• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • موروثی سیاست اور سیاسی جماعتوں کی اندرونی کشمکش

موروثی سیاست اور سیاسی جماعتوں کی اندرونی کشمکش

اگر ملک مختلف بحرانوں کا شکار ہے تو پاکستان کی سیاسی جماعتیں بھی بحرانوں کی زد میں ہیں ۔ بظاہر تو سب ٹھیک چل رہا ہے مگر یہ جماعتیں تین قسم کے یعنی نظریاتی، تنظیمی اور لیڈر شپ کے بحرانوں کا شکار ہیں جس کی وجہ سے ان سیاسی تحریکوں پر جمود طاری ہے۔ ان کے بڑے بڑے جلسے ، جلوس اور مظاہرے ایک طرف مگر اندرون جماعت بڑھتے ہوئے اختلافات، گروہ بندیاں ، کشمکش اور کارکنوں میں بیزاری اور عدم دلچسپی حالات کی سنگینی کا اشارہ دے رہی ہے۔ یہ سیاسی تحریکیں نہ صرف نئی سیاسی اور سماجی تبدیلیوں اور ان تبدیلیوں کی نوعیت اور حرکیات کو سمجھنے بلکہ اس کی روشنی میں اپنے منشور یا پروگرام کو اپ ڈیٹ کرنے سے بھی قاصر ہے ۔ جہاں تک قوم پرست جماعتوں کا تعلق ہے تو ان کے منشور یا پروگرام اپنے روایتی پاور بیس جو اب کمزور ہو رہا ہے کے علاوہ غیر روایتی اور نئے حلقوں کو اپیل کرنے سے قاصر ہے۔ ساٹھ یا ستر یا اسی کی دہائی کے استعاروں ، مثالوں اور دلائل میں نئے دور کے نوجوانوں کیلئے کوئی چاشنی یعنی دلچسپی نہیں رہی۔ شخصیت پرستی کا سحر یا سیاسی پیری مریدی یا قبائلی وابستگیاں زیادہ دیر چلنے والی نہیں۔ ان سیاسی تحریکوں کی پاور ڈائنامکس ساخت بلکہ کسی حد تک نظریاتی سمت میں بھی کافی تبدیلی آئی ہے۔ اندرونی بحرانوں کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کی سیاسی اور نظریاتی بنیاد کمزور ہو رہی ہے اور اس میں مادہ پرستی، مفاد پرستی ،اقربا پروری اور بدعنوانی کے جراثیم پھیل رہے ہیں ۔ اندرونی بحرانوں کی ایک وجہ پارٹی سربراہ کے خاندان کے دیگر افراد کا جماعتی معاملات میں بیجا مداخلت یا جماعتی پالیسیوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش بھی ہے ۔ کچھ سیاسی جماعتیں اس عمل سے کئی سال پہلے گزر چکی ہیں جبکہ بعض اس عمل سے گزر رہی ہیں ۔ اس عمل کے دوران نظریاتی کارکنوں اور شاہی خاندان ( پارٹی سربراہ کے خاندان کے افراد) میں اندرونی کشمکش بڑھ جاتی ہے ۔ پارٹی آئین مذاق بن جاتا ہے اور نظریاتی کارکنوں کی جگہ ذاتی وفاداروں کو آگے لایا جاتا ہے۔ پارٹی کو ذاتی جاگیر سمجھنا یا کارکنوں کو مزارع سمجھنا یا ان کے ساتھ مزارعوں جیسا سلوک اور روئے عام ہوجاتے ہیں۔ اس جاگیردارانہ ذہنیت یا رویوں سے یعنی پارٹی کو ذاتی جاگیر سمجھنے کی وجہ سے ان کی اصولی سیاست کو گرہن لگ جاتا ہے نتیجتاً اپنے اور پرائے دونوں جانب سے ان پر اقربا پروری یعنی رشتہ داروں میں جماعتی اور سرکاری عہدے بانٹنے کی وجہ سے تنقید بڑھ جاتی ہیں ۔شخصیات کے کردار اور اہمیت سے انکار نہیں مگر ان سیاسی تحریکوں کے ابھرنے اور ترقی میں عوام یعنی مخلص کارکنوں کی بے پناہ قربانیوں اور انتھک محنت بھی شامل ہوتی ہے مگر آہستہ آہستہ مفادی حلقے ، پیروکاروں کی اندھی عقیدت اور احترام ان تحریکوں کو موروثی جاگیروں میں تبدیل کرا لیتی ہے۔ ان تحریکوں کی قیادت اور کارکن دونوں اس کے عمل کے یکساں طور پر ذمہ دار ہیں ۔ قیادت نے کبھی اپنے قریبی رشتہ داروں کی آہم جماعتی اور حکومتی عہدے لینے کی مخالفت نہیں کی بلکہ ان کو آگے لانے کےلئے شعوری کوشش کرتے رہے ہیں ۔ کئی آہم عہدوں کیلئے بعض اوقات یا تو جونئیر ترین رشتہ دار کو جماعت کے سینئر ترین اور تجربہ کار راہنماؤں پر فوقیت دی جاتی اور یا معمر ترین خاندانی فرد کیلئے پارٹی کے جسمانی اور ذہنی طور پر فعال راہنماؤں کو نظر انداز کیا جاتا ہے ۔ چونکہ اہلیت کا معیار پارٹی میں خدمات یا قربانیاں نہیں بلکہ خاندانی تعلق ہوتا ہے اسلئے ایسی چیزیں پارٹی میں بے چینی اور بے اطمینانی کا باعث بنتی ہیں ۔ اس کا ایک منفی اثر یہ ہوتا ہے کہ جماعت کی مختلف تنظیمی سطحوں پر اوپر سے نیچے تک موروثی سیاست وجود میں آجاتی ہے ۔ دیگر چھوٹے بڑے راہنماؤں کو بھی شہہ ملتی ہے موقع ملتا ہے کہ وہ بھی اپنے رشتہ داروں کو آگے لائیں ۔ اس طرح جماعتی وجود میں موروثی سیاست سرطان کی طرح پھیلنا شروع ہو جاتی ہے ۔ زیادہ تر کیسوں میں موروثی سیاستدان نہ تو اپنے پیشرؤں کی طرح با اصول سیاست ، خلوص اور ایمانداری کے پیکر ہوتے ہیں اور نہ ان کی طرح سادگی اور متانت پر یقین رکھتے ہیں اسلئے وہ اپنی شان و شوکت اور سماجی اور سیاسی اثر و رسوخ کا مظاہرہ کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ لیڈر شپ کے ایک اچھے خاصے حصے کا طبقہ تبدیل ہوگیا ہے اور ان کے رہن سہن کا انداز بدل گیا ہے۔ اسلئے عام اور غریب کارکنوں کی بجائے ان کا اٹھنا بیٹھنا اب مالدار اور صاحب ثروت لوگوں سے زیادہ ہوتا ہے اور کارکنوں کی نسبت صاحب ثروت لوگوں کی لیڈر شپ تک رسائی بڑھ گئی ہے ۔ اب بہت سے کیسوں میں چوکیدار، پہرہ دار اور پرسنل سیکریٹری کارکنوں اور لیڈر شپ کی راہ میں حائل ہو رہے ہیں ۔
موروثی سیاستدانوں کے اردگرد عموماً ذاتی وفاداروں کا ایک حلقہ جو زیادہ تر مفاد پرست افراد پر مشتمل ہوتا ہے بھی وجود میں آجاتا ہے۔ یہ مفاد پرست ٹولہ بعض اوقات راہنما کی خوشنودی اور بعض اوقات ان کی ایما اور آشیرواد سے پارٹی کے اندر مخالفین کی کردار کشی کرتے ہیں اور ان پر بے سراپا الزامات لگانے سے گریز نہیں کرتے۔ ذاتی وفاداروں کی ایک پہچان یہ ہوتی ہے کہ ان کی تنقید سیاسی سے زیادہ ذاتیات پر مبنی ہوتی ہے ۔ سینئر قائدین اور دیرینہ کارکنوں کے خلاف بازاری اور غلیظ زبان کا استعمال ان کا خاصہ ہوتا ہے۔ مفاد پرست خوشامدی اور چاپلوس عناصر کے علاوہ کچھ مخلص کارکن بھی جذباتیت کا شکار ہو کر ذاتیات پر اتر آتے ہیں مگر کارکن یہ سب کچھ عقیدت، احترام اور سادہ لوحی کی وجہ سے کرتے ہیں جبکہ مفاد پرست عناصر کا عمل شعوری اور مادی مفادات کے حصول کیلئے ہوتا ہے۔ دوسری پہچان یہ ہے کہ مفاد پرست عناصر ہر نظریاتی کارکن کی پارٹی سے ناراضگی اور دوری کو پارٹی کیلئے فائدہ مند ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ اس عمل کو پارٹی کی صفائی سے تعبیر کرتے ہیں جبکہ کارکن ساتھیوں کو کھونے پر خفا ہوتے ہیں۔ اختلاف نظر کا احترام سیاست اور جمہوریت کا خاصہ ہے مگرمفاد پرست عناصر اس کو نہ تو پارٹی کے اندر اور نہ باہر برداشت کرتے ہیں ۔ اختلاف نظر کو ذاتی دشمنی سمجھنے کی روش عام ہے ۔ہر بحران کے بعد دعوے تو یہ کئے جاتے ہیں کہ تحریک زیادہ مضبوط ہو کر ابھری ہے مگر عملاً جمہوری اقدار کمزور سے کمزور ہوتی جاتی ہیں کیونکہ صاحب الرائے شخصیات کے نکلنے سے پارٹی کی نظریاتی سیاست اور سمت کمزور اور شخصیت پرستی کا عنصر مضبوط ہوجاتا ہے ۔ جو تحریکوں میں سیاسی اور نظریاتی جمود کا باعث بنتا ہے ۔ اب پیروکاروں کو ایک ریوڑ کی طرح ہانکا جاتا ہے ۔ بہت سی وجوہات کی بدولت ان تحریکوں میں ایک طرف صاحب الرائے نظریاتی راہنماؤں اور کارکنوں کا اثر کم ہوتا جا رہا ہے وہ یا تو ضعیف العمر ہوتے جا رہے ہیں یا نکلتے جارہے ہیں یا غیر موثر بنتے یا بنائے جارہے ہیں اور ان کی تعداد سکڑتی جارہی ہے۔ دوسری طرف بانی تحریک کے خاندان کی نئی نسلیں جماعتی امور پر اثرانداز ہونا شروع ہوگئے ہیں اور وہ اپنے آپ کو تحریک کے سیاسی اور نظریاتی ورثے کے اصل وارث ، متولی اور نگہبان پیش کر رہے ہیں۔ شخصیت پرستی کے سحر میں گرفتار پیروکاروں کو راہنما کی ہر بات سچی اور صحیح لگتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی شاہی خاندانوں میں بھی اقتدار کی جنگ شروع ہو جاتی ہے اور وہ ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہوجاتے ہیں اور ہر فرد دوسرے کو منحرف اور اپنے آپ کو صیح وارث ثابت کرنے میں لگ جاتا ہے۔ یہ سیاست کے محرکات ہیں اور ایک ایک کرکے وہ تمام جماعتیں جس کو موروثی سیاست کی بیماری لگ چکی ہے آگے پیچھے اس عمل سے گزرے گی اور گزر رہی ہے ۔ جنوبی ایشیا کے عمومی درباری کلچر میں بادشاہ کو معصوم جبکہ اس کے وزیروں اور مشیروں کو بادشاہ کے غلط کاموں اور غلطیوں کا قصوروار ٹہرایا جاتا ہے۔ یہی سوچ ہمارے سیاسی کلچر میں بھی عود آئی ہے کہ راہنما تو خود اچھا ہے مگر اس کے مشیر اور حواری ان کو غلط کرتے ہیں جبکہ حقیقت میں راہنما ہی اصل ذمہ دار ہے جو یا تو کانوں کا کچا ہوتا ہے اور یا اپنے خاندان کے افراد اور اپنے حواریوں کے سامنے اتنا بے بس ہوتا ہے کہ ان کی غلط بات کہنے اور کرنے پر ان کی حوصلہ شکنی نہیں کرسکتا۔ پارٹی سربراہ کی اس کے خاندان کے دیگر افراد کی پارٹی کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر خاموشی یا اسے نظرانداز کرنا بھی خاموشی یا نیم رضامندی کے مترادف ہوتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کم و بیش تمام سیاسی جماعتوں بشمول قوم پرستوں کے سب کو موروثی سیاست کی بیماری لگ چکی ہے۔ البتہ اس بیماری کی شدت کا اندازہ چار باتوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ ایک پیمانہ یہ ہے کہ موروثی سیاست کی شکار جماعت میں عام راہنما اور موروثی سیاستدان کی عزت ، مقام اور پروٹوکول میں فرق کتنا ہے۔ راہنما کے خاندان کے افراد چاہے وہ کتنے نوجوان ، نا تجربہ کار یا پارٹی امور میں نووارد یا زائد عمر کیوں نہ ہوں کی دیگر آزمودہ کار اور سینئر کارکنوں کی نسبت اہمیت اور حیثیت زیادہ ہوتی ہے۔ دوسرا پارٹی اور سرکاری عہدوں کی تقسیم میں خاندانی افراد کو دیگر کارکنوں اور راہنماوں پر کس حد تک فوقیت اور ترجیح دی جاتی ہے۔ آیا آہم سرکاری اور پارٹی عہدے اکثر خاندان کے افراد یا دیگر راہنماؤں کو دیے جاتے ہیں ۔تیسرا پیمانہ یہ ہے کہ خاندان کو کتنے وسیع معنوں میں لیا جا رہا ہے آیا یہ صرف اس کے اپنے خاندان یعنی راہنما کے بہن بھائیوں ، بیٹا ، بیٹی اور نواسوں تک محدود ہے یا اس میں چاچا ، ماموں اور دیگر قریبی رشتہ داروں کے علاوہ داماد ہم زلف اور سسرالی خاندان کے دیگر افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے اور چوتھا پیمانہ یہ ہے کہ پارٹی میں بانی خاندان کے علاوہ اور کتنے موروثی سیاسی خاندان بن چکے ہیں یا بننے کا عمل جاری ہے۔ اگر کسی سیاسی جماعت میں یہ تمام چار چیزیں موجود ہوں تو پھر اس جماعت میں جمہوریت اور جمہوری کلچر کی بات ایسی ہوگی جیسے کسی سخت مذہبی اور انتہاپسند جماعت میں سیکولرازم کی بات۔ سیاسی کارکن دل پشوری کرنے کیلئے اپنے آپ کو سیاسی یا جمہوری یا نظریاتی جماعت کہہ سکتے ہیں بقول شخصے کہ کہنے میں کیا حرج ہے ۔ موروثی سیاست کے مضر اثرات سے بچنے کیلئے پارٹی کے آئین پر سختی سے عملدرآمد اور میرٹ کی بالادستی ہونی چاہیے مثلا جماعتی اور سرکاری عہدوں کیلئے فیصلے تحریک کے وسیع تر مفاد اور تحریک کیلئے خدمات ، وابستگی اور تجربے کی بنیاد پر ہونے چاہییں نہ کہ خاندانی مفاد میں ۔ سیاسی تحریکوں میں شخصیات کے کردار سے انکار نہیں کسی شخصیت کو اپنا آئیڈیل یا رول ماڈل ماننا کوئی بری بات نہیں مگر شخصیات کی پوجا تحریکوں کیلئے نقصان دہ عمل ہوتا ہے ۔ آہم فیصلے کچن کیبنیٹ جو عموماًٍ چند ہم خیال ساتھیوں اور خاندان کے افراد پر مشتمل ہوتا ہے کی بجائے پالیسی ساز فورمز میں ہونے چاہییں۔ فورمز کے اجلاس باقاعدگی اور فیصلہ سازی کا عمل واقعی ایک حقیقی مشاورتی عمل ہونا چاہیے !

ایمل خٹک
ایمل خٹک
ایمل خٹک علاقائی امور ، انتہاپسندی اور امن کے موضوعات پر لکھتے ھیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *