور خدا یہ نہیں ہے کہ وہ بہت قہار و جبار ہے اور روزے نماز سے اسکو مناتے رہنا چاہیے، کسی مولوی یا پیر کی سفارش ڈلواتے رہنا چاہیے ورنہ کہیں ناراض ہو کر روزگار، اولاد یا خوشی ہی نا چھین لے؟ کیا امرا کے اک طبقے کیلئیے خدا فقط ایک “بڈی” نہیں ہے جو انکے ہر اچھے برے کام سے بے نیاز ہے اور بس ہے؟ خدا تو آپ کا، مبشر زیدی کا اور میرا ایک ہی ہے، مگر حقیقت تو یہی ہے کہ ہم نے خدا کا اک طبقاتی تصور بھی بنا رکھا ہے جو یقینا خدا کے اپنے دئیے ہوے تصور خدا سے مختلف ہے۔ “مہنگا خدا” فقط اسی روئیے پہ تنقید ہے، خدا کی نہیں آپ کی گستاخی ہے اور شاید اسی لئیے آپ اس قدر اشتعال میں بھی ہیں۔

بہت سے دوستوں کو گلہ ہے کہ میں ایک “ملحد” کا ساتھ دے رہا ہوں۔ پوچھوں تو کہتے ہیں انھوں نے خود مانا کہ “میں ملحد ہوں اور ۔۔۔۔، (مہنگا خدا)”۔ پہلے تو عرض ہے کہ کہانی لکھتے ہوئے کہانی کار کی اپنی ذات گم ہو جاتی ہے، ملحد وہ کہانی کا کردار تھا، مبشر زیدی نہیں۔ مبشر زیدی مجھ جیسوں سے تو ہزار بہتر ہیں کہ خدا کے گھر جا کر اسکا حکم پورا کر آئے ہیں۔ میرے سامنے انھوں نے کبھی اپنے ملحد ہونے کا ذکر نہیں کیا تو میں فقط آپ کے گمان پر کسی کے ایمان کا فیصلہ کیسے کر لوں؟ کیا ہم اسی نبی (ص) کے غلام نہیں جو آخری لمحے کلمہ پڑھنے والے کے ایمان پر بھی شک نہیں کرتے تھے؟ یارو، تم خدا کو فقط سکوٹر پہ بٹھانے یا مہنگا ہونے کے ادبی استعارے پہ یوں بھڑکے ہو کہ مبشر زیدی کی بیگم پہ کہانی بنا کر احتشام الہی ظہیر جیسے “علما” تک وال پہ سجاتے پھر رہے ہیں اور میں “انکو” یاد کرتا ہوں جو ثمامہ کی گستاخیوں پہ بھی مسکرا کر کہ رہے تھے بہت اکھڑ ہے بھئی، جاو اسے چھوڑ دو۔

انسان کی زندگی میں دور آتے ہیں، ایسے کہ وہ جھکڑ گزر جائے تو وہ خود سوچتا ہے کہ وہ کیا کیا سوچتا یا کرتا رہا۔ ایسی تیز بارش میں دوست کے سر پہ چھتری بن جایا کرتے ہیں، اسکے کپڑے اتار کر بھاگنے کی نہیں کرتے۔ مولانا اشرفی مرحوم یاد آتے ہیں جنکے سامنے میں سترہ سال کا نوجوان ایک گستاخ رسول (ص) کے قتل کا فتوی لینے بیٹھا تھا اور وہ مسکرا کر کہتے تھے “نہیں بیٹے اس جملے کا یہ مطلب بھی تو ہو سکتا ہے جو فقط تعریف رسالت ہے۔” صاحبو خدا کے بندے بنئیے، خود خدا نہیں۔ خدا میرا آپکا اور مبشر زیدی کا ایک جیسا اور ایک جتنا ہے۔ میں آپ اور مبشر زیدی ایک جتنے ہی مسلمان ہیں۔ فرق بس اتنا ہے کہ آپ اسے دھکے دے دے کر دائرہ اسلام سے نکالنا چاہ رہے ہیں اور میں اسکے پیروں سے لپٹا اسے نکلنے نہیں دے رہا۔

ہم صوفی مزاج لوگوں کو

ہر شخص خود سے بہتر ہے

Avatar
انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *