اُمت مسلمہ کا آپریشن,کلین اپ۔۔غازی سہیل

ارشادِ نبوی  ﷺ  ہے کہ” ایک وقت آئے گا جب اقوام عالم تم(مسلمانوں) پر یوں پل پڑیں گی  جیسے کہ بھوکے کھانے کے تھال پر ٹوٹ پڑتے ہیں“۔صحابہ نے عرض کیا:”اے اللہ کے رسول کیا یہ اس وجہ سے ہوگا کہ تب ہم تعداد میں کم ہوں گے؟آپ ﷺ نے فرمایا:”نہیں تعداد میں اس وقت تم بہت زیادہ ہو گے، مگر تمہاری حیثیت خس و خاشاک جیسی ہوگی کہ جیسے خس و خاشاک سیلاب کی سطح پر (تیرتے ہیں)،اللہ تعالیٰ دشمنوں سے تمہارا رعب و دبدبہ ختم کرے گا اور تمہارے دلوں میں کھوکھلا پن  (وہن)پیدا کر دے گا۔ایک سائل نے دریافت کیا:اے اللہ کے رسول یہ ’وہن‘ کیا ہے؟فرمایا دنیا کی محبت اور موت سے نفرت۔

ہم دیکھتے ہیں آج دنیا میں اُمت مسلمہ کی یہی حالت ہے۔امت مسلمہ اس وقت دنیا میں ۷۵ ممالک پر مشتمل ہے جو دنیا میں ہر طرح کے وسائل و ذرائع سے مالامال ہے وہ چاہے تیل کے کنویں ہو ں یا سونے اور دیگر معدنیات کی کانیں، سائنس و ٹیکنالوجی ہو یا ایٹمی و نیوکلیائی ہتھیار۔ لیکن یہ سب کچھ ہونے کے باوجود دنیا میں اس وقت اگر کوئی قوم مظلوم ومحکوم ہے تو وہ یہی اُمت مسلمہ ہے۔عثمانی خلافت کے چھن جانے کے بعد غیر اقوام نے اُمت مسلمہ کو تہہ تیغ کرنا شروع کر دیا۔اُمت مسلمہ جو کہ اصل میں اُمت مظلوم ہے اس وقت دنیا میں ہر طرح سے غیروں اور اپنوں کے ہاتھوں پٹ رہی ہے اور ساری دنیا اس طرح تماشائی بنی ہوئی ہے جیسے یہ کوئی سرکس کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔اُمت مسلمہ کو ایک سازش کے تحت قوموں ملکوں،مسلکوں،جماعتوں اور گروہوں میں غیروں نے ایسے بانٹ دیا جیسے کہ یہ ایک اُمت ہے ہی نہیں۔اُمت کو بانٹ کر کے ہم دیکھتے ہیں دنیا کی بڑی بڑی شیطانی طاقتوں نے اُمت مسلمہ کو گاجر مولی کی طرح کا ٹ دیا۔ کہیں پہ نام نہاد مسلمانوں میں سے ہی ایسے درندے تیار کیے گئے جنھوں نے اُمت کا قتل عام ثواب جان کر کیا اور کہیں پہ ان شیطانی طاقتوں نے براہ راست مسلمانوں کو چُن چُن کر مار ڈالا۔

ہم دیکھتے ہیں دینا کی ایک شیطانی طاقت جسے ہم امریکہ کے نام سے جانتے ہیں، نے عراق پر ہزاروں ٹن بارود برسایا وہاں کی منبر ومحراب،سکول اور ہسپتال اور عالی شان عمارتوں کو زمین بوس کر کے لاکھوں مسلمانوں کو شہید کر دیا۔اُس وقت کے شیطان صفت صدر جارج بش نے عراق کو کھنڈرات میں تبدیل کرنے کی یہ دلیل دی کہ وہاں پر وپنز آف ماس ڈسٹرکشنز weapons of mass distraction بنائے جا رہے ہیں اور پھر دنیا نے دیکھ لیا امریکہ وہاں سے ایک سوئی بھی برآمد نہیں کر سکا۔اسی طرح سے ہم نے یہ بھی دیکھا کہ اسی شیطان نے افغانستان پر بارود کی بارش کر کے افغانستان کے لاکھوں بچوں کو یتیم اور ہزاروں ماؤں بہنوں کو بیوہ کر دیا۔اسی امریکہ کی ناجائز اولاد جسے دنیا اسرائیل کے نام سے جانتی ہے،نے فلسطین کے ایک ایک بچے کو جیسے اپا ہچ کرنے کا ٹھیکہ لے رکھاتھا، بموں اور میزائلوں کی برسات کر کے فلسطین سے مسلمانوں کے خاتمے کی کوشش کے ساتھ ساتھ قبلہ  اول کو گرانے کی ناکام اور نامراد کوششیں کی۔

اسی طرح سے برصغیر کی ایک اور مسلم دشمن طاقت نے کشمیر میں ہزاروں اور لاکھوں یتیموں اور بیواؤں کی ایک فوج تیار کر دی اور ایسے نہ جانے کتنے ہیں جن کو حبس بے جا میں ہیں ،اور   دنیا کے سامنے سب سے بڑی جمہوریت کا راگ الاپنا بند نہیں کیا، اسی طرح سے برما میں مسلمانوں کو جانوروں کی طرح کاٹا باقی زندہ بچے مسلمانوں کو ملک بدر کر دیا جو آج جموں اور بنگلہ دیش میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔مگر اس سارے ظلم و ستم کے باوجود دنیا ئے مسلم خاموش تماشائیوں کی طرح  ہے، بلکہ ان میں سے چند نام نہاد مسلم حکمران ایسے بھی ہیں جنہوں نے ان قاتلوں اور ظالموں کا ساتھ بھی دیا۔

اسی ظلم و ستم کے بیچ چند دن سے ایک اور مظلوم ملک شام کی دل کو دہلانے والی تصویریں دیکھی گئیں۔جن کو دیکھ کر روح کانپتی اور جسم تڑپ اُٹھتا ہے۔شاندار اور خوبصورت عمارتوں پر اسد حکومت اور روسی طیاروں کے ذریعے سے مظلوم شامی بچوں،نوجوانوں،عورتوں اور بزرگوں پر بم اور گولیاں برسا کر ان گنت تعداد میں اپاہچ اور شہید کیا جا رہا ہے۔اسدی فوج اور روسی طیارے بم برساتے وقت یہ نہیں دیکھتے کہ اِن طیاروں اور بموں کی زد میں شیعہ بچہ آ رہا ہے یا سُنی، بلکہ وہ وہاں انسانیت کو ختم کرنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔بشارلاسد نے تو درندوں کو بھی مات دے ڈالی ہے۔حلب،حمات اور دیگر بڑے شہر راکھ کے ڈھیر  میں تبدیل ہو گئے ہیں اور اب غوطہ پر بموں اور بارود کی برسات کی جا رہی ہے۔بشارلاسد اپنی کرسی بچانے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔

بی بی سی رپورٹس کے مطابق غوطہ میں موجود باغیوں کا تعلق کسی ایک گروہ سے نہیں۔بلکہ یہ کہیں چھوٹے گروہ ہیں جن میں جہادی بھی شامل ہیں،حالانکہ یہ گروہ آپس میں بھی لڑ رہے  ہیں جس کا فائدہ شامی حکومت کو بھی ہوا ہے۔علاقے میں سب سے بڑا گروہ جیش السلام اور اس کا حریف گروہ فیلک الرحمان ہے۔فیلک الرحمان ماضی میں جہادی گروہ حیات الشام کے ساتھ لڑتا رہا ہے جو کہ النصرہ فرنٹ کا ایک دھڑا ہے۔ان چھوٹے سے باغی گروہوں سے اسد حکومت  کو اپنی کرسی بچانے کا اتنا خوف ہے کہ اس نے غوطہ میں خون کے دریا بہا دیے ہیں۔بچوں کی لاشوں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے کلیاں مسلی گئی ہوں۔ان زخمی بچوں کی روتی بلکتی تصویریں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے ان کو دنیا میں جینے کا حق ہی نہیں ہے۔وہ تصویریں اور ویڈیوز دیکھنے کے لیے پتھر جیسا دل ہونا چاہیے۔

ایک رپورٹ کے مطابق شام کے دارلحکومت دمشق کے نواح میں واقع علاقے مشرقی غوطہ میں اسدی فوج کی فضائی بمباری کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد چار سو سے بڑھ گئی ہے۔شام کے لڑاکہ طیاروں نے گزشتہ چند دنوں کے دوران باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی غوطہ کے علاقوں پر تباہ کن اور وحشیانہ بمباری کی ہے۔برطانیہ میں قائم شامی رصد گاہ برائے انسانی حقوق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شامی رجیم اور اس کے اتحادی روس کے تباہ کن فضائی حملوں اور توپ خانوں سے شدید گولہ بار ی سے پانچ روز میں 464شہری مارے جا چکے ہیں اور ان میں 100بچے بھی شامل ہیں۔2100شہری زخمی ہوئے ہیں۔اس ساری صورتِ حال کا ساری اُمت ایسے نظارہ کر رہی ہے جیسے کچھ ہو ہی نہیں رہا ہے۔ اسلامی دنیا کے ۷۵ ممالک کے حکمرانوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہے۔ابھی تک کہیں سے یہ رپورٹ بھی نہیں آئی کہ کسی ملک میں اس حوالے سے عوام کی طرف سے احتجاج بھی ہوا ہے۔اس سارے ظلم و ستم کے بعد بھی دنیا کے مسلمان اور دنیا کے وہ ممالک جوخود کو تہذیب و تمدن،آزادی نسواں،برابری،جمہوریت اور امن کے دعوے دار سمجھتے ہیں،ٹس سے مس نہیں ہو رہے  ہیں۔جب اسلامی ممالک کا حال ایسا ہو تو ہم غیروں سے کیا گلہ کر سکتے ہیں۔حالانکہ نبی مہربانﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا ہے کہ مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں۔ اگر ایک عضو کو تکلیف ہو تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے یعنی آنکھ کو تکلیف ہو سارا جسم اسے محسوس کرتا ہے اور اگر پا ؤں کو درد ہو تو جسم کے سارے اعضا اسے محسوس کرتے ہیں۔

ایک اور حدیث میں آپﷺ نے فرمایا کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اس لئے کوئی مسلمان نہ اپنے دوسرے بھائی پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے ظلم کرنے کے لئے کسی دوسرے کے حوالے کرتا ہے۔اگر آج ہمارا ایک عضو شام میں زخمی ہو رہا ہے ہماری آنکھ فلسطین میں پھوڑ دی گئی ہے ہمارے پاؤں برما میں کاٹ دیے  گئے ہیں اورنہ جانے کون کون سا ہمارا انگ زخمی ہے۔ اس کے باوجود بھی ہم اس درد کو محسوس نہیں کر رہے ہیں؟یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے؟ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی ممالک کے سربراہان کو جلد از جلد شام کے مظلوموں کی مدد کے لئے آگے آنا چاہیے اور ہمیں بھی ہر رنگ میں دنیا کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرنی چاہیے۔ اس وقت شام کے بچے ہمیں پکار رہے ہیں،مائیں بہنیں اور بزرگ روتے اور تڑپتے ہیں کہ کب اور کون ہماری مدد کو آئے گا۔ اُمت مسلمہ اٹھے اور شام کے مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرے،اگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو وہ وقت دور نہیں کہ جب ہمیں بھی ان ہی کی طرح مدد کے لئے پکارنا پڑے گا۔ لیکن اس وقت ہماری مدد کو کوئی نہیں آئے گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *