ہنگ پارلیمنٹ کی طرف ایک قدم۔۔نجم ولی خان

میں شروع سے ہی کہتا چلا آ رہا ہوں کہ ’وہ‘ انتخابات کے انعقاد کے خلاف نہیں ہیں مگر مسلم لیگ نون کی فیصلہ کن اکثریت کے بہرحا ل خلاف ہیں کیونکہ’وہ‘ جان چکے ہیں کہ نواز شریف ناقابل اصلاح ہیں اور جب بھی اقتدار میں آتے ہیں ان بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں جو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پہلا آئین نافذ ہونے سے بھی پہلے طے کر دئیے گئے تھے۔

’وہ‘ جانتے ہیں کہ نواز شریف انقلابی نہیں ہیں مگر وہ روایت پسند بھی نہیں ہیں لہذا اس وقت مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے جب انہیں اپنی عوامی مقبولیت کا گھمنڈ ہونے لگتا ہے اور پھر انہیں بتانا پڑتا ہے کہ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے جس میں پارلیمنٹ سے بھی زیادہ آئین سپریم ہے۔ پاکستان میں مخلوق کو خالق سے بڑا اور طاقت ور نہیں سمجھا جاتا مگر آئین کو استثنیٰ حاصل ہے، یہ بیٹا اپنی ماں پر حاوی ہے اور ہمیشہ اسے پچھاڑ دیتا ہے۔

جب میں یہ کہتا تھا کہ انتخابی حلقہ بندیوں والا معاملہ بھی سلجھ جائے گا اور سینیٹ کے انتخابات بھی ہوجائیں گے تو مجھے رجائیت پسند سمجھا جاتا تھا، میرے ساتھ لوگ شرط لگاتے تھے کہ دسمبر کے بعد جنوری کسی طور بھی پار نہیں ہو گا مگر بہرحال اب سب کہہ رہے ہیں کہ مارچ میں بھی کسی مارچ کی امید نہیں۔

مجھے پھر کہنا ہے کہ مسئلہ پارلیمنٹ نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے اندر کسی بھی خو د سر وزیراعظم کی موجودگی ہے جو خود کو ملک کا ماما سمجھتا ہو۔ میرے سامنے روزنامہ’ پاکستان‘ سمیت بہت سارے اخبارات کھلے پڑے ہیں جن میں مسلم لیگ نون کے سینیٹ میں سب سے بڑی جماعت بن جانے کی شہ سرخیاں لگی ہوئی ہیں ، تعداد بھی درج ہے کہ مسلم لیگ نون تینتیس، پیپلزپارٹی بیس، پی ٹی آئی بارہ، ایم کیو ایم اور پی کے ایم اے پی پانچ ،پانچ اور جے یو آئی کی چارنشستیں ہیں۔

یہاں سب سے اہم آزاد ارکان ہیں جن کی تعداد پندرہ سے زائدہو گئی ہے۔ میں نواز شریف کی کامیابی سے انکار نہیں کرتا مگر ناکام ’وہ‘ بھی نہیں ہوئے جو ایک ہنگ پارلیمنٹ کے لئے کام کر رہے ہیں۔سینیٹ کے انتخابات سے پہلے بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی اور پولنگ سے مسلم لیگ نون کے امیدواروں کو آزاد قرار دینا بظاہر دومختلف کام ہیں مگر ان دونوں کی سمت ایک ہی رہی کہ سینیٹ میں مسلم لیگ نون کے نمبروں کو کم رکھا جائے۔

اخبارات و جرائد نے پنجاب اور وفاق وغیرہ کی حد تک تو آزاد امیدواروں کو مسلم لیگ نون سے ہی وابستہ رکھا ہے مگر بلوچستان میں چھ سے آٹھ سینیٹروں کے گروپ کے بارے آنے والے وقت میں پتا چلے گاجن سے رابطے کے لئے پاکستان پیپلزپارٹی کا اعلیٰ سطح کا وفد پہنچ چکا ہے، کہا جارہا ہے کہ ان سینیٹروں کی کامیابی کے لئے ’ بریج فنانسنگ‘ کا اہتمام جناب آصف علی زرداری نے ہی کیا تھا۔

سینیٹ کے انتخابات میں پیسہ بہت اہم ہے، بہت سارے ارکان اپنا ضمیر بیچنے کے لئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں مگر پیسہ واحد عنصر نہیں ہے۔

آصف علی زرداری ہرگز داد نہ لے رہے ہوتے اگر وہ تحریک انصاف سے کنگز پارٹی کا لیبل نہ چھین چکے ہوتے۔ بلوچستان کی کامیابی آصف علی زرداری کی عوامی اور سیاسی کامیابی نہیں ہے اور اسی طرح ایم کیو ایم کو جونقصان اٹھانا پڑا ہے اس کے پیچھے بھی بہرحال آصف علی زرداری نہیں ہیں مگر دونوں جگہوں پر فائدہ زرداری صاحب کی جماعت کو پہنچا دیا گیا ہے۔ وہ سینیٹ کے الیکشن میں اس حد تک سنجیدہ تھے کہ اپنی ایک صوبائی وزیر کو اپنے بیٹے کا جنازہ تک پڑھنے کی اجازت نہیں دی اور حکم دیا گیا کہ وہ بہرحال ووٹ کاسٹ کرنے کے لئے پہنچیں کہ جنازے کا وقت تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے۔

ہمارے کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ پنجاب سے چودھری سرور کی کامیابی مسلم لیگ نو ن کے کچھ غداروں یا مفاد پرستوں کی وجہ سے ہوئی ہے، کچھ دوست ملتان اور ساہیوال (ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قریب قریب) کے علاقوں سے ارکان پنجاب اسمبلی کی منافقت کا بھی اشارہ دے رہے ہیں۔ عظمیٰ بی بی نے تو اپنے آنسو ایک ٹی وی چینل کو بھی ریکارڈ کروا دئیے اور آصف کرمانی کہہ رہے تھے کہ وہ چودھری سرور کی کامیابی کا پوسٹ مارٹم کریں گے۔ یہاں پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی نے ایک دوسرے کے ساتھ بین الصوبائی تعاون کیا ہے، پیپلزپارٹی کے ارکان کو علم تھا کہ اپوزیشن کے اتحاد کے ذریعے ان کا صرف ایک ہی رکن منتخب ہو سکتا تھا لہٰذا پنجاب میں پیپلزپارٹی نے تعاون دیا اور اس کے بدلے میں خیبرپختونخوا میں تعاون لیا جو نقد کے علاوہ تھا۔ یہ وہ سودا تھا جس کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے۔

جمع ، تفریق بتاتی ہے کہ اگر بلوچستان سے بھی مسلم لیگ نون کو سیاسی اورجمہوری میدان ملتا تو اس کے سینیٹرز کی تعداد اڑتیس تک بھی جا سکتی تھی اوراس کے نتیجے میں ان کے لئے اتحادیوں کی مدد سے اپنا چیئرمین سینیٹ لانا بہت ہی آسان ہوجاتا مگرجہاں مسلم لیگ نون دوسرے صوبوں سمیت سینیٹ میں مجموعی طور پر کامیاب رہی وہاں ناکام ’ وہ ‘ بھی نہیں رہے جو اس کی طاقت کو محدود رکھنا چاہتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ صرف بیس ارکان والی پیپلزپارٹی بھی اپنے چئیرمین سینیٹ کے لئے جوڑ توڑ میں مصروف ہو گئی ہے۔

دوسری طرف خیال ہے کہ مسلم لیگ نون کی طرف سے چئیرمین سینیٹ کے لئے جناب پرویز رشید کو امیدوار کے طور پر میدان میں اتارا جا رہا ہے جو نواز شریف کی طرف سے مقتدر قوتوں کو براہ راست چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ اب اگر پیپلزپارٹی ، پی ٹی آئی کے ساتھ اور خیبرپختونخوا میں کئے گئے معاہدے کو سینیٹ میں لے آتی ہے تو مسلم لیگ نون کے لئے اتحادیوں سمیت پچاس سے لگ بھگ ارکان کے باوجود جناب پرویز رشید کو کامیاب کروانا ایک مسئلہ ہو سکتا ہے ۔

مسلم لیگ نون کے منتخب سینیٹروں کی قابلیت پر آپ جو مرضی اعتراضات کرتے رہیں مگر یہ بات واضح ہے کہ میاں نواز شریف نے اس مرتبہ اپنے خاص وفاداروں کو ٹکٹ دئیے ہیں۔ انہوں نے جان لیا ہے کہ قدم بڑھاو نوازشریف کا نعرہ لگانے والوں کے دھوکے میں آکے وہ جب قدم بڑھاتے ہیں تو نعرے لگانے والے بڑے بڑے قابل پیچھے سے کھسک جاتے ہیں۔

مسلم لیگ نون کو وہ ڈینٹ نہیں پڑا جس کے بارے میں سوچا اور پلان کیا جا رہا تھا مگر مسلم لیگ نون اندھی کامیابی بھی نہیں سمیٹ پائی جو اس کا خواب تھا۔ مسلم لیگ نون سینیٹ کی سب سے بڑی جماعت ضرور بن گئی ہے مگر اس کے باوجود ہمارا ایوان بالا ایک لٹکتا اور جھولتا ہوا ادارہ ہے جس میں کسی بھی عہدے دار کے چناو اور بل کی منظوری کے وقت دائیں بائیں جانے کی گنجائش موجود ہے۔

مجھے یہاں نواز شریف اور ان کے ساتھیوں سے شکوہ کرنا ہے کہ جب انہیں معلوم تھا کہ سینیٹ کے انتخابات کے طریقہ کار میں جھول موجود ہیں تو انہیں چاہئے تھا کہ اپنی پہلی مصروفیت میں انہیں دور کرنے کی نیو رکھتے مگر نواز شریف انقلابی نہیں ہیں، وہ مصلحت پسند ہیں ورنہ ان کے پاس پیپلزپارٹی کے تعاون سے سینیٹ کے انتخابات ہی نہیں بلکہ نیب کے قانون کے جھول نکالنے کے مواقع موجود تھے جو انہوں نے ضائع کر دئیے۔ نیب کے قانون کے خلاف پنجاب اسمبلی کی قرارداد مسلم لیگ نون کا وہ مکا ہے جو انہیں لڑائی کے بعد یاد آ رہا ہے۔اب اور کیا کہوں۔؟

Avatar
نجم ولی خان
ڈائریکٹر جنرل پاکستان ریلوے،کالمسٹ،اینکر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *