اقتدار کی تکون ٹو ٹ گئی ہے؟۔۔اسلم اعوان

SHOPPING
SHOPPING

ایل ڈی اے کے سربراہ احد چیمہ کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد اقتدار کی غلام گردشوں میں پروان چڑھنے والی اختیارات پہ تصرف کی جنگ جزویات تک اتر آئی اور سیاسی کشمکش کی اس آگ نے پارلیمنٹ اور عدالتوں کے بعد اب سول بیوروکریسی کو لپیٹ میں لیکر گھمسان کی صورت اختیار لی،ہماری ستر سالہ سیاسی تاریخ میں پہلی بار کسی طاقتور سرکاری ادارے کے خلاف اس قدر جارحانہ مزاحمت سامنے آئی،جس نے مقتدرہ،عدلیہ اور بیورکریسی پہ مشتمل اقتدار کی مضبوط تکون توڑ دی،اسی جدلیات کے اثرات بلآخر عدلیہ سمیت مقتدر اداروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں،اگر کسی چھوٹے سے واقعہ نے پنجاب پولیس کو بھی نیب کی تراشیدہ پیش قدمی کے خلاف جاری مزاحمت کی آگ میں کھینچ لیا تو ملک خانہ جنگی کی  دلدل میں اتر سکتا ہے۔

اس سے قبل جب خیبر پختون خوا کے احتساب کمیشن نے سول بیوروکریسی کو کنٹرول کرنے کی خاطر سیکریٹری معدنیات میاں وحید کے خلاف کارروائی شروع کرکے کمشنر بنوں عصمت اللہ گنڈہ پور کو گرفتار کیا تو سرکاری ڈھانچہ میں سراسیمگی پھیل گئی،اعلی افسران کی پکڑ دھکڑ کے خلاف اس وقت کے چیف سیکرٹری کی صدارت میں اجلاس طلب کر کے سول بیوروکریسی نے ایک غیر اعلانیہ مزاحمت کے تحت ڈلیوری بند کر کے حکومت کے سارے منصوبوں کو ٹھپ کر دیا،جس کے بعد اگرچہ وزیراعلی پرویز خٹک نے احتساب ایکٹ میں غیر معمولی تبدیلی کر کے احتساب کمیشن کے ڈی جی جنرل (ریٹائرڈ)حامد خان کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا لیکن اس کے باوجود حکومتی مشنری کی موثر روانی ممکن نہ ہو سکی،سوائے بلین ٹری پراجیکٹ کے ہر شعبہ میں خیبر پختون خوا حکومت کی کارکردگی زوال آشنا ہوتی گئی،صحت کے نظام میں بہتر ی لانے کی خاطر متعارف کرایا گیا ایم ٹی آئی نظام دگرگوں ہو گیا، ڈاکٹرز کی تنخواہوں میں لاکھوں کے اضافہ اور تمام خالی  سیٹیں  پُر کرنے کے باوجود اعلی افسران نے عدم تعاون کے ذریعے صحت کے شعبہ میں اصلاحات کو ناکام بنا دیا،پچھلے پانچ سالوں میں حکومت کالجز کے لیکچررز اور سکول ٹیچرز کو بائیومیٹرک حاضری لگانے پہ قائل نہیں کر سکی،بیوروکریسی کے عدم تعاون کی وجہ سے مثالی بلدیاتی نظام ناکارہ ہو گیا،لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن نہیں ہو سکی،رائٹ ٹو انفارمیشن اور رائٹ ٹو سروسز  ایکٹ جیسے سنہرے قوانین رائیگاں گئے۔پرفارمنس مانیٹرنک اینڈ ریفارمز یونٹ(PMRU) کی رپوٹ کے مطابق اطلاعات تک رسائی کا محکمہ کارکردگی میں سب سے آخری درجہ پہ آ پہنچا،حتّی  کہ اب کابینہ نے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ تحلیل کرنے کا فیصلہ کر لیا،

اوپر لکھے گئے یہ چند اشارات خیبر پختون خوا میں تبدیلی کی کہانی کا صرف عنوان ہیں، اگر یہاں احتسابی عمل کے مضمرات کو گہرائی میں دیکھا جائے تو کئی چشم کشا حقائق سامنے آئیں گے۔اے این پی دور حکومت میں جب نیب نے خیبر پختون خوا کے سیکرٹری خوراک خانزادہ خان کو پکڑا تو انہوں نے حراست میں خود کشی کر لی،حاضر سروس ڈی پی او دلاور بنگش کی نیب کے ہاتھوں یونیفارم میں دفتر سے گرفتاری دہشتگردی کے خلاف برسرپیکار فورس کے مورال کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا گئی۔نیب نے سندھ میں منتخب کارروائیوں کے ذریعے پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت کو مفلوج رکھا،ڈاکٹر عاصم کے علاوہ تین صوبائی وزراء سمیت سابق آئی جی پولیس حیدر جمالی اور سابق چیف سیکریٹری صدیق میمن ابھی تک نیب کے مہیب پنجوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

بلوچستان میں نیب نے سابق سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی،مشیر خزانہ خالد لانگو،سابق وزیر خوارک اسفندیار کاکڑ،ثناء اللہ زہری کابینہ کے وزیرخوارک اظہار کھوسہ،سابق وزیراعلی اسلم رئیسانی کے وزیر خوراک فائق جمالی سمیت کئی اعلی عہدہ داروں کو پکڑ کے بلوچستان جیسے حساس صوبہ کی سیاسی اشرافیہ اور انتظامیہ کو نفرتوں کی راہ دکھائی۔اب مبینہ مقاصد کے حصول کی خاطر پنجاب کے نیک نام افسر احد چیمہ کی گرفتاری اس اندھے احتساب کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گی،قومی احتساب بیورو کی کالے قوانین کے ذریعے سول افسران اور سیاستدانوں کے خلاف کارروائیاں کرپشن کے خاتمہ سے زیادہ رائے عامہ پہ اثر ڈالنے اور انتظامی اتھارٹی کو کنٹرول کرنے کیلئے استعمال کی جاتی رہیں،جن سے سیاستدان بدنام اور انتظامی ڈھانچہ کمزور ہوتا رہا۔

تاہم پنجاب میں نیب کی حالیہ کارروائیوں نے سول بیوروکریسی اور سیاسی اشرافیہ کی ایسی طاقتور مزاحمت کو جنم دیا جس کی بازگشت دیر تک سنی جائے گی،سول افسران کی مزاحمت کو پنجاب گورنمنٹ اور سیاسی اشرافیہ کی اعلانیہ حمایت نے زیادہ خطرناک بنا کے نیب کے وجود کو مضمحل کر ڈالہا ہے،بلاشبہ نیب کی جارحانہ سرگرمیوں نے مقتدرہ،عدلیہ اور سول بیوروکریسی پہ مشتمل اقتدار کی اس طاقتور تکون کو توڑ دیا ہے،جو ستر سالوں سے عوامی حاکمیت کی راہ روکے بیٹھی تھی ۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مملکت کی تخلیق سے لیکر اب تک پس چلمن قوتوں نے احتساب کے عمل کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کر کے اسکی افادیت کو صفر اور ساکھ کو داغدار  بنانے کے علاوہ طاقت کے روایتی بندوبست کو منتشر کر دیا،ایوب دور کے ایبڈو سے قطع نظر،نیب نے پہلا شکار سن دو ہزار دو کے الیکشن میں جتنے والے پیپلزپارٹی کے ممبران اسمبلی کو بنا کے پیٹریاٹ گروپ تخلیق کیا جو وفاق اور صوبوں میں قاف لیگ کی حکومت بنانے کا وسیلہ بنا،نیب کے ہاتھوں حب الوطنی کا تمغہ لینے والے اس گروپ میں رضا ہراج،فیصل صالح حیات اور منظور منج جیسے جیالے شامل تھے،بعد میں جب نیب نے کئی صنعت کاروں کو ہانک کے مخصوص مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی تو ملک سے سرمایا کا فرار شروع ہو گیا،جس نے قومی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا،سرمایا فرار کا وہی عمل ابھی تک رکا نہیں،احتساب کے کوڑے کے ان حیران کن نتائج نے جنرل مشرف کو یہ کہنے پہ مجبور کر دیا تھا کہ ”چڑیاں ایک ایک کر کے جمع ہوتی ہیں لیکن ڈر جائیں تو اکھٹی اڑ جاتی ہیں”۔

ہماری ماضی کی تاریخ بتاتی ہے کہ سرمایا داروں کے علاوہ سول بیوروکریسی اور پولیس فورس نے ہمیشہ دفاعی اداروں کی بالادستی کی خاموش حمایت کر کے عوامی حاکمیت کے خواب کو چکنا چور رکھا لیکن پچھلے انیس سالوں میں نیب کے غیر حکیمانہ استعمال نے پہلی بار سرمایا داروں،سول بیوروکریسی اور پولیس کو عوامی حمایت کی حامل سیاسی قیادت کی دائیں جانب لا کھڑا کیا،نواز شریف کا بیانیہ اسی سے توانائی حاصل کر رہا ہے،شاید اسی لئے احد چیمہ جیسے نیک نام افسر کے خلاف نیب کی مبینہ کارروائی کو بہترین موقع  سمجھ کے پنجاب کی سیاسی اشرافیہ نے درست ٹائم پہ سول بیوروکریسی کی مزاحمتی تحریک کی حمایت کا ٹھیک فیصلہ کیا،جس سے مقتدرہ،عدلیہ اور بیوروکریسی پہ مشتمل طاقت کی روایتی تکون ٹوٹ گئی،الیکشن قریب ہونے کی وجہ سے اس وقت سیاست کا بازار گرم اور رائے عامہ مضطرب ہے،وسیع عوامی حمایت کی حامل مسلم لیگی قیادت کے خلاف احتساب کی جارحانہ کارروائیوں نے کارکنوں میں غم و غصہ بڑھا دیا ہے،اب تو یہ صاف نظر آ رہا ہے کہ پارلیمنٹ کے کہنہ مشق عناصر منظم مزاحمت کے لئے کمر کس چکے ہیں، ایسے میں اگر پولیس اور سول بیوروکریسی نے عوامی قوتوں کا ساتھ دیا تو ریاست کا ڈھانچہ ٹوٹ جائے گا۔

SHOPPING

عقلمند کہتے ہیں غلطی کبھی بانجھ نہیں ہوتی، طاقت کے مراکز پانامہ کیس کے مضمرات کو کنٹرول کرنے کی خاطر ایسی مزید غلطیاں کر رہے ہیں،جس سے تصادم کی آگ بھڑکتی جا رہی ہے ،عدلیہ اور مقتدرہ کی بقاء ٹکراو سے گریز میں پنہاں تھی لیکن کوئی نادیدہ قوت انہیں مسلسل تصادم کی طرف دھکیل رہی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ جنرل مشرف نے نیب کے ادارہ کو سیاستدانوں کو کنٹرول کرنے اور سول اہلکاروں کو اپنے مقاصد کے استعمال کرنے کے لئے بنایا تھا،اس لئے دفاعی ادارے اور عدلیہ کو احتساب سے استثنی دیا گیا،اس ادارے کی اٹھارہ سالہ کارکردگی کے نتیجہ میں کرپشن میں کمی آنے کی بجائے بد عنوانی کے دائرے وسیع ہوئے لیکن خود اختیاری کے شعلوں میں جلنے والے سیاستدانوں کو نیب کا شکر گزار ہونا چاہیے جس نے ملک کے چاروں صوبوں میں پولیس اور سول بیوروکریسی کے خلاف اندھی کارروائیوں کے ذریعے مقتدرہ ،عدلیہ اور بیوروکریسی پہ مشتمل اقتدار کی روایتی تکون کو توڑ کے سویلین بالادستی کی راہ ہموار کر دی ہے۔

SHOPPING

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *