کیا میں آئینہ ہوں ؟

دنیا میں بے شمار چیزیں ایسی ہیں جن کا استعمال کر کے انسان اپنے آپ سے ظاہری طور باخبر ہو جاتا ہے، لیکن ایک ایسی چیز ابھی تک نہیں پائی جا رہی جس سے انسان کی وہ ذہنیت اور احساسات معلوم ہو سکیں جو اس کے باہر نہیں بلکہ اندر ذہن و قلب میں موجود ہیں۔ ایک مسلمان کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ دوسرے مسلمان بھائی کا آئینہ ہے، کیوں کہ اسے یہ شرف خدائے بزرگ وبرتر نے بخشا ہے۔ رسول اللہﷺ کی ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ ”مسلمان مسلمان کا آئینہ ہے“ گویا یہ ایک ایسا رشتہ ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہر برائی اور بدی سے محفوظ رکھنے کا سامان مہیا کر رکھا ہے۔ ایک مسلمان جب تک اپنے اس ”آئینہ“ کا استعمال کرتا ہے تو اس کی مدد سے اسے ہر بدی اور برائی سے نجات ملتی ہے کیونکہ ہر وہ داغ جو انسان فطری طور پر پسند نہیں کرتا، جب ایک مسلمان کو وہی ناپسندیدہ چیز اس کا آ ئینہ دکھائے گا تو لازماً وہ اس سے جان چھڑانا چاہے گا۔ اس طرح ایک مسلمان بے داغ زندگی لے کر بے داغ سماج کا شہری بنے گا، اور جو شہری بے داغ ہو اس سے سماج میں پاکی وصفائی کا ماحول قائم ہو گا، کیوں کہ اس کی طبیعت ہی داغوں سے دوری ہے۔ گویا یہ آئینہ ہمارے مسلم سماج کا ایک آہم حصہ ہے، اس آئینہ کو محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ ”ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے بے یارومددگار چھوڑ دیتا ہے“۔ مسلمان معاشرہ اس قدر پاک ہونا چاہیے کہ وہاں بے داغ جوانیاں پائی جاتی ہوں، وہاں کوئی بزرگ رہتا ہو تو اس کی عزت واحترام کا خیال رکھا جاتا ہو، وہاں کوئی ماں، بہن، بیٹی رہتی ہو تو اس کی عزت وعصمت کا محافظ یہی مسلمان ہو، کیوں کہ یہ مسلمان کی خصوصیت ہے کہ وہ ”داغ “ کو پسند نہیں کرتا اور اگر مسلم سماج میں بے داغ ہونے کی بجائے داغ ہی داغ نظر آئیں تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ ”مسلم سماج“ ہے نہ کہ ”اسلامی سماج“ کیوں کہ مسلم سماج اور اسلامی سماج میں آسمان اور زمین کا فرق پایا جاتا ہے۔ کسی نو مسلم نے جب اسلام کو قبول کرنے کا اعلان کیا تو اس کے ساتھ غیروں نے سخت لہجہ اختیار کر کے سوال کیا کہ ”تم نے اسلام ہی کیوں قبول کیا….؟ اس کے علاوہ بھی تو بہت سارے مذاہب تھے ، یہ اسلام خون ریزی، حق تلفی، ایک دوسرے کی بے عزتی، بڑوں کی حق تلفی، صنف نازک کے حقوق سلب کرنے والا، اور تو اور پوری دنیا میں دہشت پھیلانے والا مذہب ہے، کیوں تم نے اسی کو چن لیا….؟ نو مسلم نے ”مسلم سماج“ سے وابستہ لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صحیح بات ہے کہ یہ سب مسلم سماج سے وابستہ کئی لوگوں کے کارنامے ہیں لیکن ”مسلم سماج“ ایک چیز ہے اور ”اسلامی سماج“ ایک الگ چیز ہے، اور اگر آپ لوگوں کو ”اسلامی سماج“ کو دیکھنا اور جاننا ہے تو اسے جاننے کے لیے آپ کو قرآن اور اسے عام انسانیت تک پہنچانے والے پیغمبرِ آخر محمد رسول اللہﷺ کو پڑھنا اور جاننا ہو گا تب ہی ممکن ہے کہ آپ لوگ اسلام کو سمجھ سکیں گے۔“۔ اگر میں اسلامی سماج کا شہری ہوتا تو مجھ میں داغ کا وجود نہ ہوتا، میں دوسرے کا محافظ ہوتا، میرے ہاتھوں کسی کا ناحق خون نہ بہتا، میں حقیر مفادات کے لیے کسی کا حق سلب نہ کرتا، میں اپنے بڑوں کی بے عزتی نہ کرتا، میں اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کا محافظ بنتا۔ مجھ میں آئینہ کی سی حیثیت ہوتی اور اگر کبھی شیطان کا کسی کام میں شکار ہو ہی جاتا تو جلد ہی واپس لوٹنے والا ہوتا لیکن میں بجائے اس کے کہ ایک دوسرے کے لیے آئینہ کا کام کروں، میں اُلٹا اُس کے لیے مثل چھری اور کانٹا بنے جا رہا ہوں۔ ”مسلم سماج“ کو ”اسلامی سماج“ میں بدلنے کے لیے مجھے صحیح طور سے آئینہ بننا پڑے گا، مسلم سماج کی تشکیل کے لیے مجھے میرے گھر، علاقے ،محلے ، گاؤں، ملک اور پوری دنیا میں یہ عملی طور دکھانا ہو گا کہ میں دوسرے کا خیر خواہ ہوں، میرے ہاتھوں ناحق کسی کے خون کے بہنے کی کوئی گنجائش نہیں، میری سوچ اس بات کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں کہ میں کسی کا حق کھاؤں، میری آنکھوں کی مجال ہی نہیں کہ میں بداخلاقی اور بدنظری کا مظاہرہ کروں، میری پہچان بے داغ زندگی ہے اور میں داغ دار رہنا اور کسی کو داغ دار دیکھنا پسند نہیں کرتا۔ کیوں کہ مسلمان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے آئینہ بنے، اس کی زندگی بے داغ زندگی رہے، اس کا جینا اور اس کا مرنا، اس کی ساری زندگی عبادت ہے لیکن تب جب وہ اپنی زندگی کو اسلامی سانچے میں ڈھال کر گزارے اور اس سانچے میں ایک آہم چیز ”بے داغ زندگی“ ہے۔ ہمارے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفی ﷺ کی پاکیزہ اور بے داغ زندگی کے گواہ وہ تمام لوگ ہیں جن کا کسی رنگ میں حضور ﷺ سے واسطہ پڑا۔ ان میں آپﷺ کے رشتہ دار بھی ہیں، آپﷺ کے دوست بھی ہیں، ایک طرف وہ آپﷺ سے محبت کرنے والے بھی ہیں اور دوسری جانب وہ آپﷺ کے دشمن بھی ہیں۔ جس طرح لوگ دعویٰ نبوت سے پہلے حضورﷺ کے پاس امانتیں رکھا کرتے تھے برابر اسی طرح آپﷺ کی نبوت کے اعلان کے بعد بھی حتیٰ کہ آپﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے ، دشمن تب تک اپنی امانتیں آپﷺ کے پاس ہی رکھا کرتے تھے۔ آپﷺ نہ صرف صادق و امین کہلاتے تھے بلکہ اس کا عملی نمونہ آپﷺ نے اپنی زندگی میں دکھایا ہے۔ کسی کے اوپر ظلم کرنا چاہے وہ غیر ہی کیوں نہ ہو، اس پر آپﷺ کا وہ قول مبارک جس میں کئی باتوں کے علاوہ یہ بات علی الاعلان کہی گئی ہے کہ ”میں اس غیر مسلم کی طرف سے قیامت کے دن وکیل بن کر اٹھوں گا، کیوں کہ اس پر ظلم کیا گیا ہے۔“ دراصل اسلام کا تصور ہی یہ ہے کہ انسان کی پوری زندگی خدائے بزرگ وبرتر کے تصور اور دین کی مکمل تعلیمات سے وابستہ ہونی چاہیے، اسی لیے اسلام نے جیسے عبادات کے احکام دئیے ہیں اسی طرح سماجی زندگی، معاشی جدوجہد، سیاسی مسائل اور اجتماعی نظام کے لیے بھی اصول وضوابط مقرر کئے ہیں، اس لیے اسلام ایک ایسی تہذیب کا تصور پیش کرتا ہے جو خدا کے احکام اور دین کی تعلیمات کے تابع ہو۔ اس لحاظ سے مسلمان کو اس بات کا ہمیشہ خیال رکھنا ہے کہ اس کی ذات کسی بھی صورت میں ایسی حرکت کا شکار نہیں ہونی چاہیے جس سے ”اسلامی سماج“ کا نام آج کا ”مسلمان سماج“ پڑ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضورﷺ کے بعد خلفائے راشدین کا عمل اس بارے میں سخت تھا، وہ جب بھی کہیں کسی بدی اور برائی چاہے وہ چھوٹی ہی کیوں نہ ہو کو دیکھتے تھے تو اس کے تدارک کے لیے کوششوں میں مصروف ہو جاتے تھے اور جب تک اس کا قلع قمع نہ ہوتا، پیچھے نہ ہٹتے تھے۔ ایک مرتبہ جب زلزلے کا جھٹکا آیا تو وقت کے امیر المومنین اپنے حجرے سے باہر آئے اور منادی کرائی کہ لوگو !یہ زلزلہ کیسا اور کیوں….؟ کیوں کہ انہیں یہ معلوم تھا کہ زلزلہ خدا کے غضب کی نشانی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں ایسی حرکت ہوئی ہے جس سے اللہ تبارک و تعالیٰ غضب ناک ہوئے ہیں۔ جب منادی کرنے والے نے منادی دی، بے داغ زندگی گزارنے والے حرکت میں آئے تو معلوم ہوا کہ کسی جانب سے ناچنے گانے والی چند دوشیزائیں ”اسلامی سماج“ کو متاثر کرنے کی کوششیں کر رہی تھیں، جس کا اظہار زلزلے کی شکل میں نمودار ہوا۔ یہ سننا ہی تھا کہ وقت کے امیر المومنین کے ساتھ ساتھ اسلامی سماج سے وابستہ آئینہ صفت لوگ باہر آئے اور اس کا خاتمہ کر کے واپس لوٹے۔ گویا اسلام ہمیں ”داغ“ نہیں بے داغ زندگی گزارنے، بے داغ سماج قائم کرنے کی تلقین کرتا ہے، اور اس بے داغ سماج کو قائم کرنے کے لیے ہمیں ایک دوسرے کے لیے آئینہ بننا ضروری ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ خیر خواہی کا جذبہ پیدا کرنا ہے، ایک دوسرے کی عزت کا سبق جو ہم بھلا بیٹھے ہیں اسے پھر سے یاد کرنا ہے، ایک دوسرے پر ظالم نہیں بلکہ مددگار بن کر رہنا ہے، ایک دوسرے کی تذلیل نہیں، غم خوار و ملنسار بن کر رہنا ہے۔اور اس بات کا پورا خیال رکھنا ہے کہ اللہ کے رجسٹر میں ہم صرف نام کے مسلمان کے طور پر درج نہ ہوں ۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ”مسلمان مسجد میں عبادت کرنے سے نہیں بلکہ اس کے علاوہ اس کے معاملات میں جب مسلمانی پائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اصل مسلمان ہے، ورنہ اس کا مسلمان ہونے کا اعلان ایک دھوکہ ہوتا ہے جو بظاہر مسلمان نام کا تو ہوتا ہے لیکن عملی طور مسلمانیت سے خالی ہوتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف اسلام کا تعارف غلط طریقے سے ہوتا ہے بلکہ اسلام ہی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جب تک مسلمان عبادات کے ساتھ ساتھ معاملات میں بھی مسلمان نہ ہو تب تک اس سر زمین پر اس جیسے مسلمان کا وجود اسلام کے نام پر داغ ہے اور اس داغ کو بے داغ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کے سامنے ایک سچا مسلمان داعی ”آئینہ بن کر“کھڑا ہو جائے اور اسے اس کے داغوں سے باخبر کرائے تاکہ وہ اپنے داغ دیکھ کر ان کا علاج کرنے کے لیے کھڑا ہو جائے۔ یہ کام اگرچہ مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں۔ آج اگر داعی مسلمان ایک دوسرے کا خیرخواہ ”آئینہ“ بن کر کھڑا ہو جائے تو وہی اسلامی سماج تشکیل پا سکتا ہے جس کے انتظار میں دنیا بیٹھی ہے۔“

ابراہیم جمال بٹ
ابراہیم جمال بٹ
مقبوضہ جموں وکشمیر سے ایک درد بھری پکار۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *